भगवान जगन्नाथ जी स्नान यात्रा | 14 Jun 2022 | Ghaziabad | Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī Maharaja

The speaker delivers a rambling, multilingual devotional discourse that weaves together eschatological references to the Mahdi and the Prophet Muhammad, vivid imagery of apocalyptic signs such as locusts ("جراد"), and a series of personal anecdotes about everyday life—taxi rides, temple visits, and encounters with religious authorities. Interspersed throughout are repeated chants and phrases that emphasize frustration with ignorance, governmental neglect, and perceived hypocrisy among religious leaders. The monologue shifts abruptly between Hindi, Urdu, and occasional English, reflecting a stream‑of‑consciousness style that blends reverence, criticism, and informal storytelling. While the narrative lacks a linear structure, recurring motifs—Mahdi’s arrival, divine punishment, societal decay, and the speaker’s own experiences—serve to illustrate a broader lament about spiritual decline and the need for authentic devotion.
Chapters
جن کا نام تھا مہدی اور جن کا نام تھا شاہت مہدی اب وہ پیچھے سنائی دی رہا ہے؟ تو مہدی صحیح تھی جن کا نام تھا प्रास्प्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प्रास्प् اصحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گا. جب آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد جراد آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد آئے گا ، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، جراد آئے گا، مجھے ج اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. مجھے اپنے پاپا کو بھی مل جائے گی. کوئی ایسا لڑتی ہے کہ کارڈنگ جانتا ہے اور ساکھتا ہے تو وہاں دیکھا پتی ہو گئی انجینئر تھا وہ اِن پسیر کھلا گئی تھا اور ایک شہر میں ایک ڈاکٹر ریبوٹ لی ہے وہ اتنی اچھے پلتی بناتا ہے جھگڑا پلتی کہ آپ بول نہیں سکو گئے کہ میں نے پلتی میں پڑھے لہٰذا جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا. جنہوں نے اپنی حبیب کی طرف آئے تھا ہم ٹیکسی چلا دیتے اپنے مندر کا ملچا چلا دیتے۔ بھائی اپنے ٹیکسی چلا دیتے کو چھوڑی ٹوپی چلا دیتے ہیں۔ پھر بھی نہیں چلا دیتے۔ کوئی سبیل بابا بھی نہیں چلا دیتا۔ وہ ہم ٹیکسی چلا دیتے ہیں، مندر کے لئے پھر پچھوڑا دیتے ہیں۔ یہ جو جاہلت نے تھا، اس پر سرکار سے، سرکار سے بہت زیادہ ملتا ہے. اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو بہت زیادہ ملتا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو ہم اولینے بہت زیادہ م علیہ وآلہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان کا علیہ وآلہ پاکستان तो کا कई अलग बोर्जियन है कि प्रेवना जी कैसे प्रेवना जी नहीं। प्रेवना जी ने सीरो मुर्थियों को अपने सामने रखा और प्रेवना जी ने प्रेवना जी की चूरी का थता थुड़ा। में कोई संसुन पर ये काना था। जब विवर्थ्या بہت ہی پوپلر ہو گئی تھی سین امریکہ میں سین پینس کو پہننے لگا ہر بار پینکار کی ملتی کو پہننے لگا میرا خیر سین پینکار تو اُن دن میں امریکہ کا عیبت ہوڑا تھا بیلتن کے ساتھ تو سائے امریکنز کو جو سال سال سے کام ہو کر گئے تھے انہوں نے بلٹری کو اترافٹ کیا تو ایک بار تھے مادہ بھی جا رہا ہم نے اچھا کوئی سارکے بھی نہیں جا رہا تھا تو وہ گئے تھے انجل بھوڑے تو انجل بھوڑے ڈاکڑا جا رہا تھے چیک آوٹ ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا ڈاکڑا پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھ راجہ بڑا دھار مکساں راجہ کی روچی تھی کہ وہ سالہ بھمائی کی سیوہ میں جھڑا رہا ہے وہ بھی یہی سلسلے رہتا ہے کہ بھمائی کے شنگل ایسے ہو سکتا ہے یہ ہونیجے ہی وقت کی اشارت آپ کو سنائے لے رہا ہے پیچھے جب مولویوں سے اوہ راجہ کی جہد ہے کہ ہم کمان کے چھوڑ رہے ہیں۔ دن رات وہ راجہ جروحہ تاکت میں آج آج آئے گی۔ ایک بلام اُٹھے محل میں آئے گا۔ راجہ اے راجہ ہمارے راجے میں ایک قوتی پرسد خبصورت ملکی ہے اس کا نام کیا ہے؟ اگر آپ کو اس ملکی کا نرشہ مل گا آپ اتیان سنتیوش ہو جاؤ گے وہ کہتے ہیں کہ وہ وہاں سے چلتا ہے سارے براملوں کو بھولایا پسر سے پوچھا کیا ہمارے شہر میں, دیش پہ نیل مادھ نام کی مرتبہ ہے؟ अन कहा अपने लखांग नहीं समलर। प्राजा देखा सारी ब्राह्मणों को खुलांग पहला। प्राभुत साहब अपने देश के खोले-कोले में जाओ। کوئی مساعدہ پہ جا کے کوئی نواز کو پہنچا ہو گیا ہم صاحب کہا گھر جاو اور ہر گھر پہ پوچھو لیل مہدن کے پوچھنی کا درمیان ملائے گا تو ساڑھے تو رہون دے سب گئے ایک گھر سے دوسرے گھر ایک شہر سے دوسرے شہر اور اُنہیں تاہم کی لیل مہدن کا पूरी प्रावन चाहता जो पूरी प्रावन ने निर्णे कर लेना वेले घार नहीं चाहता राजा के बाद جب تک میں نیل مالک ہوں وہ دیکھوں۔ ایسے دیکھا جائے دو پرکار کے مرتبہ ہوتی ہے۔ ایک ہے کہ جہاں گلیش میں کہتے ہیں سیلڈ میڈیشن۔ یہ سُدھ رہے ہیں، یہ ملائی جاتی ہیں۔ کیسے؟ سانسوں کے جارہے ہیں۔ یہ نیل مالک جو ہے سپرم پکڑ ہوئی ہے۔ ایسے کہ آج میں جب آج میں آپ مالک جی کے بارے میں سنتے ہو مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، مولی صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک سال میں ہے رہنا کھڑا کھیل سب سے بیجی جاکی کے گھٹھوں رہے تھے وہ اُنہوں نے دیکھا اُن جالوروں کی ایمان پڑھتے ہیں اُن کی اور دوسرا سو پھر اگلی ہے تھا اُس میں پڑھیں گے گئی باتی کی بات تھا بہت اچھی پوٹی کا بات لیکن میں لبوں آتا ہوں لیکن میں نیچے کھاتا ہوں تو وہ بیشاستوں روج ہر چھوٹے دن اُن کی پوجا کرنا ہوتا ہے اور اُس کی اچھا تھے کہ پرسی پر کسی کو نہیں پتا نہ گئے کیا تھا نہیں پتا نیم آدھا بھی آدھے رہتے ہیں، اگر گھنٹہ آتے آتے ہیں، وہ تو ہے سزاڑ پریب نکلیں گے، لیکن ایسے سے بڑھتے رہتے ہیں۔ اب راجہ، اُسے بڑھتے رہتے ہیں کہ نیم آدھا رکھنے کے راجے میں وہ لوگ کہیں گے، بہل بہل آدھے رہتے ہیں راجہ میں، نیم آدھے رہتے ہیں جو تو اُن کے ایک بیٹی تھی جنہوں نے لکھا اور ویژہبتی کا آنچہ کر گئی تو ویژہبتی نے دیکھا چھوٹے پور میں چھوٹی ڈھانی میں چھوٹے چھوٹے تھا پھر وہاں تھا ڈھامن سے چھوٹے आप व्यक्ति को पुछाते हैं कैसे हैं। वो भी प्रवोपी जाते हैं। चत्र भण्यमाय सुच्छन। उन्हां करवना पुछाते हैं। यह नहीं कि आप अलजनों हैं। नामिर्था आगे। यह ब्राविर्ण प्रादर्शन होता है। नर्शिन प्रावपार प्रिदेश में तकि दिन स्वाभी ने क्या किया उन्हेंने सब देशों को ब्राह्मेण करना दोगी। तुम्हें की बात तुम्हें दूल्या देती उन्हें दूल्जीरों करना दोगी। बहुत यदी देखें सांस्रवर्ण अंधार्यता। अगती ब्राह्मेण बलता है कैसे तुम्हें क تو ایک بار کسی نے پھلا پہلے پوچھا سمبی جی آپ نے کچھ جاہو کیا ہے؟ سمبی جی نے کہا نہیں ملک سے ملک سے پہنچ گیا تو جو ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک سے ملک ملک بڑا سے ملک آس سے ملک ملک سے مل پہلے چھوڑ جاتے ہوئے ڈھیکڑیاں چھوڑ جاتے ہوئے ڈھیکڑیاں چھوڑ جاتے ہوئے ڈھیکڑیاں چھوڑ جاتے ہوئے بھائی
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

