श्रील प्रभुपाद लीलामृत | 14 Jan 2007 - Mumbai | Srila Gopal Krishna Goswami

The lecture recounts Srila Prabhupada’s formative work in Mumbai, beginning with his involvement in establishing the first Gauriya center in 1932 and his correspondence with Bhaktisiddhanta Sarasvati. It traces his later international outreach, including his travel to the United States to spread Krishna consciousness, and details the extensive efforts to acquire land and build the large Krishna‑Land complex in Juhu (often referred to as Akash Ganga) during the 1970s. The speaker describes the logistical, financial, and bureaucratic challenges faced—such as land‑purchase negotiations, permit rejections, and local opposition—while highlighting the massive festivals that attracted tens of thousands of devotees. The narrative also touches on cultural moments like the “Hari Rama Hari Krishna” film, the role of foreign disciples, and Prabhupada’s vision of using Mumbai as a gateway to spread Krishna consciousness throughout India. Throughout, the speaker adopts a reverent, enthusiastic tone, emphasizing Prabhupada’s determination, the devotion of his followers, and the eventual realization of the Krishna‑Land project.
Chapters
Om Namo Bhagvate Vasudevaya Om Namo Bhagvate Vasudevaya Om Namo Bhagvate Vasudevaya तो आज के शब्दें प्रापा जी का एक बड़ा प्रियम केंदर शी शिरादे राज में हरी मंदर की भी स्थापना हुई थी हाँ आज से 29 साल पूर बड़ा 1978 जैनुरी 16 1978 तो संख्षेप में हम प्रापा जी की संगर्श के विश्व में चर्चा करेंगे प्रापा जी का बॉम्बे शहर से ताफी पुराना समबन्द है जैसे की जब प्रापा जी क्यांकरा में भी थे वियस्ता आंश्र में तो बम्बे आये थे और उनने गोरियमत की स्थापना में सईयोग दिया था बम्बे में जो पहला गोरियमत खेंडर की स्थापना होई थी 1932 में और प्राभा जी ने बम्मे से ही वो पत्र लिखा था भगती सिदान्दा जी को 1935 में जिसमें उन्हें पूछा उन्हें कहा कि आपके कई प्रियर सिश्य हैं जो आपके लिए बहुत सेवा कर रहे हैं पर मैं क्रियस्ता आश्रमे हूँ میں آپ کے لئے کیا سیوہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے یہ پتہ لکھا بھاگتی سیدھاندہ جی کو وہ پتہ لکھا تھا بمبے سے اور اس وقت بھاگتی سیدھاندہ جی تھے بھوری میں تو بھاگتی سیدھاندہ جی نے اتھر میں وہی آدش دیا جو کہ انہوں نے دیا تھا 1922 میں وہ آدش یہ تھا تم پڑھے لکھے ہو ग्रंधों का डवाद कर रहा हैं अंग्रेडी भाषा में और चीतने महा प्रभजी की भुविश्वाली को सत्य बनाने में स्वियोग दो। प्रापर्जी बस्चिम देश में जाने का प्रयास कर रहे थे जैसे आप जानते हों और प्रापर्जी ने भारत में लीग और देवोर اتنی نہیں کر پا سوریہ کریہن کے سمیں رہا پا جی ایک دھنی عورت سے ملے تھے کریوشیتر دہام میں جیسی کہ آپ نے پرسوڑا تیاتر بنائی اور سوریہ بھیہن کے سمیں ہی بھگوان آئے تھے دوارکا سے کریوشیتر رادر عالی گوپیوں کو ملے اور رادر عالی گوپیوں نے کہا چلو برنداون کے اور سوری رہن کے سمیں انادی کال سے لاکھوں بھاکت جنگ آتے ہیں تو پرابا جی کو کسی نے سوشنہ دی تھی کہ یہاں ایک بہت دھنی عورت ہے جس کے جہاز چلتے ہیں پشت دیشوں میں پرابا