Two speakers deliver an improvised Urdu rap about love and betrayal, contrasting the affection before marriage with how it changes after. They use the metaphor of marham, or ointment, to describe attempts to heal emotional wounds, all in a casual, street-style performance that captures youthful romantic frustration.
بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی بھائی
بھائی بھائی بھائی بھائی میں خود ہی مرد ہوں! سمجھے؟ اور پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی پاکستانی
پا اگلی
بہترین اگلی بہترین
اردو ... اوہ جو نہیں بولتا ہے ریپ آج تو کیا بولتا ہے اکثر جو آپ کے جو گروپ کی جو لوگ ہوتے ہیں نا وہ اکثر گاہ لیتے ہیں اوہ اس کو جو ریپ گانا بولتا
ہے ایک بے وفا کے زخموں پر مرہم لگانے ہم گئے ایک بے وفا کے زخموں پر مرہم لگانے ہم گئے مرہم کی قسم مرہم نہ ملا مرہم کی جگہ ڈشڈڈڈڈڈ مرہم گئے عاشق ہو اس کے مارے ہو دا گیا ہے
دادی بھائی عشق کے مارے لوگ جو ہیں وہ اکثر بگڑ جاتے ہیں شادی
نہیں وہ جو سلکے سے آپ محبت کرتے تھے وہ آپ کے شادی سے پہلے محبت کرتے
تھے شادی کے بعد ہاں وہی شادی سے پہلے کا محبت ہے تو پھر
آپ کے شادی ہو گیا نا پھر آپ کی بھی سینڈ لائف سینڈ اُس کا بھی لائف سینڈ پھر کیا پایدہ
یا تو یہ تو سمجھانا چاہتا ہوں کہ میرے سامنے میں رات کو کمگی لگایا یہ روڈے کھلایا روڈ کے اندر پیسا گولیا زیادہ تاریڈ دیا سو گیا صبح اوڑا تو یہ تھی صبح تھی نہیں میں نے اپنے بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین بہترین