3 प्रकार के सुखों की प्राप्ति कैसे हो? | SB 10.15.6 | Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī Maharaja

Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī Maharaja explains three types of happiness: material pleasure, temporary spiritual joy, and eternal bliss from pure devotion to Krishna. True happiness comes through hearing scripture, chanting, and selfless service, not from wealth or fleeting emotions.
Chapters
होम नमोः भगवते वासु दिवायः होम नमोः भगवते वासु दिवायः क्रीमत भागवतं तस्वस्कन पन्नपाधे आये और श्लोक नमा छे
اے تیرے ناستا و یشوہ پیر لوک تیتاں گاہیند آدھی پروشان پتھم پجھندے प्रायो अभी मुनि गाना अधी अमुख्या भूरंबने अभी नचलती अनथात्म देवं ए तेरे नास्तवय शोकिल लोक तीर्तं गायंत आधी गुरुशानुपथं भजंदे بجندے کآئئت آدھی پروشاں اے آدھے پروش یہ گھوڑے عبیسیٰ بھی مہاں منی تتہ آپ کے پرمصد بخت ہوں گے क्योंकि ये मार्ख में आपका अनुसरण करते हुए आपकी पूजा कर रहे हैं और आपकी यश का घीर्तन कर रहे हैं जो सम्पूर्ण जगत के लिए स्वयम तीर्थ स्थल है यदभी आपके इस जंगर में अपना वेश बदल रखा है आपने इस जंगर में अपना वेश बदल اس سلوک میں گوڑاں شفت مہتر پون ہے یہاں انگیز کرتا ہے یہ کہ جبکہ کریشنا یا بالرام کے روپ میں بھگواں ہے اس خورتی جگت میں سامانے بیٹی جیسے لگتے ہیں کنتو بڑے بڑے ریشی پونی بھگواں کو پربرم کے روپ میں ہمیشہ پہچان دیتے ہیں ایشور کے سارے دیوے سوروپ سچدانند میں ہیں अमारे भौतिक शरीरों के सर्वता अंग्रित जो की अस्थाई अथा दुख एमं अज्ञान से पूर्ण होते हैं तीत शब्द का अर्थ है भौतिक संसार पार करने का साधन बगवान के यर्ष के श्रवन या कीतल मांत्र से मनुष्य तुरंती भवसादर के परे आध्याद्म گایت کرہ شفت سوچت کرتا ہے کہ منی کن اپنا محبت بھن کر کے ایون اَنیاں نیزی کارے کا پیار کر کے بھگوان کی کارے کلاپوں کا تلکان کرتے ہیں اصلی محبت کا ارض ہے بیرت نہ بولنا اپنی وانی کو بھگوان کی پیما بھکتی سے شمبندت ہوئی تتہ باچت کرنی سکتا ہے اندھ شفت بتلاتا ہے کہ بھگوان کبھی کوئی پاپ کرم یا عبارت نہیں کرتے یہ شکل اس بات کو بھی سوچت کرتا ہے کہ وہی اپنے دشتہ مند بھکتوارہ اکسمہ کیے گئے پاپِ عبرات کو طور پر شمع کر دیتے ہیں اس شلوک میں، اس شلوک کے بشیش سندرگ میں انادہ شکل یہ سوچت کرتا ہے کہ برگرام جی لگاتار پیشا کرنے والے گھوڑوں سے تنہیں بھی مجھلت نہیں ہوئے تھے انہوں نے انہیں یہ عاشقہ دیا اے بھوڑو میرے گھوپنی اپنے چمہاوں اور اس کی سکھندی کا آنکھ لو ہائے کشتہ اب