جی شریف ادی برانجی جی سے ملے کروشیتر میں جہاں کہ انہوں نے کہا کہ میں امریکہ جانا چاہتا ہوں بھگوائن کرشن کے سندیش کا پرچار کے لئے اس نے کہا ہاں سواوی دی مجھے آنکھا بمبے میں ملنا سری مہدی مراج دی دھارمیک پیچار کی تھی اور دھارمیک سنستان سے جڑی ہوئی تھی تو پرابا دی آئے بمبے آپ پڑھتے ہو لیلامریتہ میں کتنے سنگھر سے آئے اور کسی سندھیا جانونکیشن کمپنی کے عدیقاری کے گھنوے پھہرے اور اس عدیقاری نے کہا کہ یہ پرابہ جی کوئی پیسے نہیں تھے دو کلومیٹر پینل جاتے تھے روج اندھیری اسٹیشن میں گاڑی پکڑنے کے لئے اگر آپ اندھیری اسٹیشن سے گاڑی پکڑ رہے ہو تو آپ خوش ہونا چاہیں پراپا جی نے بھی لوکل ٹرین اور دیوی سٹیشن سے بہت دار پکڑی پراپا جی ممبے آئے اور سری مدی مران جی کو ملنے گئے تھے ان کے گھر میں اور جب وہ سری مدی مران جی کو ملنے جا رہے تھے تو اس وقت یہ جو हरे کرشنا لینڈ ہے یہ کیا تھا ایک جنگل تھا پیچھے مکان تو تھے پر آگے جہاں کہ آپ اس سمیں مندر کو پرات کر رہے ہو گیشت ساؤز کو اُس سمیں کیونکہ وہاں اوچھی اوچھی جھاڑیاں تھیں اور بہار سے ایسے دکھتا تھا جیسے یہ جنگل ہے پر پیچھے مکان تھے तो प्रावपा जी श्रीमति मुराजी के घहर गए कई बार श्रीमति मुराजी ने उन्हें नमंत्रन में दिया अब आकर भगवत को पढ़ो मेरे लिए तो प्रावपा जी शाम को जादे थे भगवत उन्हें पढ़कर सिनाते थे और उझ समय प्रावपा जी ने ये स्थान दे کہ اگر ایک دن آپ مجھے یہ ستھان دو گے تو میں آپ کے لیے ایک بہت خوبصورت مندر بناؤں گا اس ستھان میں تو ناجا لگاؤں اس وقت پراپا جی کے پاس کوئی رہنے کا ٹکھانا بھی نہیں تھا بھیالل جاتے تھے اندھیری سٹیشن کیونکہ انکے پاس پیسے نہیں تھے اور پراپا جی یہ یوجنا بنا رہے تھے کیا اگر بھگوان یہ ستھان دیں کبھی तो भिरुशुब में वो एक मंदर मनदर करते हैं। प्रापा जी, पिर जैसे आप जानते हैं, अमेरिका गए, श्रीमन दिवरार्जी ने उन्हें सुविरा दी, क्यार्गो शिप में जाने के लिए, आप जैसे की, आप यातरा करते हैं, तो एकस्� जैसे अगर खास सुविदा नहीं होती और ना वो जो धीमे धीमे जाता है ख्यार प्रावाजी अमेरिका गए कृष्ण भक्ती की स्थापना की वहाँ और जैसे आपने परसों सुना था राथ्यातय योजना भी आरम की फिर प्रावाजी लोठे 1970 में अपने विदेशी भक्तों वो लोटे अपने विदेशी भक्तों के साथ इस भावना से कि भारत में इस सिख्षा की बहुत आवशक्ता थी क्यूंकि पश्यम देशों में जाने से पहले प्रावपा जी ने काफी प्रयास किया था भारत में कुष्णा भक्ती की स्थापना के लिए प्रावपा जी ने दे� बढाते जा रहे हैं उनकी च्छा थी कि इस पुन्य भुमी में भी शुद्धक्ती की स्थापना की जाये तो प्रापा जी भारत में आये जो पहले मॉंबे में आये प्रापा जी एक तो मरीन राई में एक क्या नाम था सक्सेरियर सक्सेरियर जी उनके घर में थेरे थे कोई र भग जो हैं जाके हरी नाम करते हैं एक समय एक मायवाली सभा में कारक्रम चल रहा था उन्होंने भगतों को निमंसन दिया प्रापजी ने कहा जाओ प्रापजी भी गए और अस्ते अस्ते प्रापजी ने अपने विदेशी भगतों के साथ प्रचार अणं किया پہلے پرابو جی مرین رائی میں رہے ہیں پھر کسی اور کے ساتھ رہے ہیں جن کے پاس سیتا رام کی مرتیوں کی ستھاپنا تھی اور پرچار بھی پرابو جی نے شروع کر دیا پھر پہلا کھیندرہ ستھاپت ہوا تھا اکاش گنگا میں جو کی مرین رائی میں نہوں جو کی مورڈن روڈ میں تھا ساتھویں منجل میں ایک چار کمرے کا مکان کرائے پر لیا تھا جس کا کرایا تھا