प्रभुपाद जी ने भगवद्गीता यथारूप नाम क्यों रखा | 23 Dec 2023 | Kurukshetra | Gopal Krishna Goswami

In this two‑part lecture, Gopal Krishna Goswami (with occasional audience interjections) explains why A. C. Bhaktivedanta Swami Prabhupada titled his translation of the Bhagavad‑Gītā “Yathārūpa‑nāma” (the name that reflects its true form). He first outlines the universal message of the Gītā – that it is a guide for every human being regardless of caste, creed, or era – and shows how Arjuna’s crisis illustrates the timeless conflict between material attachment and spiritual duty. He then expands the discussion to the practice of bhakti (devotion) as the means to realize the Gītā’s teachings, emphasizing that sincere devotion transforms the devotee’s perception of the divine and removes the illusion of separateness. The second half of the talk moves from scriptural exposition to a social critique. The speaker links the Gītā’s call for self‑realization to contemporary problems such as unchecked capitalism, consumerism, and the erosion of community values. He laments the proliferation of imported goods, the neglect of indigenous craftsmanship, and the way material wealth is idolised. He argues that true devotion should manifest in collective service – building temples, schools, and hospitals for the benefit of society – rather than personal accumulation. The lecture also touches on modern technology (computers, AI) as tools that can either aid or distract from spiritual practice, urging listeners to use them mindfully. Throughout, the speaker repeatedly calls the audience to actively participate in constructing a “sacred temple” of bhakti, to spread the Gītā’s message in schools, and to protect Vedic dharma from cultural dilution. Key take‑aways: (1) Prabhupada’s title underscores the Gītā’s intrinsic, unaltered nature; (2) Bhakti is the practical path to internalise the Gītā’s wisdom; (3) Spiritual practice must translate into social responsibility; (4) Modern materialism and technology are double‑edged, requiring discernment; (5) Collective effort in building temples and institutions is presented as a concrete expression of devotion.
Chapters
اُم گیاں سِمیں ڈسیاں گیاں جناں شلکیاں شکشر میں دنیاں سَتھ میں شریک ویڈا ویڈا مہاں شریک چیتانیاں منہ وستاں ساڑھ دامین بھوسلے خویم رکھا کلام ہے جائے شریک کشنا چیتانیاں پھر بھولی دنیاں دا شریک چیتانیاں بھولی دنیاں دا شریک چیتانیاں بھولی دنیاں دا شریک چیتانیاں بھولی دنیاں دا شریک چیتانیاں بھولی دنیاں دا شریک چیتانیاں بھولی دنیاں دا پیشنا ہوں۔ تو آج بہت ہی شُب دن ہے۔ کیا ہے؟ کیا ہے؟ گیتہ جنگلی۔ گیتہ جنگلی۔ ایک روپ سے گیتہ جنگلی تو سنادھ میں سندش ہے۔ اب کہو کہ تم گیتہ جنگلی کیسے کرے؟ آج بھی دن میں وہاں نہیں گیا لیکن پھر سے دیئے تھا اس کے اوپر جھوٹ گئے۔ تو کوئی شیط ایک دھامک سان ہے، شیط ہے۔ ہم نے شاستوں میں رکھے ہو کہ یہ بڑا شیط سان ہے، کوئی شیط بھولی سے ہم یہاں رہتے ہیں۔ تو بھاگوڑ گیتہ کا جو سندھیش ہے یہ دیا تھا بھگوان نے کہا جوتی دھر میں بھگوان گروہ جی جب پہلے آئے تھے تو انہیں ایک بھگت کو لکھا مندر ادھر بناؤ ادھر بناؤ بھگت سوڑ میں بھگوان جی جب جوتی دھر میں پہنچے گروہ جی کہتا ہے نہو یہاں بننا چاہے یہاں کی کریشن بھگوان نے جوتی کو پہدیا سمجھ آ رہے ہیں پیچھے بھی کیونکہ بھاگو گیتہ سندیش جو ہے اتنے پورے مانو سماج کے لئے ہے ہمیں یہ نہیں کھوچنا چاہئے کہ یہ ہندو گرانت ہے ہمیں یہ کھوچنا چاہئے کہ یہ گیتہ سندیش پورے مانو سماج کے لئے ہے اور پرابہ جی نے انگریزی بھاشہ میں بھاگو گیتہ تنصر کیا تھا پرابہ جی جب بھارت میں تھے پھر ایک دن گیتہ کو ہاں سے ڈرانسٹریٹ کیا تھا پھر ایک دن پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر
پھر پھر پھر پھر پھر کہ پھر
پھ وہ لوگوں کو عزت دینا چاہتے ہیں۔ تو بھاگوڑ گیتہ کا سننے کے لئے عزت دینا چاہتے ہیں۔ اس میں ہر پریشان کا وزارہ ہے اور ہر سمجھ سے لحاظ ہے۔ اور بھاگوڑ گیتہ کا سننے کے لئے ہمیں دھیان سے کرنا چاہتے ہیں۔ بھاگوڑ گیتہ کا سننے کے لئے ہمیں دھیان سے کرنا چاہتے ہیں۔ بھاگوڑ گیتہ کا سننے کے لئے ہمیں دھیان سے کرنا چاہتے ہیں۔ بھگوئی بھاگوڑ کی دل ہی تیار ہے گیتہ کا سننے کے لئے یہ ہمیں بات میں آپ پڑھتے دھیان ہو سے کرنا چاہتے سب سے پہلے سب سے پہلے بھگوائی نے اس نفشہ کس کو دی تھی سوڑھے کی دیوزہ اُس سے گیان کا موجہ چاہے تو آج میں یہ گیان دی رہا ہوں کیونکہ تمہیں مصر ہو اور بھکت ہو تو یہ یقین ہے کہ اگر آپ سمجھنا چاہتے ہو کہ کیا کرنا چاہتے ہیں ہمیں بکس اور مجھل کے مادیب سے یہ جھان پرات کرنا چاہے اور آپ دیکھتے ہو جہاں میں ہر ایک بیٹیوں کا انوال آپ کرتے ہو بھابو جہاں میں چھ ایسوں سے ہر ایک بیٹیوں نے انوال پکاشت کیا ہے اور ان انوالوں میں لوگ اپنا بھاہ پڑتے ہیں کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری بھگوت گیتہ کو کیوں کہا جاتا ہے؟ کیوں کہا جاتا ہے یہ؟ کون بتائے گا؟ کون
بتائے گا یہ؟ ہماری بھگوت گیتہ کو کیوں کہا جاتا ہے؟ یہاں میں کس
کا ہاتھ تھا؟ بھولیں تو ستینوں آنے اُس طور پر ٹھیک رہے ہیں۔ جس فچار دھارہ سے ارجوی نے محبان کی سندھیش کو سفکار کیا اُس ہی فچار دھارہ سے اگر ہم بھی اس سندھیش کو سفکار کریں گے تو ہم گیتہ کے اصلی عرض کو سمجھ پائیں گے۔ لیتا ہے جھان اور یہ بھی ہے وینک جھان. وینک شاستوں کا سار بھگواں نے پرسس کیا ہے بھگواں کی جھپ میں. وینک شاست جو ہیں پڑے مہان ہیں. ان کو اگر آپ پڑھنے جاؤ گے روج پڑھو گے تو بھی پوری جنگی میں شید ہی سب گھڑتوں کو سمات کر پا گے۔ تو اس کا سار ہے بھگوڑ گیتہ میں بھگوڑ گیتہ پراتوں سے مہا بھارت میں بھگوڑ گیتہ میں سنگشیپ روپ سے ویڈی شاستوں کا سندھیج جا جا رہا ہے سب سے پہلے لوگ آپ دیکھتے ہو کہ بھارگاں کہتے ہیں آتما اندھے میں کیا آنتھر ہے This is the beginning of spiritual life, I propose to say. To try to understand what?
Try to understand what?
