In this informal, on‑the‑ground vlog, two speakers narrate a perilous journey through a remote, sparsely monitored border area between Pakistan and India near Karachi. They describe navigating a narrow, thorn‑filled path, passing a destroyed water‑factory that was set ablaze during a conflict, and constantly fearing attacks or arrests. Throughout the trek they encounter repeated demands for money from local officials or armed groups, describing extortion attempts and the need to pay small sums (often quoted as a few thousand rupees) to continue. The speakers repeatedly urge viewers to like, comment, and subscribe, using the dangerous setting as a backdrop for their appeal. Their tone is urgent, conversational, and at times defiant, reflecting both fear of the environment and determination to push forward despite the hardships. The narrative also includes personal anecdotes, references to a friend nicknamed “Sharu Khan,” and occasional humorous or exaggerated remarks about the situation.
Chapters
صلی اللہ علیہ وآلہ وآلہ ہم کچھ نہیں بول سکتے کیونکہ ہم آج بہت خسارے میں جا رہے ہیں تو آج ہم ایسے راستے سے جا رہے ہیں نا آپ خود دیکھ لو ہم پشے ہوئے جس طرح کہ ترکیہ ہو رہے ہیں ہیران کا وارڈر نہیں ہے بالکل اُس طرح راستہ ہے تو ہم آپ کو بیٹھ کیمرے سے دیکھائیں گے کہ آیا کیمرے کا شکر ہم دیکھائے گا تو بھی ہم کو یہاں پر چوت لگ سکتی ہے نا اس وجہ سے تو آپ دیکھ سکتے ہونا ہمارے سر میں شکر آ رہا ہے دل گاڑھن گاڑھن ہو رہا ہے کتنے جگہ نیچے کتنے خطرناک جگہ سے دیکھو ہم لوگ جا رہے ہیں میں تو پس گیا ہے اتنی خطرناک جگہ سے کوئی جا سکتا ہے نہیں جا سکتا ہے نا وہ ہم جاتا ہے کیونکہ ہم مجبور ہیں وہ راستہ نہیں ہے یہ ایک
راستہ ہے اے
جو لوگ ڈنکی مارتے
ہیں نا اللہ
اکبر
یہ آپ دیکھ سکتے ہیں گائز پس گیا ہے کانٹے ہیں دیکھ سکتے ہیں اتنے بڑے بڑے
کانٹے مکہ مکہ گیا گا ماں یہ
جو آپ دیکھ رہے ہو یہ آگے یہ انڈیا ہے پھر یہاں پیچھے ہم پاکستان سے آ رہے ہیں تو بارڈر بہت خطرناک بارڈر ہے یہ علاقے میں کسی کا نظر نہیں ہوتا ہے بالکل چھپ سنسان علاقے ہے آپ دیکھ سکتے ہو یہ بہت بڑی فکریٹی پانی کی فکٹری تھی یہاں مینل واٹر پانی بن رہا تھا تو یہ پھر جنگ ہو گیا یہاں پہ آگ لگ گئی اور بند کر دیا فکٹری کو تو اب یہ بیچ میں رہ گئی ہم لوگ ابھی جا رہے ہیں ابھی میری بار
ہے یہ پکڑ جس طرح کیا آپ نے میزر پسا ہوا تھا اس نے میرے کو انجوائی کی ہے نا ابھی اس کو میں انجوائی کرتا ہوں کیسے جا رہے ہیں تو اس کے اوپر بھی اس کو بھی اپنی والی نہ کہنا جا رہا ہے کہ اللہ ہو یا ایڈے کیونکہ پس گیا ہے نا دا خطرناک کی کرے اور سامنے اب جب سکتے ہو بلکل پورا جھنگری جھنگری تو یہ کراچی کا ایک علاقہ ہے وہاں پہلے جگہ مشتمل ہے بابا مزاک کر رہے ہیں نا کہ انڈیا اور پاکستان کا بارڈر ہے ترکیہ والا