تین ہزار پے مہینہ اور اس اکاش گنگا کھانک کے فلیٹ لینے سے پہلے جب پرابا جی الگ الگ ستانوں میں رہ رہے تھے اپنے ودیشی بھاکتوں کے ساتھ تو پہلا بڑا پانڈل ہوا تھا پرابا جی نے اپنے امریکن سیشنگوں کو کہا ہاں تم لوگ امریکن ہو کچھ خاص چمکر دکھاؤ پھر پراپا जी के निर्देशिन में बड़ा क्रॉस मेदान में फैस्टवल हुआ था जिसके विशे में खोने-खोने में बमबे के बड़े-बड़े बिल्बोर्ड लग गए थे और भाक्तों ने एक विश्व का ग्लोब दिखाया था जिसके पर प्रापा जी के तस یہ دکھانے کے لیے کہ کس طرح परवा जी ने पूरे विश्व में कृष्णा भन्ती की स्थापना की है और जो क्रॉस्मिदान में festival बना हुआ था हजानों लोग लोग आ रहे थे 10,000 20,000 और उस कारिक्रम में आपके राजनाथ स्वामी और लोकनाथ स्वामी म تو लोगनाथ स्वाभी वीन के साथ उनका भी पड़ेचे हुआ था कृष्णा भगवी के साथ वो इस फैस्टवर के माध्यम के दौरा तो फेर ये जो रादा राजभारी भिग्रा है प्रापा जी जब में इंडिया आए थे उन्होंने जाईपूर से दो राद پہلی بار جو رادہ راجبہری مرتیوں کو دیکھتے ہو مندر میں ان کی ستھاپنا ہوئی تھی مندر میں پھر انہیں پڑھائی کرام میں بھی لے گئے تھے چپاڑی تک اور جب اکاش گنگا میں مندر تھا ہمارا چوتھی ہے ساتھویں منجل میں تو وہاں بھی رادہ راجبہری کی ستھاپنا ہوئی تھی وہ پراوپا جی کی پڑھوز کے کمرے میں رہتے تھے اور پراوپا جی دھون رہے تھے ایک نئے ستھان کے لیے یہاں کی مندر بنایا جائے۔ پرابا جی نے کہا بومبے ہے ہندوستان کی گیٹ وی۔ وہ گیٹ وی ہندوستان ہے نا بومبے پھر پرابا جی کا وچار تھا کہ بومبے کو اگر ہم کشنہ بھکت بنائیں گے تو یہاں سے ہم پورے بھارت میں کشنہ بھکتی کو پھیلا سکیں گے۔ پرابا جی نے کئی دفعہ ایسے کہا तो प्रापा जी के इच्छा थी कि यहाँ एक अच्छा केंडर बनाया जाए और जब प्रापा जी अकाश गंग में हमारा मंदर था तो उसी बिल्डिंग में पाकिस्तान का कॉंसलेड भी था और उन दिनों में बंगला देश का युद भी शुरू हो गया था तो वैसे क्योंक بھارت سلکار کا سمبند ریسیہ سے زیادہ نکت تھا امریکہ سے تھوڑا دور تھا تو کہیں یہ لوگ بھارت پہ کہنے لگے یہ لوگ سی آئی ایلٹر تو نہیں ہیں اور جبکہ وہ پاکستان سے یوٹ شروع ہوا تو بھاکتوں کو اور ستاہت دینا پڑا اُن ہی دنوں میں ایک پرسیر فلمی کلکار نے ایک فلم بنائی تھی ہری رامہ ہری کریشن آپ نے اسے آج سنا ہوگا. تو اس نے وہ فلم بنائی تھی جس میں دکھایا ہے کہ لوگ بھنگ پی کے پھر یہ ہری رامہ ہری کرشنا کا بچارنگ کرتے ہیں۔ تو اُن دنوں میں یہ فلم بہت چل پڑی تھی۔ مجھے یاد ہے 1973 میں میں پرابا جی سے ملنے گیا تھا آکیش گنگا میں۔ اور میں نے کہا this movie is going to give us a bad name. میں نے کہا یہ فلم تھا ہمارا اس کا ان کی عزت ہندوستان میں کھلاف کردے گی کیونکہ دکھا رہے ہیں کہ لوگ بھنک پیتے ہیں اور پھر ہری رام ہری کرشنا بولیں گے. رابا جی نے کہا, nothing will be lost, don't worry, people will hear hari krishna hari rama and benefit. رابا جی نے کہا, کچھ گھبراو مت, لوگ ہری رام ہری کرشنا سنیں گے جس کے دواراں کےول لاغ اٹھائیں گے. تو اس وقت پرابا جی نے لائیف میمبرشپ کا کارکرم شروع کر دیا تھا وہ پرابا جی نے بھکتوں کو کہا تھا تم کیول دو میمبر دن میں بنا کر لاؤ اور میں پورے ہندوستان میں یہاں سے پرچار بناوں گا تو پرابا جی نے ہلکا کوٹا دیا تھا دو میمبر دن میں بس تو پرابا جی اون دنوں میں کبھی کبھی مالا بائی