In this informal Urdu monologue, the speaker greets viewers on the third and final day of Eid, explaining that they chose to stay within their neighborhood rather than go out. The video captures the atmosphere of a warm, bustling local area where children gather, listen to Pashto and Urdu songs, and play together. The speaker mentions several acquaintances—Salam Khan, a childhood friend, and others—highlighting the close‑knit social fabric of the community. Throughout, the narrator reflects on the customary exchange of Eid wishes, humorously noting that they have not yet received an "Eid Mubarak" from some neighbors and playfully critiquing the expectations around greetings. The overall tone is conversational, celebratory, and lightly humorous, offering a snapshot of everyday Eid celebrations in a Karachi neighborhood.
Chapters
السلام علیکم امید ہے کہ آپ سب بہت خوبصورت ہوں گے ، کیونکہ یہ تیسرے دن ہے اور آج آخری دن ہوں گا ، لہذا ہم اپنی علاقے سے باہر نہیں گئے ہیں گمنے پرنے کے لئے ، کیونکہ ہماری حالات کچھ نظر نہیں آتی ہے ، لہذا ہم اپنی مولے پر بیٹھے بیٹھے رہے ہیں ، لہذا آج ہمارا پلائن ہے مولے سے باہر نکلنے کا ، کیونکہ اصل مزہ آتا ہے بھی یہ تیسرے اور چھوٹے دن گمنے پرنے میں اور آپ یہ گانوں کی آواز سن رہے ہو سوں کی پشتو سن، اردو سن، سب بہت بچے انجوائے کر رہے ہیں دس تو ہمارے برابر بیٹا ہوئے سلام خان جو ایک ہمارا بچپن کا ساتھی ہے اس کے برابر بیٹا ہوئے سلیم مجدرا تو پتہ نہیں ہم تو خود نکلے ہی نہیں گھمنے پرنے کے لئے کچھ ایشو تھی تو ہمارے ساتھ ہم پھر دوزوں بھی نہیں نکلے یہاں بھی ہیں کہ ہم یہاں بھی بیٹھتے ہیں۔ ہمارے محلے یہاں بہت گرم ہوتا ہے۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے ہیں۔ ہمارے بچے یہاں بیٹھتے کیونکہ پہلے اور دوسرے میں مہمان آتے ہیں نا اس کی خدمت میں ہم لوگ حاضر ہوتے ہیں اگر نہ ہو تو لوگ بلے شکویہ کریں گے کہ بابا ہم گئے تھے ایہ لوگ نہیں تھے فلان اتنی گوئنگ کرتے ہیں باتیاں کرتے ہیں نا اس وجہ سے ہم لوگ باہر نہیں جا سکتے ہیں تو ہم آپ کا اپنا محلہ بھی کہیں گے آپ دیکھ تو اے ہمارا محلہ ہے تو ہم یہاں پہ یہ رہتے ہیں تو سامنے جو کھڑا ہوا ہے اس کو بولتا ہے بابا سامنے بابا کھڑا ہوا ہے تو یہاں پہ جو بیٹے ہوئے بچے اور یہ سب سے بڑا بچہ یہ وہی بچہ ہے جو کروشے کلر کپڑے جس نے پہنے ہوئے ٹوپی سر میں تو یہ وہی بچہ ہے جس نے چاند کو پٹکے بول رہے تھے یہ وہی بچے ہیں تو سامنے دیکھو روان کو دیکھو وہ پانی لا رہے ہیں اور دیکھو ہم یہی رہتے ہیں یہ ہمارا محلہ ہے اور ہم یہاں کے نواب بھی ہیں، سرکار بھی ہیں، بازچائی بھی ہیں بابا کو دیکھو اسے دیکھو کلر کپڑے پہنچنے میں وہ جس طرح آرہا ہے اس کی انداز کو دیکھ سکتے ہو آپ کھان جے پچھل دکان تو یہ ہماری دوستی ہے عاشق نام ہے ان کا عاشق دھور نام ہے اس میں شورٹ کورٹ نکھا ہوا ہے عاشق مولی نے بھی سور مچا ہوا ہے بابا ہماری اس دوست نے بھی دیکھو گانا لگایا ہوا ہے وہ بھی لیڈیس والا گانا لگایا ہوا ہے اس نے یہ ناکام عاشق ہیں سارے جو بھی ناکام عاشق ہوتے ہیں نا وہ گھمنی پرنے کے لیے نہیں جاتے ہیں وہ کہتا ہے نا کہ ہم اتنے بھی گونے گار نہیں ہے تمہارے عشق کے کہ ہم اتنے بھی غنیگار نہیں ہیں تمہارے عشق میں آج عید کا تسرہ دین ہے اور آج تک ابھی تک آپ نے ہمکو عید مبارک بھی نہا کہا ہاں صلی اللہ علیہ وسلم اتنے غنیگار تھوڑی ہے جب تک وہ لوگ یہ کہہ رہے کہ جب تک وہ ہمیں عید کا مبارک نہیں دے گا ہم گمنے پرنے کے لیے نہیں جائیں گے اور نہ ہی ہم لوگ عید منائیں گے یہی بات ہے نا سلام خان کتنے بچے ہیں ابھی اس کے بابا آپ لوگ جنہیں جا سکتے ہیں کیونکہ آپ لوگ جو کچھے آشتی کے آپ لوگ جاؤ آپ لوگیت مناؤ خوشیاں مناؤ بابا دو دن کا زندگی ہے یار کیونکہ دو دن نکل گیا خالے دو دن ہی باقی ہے