अमृत प्रवचन 8 || जगद्गुरु शंकराचार्य स्वामीश्री: स्वरूपानन्द सरस्वतीजी महाराज के श्री मुख से ||

Swami Swaroopananda Saraswathi explains the four purusharthas: wealth, desire, duty, and liberation. Only dharma and moksha provide lasting benefit after death, he argues, since material riches cannot follow you. Punya, or meritorious acts, accompany a person beyond this life.
Chapters
پرش کے پریوجن کو پرشارت کہتے ہیں مانش کی سریل ہندری مرن مددی کی چھٹائیں جس ادیش سے چلتی ہیں وہ اس کا ارت ہے تو اگر ہم مچار کر کے دیکھیں تو پتہ لگتا ہے کہ ہماری سمجھت چشٹاؤں کا مکر لقش یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کمی دکھ نہ ہو دکھوں کی پور روپ سے نلٹی ہو جائے اور کہ وہ دکھوں کی نبرتی ہی نہیں پرم سکھ کی پرابتی ہو جائے ایسا سکھ ملے جس سے بڑا کوئی سکھ سنسار میں نہ ہو سمت دکھوں کی آتنتک نبرتی اور پرمانند کی پرابتی پور شارت ہے ویسے اپنے شاتروں میں چار پرشارت بتائی گئے ارت، دھرم، کام اور موکش چار پرشارت تو دکھا جاتا ہے کی لوگ دھن کے لیے کام کرتے ہیں دھن کو ہی پرشارت مانتے ہیں دھن کے لیے منس دیش چھوڑ کے پردیش جاتا ہے رات کو جاگتا ہے دوسروں کی پرتندتہ سکار کرنے کا ارض دھن کو لوگوں نے پرشارت مانا اور دھن کے لیے سب کچھ کیا لیکن دھن کس کے لیے دھن اپنے سکھ کے لیے جو دھن ہمارے سکھ میں سہیتہ دیتا ہے وہ ہمارا پرشارت ہے لیکن دھن کا سویم کا کوئی اپیوگ نہیں آپ نکھئے دھن میں سب سے زیادہ سونا ہوتا ہے مٹھی جمین ہوتی ہے ہیلے جواہرات ہوتے ہیں ان سے کسی کا پیٹ مرتا ہے کسی کا نہیں مرتا لیکن ہمیں سوچتے ہیں کہ دھن رہے گا تو ہم اچھا مکان بنائیں گے دھن رہے گا تو ہم اس میں سپرکارزک کی عبکران رکھیں گے دھن رہے گا تو ہم بڑی سواری پراب کریں گے تو دھن کا کوئی نہ کوئی اپیوگ ہے اگر وہ دھن ہمارے کام میں نہیں آتا ہے تو اس کا پھر ہمارے سامنے کوئی اپیوگ نہیں ہوتا وہ ہمارے سکھ کا سادن نہیں ہوتا اور اسی طرح سے دوسرا ہے کام کام کیا ہے اندھیوں کی جھپتی بھوک اندھیوں کی گارہ انکول بشیوں کا بھوک کر کے سکھ کا حنوا کرنا یہ کام پرشاہد ہے لیکن جس بستو سے ہم کو آج سکھ کا حنوا ہو رہا ہے کل اس سے دکھ کا بھی عربہ ہوتا ہے تو وہ بھی پرشارت نہیں ہے کام بھی سکھ کے لیے اس پر اور آگے پیار کر ہماری منشیوں نے بیچار کر کے بتایا کہ ارض اور کام دھرم کے لیے ہونا چاہیے دھرم کے لیے دھن ہونا چاہیے دھرم کے لیے ہی سنسار کے بھوگ ہونا چاہیے دھرم سے ورد نہیں ہونا چاہیے بھگوان نے یہ کہہ دیا کہ دھرم کے ورد کا اُفت میرا ثروب ہے لیکن دھرم کے ورد نہیں ہے تو دھرم بھی ایک پرشارت ہے دھرم پرشانت اتنی ہے کہ وہ ہماری پر روک میں ساہتہ کرتا ہے اور یہ بہت آبشک بات ہے آپ اپنے گھر سے چل کر برندہ ون میں آئے ہیں تو سب نے سوچ دیا ہوگا کی ٹھہرنے کی بہستہ ہماری کہیں ہوگی کہاں ٹھہریں گے برسات میں کہاں سے چھپائیں گے بھوجن کہاں کریں گے تو اپنے گھر کو چھوڑنے کے پہلے دوسرے گھر میں رہنے کا کھانے پینے کا سب پربندہ جہاں ہم دیکھ لیتے ہیں دو بہنا گھر چھوڑ دے اب اس سنسار کو چھوڑ کے جب ہم جائیں گے یہ بھی گھر ہے اور جانے کے بعد ہم رہیں گے کیونکہ یہاں آنے کے پہلے بھی ہم تھے اور یہاں سے جھلی جو چھوٹے گا تو وہاں ہم رہیں گے تو وہاں کے لیے ہم نے کیا پربند کیا ہے؟ اب دیکھئے آپ مردہ منورائے اگر آپ کا دھن چولی ہو جائے بھول جائے کچھ بھی ہو جائے تو ٹیلی فون سے آج کل تو موبائل ہو جائے تورند بول دیں گے کہ کمیوں ہو گئی ہے یہ پرونڈ کر دو روپے آ جائے گا گھر سے سہیتا آ جائے گی لیکن پرروک میں کہاں موبائل ہے وہاں مرنے کے بعد کوئی چیز آپ کی وہاں سے آپ بھیج نہیں سکتے کہ ہماری کیا حصیت ہے وہاں تو جو آپ نے اپنے جیون میں دھرم کیا ہے وہ دھرم ہی ساتھ میں جائے گا دَلَا نِبُومُ قَسْوَشْتَ گُوشْتِ نَارِگْنِ اَدْوَارِ جَنَاسْ مَسَانِ دِيَحَسْ چِتَایَمْ پَرَلُوکَ مَرْگِ دھرمَانْ گُوْ گَتْشَتِ جِیوَیْتَ دھان دھرتی میں رہ جائے گا پشو گوشت میں بندے رہ جائیں گے اسنی گھر کے دروازے تک پہنچا کر روڑ جائے گی شرین شتہ لگ جائے گا اس کے بعد آپ کے ساتھ ان میں سے کچھ نہیں جائے گا سب روٹ کے آ جائیں گے آپ کے ساتھ اگر کوئی جائے گا تو وہ آپ کا کیا ہوا دھرم جائے گا دھرما نگو گچھتی جیوے ہی کا اسی لیے مہا بھارت میں لکھا ہے اے کیو سوڑھ دھرمو نگلے پہلے آتی ہی منس کا اگر کوئی سچا متر ہے تو وہ دھرم ہے کیونکہ مرنے کے بعد بھی ہمارا ساتھ دیتا ہے ہم لوگ کہاں کرتے ہیں ایک بیشتری کے تین متر چھے ایک متر اس کو روج ملتا تھا دوسرا ایک سب تار میں ملتا تھا اور دیسرا برش میں ایک بار ملتا تھا تو سیوک کی بات ہے اس کے اوپر کوئی سنگین مقدمہ آ گیا جس میں اس کو بڑی پہنکر سجا ہونے والی تھی اس نے اپنے روج ملنے والے مدد سے کہا چلو عدالت ہم کو وہاں سے چھڑاؤ تو اس نے کہا ہم تو گھر کے ساتھی ہیں ہم کورٹ کا شہری نہیں آئیں گے سبتان میں ایک دن والا جو متر تھا اس نے کہا ہم کورٹ کے دروازے تک پہنچا دیں گے بیتر ہماری پہنچ نہیں جو سال میں ایک بار ملتا تھا اس نے کہا ہم بیتر جا کے تم کو چھڑا کر آئیں گے اب وہ یہ کون سا اچھا متر پہلا دوسرا کی تھی جو سال بھر میں ایک بار ملنے والا متر ہے وہ سچا متر ہے اور وہی دھرم ہے اور سب کے سب متر چھوڑ جائیں گے دھرم آپ کے ساتھ جائے گا اور وہ آپ کو یمراج سے بچائے گا یمپوری میں آپ جائیں گے تو وہاں پر یہ جو سرکاری ہوئے ہیں کوئی راتپتی ہے کوئی پدھار منٹری ہے کوئی منٹری ہے کوئی ایمین ہے کوئی ایم پی ہے کوئی جج ہے وہاں بھگوان کے ہاں یہ سب نہیں چلے گا وہاں پر ایک سامان پرانی کی روپ میں آپ کو کھڑے ہونا پڑے گا اور آپ کے اچھے برے کرموں کا لکھا جھوکا وہاں لیا جائے گا یہ جو دھرم کی بھونہ ہے یہی منوش کو کمال میں جانے سے بچاتی تھی آج وہ نہیں ہے تو دھرم بھی ایک پرشارت ہے تو دھرم ہم کو پرروک میں سکھ پردان کرتا ہے ہم لوگ مانتے ہیں کہ جب یہ پرانی مرتا ہے تو مرنے کے بعد جو بھگوان کے بھکت ہوتے ہیں اُن کے لیے تو اُن سے بیمان آجاتا ہے جو بھگوان شریکشن کا بھکت ہے بندہ ون میں جس کی عباسنا ہے رادھا کرشن کا پریمی ہے وہ مرنے کے بعد بھگوان کے گھولک میں جائے گا اور وہاں جو نٹ بندہ ون ہے اس میں جا کے بھگوان کی ریلا کا درشن کر جائے گا جو بھگوان نارائن کا بھکت ہے وہ بیکونٹھ جائے گا جو مہمان شنکر کا حق ہے وہ کہلاس جائے گا اور جو راج راجی شریم آتا تیور سندری کا حق ہے وہ مندویں چلے جائے گا اور جو سنیاسی ہیں وہ برملوک چلے جائیں گے لیکن سامانے بکتی جو ہے جو بقاسنہ سے دور ہیں بقتی سے دور ہیں ان کو لے جانے کے لیے دو یم دوت آتے ہیں جیسے ایک قیدی کو پکڑنے کے لیے دو سباہی لگائے جاتے ہیں کٹوائے تھے کہ تم کو چھایا نہیں ملے گی پھر دھرم سالہ دکھے گی کہاں اس میں ہم کو وشنام کرنے نہیں دو تمہارے ہاں کوئی عتید یا میاغت آکے ٹھہرا تھا کبھی؟ کیا بھگوان کا مندر بنایا تھا؟ سنتوں حتماوں کی کٹی بنای تھی کہ نہیں مہاراج ہم نے تو جاری تھی چلو چلتے چلتے آگے مڑتا ہوا اس کو موگ لگتی ہے بھوجن مانگتا ہے وہ پوچھتے ہیں بھوکے کو بھوجن دیا تھا بولتا ہے وہ کہ ہم نے تو پرسی تھانی کھیچ رئی تھی پھر اس کو پیاس رکھتی ہے پانی مانگتا ہے یہ ہم لوگ پوچھتے ہیں کہ تُو نے پیاسے کو پانی پلایا تھا کہ جی ہم نے تو بارٹی تک نہیں دی چڑھو پیاسے چڑھو جس نے چھتر دان کیا ہے اس کو چھتہ ملے گا پہدوگا کا دان کرنے والی کو پہدوگا ملے گی جس نے دیپک جلایا ہے تو اسی کے کوٹ میں دیپک جلایا