کھیل جا رہے تھے وارڈن روڈ جا رہے تھے کھلاوا جا رہے تھے کوئی بڑی بلڈنگ کو دیکھنے کے لیے یا جمین کو دیکھنے کے لیے جہاں کی مندر بنا سکے تو 1971 میں کسی نے سوچنا دی کہ ایک سجن جھو میں یہ کافی پرسید سجن تھا ایک پترکہ کا ایڈیٹر بھی تھا بمبے میں اس کا اوچھا ستھان بھی تھا ایک سمیں وہ جمین بیچنا چاہتا ہے چار اکر جمین اور وہ جمین ہے کہاں جہو میں اُن دنوں میں کہا جاتا ہے کہ جہو کی عبادی کوئی دس پندر ہجار بھی ہے بس تو جب کراپا جی کوئی سوچنا پہنچی کہ جہو میں کوئی جمین دینا چاہتا ہے प्रावपा जी तो तुरांति तियार हो गए तो प्रावपा जी के साथ जो उनके विदेशी भग थे खास करके उन्होंने कहा प्रावपा जी इतनी दूर कौन जाएगा जुमे कौन आएगा हमारे मंदर में जब रामन रेती बृंधावन में इसका कोई जमीन प्रावथ हुई اس وقت یہ گیتہ رمن ڈیڈی ستھان گندہ بندھ شہر سے بہت دور تھا کھانے کھائیوں نے کہا سوہمی جی اتنی دور مندر میں بناوں پھر پرابا جی کہا نہیں یہاں ہی بنا جائے اور آج رمن ڈیڈی دور دیکھتا ہے نہیں بالکل نہیں تو اسی پرکار جہاں لوگوں نے کہا کہ یہ بہت دور ہے پرابا جی نے سفیقان نہیں کیا پرابا جی نے جا کر یہ سجن سے ملے سوڈا کر لیا پراؤپا جی نے ایک سمیں کہا تھا مجھے I was a transcendental gambler پراؤپا جی نے کہا کیونکہ جب پراؤپا جی نے ننے کیا یہ جمین خریدنے کے لیے آپ مانوگے نہیں ان کے پاس کچھ رقم نہیں تھی پچاس ہزار روپے بڑی مشکل سے کھٹے کر کے داؤن پیمن کے روٹ میں دیا پھر پرابا جی کو پتہ لگا کہ یہ جو بیاکتی ہے جو زمین بیچ رہا ہے یہ جو چلاک آدمی ہے اور اس نے پہلے دوسروں سے بھی سوڈا کیا اور دوسروں سے سوڈا کر کے پیسہ لیا ہے اور پھر زمین نہیں دی प्रापा जी तो थोड़ा शक होने लग जा था तो प्रापा जी आज साफधान हो गए थे तो खेर जैसे ही रकम थे और प्रापा जी ने भच्तों को क्या कहा चलो एगदम हरे कृष्णा लेंड में हरे कृष्णा लेंड उस समय हरे कृष्णा लेंड लादवग जंगल था आ� کھٹیاں تھیں تھوڑی بہت تین چار ہر جگہ چھوے تھے اور جو پرانے مکان تھے وہاں کلائے دار تھے پھر پراپا جی نے کہا ہاں لیٹس شفٹ دیر بھاگتوں نے کہا نہیں پراپا نہیں یہ بہت زیادہ ہے ہمارے پاس ایمینیٹیز نہیں ہیں پرابا بھکتوں نے کہا کہ وہاں کوئی سبیدہ نہیں ہے پانی نہیں ہے کچھ نہیں ہے ڈرینج نہیں ہے سینیٹیشن نہیں ہے ہم کیا کریں گے وہاں جا کر پرابا جی نے کہا کہ روحانی زندگی آسٹیریٹی کا مطلب ہے انہوں نے کہا کہ دیادمین زندگی ہے تپسیا کے لئے تو اگر تمہیں تپسیا اٹھانے پڑے گی تو گھڑاو مات تو پھر پرابا جی نے اپنے سشن سے کہا چلو اور جیسی موقع ملا, प्रापा जी आ गए हरे कृष्णा लैन में रहने के लिए. और मानो ये ना मानो, प्रापा जी पहले रहे थे हरे कृष्णा लैन में, कोई महल में नहीं, एक तेंट में. एक तेंट मनाई थी, जिसमें प्रापा जी भी थे, और उनके सिश्यों भी थे. चुरू � रात को सोने जाते थे तो चूए आकर उनके पाओं को कार देते थे इतने चूए थे हरी कृष्णने में और फिर ब्रह्मनन्दा जी आये मिलकर सब ने ज़्ज़ाडियों को काटा देने के वाले पूरा जंगल था जंगल में सांप होते हैं चूए होते हैं वगड़ा प्रा� لکھوں نے کہا پراؤپا جی رادھر راج پیارے کو وہاں لے جاؤگے نہیں پہلے ہمیں کوئی سوبیدہ تو بنانے دو ان کے لیے منظر بنایں گے پھر لے جائیں گے اب تھوڑی پراؤپا جی کہا نہیں مورتیوں کو لے جائیں گے وہاں کیوں ایک بار مورتیوں کو لے جائیں گے پھر کوئی ہمیں نکال نہیں سکے