ہونیسان کا بارڈر ہے تم مزاک کرتے ہیں نا حقیقت میں یہ ہے کراچی کراچی چل کراچی چل آکے دیکھ کس کا زور ہے کراچی پر تو آج ہی چل میرے آگے کراچی کراچی نہ کر سب آؤں آگے میرے کون ہی ہے تاکہ بھی چکرے آگے ہان تو پے چلنے کی عادت سے ہو گئی دیکھ سکتے ہونا ہم کس راستوں پہ جا رہے ہیں ہم کس راستوں پہ جا رہے ہیں کیوں کہ شاروخان جو ہے شاروخان اس کو بھی ہم لوگ ٹرین کرتے ہیں یہاں پہ وہ جب بھی خطرناک بلم کا شوٹنگ کرتے ہیں نا وہ ادھر آتا ہے ہم اس کو ٹرین کرتے ہیں ٹھانکوں کو سو ٹھانکیں ٹھوڑ جائے خالے سر کو کچھ نہ ہو جائے سر کو کچھ نہ ہو جائے بلے پر جو ہوتے ہو ہونے دو تو میرا سر بہت زیر سے زیادہ لگا اور میں اس مشکل گھڑی سے بھی آگے نکل گیا ہوں ابھی ہمارا چھوٹا دون شورخان پیچھے پسہ ہوئے اور ہم آگے نکل رہے ہیں شورخان کو آپ دیکھ رہے ہو ہمارا غریب والا شورخان ادھر پس چکا ہے دیکھ سکتے ہو یہ راستان لوگوں نے پیچھے سب کچھ پار کر دیا اور نیچے جو بہت بڑا کاری ہے سائے ہم
اپنے لوگوں کے لئے سکسیس ہیں وہ لوگ بنا رہے ہیں اتنے خطرناک راستے سے جا رہے ہیں اور آپ لوگ لائک کمنٹ سبسکرائب نہیں کر رہے ہیں غلط بات ہے یقین مانو غلط بات
ہے یقین مانو غلط بول رہے ہیں نہیں غلط بات ہے یقین مانو دیکھو ہم لوگ اس راستے پر اتے رہے ہیں کانٹوں پر چلنے کی اب عادت ہو چکی ہے یا اللہ موت کو چھوٹ کے ٹک سے واپس کے بار نکل آیا ہوں تو آج کا منزلہ میں ساپ نظر آ رہا ہے تو تھوڑا میرے سیب جگہ ڈن لوں وہاں بے کڑا ہو جاؤں سب سے پہلے جہان ہے اس کے بعد پھر جہان ہے تو یہ بھی پسا ہوا ہے غریبوں کا شاروخان دیکھ سکتے ہوئے نا بہت زبادہ سلاتے ہیں آہ شیف آہ شیف تو میرا پاس ہے میرا پاس ہاں کون کہ دی رہے رات کو وٹل پہ ملتے ہیں میں کہ جارہا ہوں ابھی میں نکل گیا وہاں سے جھوٹ کیوں بولے جھوٹ کیوں بولے سر امیر سے بہت سے لوگوں نے بہت سے کہہ ہوئے سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری کالاہ بیاجا سرکاری بڑے رات کو دے رہا کالاہ بیاجا اور رات کو اوٹرز بیا جا سالہ ایک روپی یہاں پہ ملتا نہیں ہے وہ بس ہزار روپی مانگ رہے ہیں بس ہزار روپی میں کدھر سے لاؤں اتنا خطرناک جگہ سے ہم لوگ جا رہے ہیں کوئی کوئی ایک روپی نہیں لے رہے ہیں پھر آپ خود دیکھتے ہو یہ سالہ راست ہے تین انچ کا جگہ ہے دو انچ کا جگہ ہے تین کا بھی نہیں ہے اگر یہ خدا نہ خستہ میدر سے نیچے گر گیا پھر ہمارا ایڈیٹوٹ جائے گا وہ پیشہ کون دے گا، شاروخان دے گا یا سلمان خان دے گا۔ قسم سے عجیب لوگ یہ عجیب باتیں کرتے ہیں یار، درثورہ کھانے کے لالے پر جھکی ہو رہے ہیں لوگ بھی سازا روپی مانگ لیں اور جھپے اوپر سے جھوٹ بھی بولتا ہے کہ فلانا بندے نے مانگ گئے۔ میرا ماما کا بیٹا ہو، میرا کزن ہو، میرا بھائی ہو، جارہے سارے بار میں جاؤ یار۔ ہمیں خطرہ قصوے بہتر چین ہو جاتی ہے جو کہنے پر تو سارے بھلے کھڑے ہوئے گھائے پہلے سرکاری کھڑے ہوں گے ہمارا منجل آگیا ہے دیکھ سکتے ہو یہ منجل تاں لوگ آگیا ہے منجل تاں لوگ آگیا ہے منجل تاں لوگ آگیا ہے