کارتک ماس میں ہکی آسیاں لگایا بھگوان کے منزل میں جاکے آرتی و تاری اس کو نائٹ ملے گی پرکاش ملے گی اور جس نے یہ نہیں کیا ہے اس کو اندھکار میں چلنا پڑے گا ایسے چلتے چلتے یم بول کے کنارے ایک بہترنی نام کی ندی دکھائی پڑے گی بڑی بہہنکر دھارا واپی کو دکھے گی جیسے رکھت اور پیپ کی دھارا ہے فنیاتموں کے لیے دھوٹ کی دھارہ ہے وہاں یمنوت کہیں گے کہ ہم تمہارے ایک اندے میں بیٹھیں گے تم پہلے چل کے اس نجی کو پار کرو اب یہ گھوڑاتا ہے تو جس نے گو نان کیا ہے اس کی گو آ جاتی ہے وہ گوھر کی پوچھ پگڑ کے سیدھا پار ہو جاتا بچیاں کیوں ہو جائیں بڑی ہو جس نے میں دان کیا ہوں تو اُن کا پار نہیں ہوگا میں تو خود ہی جھول جائیں گاہیں بچائیں تو اِس طرح ایک سیٹھ تھا پڑا اکربڑ تھا کبھی ناندھرم نہیں کرتا تھا تو جب اُس کی مرنے کا سمجھ آیا گھر بھاروں نے کہا کہ پتا جی گھو نان کر دوں گا رہے گھو نان کر دیں گے پندیت لے جائے گا ہمارے بچے کہاں سے دوٹ لیں گے ہم گھو نان نہیں کرتے انہوں نے تجھے کچھ کروا دینا چاہیے تو ایک سونے کی گھو بنائی اور اُس کو مٹھی سے چھوپ دیا کہاں مٹھی کی دے تو دے سکتے ہو نا کہاں مٹھی کی دے لیں گے مٹھی کی دی تھی جب وہ سیٹ مر کے ویترنی کے کنارے گیا تو سب کی سجیون گاہ آئی اِس کی مٹھی والی آئی اِس کی بوچھ پگڑی تو وہ بھی سر کی تھوڑی اور جب اس کی مٹھی گھولی اور سونا چمکا تو افسوس ہو گیا کہہ رہے ہم سے بڑی بھول ہو گئی ہم نے بھولے میں مٹھی کی بھولے میں سونا دھان کر دیا ایسے بھی کرمان ہوتے ہیں تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو مرنے کے بعد آپ نے صدقرم کیے ہیں وہ آپ کی رکھشا کریں گے اور جو آپ نے دشکرم کی ہے ان سے آپ کو دکھ ہوگا تو دھرم بھی ایک پرشارت ہے لیکن وہ پرشارت پرلوک میں سکھ پراب کرنے کے لئے ہے اور تھوڑے دنوں کے لئے دکھ سے چھٹکانہ بھی ملے گا مرنے کے بعد آپ نے اگر دھرم کی ہے تو آپ کو سرک کی برابطی ہو جائے گی اور جتنے دن تک آپ کے پُنہ رہیں گے اتنے دن تک آپ سرک میں رہیں گے جیسے ہی پُنہ چین ہوں گے آپ کو وہاں سے ڈھکیل دیا جائے گا جیسے کسی بنیاں کے یہاں آپ نے کچھ روپیہ جمع کر دیئے کہ بھائی ہم تو سوڈا مانگائے دیدیا کرو وہ دے گا تب تک دے گا جب تک کہ آپ کا روپیہ کا کھتم نہیں ہو جائے گا اس کے بعد وہاں سے پھر سکھ کر گئے ہیں اسی لیے چوتھا پرشارت ہے موکش بھگوان کی برابتی بھگوان کی برابتی کرنے کے بعد منس کو پھر سنساہر میں لوٹ کی نہیں آنا پڑتا اور اکشہ سب پرابت ہوتا ہے اس لئے بندھیمان کا یہ کرتب ہے کہ ارض دھرم کا موکش ان میں سے موکش کو چنیں اور موکش کے لیے دھرم تو کریں لیکن اُدھ میں کامنا چھوڑ کے کریں کامنا کا تیاک کر کے بھگوان کے چرنوں میں کرموں کا فضل تمر پر کر دینے سے چھت ننور ہو جاتا ہے جیسے ہمارے آپ کے شریع ہو جاتے ہیں اگر مٹھی لگ گئی تو پانی سے دھول جائی اگر کپڑی میں میل لگ گیا تو سابن سے دھلے گا اور اگر من میں میل آ گیا تو نشکام کرم سے کرم کریں اور وہ بھگوان کے چرنوں میں عربت کر دیں سب کچھ کر کے بھگوان کو سمرپت کر دینا یہ بھگوان کی پرسنیتہ کا ہیتھ ہوتا ہے بہت سے لوگ سوچتے ہیں اکانشی کا ورد ہم نے کیا اور بھگوان کو عربت کر دیا تو ہم کو کیا میرے ہاتھ لیکن یہ سوچنا نہ سمجھیں آپ نے دھرم کرکے دھرم کو بھی بھگوان کو دے دیا تو وہ انتہ منت ہو کر آپ کو ملے گا اس طرح سے پرلوک کے سمبند میں بھی سوچنا اور اس لوک میں پرماتوہ کو پرابت کرنے کے لیے سادھن میں نہرت ہونا یہ ہماری زیون کا ابدیش ہونا چاہیے اتنا ہی ہے کہ آج کا پروچن پون کرتے ہیں سری رام جہ رام جہ جہ رام سری رام جہ رام جہ جہ رام سری رام جہ رام اے جیرام جیرام جیرام اے جیرام نرمکی نرمکار رانیوں میں مشقاق مومتاقی وحتیا حرہر مہادی.
More from swami