گا پراؤپا جی کو شک ہو گیا تھا کے سوڈے میں خطرہ ہے تو پراؤپا جی نے کہا انسٹرول ڈیڈیز تو پراؤپا جی جو رادہ راج بھیاری ہیں آج بھگوان کے کھڑ کے پاس ایک اچھی سمیدہ ہے جھو میں پر اُس وقت اسکون کے پاس ایک موٹر بھی نہیں تھی تو رادہ راج بھیاری نے یاترہ کی اکاش گنگا وارڈ اینڈ روڈ جھو میں تیکسی میں چار بھگت بیٹھے اور دو تین بھگت نے پیچھے بھگوان کو اپنے پیروں میں اٹھایا اور بھگوان کو لے کر آئے تیکسی میں جیسی تیکسی میں لائے انہیں جھومیں بھراپا جی نے کہا ایک پانڈل کرو جیسی سمیہ ہم یہاں پانڈل کر رہے ہیں آپ لوگ چپاٹی میں ہر جگہ پانڈل کرتے ہو پرچار کرے प्रावपा जी ने एकड़ाम कहा कि पंडल करो जू में तो ब्रामनन्दा वगेर उस समय मादवी तो प्रभु प्रेजजन थे जू मंदर के तो उनने योजना बनाई पंडल की और पंडल में वहां तो तीन चार थो लोग आ रहे थे रोज और क्रॉस मेदान में जो पंडल हु شروع ہوا تھا 10,000 لوگوں کے ساتھ اور 5-6 دن میں 30,000-35,000 لوگوں تک پہنچ گئی تھی سنکھیہ تو جھو میں 300-400 لوگ آتے تھے پانڈل میں پھر پرابا جی خوش تھے کیونکہ پرابا جی کا بھاگ یہ تھا کہ بورے بمبے کو پتہ لگ جائے کہ اب اس کون جھو میں استاپت ہو گیا ہے تو اس درشتی سے प्रावपजी पांडल की योजना की और एक तेंट में रादर राजभिहारी की पहले स्थापना हुई रादर राजभिहारी की पहले उन्हें निवास किया पहले थे प्राउस विदान के पांडल में फेल गए अकाश गंगा में पھर जब जुमे आए पहले के एक तेंट में � اور ہستے سے کچھا پکا مکان تھا وہاں ان کی استھاپنا ہوئی اور بھکتوں نے چھے بار دن میں آردی شروع کر دی بھوجن کرنا بنانا شروع کیا بھکتوں کو بڑی کٹھن ستھیدی میں تھے بھاگ پھر مادہ ویزہ کی اچھا تھی مادہ ویزہ امریکن بھکت ہے کہ میں بیدیش میں جاؤں تو پرابا جو نے اسٹریلیا لے گئے اور پھر प्रापा जी के गोड़ सिश्य थी गेराज प्रभु वो प्रेज़िदन बने बॉंबे मंदर के गेराज प्रभु आदमे उन्हें न सनयास लिया उस समय तो ब्रमाचारी थे वो फन कलेक्शन में बड़े उश्यार थे बड़े अच्छी तरह से लोगों को खास करके बड़े ल پھر جو ہڑے کرشن لینڈ میں جو کرائے دار تھے وہ خوش نہیں تھے تھوڑے وہ تو خوش تھے پرابا جی پہلے تھے رہتے تینٹ میں پھر ایک کرائے دار تھے جن کا نام تھا اچاریا تو دو بھائی تھے میں ایک بھائی دھرمیک وچار کا تھا تو اس نے پرابا جی کو کہا آپ اس کھٹیاں میں کیوں رہ رہے ہو آو میرے گھر میں آو رہنے کو پھر پرابہ جی اس کے گھر میں تھے تھوڑے سامنے کے لیے اور پھر بھکت جن جو تھے اُنہیں بھی دوسرے تین چار دھارنک وچار کے کراہیدار تھے اُنہوں نے رہنے کے لیے سبیدہ دی پھر کئی کریشن کراہیدار بھی تھے اُن کو ڈر لگا کہ یہ ہری کریشنہ والے امریکن بھگ ہمارے بچوں کو ہندو نہیں بنا دے تو اُنہوں نے شکیعت کرنے لگے کیا ہری کریشنہ ہے نیوسنس اور پھر کئیوں نے شکیعت لکھنا شروع کر دیا پولیس والے کو یہ ہرکشتہ والے آ گئے ہیں اب یہ نیوسنس ویلیو کریٹ کر رہے ہیں تو پراپا جی کا بھاو کیا تھا مندر بنانا ہے کی نہیں یہ تھا ان کا بھاو ساتھ میں جس سجن ایک جمین بیٹی تھی اسے بھی تھوڑا جھگڑا شروع ہو گیا کیونکہ اس سجن کی نیت شروع سے یہی تھی ایڈوانس لے لو پھر بعد میں دیکھا جائے پھر جب پرابا جی کو پتہ لگا کہ اس سجن نے کسی اور سے سودا کیا ہے ابھی ہم وہ جمیع میں بیٹھیں گے پہلے جس نے سودا کیا تھا اس کے ساتھ کچینی میں کیس چل رہا تھا پرابا جی نے کہا کہ کیا ہوگا اگر وہ کیس جیت جائے