سول کے بارے میں آدمہ کے بارے میں کوئی سکھ سے دیر میں روح چھوٹی نہیں تھا۔ دیکھے میں پرپا جی، میں نے کہا کہ پسجی ونیورسٹری میں تھے اور وہاں ونیورسٹری پر پرپا کو دکھا رہے تھے۔ وہاں یہ وی بھاگ کا ہے یہ وی بھاگ کا ہے یہ وی بھاگ کا ہے چار ہزار وی بھاگ تھے اُس مہاک شپ پیجارہ میں اور یہ پرپا جی نے پوچھا आपको अपने डिपार्मेड़ अपने बहुत बहुत हैं, तो आपके पर एक भी खाल नहीं है, जब मिलते के बाद क्या होता है, तो ये है अग्यानता, हम कहते हैं एक मंत्र, हमारा जनम हुआ था अग्यानता में, ہم پڑھے ہیں آگیاں دھمیوں پھر ہماری بچوں کی ہوتی ہیں آگیاں دھمیوں پھر جو بھاگے بھاگتی ہے وہ اس منوش زیوان کا وہ کیوں کرتا ہے یہ پھر ملنے کے لیے کیا ہے زیوان کا مطلب کیا ہے زیوان کا مطلب چار اور وہ دیکھتے ہیں کلیش کلیش کلیش کلیش چار اور آپ آج کل دن میں دن کیا انباو کر رہے ہو گھرمی بڑھتے جا رہی ہے وہ جو بھوجن وغیرہ ہے، مہنگا سے زیادہ ہے وہ سماج میں کتنا تناہ ہو سفت چندہ سے بڑے ہوئے ہیں تو بشور کی شاندی کے لئے دیش کی سماجی کے لئے شاندی کی سماجی کے لئے ہمارا ایک سوال کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہمیں بھگتی کا موجود ہونا چاہتے ہیں بھگو گیتہ میں بھگوان گیان دیتے ہیں ارجون کو ہر جن کے سنادر ساتھی ہیں۔ ایک لکھ سے دیکھا جائے ہر جن بچے سے نہیں ہو سکتے۔ وہ سنادر ساتھی ہیں۔ تو بگوان نے انہیں ایسی ستھی میں رکھا جس کی طور پر بھگو کی رب ہوئی جائے۔ کس کے لئے؟ ہم سب کے اطلاع کے لئے۔ خاص کر کے کُلپ شیطر کے بھلوں کے لئے۔ بھگوڑا نے جیتا ہے جو بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے بھگوڑا نے جیتا ہے میں نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ کو پرام بھگوان کون ہے؟ پرام بھگوان بول رہے ہیں پھر گوئی ڈھڑیا سلوک کرتے ہیں تو آج نے شکار کیا کہ وہ پچھلے سے کنفیوز ہیں کیا کرنا چاہے کیا نہیں کرنا چاہے جو بگوان کے بھلے ہیں انہیں بڑے نارندل ہوتے ہیں کئی بار لوگوں کو اس کا ضرور پیو کرتے ہیں تو ارجن کیا کرے ارجن کو کیا کرتا ہوئے تھا شتیع ہوتے کے خاندان کہ وہ یود میں لڑ گئے یہ جو کوئی رشیدہ کا یود تھا یہ ہی بہت ایک یود کے سمان نہیں تھا جیسے رشیعہ میں ہو رہا ہے، اکرین میں ہو رہا ہے، اندریال میں ہو رہا ہے یہ بہت ایک یود نہیں تھا یہ تھا الہادیو یود جس میں ساٹھ ہزار سینہ پتی جو لڑے تھے سب کو مکرے پر پڑھا تھے تو بہبان ارجون سے کہہ رہے تھے ارجون تمہیں ارجون میں لڑنا چاہے تو ارجون نے کہا میں کمپلیٹیٹی کمپلیٹیٹی ہوں۔ آپ کے سورسپرینٹ اور آپ کو کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہیں کہ بھگوان کہتے ہیں بھکتیوں کا ایک ساظت ہے جس کے ذوالہ تم سمجھ سکتے ہیں مجھے بھکتیوں کا ارض ہے پیم سے آپ مند بدیدیوں کا اپیو کرو بھگوان کے سیواں میں اور بھگوان کہتے ہیں کہ اس پرکار کمر کا فول جن میں ہو کر اس کو چھوڑا نہیں اسی طرح بہت ایک سماج میں رہ گیا ہم سب کو سماج کے دوشوں سے پچھنا ہے آپ کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو آپ لوگوں کو کیا سزاتے ہو بری سنگھ میں نہیں آنا ڈرڈ ہو گیا ہم لوگ یہ لوگ تو وہاں ہمیں گیتہ دوالہ اُبدیہ دے رہے ہیں what to do what not to do وہ کہتے ہیں کسی دنیا میں پاچھوئے ہیں کہ میں سنستی ہوئے تو بھیجوز میں رہو تسمیت سب سے شکریہ شیف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہے ہر جنرل میں سنستی ہوئے تو بھیجوز میں رہو تو ایسا ادھیار میں کوئی جو ہے وہ چھتے دنیا میں بھگوان سکھشا دیتے ہیں کس طرح ہم من کو بندو بنائیں من جو ہے آپ کو ستھاتا ہے؟ منڈ ستھاتا ہے آپ کو؟ مند ثیر ہے؟ مند چنچل ہے؟ تھوڑا؟ بہت زیادہ ہے۔ بہت زیادہ ہے۔ اوہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میرا مند ہر وقت میں نیا حکم لے رہا ہے۔ جاؤ بختی کرو۔ بکشی کے کیا جلدی ہم صرف 20 سال کے ہیں پھر بڑھے ہویں گے جب بکشی کریں گے بکشی تو جب کرنی چاہے جب تم سماج کے لئے نکمہ بن جاؤں جب تم دیکھ نہیں سکتے سن نہیں سکتے سن نہیں سکتے جب بھگواں سے بن جاؤں جب اتنی شکتی ہے ہونے گھر پہلے چلیں گے سماجوں پھر پیلاد مہاج کہتے ہیں کہ ہمارا آشرت پہ کیوں ہمیں پانچ سال کے عیو سے ادھیاج میں گیاں عیقل بیٹھنا آرام کر دینا چاہتے ہیں آج کل آپ سب کمپیوٹرز کا ہی مہیمہ جانتے ہو کمپیوٹرز بینا آج کے سماج میں جینا مشکل ہے آپ ایک چیز دیکھتے ہو اور ایک چیز ہے جو آپ ہاتھ سے کرتے تھے، اب کمیوٹر میں آگیا ہے۔ ہے نا؟ تو آپ کریکٹ بھی کھیل سکتے ہو کمیوٹر میں۔ گیم جھوہ بھی کھیل سکتے ہو۔ آپ انڈینیٹ بارا کیا نہیں کر سکتے۔ تو یہ سب جو سویہ ہیں، وہ اب یہ جنہیہ تکنولیجی آیا ہے۔ Artificial Intelligence، آپ نے سنا ہے؟ آج مشہران چل جائے اس سے جو کاری اپ کر آنا چاہو بہت زیج ہو جاتا ہے وہ اس میں میں جب میں چھے میں پہلے میں نے بالرم جی کا جنب دن آ رہا تھا تو میں نے لکھا کہ دیکھتے کیا ہے ان کے پاس میں نے ایک میں ٹائپ کیا تھا بالرم اور منٹوں میں کوئی پچیس پیڑھ آگئے ہیں بارہم یکی زندگی کے بچے میں بارہم یہ ہیں بارہم یہ ہیں یہ کی ہے یہ کی ہے تو یہ بھی بدھی بارہم نہیں دھنکھائیں کوئی صداحانہ میں کتنی نہیں کرسکتا آپ کہو گئے یہ ہمارے بھیگیانیوں کی چاہیے ہیں ان کے پیہا سے یہ سب سمجھ ہو رہا ہے ان سے آپ پوچھئے کہ وہ جو بھیگیانی ہیں ان کو دماغ کس نے دیا ہے جس دماغ سے آپ کچھ چیز کرنے مان کرتے ہو وہ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ یہ ہم نے کیا جو کوئی مہمیہ کی وہ کہتا ہے کہ یہ بھگانی کی قبل سے پڑا پھائے بھگانے کیونکہ تمہیں بدھی نہیں تھی تو تم بھگوان کی نندہ کرتے ہو بھگوان کہتے ہیں نا سب سے چام ہنڈیس آنے پر سو وہ یادائش کا قانون منزے ہیں اور بھولنے کا تو بھگوان جیسے میں ہیں جو آسمان اور وہ سمجھ رہے ہیں آپ میں کیا بچار ہے اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ بھگت سچمچہ شدھ بکتی کو سرکار کرنا چاہتا ہے تو بھگوان آپ کو پہیڑتے ہیں کسی سندھ کے پار کسی گھنٹ کے پار اور جب بھگوان دیکھتے ہیں یہ تو ناسک بچار کا ہے یہ جو دنیا داری میں ہی بیشواث کرتا ہے وہاں آپ کو بھیجیں گے، ایسی سندگ میں جہاں یہ پرابت ہو۔ تو آپ کو سمجھ آرہے ہیں؟ سمجھ آرہے ہیں ساکری؟ سمجھ آرہے ہیں ساکری؟ سمجھ آرہے ہیں ساکری؟ سمجھ آرہے ہیں ساکری؟ سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمجھ آرہے ہیں سمج چاہے جو سٹوڈنٹ ہیں یا آپ سب کو پیش آسانہ ہو آپ سب بڑے بھاگے شریع ہو پاپا جی نے کہا ہے ہنک سمیں کہ بیاکتی بھکتی میں نہیں جڑتا جب تک اس کی اچھے سنسکار نہ ہو کہی میں ہم کہتے ہیں اچانک ہم جڑ گئے بھکتی میں کچھ اچانک نہیں ہوتا آپ کی اچھے سنسکار تھے اور بھگوان نے اس کو ان سنسکار بنائی ان کے لیے کیونکہ شدھ بھکتی میں روچی لینا چاہتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ ہمیں جیون کا لکھ پراب سولا چاہے۔ تو گیتہ پڑھو گے تو ہمارے مند شانس رہے گا۔ میں نے گیتہ کئی بیزنس میں رکھ دی ہے۔ وہ نے کہا ہے کہ ایک سلو پڑھو دن میں بس برسات پریہ کے ساتھ۔ کئی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے مند شانس ہو جاتا ہے۔ ہم جب بیوار کرتے ہیں وہ سی نہیں ہوتے ہیں ابھی۔ بھگواں گیتر میں کہتے ہیں کہاں کھول لاشنگل گریڈ سری ہائیویز ڈوبیل اگر ہم کھام آتے ہیں پیشانی میں روچیں لیں گے روچ کریں گے یہ جھڑا کا دعا ہے تو بڑھ گھڑا میں چاہے آپ کتنا بھی پریاس کرو سکھ نہیں ہے سکھائے گا بھی یا تھوڑے زمین کے لیے سچ پاس ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ کوئی بھوتک سوکھ نہیں ہے پھر یہ چچ ہے تھوڑا ہی سمجھ گئے ہیں ہر ویکلی کو جیسے کی بھارت میں کئی کرو کرور پتی ہے ان کو مرتے کے سنے جھکڑیں پڑے لائے ہیں نہیں پرانچین ایڈھیانس میں کوئی ویکلی تھا شاید پولٹیشن ہو سپورٹس مین ہو پھرمیگاکار ہو جو کی مرتے سے بچ سکا کوئی ہے تو ویکلی مرتے ہو کہنا چاہتے ہیں چاہے اور میں کشت ہوں میں سیر ہوں بڑھا پا پانا آپ کو بڑھا پا پانا اچھا لگتا ہے؟ بڑھا پا پانا اچھا
لگتا ہے؟ آپ کو بڑھا پا پانا
اچھا لگتا ہے؟ پھر آپ ہو دے بورے آپ میک اپ کرو ہیڈ آئی کرو پلاسک سوشری کرو پھر یہ کب تک چھپائے گا؟ جو دن چار سا پھر تو آپ کا ایسی روپ نکال آئے گا اور بیماری بھی پچھ سکتے ہیں تو اس بہتر سال میں آپ کبھی جیت نہیں سکتے ہندیہ سکتی کمالیم سے آپ بے شک کمالوں روپے کمالوں بھارت میں کمی ہے نہیں بھارت میں ہمیں کسی بھی زیادہ نہیں ہے پھر وہ اُن چھوٹے ہوئے بیچوں کے ہاتھ میں ہے جسے اس کے علاوہ پورا سماج نہیں اُٹھا پھڑتا یہ ہے capitalism اُن کا یہ ایک سے جانز ہے ہمیں ہی زیادہ امیر بنیں گریہ پہنچنے لیں سو دیکھیں گیاں کے کمی ہیں سماج میں اور یہی صدیبے گیاں دیا جا رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں سو ارشو نے بہوائی ارشو سے کہا یہ بھکتی کا مارڈ ہے بہت سارا ہے پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند پسند جل؟ پ وہ یہ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ ایمپورٹڈ جل۔ جیسے انڈیا کی بڑی دکانوں میں ایمپورٹڈ جل ملتا ہے۔ فرانس کا اور فٹی کا۔ پھر ہمیں کہتے ہیں کہ ساڑا وہ اس پہلے کا جل بھی چلے گا۔ پھول اور پائیں۔ پھول، پھول۔ تو میں اس پہ کیا کروں گا؟ تو بھگوان کی ایک condition ہے۔ کیا condition ہے بھگوان کی؟ پیماں بھکتی سے۔ اگر بھگوان بھوکے ہیں کسی چیز کے تو آپ کے پیماں بھکتی سے۔ بھگواں نے تو ओम पूर्णा मादा पूर्णा मादा हर लूप में पूर्ण है उन्हें किजी चीजी की आवसकते नहीं वो हर स्विष्टी के पूरी स्विष्टी एक कारण है पर वो चाहते हैं कि बज्जी जो की दिविधाम छोड़क وہ چندہ میں رہتے ہیں اور اگر کوئی اُن کے بیٹے کو ڈھونڈ کر لے آئے گا باپ کے پاس باپ اُس کا بڑا عبارت ہی ہوگا تو اسی طرح ہم بھگواں جب دیکھتے ہیں کہ مجھے تو سمجھنے کا فیض کر رہا ہے تو ہمیں اگر کچھ کمے بھی ہو تو بھگواں کہتا ہے میں دور کر دوں گا اور جو گھول ہے وہ رکھوں گا جیسے کھی بار ہم جیسے ہی سمیں گیتہ میریسون کر رہے ہیں، آپ سب جانتے ہو؟ تو کھی بار بھکت ہچکتے ہیں جانے سے ہم نے تو کبھی بولا نہیں کسی دے ہم تو شرمند سباب کے ہیں پر وہ جو بھی جاتے ہیں پریاس کرتے ہیں کہ لوگ گیتہ لے، کیوں؟ کیونکہ ایک سوال کرو شریف تو کوئی نفع ملے گا؟ نہیں اس لیے کہ لوگ یہ گیتہ ان کو پڑھیں گے اور پڑھ کر سُدھ گئے ہیں آج اگر بھکتوں کہتے ہیں کہ پڑھ گئی ہے بھارت میں کہتے ہیں بھکتوں کہتے ہیں کہ ایک لاکھ بھکت سے زیادہ ہیں اور یوگ جو ہیں بھارت کے وہ بھی اسی طرح سے اپنا رہے ہیں یوگ جو ہیں آج کے ہے اور کھل نیتہ بنے گے تو ان کو بھی ایسی بھی جان دینا چاہیے اور جب ہم یہاں جارہے ہوں تو ہم اپائے کروں گے جو ہم آچھے سب کا ہوتا ہوں۔ تو بھاگوت گینہ اگر ہم نے ایک بار ہی پڑھی ہے تو کچھ سمجھ تو ہوگی ہمیں بار بار پڑھنا چاہے۔ جو جھوٹھ نستہ پڑھی شہبوں سے شو، نیتھے مہگوت سے بھی ہاں۔ بھاگوتی اسمہ شروع کے بھاگتی بھاگوتی نیسے گی۔ ہمیں دھیان سے روح پڑھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ پڑھو گے اتنی زیادہ سمجھا جائے۔ ایک بار پڑھنا ہے انڈولیکشن۔ میں بھی نہیں پڑھیں گے، سب کیا گھیانتہ دکھو گئی؟ آپ جس واطنہ میں رہتے ہو، مایاں کھیچتی ہے آپ کو چاروں دوروں سے۔ یہ صحیح بات ہے؟ جب مایاں دیکھتی ہے، آپ ضد ہوکر سیوہ کر رہے ہو۔ پھر مایاں آپ کا سیوہ دیتی ہے۔ تو آج بھی نہ گھیانتہ میں تھے، آج بھی نہ گھیانتہ میں تھے، آج بھی نہ گھیانتہ تھے، آج بھی نہ گھیانتہ میں تھے، آج بھی نہ گھیانتہ میں تھے، آج بھی نہ گھیانتہ میں تھے، تھے، آج بھی نہ جیسے آپ کوشن آنسور بک پڑھتے ہوں، پھر آپ سوچتے ہوں کہ یہ کوشن آئیں گے ادھیان میں۔ تو بھاگوڑی میں یہ کوشن آنسور ہے۔ آرجون کا کوشن پوچھتا ہے اور آج کشنہ پوچھتا ہے۔ تو آٹھا ویڈھیائی میں بھاگوڑی نے پوچھا آرجون سے، ہی آرجون کیا تمہیب کا گیاں دا دور ہو گئی ہے؟ اور جو نے کہا میں یہ گیانت دور ہو گئی ہے اور اب میں آپ کے آدیش کی عدالہ پر کچھ بھی قائم کرنے کو تیار ہوں تو یہ ہونا چاہیے ہمارا بھاو اور گیتہ کی آنس میں بھاوان کیا کہتے ہیں وہ پرسد سلوک جو ہر ویکلی بھائیل پر جانتا ہے سربا دھرماں پریشتہ جہاں ماں میں ہیں کہ ہم سربا دھرماں پریشتہ جہاں ہم سربا دھرماں پریشتہ جہاں ہم سربا دھرماں پریشتہ جہاں ہم سربا دھرماں پریشتہ جہاں میں تمہارے کی سُرخشہ کروں گا۔ گھڑیاؤں میں، میں سچا ہوں۔ ہم گھڑاتے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ بھاگوان گھوڑڑاں پہلے اُٹھا رہے تھے بریج بازیوں کی سُرخشہ کے لیے۔ تو جو بریج بازی تھے وہ نے دیکھا کہ چھوڑا بالک پانساہ کا اتنی بڑے پہاڑ کو اُٹھا رہا ہے۔ تو پھر کہ گھڑاتے تھے کہ پہاڑ گیر تو نہیں جائے گا۔ پہاڑ گیرے گا تو نہیں۔ تو بھاگوان نے کہا Don't worry. یہ پہاڑ نہیں گیرے گا اور وہ جو بیشباسی تھے سات دن کے لیے انہوں نے لگا دار بھگوان کی موں کا سندھن کیا اور انہیں کوئی بھوک نہیں لگی وہ کوئی پیاس نہیں لگی اس وقت ہم سب بھوکے اور پیاسے ہیں بہت ایک کی اچھوں کے لئے گوپی کی کیا اچھا تھی بھگوان کی پسند ہوگا تو بھگوان کی طرح بھگوان ارجو ننز میں کہتے ہیں ہمیں یہ کہہ گیا کہ اتنا دور ہو گئی ہے جیسے آپ تیوٹر رکھتے ہو آپ تو کچھ سمجھ نہیں پاتے تو تیوٹر کو جواب دو تو تیوٹر سمجھاتا ہے تو آپ سمجھاتے ہو تو اسی طرح ہمیں دھیان میری جیمن آنکھل کرنے کے لیے ایک فرمانے گروہ یا سادھو یہاں پسند کریں اور ان کے دعا اگر آپ سکچہ پرابت کرو تو آپ ٹھیک رکھتے ہو سمجھ پھاؤں گے۔ تو جیسے آپ سب جانتے ہو، پاپا نے انک سکچہ دی ہے۔ پھر ایک سکچہ انہوں نے یہ دی تھی کہ کروشی جلدھام میں ایک بڑا پسند مندر ہونا چاہتا ہے۔ مندر تو کئی لوگ بڑھاتے ہیں۔ ہمارے گفتے اندر کئی لوگ بناتے ہیں بیشنس کی بھاہ پھر تو پھر پاپا جی کی اچھا تھی کہ کرشے سے ڈھام میں سندھر مندر ہو دیں آپ دیکھو گئے بھارت کے کئی ستھائیوں میں کھر میں ہمارے سمکھ جنگ جو اوڑی سے بات کر رہا تھا گرانچی میں ان مکتوں میں میرا جوان میں تین ہفتے کی ستر لا کی کتابیں مانگی تو وہ کہہ رہے تھے یہاں کوئی کوئی میں چرچ ہے جہاں کھڑ میں کہہ رہا تھا جہاں ہو کوئی کوئی کوئی میں چرچ ہے مجھے دیکھا کہ میں یہاں جارہا ہوں۔ اب دیکھو کہ کونے کونے میں مسجد ہے۔