#हैदराबाद_में_दुष्कर्म की घटना को लेकर बोले जगतगुरु शंकराचार्य स्वामी स्वरूपानंद सरस्वती जी महाराज

#अमृत_वचन पूज्य शंकराचार्य जी महाराज ने सभी भक्तों को ग्राम गुंगवार में दिया धर्म संदेश जिला सिवनी

पूज्य शंकराचार्य महाराज ने कहा कि #सरकारी_पैसे से नहीं बनेगा राम मंदिर #साधु_संतों_के_और_राम_भक्तो_क

पूज्य शंकराचार्य जी महाराज ने कहा पहले राम भक्त मिलकर छोटा #स्वर्ण_मंदिर_बनाकर_भगवान_राम_को_स्थापित

७०वर्षों से ग्राम नगवार में नोका विहार का आयोजन #निषाद_राज_परिवार_के लोगों द्वारा किया जाता है जि

७०वर्षों से ग्राम नगवार में नोका विहार का आयोजन #निषाद_राज_परिवार_के लोगों द्वारा किया जाता है जि

पूज्य शंकराचार्य जी महाराज ने ANI से बात करतेहुए कहा #अयोध्या__में_बालक_राम का ही मंदिर बने आदर्श र

पूज्य शंकराचार्य जी महाराज ने कहा आदर्श राम का नहीं बालक राम का मंदिर बनना चाहिए अयोध्या में

पूज्य शंकराचार्य जी महाराज ने #अयोध्या_मामले को लेकर पहली प्रतिक्रिया दी #सुप्रीम_कोर्ट का आदेश सुनन