اور ہمیں کھالی کرنا پڑے تو پرابا جی کی اچھا تھی کہ ابھی ہم کافی تین چار سال پراپا جی نے بمبے کو اپنا آفیس بلایا تھا یہاں انہیں بہت زمین کاٹنا پڑا ہری کرشنلینڈ کے یوٹ کو سفل بنانے کے لئے جہاں میں یوٹ چل رہا تھا پراپا جی نے دیکھا کہ سرکار ہمیں مندر بنانے کے لئے پرمیشن لی نہیں ہم دی لوگ نے ایپلیکیشن دیا تھا 1973 میں مندر بنانے کے لئے پر اس وقت کئی پرابحاو شالی راجنیتک نیتہ تھے جن کے پرابحاو سے ہمیں اجازت نہیں مل رہی تھی مندر بنانے لئے کیوں کیونکہ ان کی اچھا یہ تھی کہ وہاں ایک پائیڈ سٹار ہوٹل بنائی جاتا ہے کیونکہ آپ تو جانتے ہو یہ پورا جھوکہ علاقہ ہوٹلوں سے بھراوا ہے تو کئی بار اپلیکیشن دیا وہ ریجیکٹ ہو جاتا تھا پہلے تو پراپا جی کا سنگرش تھا جمین کو لینے کے لئے اور جب تین سال سنگرش کرنے کے بعد پراپا جی تھے سینہ پتی جنرل جب یہ وجہ پرابت ہوئی تو پراپا نے کہا یہ اچھا جانا تھا انتہیں یہ وجہ پرابت ہے اور جب application ہم دے رہے تھے مندر بنانے کے لئے تو ریجیکٹ ہوتے جا رہا تھا تو پرابا جی نے ایک دن بھکتوں کو کہا کہ ہم یہ ہڑے کرشن لینڈ کو بس ٹاپ بنا دیں گے بس ٹاپ پرابا جی نے کہا ہم سمکتن کی بسز لائیں گے سمکتن بسز کو بھڑیں گے بھکتوں کے ساتھ اور ہمارے بھگ جائیں گے بسوں میں گھر گھر جا کر گھر دیش سے شہر شہر جا کر بک ترسٹیبیشن کرنے کے لئے وہاں پر آئیں گے اور کتابیں لینے کے لیے اور پیٹرول ڈالنے کے لیے بس میں اور پھر واپس جائیں گے۔ تو وہ کہہ رہا ہے کہ ہم ہری کشن لینڈ کو بس ٹاپ بنا دیں گے کیونکہ وہ ہمارے پاس پرمیشن نہیں دیں گے جو تنپل بنائیں گے۔ میں نے کہا کہ اگر وہ ہمیں مندر بنانے کی اجازت نہیں دیں گے تو ہری کشن لینڈ کو بس ٹاپ بنا دیں گے۔ تو پرابا جی کے جو بھکت تھے گھبرا رہے تھے کئی لوگ کہہ رہے تھے پرابا جی سے آپ کوئی اور ستھان میں کیوں نہیں چلے جاتے ہیں یہاں رہو گے تو جھگڑا رہے گا دن دن پھر پرابا جیک نے رادر رز بہاری کو وچن دیا تھا کیا وچن میں نے ابھی آپ کو نمانتن دیا ہے میں آپ کی استھاپنا کروں گا پرابا جیک کو جب لوگ کہتے تھے کہ آپ یہ ستھان چھوڑ کر دوسرے ستھان چلے جاؤ تو پرابا جی کہہ رہے تھے میں یہ کیسے کر سکتا ہوں میں نے رادہ راج بہارے کو نمانسن دیا ہے انہیں کہا ہے کہ آپ کے لئے میں ایک محل بناؤں گا یہاں تب ہی میں آپ کو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کسی دوسرے تکانے میں جاؤ رہنے کے لئے تو پرابا جی کا یہ سنگرش تھا اسی سمیں ایک ڈچ بھکت آئے تھے پرابا جی کو ملنے کے لئے उनका नाम था हंस, केल्मिन या कुछ वो थे आर्किटेक जब पंडल हो रहा था बंबे में तो वो आते थे रोज लेक्टर सुनने के लिए तो प्रावपाद जी ने उस समय गुविनजी मंदर और जो राजिस्थान और बृंदावन के प्रसिद मंदर है उन सब की तस्वीरों शुरू से ही सोच रहे थे किस प्रकार का मंदर वो बनाएंगे। प्रापा जी ने एक दो भातों को पस्टर लिखा था 1972 में कि अभी हमें हरे कृष्ण लेंड मिल गई है यहां मैंने मंदर बनाना है, होटल बनाना है और स्कूल बनाना है। शुरू से जब धगडा चल रहा थ प्रापा जी को पता लगा कि ये Dutch लड़का ये आर्किटेक है और ये प्रापा जी के प्रवर्शनों से प्रभावित भी हो रहा था तो प्रापा जी ने उसे अपने कमरे में बुलाया He said, you are an architect. These are the pictures of different temples. ये अलग-अलग मंदर की तस्वीरे हैं, गुविंटी मंदर, میں ایک مندر بنانا چاہتا ہوں