ساؤتھ ہنڈیا میں خاص طور پر کہہ رہے ہیں کہ کونے کونے میں مسجد ہے، کونے کونے میں۔
مسجد اور چرچ، ہاں۔ میں دیکھا کہ میں یہاں جارہا ہوں۔ میں آپ کو مسجد ملے گا دس قدم چلو گے ایک مسجد ملے گا میں نے پوچھا ایک جو مہم تھا یہ مندر کون یہ مسجد کون بناتا ہے سرکار اور بھکتان کہاں جائیں گے یہ اب دیش میں رواج ہے جب اب دھن کام آؤ سب سے پہلے بھگوان کا مندر بناؤں پھر اپنا مسجد اور پھر اپنا گھر ہم ہندو میں کیا بھاو ہے پہلے ہمارا گھر بنے گا پھر ہمارے بچوں کا گھر بنے گا، پوتے کا پوتوں گھر گا اور پھر اگر کچھ بچ جائے گا وہ آئیں گے سماغ کو لے گا۔ پھر وہ بابا جی کہہ دیتے ہیں ہم تو پروپیشنل بھی کھا رہے ہیں۔ کیونکہ جیسے میں آپ جاؤ گے کوئی نہ کوئی پروجہ کسی پر ہو گا۔ جیسے ہمارا پروڈکٹ ہے کوشش مندر کو سندھر روپ سے بنانا اور آپ لوگوں کی آنکھ کے لیے سلامت کو یہ بھیج دینا تو یہ بھاگ کیوں ہیں کیونکہ آپ کا گھر آپ چاہتے ہیں نا اس کفتورے سے کفتورے بنیں تو اسی پرکار بھگ کی چہرے دیں کہ ہم بھگویں سندھر سے سندھر مندر بنائیں کیوں کہ مندر کا سوامی کون ہے
ہم؟ مندر کے سوامی کون ہے ہمارا
جنگ؟ مندر کے سوامی ہے پرام بھگوان ہے پرام بھگوان ہے وہ ان کا گھر ہے سب سے سندھر ہونا چاہتے ہیں بھگوان اتنے دیالو ہیں بھگوان پکٹ ہوتے ہیں اپنے آشتہ بگڑھا کے روپ میں جیسے آپ نے دیکھا ہوگا پیچھے میں سنائی دے رہا ہے جیسے آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو ہم بھگوان پھر ہوتے ہیں آچھر بھیڑا کے روپ میں یہ آچھر بھیڑا اس میں کوئی مانتا نہیں تو بھگت کہتے ہیں تمہیں مندر میں مورتی بہت خوبصورت تھی کہو کون سے مورتی والا سے بنایا ہے تمہیں ہم کہتے ہیں پھر یہ مورتی والا خوبصورتی نہیں بناتا خوبصورتی بنتی ہے بھکتوں کی سیوہ کے دوار سے اس کا عناعہ آپ اس وقت مندوں میں لیکھتے ہو کہ ڈی ٹی بولچپ ہوتی ہے اور اور کیل سن مندے میں جب لوگ آئیں ایسا بات آنے ہونا چاہے کہ ان میں ہدایت جا لیتی ہوتی ہو جو بھکت ہیں وہ ان کا بیوار ایسا ہونا چاہے کہ بھگواں نے ایک قتیدی بھیجا ہے ہمیں اُن کو تصفیق کرنا چاہے ہر چندری پاس کرنا چاہے اور یہ مندر تو بہت بڑا مندر ہیں اور جب یہ کھولے گا اس کا کریڈٹ کس کو دیا
جائے گا؟ جب یہ مندر کھولے گا تو اس کا کریڈٹ کس کو دیا
جائے گا؟ آپ سب کو جن کے پیار سے یہ مندر بنائے ہیں ہمیں کوئی بکاری ہیں جو ہم کہتے ہیں اور پھر ہم بھی مانتے ہیں بھگوان کے لئے آپ کے لئے نہیں تو آپ سب جو گھر میں رہتے ہو یا کچھ آرتک سادل ہے جس کے دورہ آپ جیتے ہو آپ سب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم آر کر سکے کیمن گھر کی دیکھبا نہیں اور بھگوان کی سندیش کو بھی آگے پہنچانا چاہے۔ آیا آپ کا جو ویڈک دھرم ہے بہت خطرے میں ہے، بہت خطرے میں ہے جو ویڈک دھرم ہے۔ دن میں دن اس کا پراباو ابودھ جا رہا ہے۔ کتنی ہندو آپ کو ملیں گے جو کریشن بن گئے ہیں وہ ایک ڈیووڈی کہا تھا رانچی میں وہ یہ بھوک ریشیبیشن کرتے ہیں وہ دس بکتے کو ملا جو آج کریشن بن گئے تھے پھر کل ہندو تھے۔
رانچی میں جب بھوک ریشیبیشن کر رہے تھے گرم آج کو بتایا بکتوں نے کہ وہاں پہ ان کو دس لوگ ملے جو پہلے ہندو تھے اور ابھی کریشن بن گئے ہیں۔