اور پراپا جی کے مندر میں کیا بھاو تھا کیسے مندر بنانا وہ رف سکیچ انہوں نے پینسل میں بنا کر اس بھکت کو دے دیا بھکت کا بعد میں نام تھا سرابی پر تو پھر سرابی نے ڈیزائن بنائے پر یہ ڈیزائن پاس ہی نہیں بڑا تھا پیرانس میں میرہ سوامی پریزیڈن تھے شریدہ سوامی بھی تھے جگت پرورش اُن کی پتنی کئی پرانے بھگ تھے بہت پریاس کے بعد پھر جلائی جلائی اوگسٹ سیونی فائی میں ہمیں پرمیشن گئے تھے اُن گلے میں بھارت میں ایمرجنسی ہو گئی تھی ایمرجنسی ہمارے لئے بڑا اچھا تھا کیونکہ ایمرجنس کے وقت میں سارے جو 420 पॉलिटिशन थे सब चुप हो गए थे और उस समय महराश्ट्र के मुख्य मंत्री थे स्पी चवाल अब उनका देहांत हो जाया है वो हमारे साथ बड़े इमानदार थे तो गिरा स्वम्यर में रोज उनको मिलने जाते थे मंत्रालया में पेकौर थे पीके सहमन वो महराश्� حالانکہ لوکل راج دیتک نیتاں ہمارا ویروت کر رہے تھے جو مکھے منٹی تھے انہوں نے کہا نہیں انہوں نے پولیس کمیشن کا ہمارے سامنے پھونڈ کر کہا ان کو اجازت دے دو تو پھر ہمیں جلائی اوگسٹ سیونٹی فائی میں اجازت ملی مندر بنانے کے لئے پھر وہ مندر بنانے کے یوجنہ شروع ہوئی پہلے تین چار مہینے خود کام کیا سرابی سوامی نے ان کے ساتھ گناہ نام کے ایک امریکن بھکتی چتکار وغیرہ پر اتنی تیجے سے کام نہیں بڑھ رہا تھا اور پراپا جی تے خوش نہیں تھے پھر پراپا جی نے کہا کام جلدی سے کرو جلدی سے کرو پھر ہم نے ایک بڑی کمپنی لارس اینڈ ٹپرو کو ٹھیکا دیا لارس اینڈ ٹپرو کو آج کم پر سب جانتے ہو اب بہت بڑی کمپنی بن گئی पर हमारा जो प्रोजेक्ट था उनके लिए पहला नॉन इंडस्ट्रिल प्रोजेक्ट था उनके लिए उन्होंने कभी इससे पहले कोई धार्मिक मंदर या कुछ नहीं बनाया था तो फिर उनसे हमने चर्चा की उनका एक डिविजन था ECC फिर वो कामियेज शुरू हो � جہاں میں تیجی سے جاؤں گا کیونکہ کافی دیر ہو رہی ہے تو پڑا افسوس کی بات ہے کہ ہم پرابا جی کے پریشانوں میں ہوتے ہیں پورا مندہ تو تیار نہیں کر پائے تو پرابا جی آئے تھے پرابا جی ایک بار لوٹ رہے تھے مہا بلائی شور سے پرابا جی تو اچھا تھی کہ ہم ان کے نئے کورٹرز میں رہیں تو جب پرابا جی ہری کشن لینڈ میں پہنچے بائیکار آئے تھے پرابا جی رہتے تھے وہ سمیں جو بی پی ٹی کا دفسر باہر بنا تھا بھکتوں نے تو وہ ستان تیار کیا تھا ان کے رہنے کے لئے پھر پرابہ جی جب موٹر میں پہنچ گئے تو انہوں نے کہا نہیں میں ڈیوٹ پوارٹرز میں رہوں گا اگر میں اودھر نہیں رہوں گا تو تم کبھی تیار نہیں کرو گے تو حالانکہ لفٹ بھی تیار نہیں تھی تو تی چار گھنٹوں میں بھکتوں نے پورا جو بھی ہو سکتا تھا تیار کروایا ایک چیز میں بھول گیا مولان وہ یہ تھا کہ 1973 میں جہاں ہم نے تین شیر کا مندر بنایا تھا کئیوں نے شکیعت کی تھی کہ ہم نیو سینس ویلی ہوئے ہیں ہری کرشنہ والے آ گئے ہیں تو ایک منسپلیٹی کا ٹرک آیا تھا سو لوگوں کے ساتھ مندر کو توڑنے کے لیے اور انہوں نے مندر توڑ دیا تھا سورا مندر توڑ دیا تھا پھر ہمارے کئی بھکتے سیٹھی جی وغیرہ انہوں نے مندر کر کے سعیوگ دیا تھا ایک اور بڑی آشتہ پاک جو جڑے تھے ہمارے مندر کے ساتھ تھے ڈاکٹر میسیس سنگل ایک سامنے پرابا جی ان کے گھر گئے تھے بھوجن کھانے کے لیے تو ان کی پتنی جو ہے وہ وائلن بجھاتی تھی تو پرابا جی کے ایک سشے نے کہا what is this playing violin? پرابا جی نے کہا this is spontaneous vaishnavism پرابا جی نے کہا تمہیں تو vaishnav بننے کی کوشش کر رہے ہو so this is spontaneous vaishnavism तो फिर प्रापा जी के दिनेशन में प्रीकेंड्र बना है प्रापा जी ने इस प्राज़ा को नाम दिया था Heaven on Earth क्या अन्त था उसका प्रित्वी पर पहले तो कई किरायेदार थे वो लोग मास बनाते थे काई बार हमें हारे केशलन में भूंते भूंते उनकी बद्भूद تو کافی سالوں سے یوجنہ تھی کہ ان قرائدانوں کو بھار کریں پھر آپ تو جانتے ہو خاص کرکہ ان دنوں میں بمبے میں قرائدان کو بھار کرنا ایسا ہی کام نہیں ہے لیکن دیوکی نینڈلر باجباری سورزار صاحب بھگ بھگ کے سعیوگ سے اور راضی ناجر کمیٹی کے سعیوگ سے ان کو بھار کر پائے اور پھر اگلا پروجیکل فیج 2 تھا وہ بھی تیار لگ بھگ ہو گیا ہے آج اس کی ساپنا ہونی چاہیئے تھی اور ہم نے ایک کارڈن ایک ہاتھ سے ایک گو مہینے بعد میں کریں گے تو یہ سنکشہ میں اتیاز ہے یہ رادہ راج پری مورتیاں جو ہیں پرانپا جی کے بڑی پریز مورتیاں تھیں پرانپا جی جہاں بھی وہی ویسوے میں جاتے تھے ان کے رادہ راج پری کی تصویر کو ساتھ لے جاتے تھے راست بیہاری کیونکہ راست لیلہ میں آنند دے دا ہے اور پرانپا جی کی اچھا تھی کہ اس کینڈ کے دوارہ کریشنا بھکتی کا پرچار بڑھے اور بڑی خوشی کی باتیں ہمیں پورا بشواس ہے کہ پرانپا جی جو دیکھ رہے ہیں آج یہاں کے اچھو پارٹی مندہ کے اتنا بڑا پرچار ہو رہا ہے اور جیو اور میرا نور اچھو پارٹی کا پرچار تو بڑا ہے ہو رہا ہے سب بلکہ پرچار کر رہے ہیں تو اس سے بھاگواں خوش ہوں گے دیکھ کر کیوں کہ پرابہ جی کی اچھا تھی کہ کشنا भागती बहमे में फैले और बहमे में फैले तो प्रापा जी का विचार था पूरे भारत में फैलेगा तो आज के दिन 1978 में मंदर का उड़धाटन हुआ था जहां हमने उड़धाटन किया था उस समय तीन बड़े बड़ ایک ڈیلی سے بنتری آئے تھے راج رہے تھے پھر مدراز کا گورنٹ آیا تھا پٹواری اور نیوز ویک میگزین آپ جانتے ہوگے دو پرسید میگزین ہیں بشور میں ایک ہے نیوز ویک ایک ہے ٹائم نیوز ویک میگزین نے ایک کلر پکچر کیا تھا ان کا کورسپونٹن ہونگ کونگ سے آیا تھا بمبے میں اوپنی کو کلر کرنے کے لئے اور انہوں نے ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا نام تھا From Rags to Riches جس میں انہوں نے بتایا کہ کس بگاڑ بھگتی دیندر سوامک چالیس روپے کے ساتھ گئے تھے ویدائش میں اور آج انہوں نے چالیس ملین کی سمبتی بنا دیا تو ایک بڑا اچھا آرٹیکل آیا تھا मुझे शायद कहा गया है कि महाप्रभू भी उसी दिन आये थे मंदर खार्डन होने दें तो आपका भी उननत है उसको जनन दिन है महाप्रभू बहुत 29 पहले महाप्रभू बहुत बारते थे पहले हमनों तो सोचते थे ये शायद जासूस हैं बहुत से प्रशन पुछते थे � पर बहुत देरी हो रही है कई लोग आर्टी के लिए भी खड़े हैं और आर्टी भी हो रही है और ड्रामा भी हो रही है तो मैं यहां रोखूंगा देव के लिए रोखूंगा देव के लिए रोखूंगा देव के लिए रोखूंगा देव के लिए रोखूंगा देव के लि� ساتھ میں श्रीदार स्वामी, श्रीदार स्वामी का भी असली पुरुचार का स्थान था जू बॉंबे और कई और भक्त, सुरावी प्रभू, कई उन्हें बहुत मेहनत की इस केंडर को बनाने में तो इन सब भक्तों का हमें अभार प्रकत करना चाहते हैं जगत पुरुण, शु اگر آج کوئی سمیدہ ہم ہری کریشنا لنڈ میں تواب کر رہے ہیں تو ان سب بھکتوں کے پریشان و پریاز و تیار کے قابل ہری کریشنا ہری کریشنا ہری کریشنا ہری کریشنا ہری کریشنا ہری کریشنا
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