ہر جگہ پھر وہ جگہ ہو رہے ہیں۔ اس کو نیک دھرم ہے جو کی ویژک دھرم کا شد روک سے پہچان کر رہے ہیں ہر جگہ۔ آج ہم لوگ ٹرائیبلز میں کر رہے ہیں۔ ٹرائیبلز سمجھ سکے ہو جو بہت بیک فٹ ہیں جنگلوں میں رہتے ہیں۔ ہم نے ٹرائیبلز سکول کھولے ہیں چار پانچ بنگال میں اور جہاں تک ہو سکے ہم پہچان کرتے رہتے ہیں۔ تو یہ جو مندر بندر ہے کریشن آرجون کا مندر کریشن آرجون کا مندر ہے بابا جی نے کہا کریشن آرجون کا مندر تو کریشن آرجون کا کیوں کہ کریشن نے سکھا دیا اور کریشن آرجون نے سکھا کیا تو اس مندر کو تیار کرنے میں سب کا ہاتھ ہونا چاہیے کئی ہیں ہنوان جیسے جو بڑی بڑی بہاروں کو اٹھا دیں گے کئی ہیں وہ کچھ ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری جیسے کھڑے ہو گئے ہیں گلہری خود ہی پورا مندر بنا دیں اور کس میں یوگیت ہوگی؟ کس میں یوگیت ہوگی؟ کچھ سلطانیں نہیں لیں تو چاہیں کسی بھی سلطان میں ہو آپ کو کیا کرنا چاہے؟ یہ مندر کے نمان میں جھوٹنا چاہے یہ مندر بنے گا سماج کے سلطان کے لئے اور یہاں یہ زیادہ انسٹیٹو دیا جائے گا ہمارے گوھر گوھر چندر آپ کو سنجید میں بتائیں گے گیتا کے بشار میں کیا سب اتنا پھاپ ہویا ہے پھاپا جی کی اچھا تھی گیتا کو سکولوں میں پانچ سال کے عائد سے دینا چاہے تو آپ سب جو اس کے ساتھ جڑے ہو آپ جھڑی ہوئے ہیں ایسی سنسل کے ساتھ جہاں مول سندش ایک ہی دھنڈہ ہے جہاں بھگوان کی سیوہ اس کے کئی ستالن ہیں رنڈ اسٹیبیوشن پریشان اسٹیبیوشن اور تیمپل ملڈنگ چیتن مارکو نے جب بپا سنادھن کو بیناوان بھیجا تو انہوں نے کہا تین چیزیں بھگوان اُن سالوں کو کھوجو جب بھگوان نے اپنی دیویا لیڈر پرابڑ کی تھی اور بندوں کا نرمان اور بھکتی کے بیشے میں بندوں کی رشنہ کیوں کہ وہ ہمارے عشقوں کے بھلت ہیں ایک طرف سے جو بندوں کو پڑھتے ہیں اور پاتھتے ہیں اس کے طرف سے بندر بھی بناتے ہیں اس وقت آپ کو جانتے ہوں کہ خوشی ہوگی کہ یہاں پنجاب ہی آیا نہ وہ جنہی میں کم سے کم ساتھ سی بندر ہو گئے پورے بھارت میں ہمارے پاس پانچ سو کیلوڑے ہیں، ہمیں وہ چھوڑے ہیں۔ تو آپ سب چھوڑی گئے ہیں۔ یہ مندر نرمان کی سیوہ میں کون
کون چھوڑا ہے؟ مندر نرمان کی سیوہ میں کون کون چھوڑا ہے؟ گروہ مہارچ پوچھ رہے ہیں آپ سے۔
سب نہیں۔
سب نہیں چھوڑے گروہ مہارچ کہہ رہے
ہیں؟ کسی نہیں چھوڑے۔
جو لوگ نہیں جڑے وہ ہاتھ کھڑا
کریں سلیکھے تو آپ چاہتے ہوئے مندر جلدی بنیں پریاس ہے کہ ہم اگلے سال کھولیں تو آپ سے بھی ملتی ہیں کہ آپ اس میں سیوک کیجے گا جیسے میں نے کہا پاپا نے کہا کہ آپ پروپیشنل پر ہم تو ایک پروجر کے بعد دوسرا پروجر کسی کے کسی روپ سے لوگوں کو چھوٹے رہتے ہیں اور اگر نہیں چھوڑو گے بھگوان کی بھکتی میں کیا پرینام ہوگا؟
بھگوان کی بھکتی میں نہیں چھوڑو گے تو کیا پرینام ہوگا؟ ہم مایہ میں
چھوڑے رہو گے تو ایک بھی بھی بھگوان کی کربہ ہے کہ ہم لوگ کو سیوہ میں چھوڑ رہے ہیں ہم لوگوں کو موقع دیتے ہیں سیوا کرنے کے لئے ہم لوگوں کو موقع دیتے ہیں اُن کی دنیا نمبر کا چارن کرنے کے لئے ہم لوگوں کو موقع دیتے ہیں اُن کی وانی کا حیثیت کرنے کے لئے ہمیں اِس کا لاب اٹھنا جائے تو یہ کریشن آنٹی جو نمبر کا ننوار جلد سے جلد ہونا چاہے تو آپ صحبہ دیجئے گا کہ جب مندل کا ننوار ہو جائے گا آپ کہہ سکو گے یہ مندل بنا ہوائی میں ہے یہ مندر بنا کیونکہ ہم نے بھی دان دیا تھا۔ اس لئے یہ مندر سماج کا ہے۔ آپ سب اس کے مالک ہوں۔ آپ سب یہ پریاس کیجئے کہ بھگوان کا مندر جل سے جل تیار ہونا چاہے۔
ہری کشنہ ہری کشنہ ہری
کشنہ ہری کشنہ ہری کشنہ
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