بھگتوں کو گرمی لگ رہی ہے آپ ایک پنکھر چلا دے سکتے ہیں پنکھوں کی بہت اوچھی آواز ہوتی ہے جوکے لگ دے لیکن پلین لینڈنگ میں نے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے تیسر اسکند میں ہمان اپ کی عجوز لیلہ کے بشیر میں پڑھ رہے ہیں اور تیسر اسکند میں بھاگتم کہہ ہے بہت ہی مہتقون ہے اور فیصلہ اس قرآن میں سار روپ میں بابا جی ہمیں بابا جی ایک کیونسا قرآن دیا کریشنی بھوک۔ بابا جی اچھا تھی کہ قرآن جلدی سے جلدی پرکاشت ہو جب بابا جی امریکہ گئے تو اپنے ساتھ کریشنی بھوک کی منسکرپ لے گئے تھے۔ اور جو سمات کرنا تھا میں نے کہا جا کے کیا تھا اس کے پسچاد پرابا جی کی اچھا تھی کہ اسے پرس کلاس پرنڈنگ کرنی جائے اور اس وقت سنسا نہیں تھی سنسا کی کمک تھی پرابا جی سوچ رہے تھے پھول پے پھول رہے تھے آنس کا یق دے گا اُن دن میں پرابا جی کے پرسد بھاگت انگلینڈ گئے تھے کریشنہ بھکتی کا پرچار آرام کرنے کے لئے پھر انگلینڈ میں ان کا پرچار ہوا کس نے جواندر نے اور انہوں نے انکو پرچار کیا اور انہوں نے روچی پکڑ گی تو جب بھرمندہ پربو نشام سندر آئے تھے پرابا جی کو ریپورٹ دینے کے لئے نیویارگ میں پرابا جی نے کہا why don't you ask جارج پرنڈنگ کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے تو پرپنج کی جدھی کہ بھگوان کی جو عزبوت دیلائے ہیں ان کو ٹھیک اوپر پڑھا جاتی ہے جنما کرم شاہ میں دیویم اور ویڈیو دیتا ہوتا ہے اکتیاب دے ہم پناہ جنما ویڈیو میں موسید دیتا ہوتا ہے تو پرم بھگوان جو ہیں ان کی ان کا پرکشن اور پرگروہ کیا ہے دیویم دیتا ہے دیویم کا ارض ہے جو کہ بہت اکی ہندیوں کے پار کوئی کی تلاش نہیں کر سکتا تو پڑھ بڑھ پڑھ بڑھ کی لیلہ جو ہیں وہ بھی دیوی بنتے ہیں دسویں سکھن میں آپ بھوائی کے نیک لیلہوں کو پڑھتے ہیں اور آئیم کے آئیم کے ساتھویں قصہ میں کیا سکھ سکتی؟ بابا ہن کی پالیلا بابا ہن کی پالیلا کا مرنگ ہے آپ پالیلا جاں پڑھتے ہو کیا دیکھتے ہو چھوڑے بچے نے اتنی ادبوی لیلا پکڑ کر دی؟ امپوسیبال ادھر کے لیے جب انہوں نے اپنے موں کو کھویا تو بیسودہ ماتا نے کیا دشن پرات کیا؟ آرہے بھائی شہدہ درستہ کوئی سوچ نہیں رہی میں سپناں تو نہیں دیکھ رہی یہ اصلی ہے واسق ہے تو بھگوان نے دیوی لیلہ پکڑ کرنے آرام کر دیا تھا جسے کمس نے پوتنہ کو پھیجا تھا کیسے لیے کیونکہ کمس کو سوچ پرابت ہو گئی تھی بھگوان پکڑ ہو گئے ہیں جنہوں نے اُن کو بھئی دیا اور پرم بھگوان نے پوچھنا کا بھی پریشان کا ضرورت دیا تو جب ہم پرم بھگوان کی چڑچا کرتے ہیں we should know that he is beyond the material senses آج کے واتران میں ہمیں تو بیشوار نہیں کرتے ہم کہتے ہیں یہ سمبھ ہے یہ سمبھ نہیں ہے بھگوان کے لیے کوئی کائی سمبھ نہیں ہے द्वेधं चूद्विनादि अनन्तरूपम् अध्यम् पुरणापुरुष्यम् अव्योनुचा। विदेश दूलपम् उद्दूलपम् आत्मभक्तो भोविन्दं भाधिपुरुष्यम्। ब्रह्मजी बहुत सुनने शब्द में सुनते हैं। भभान हर्षिजी के कारण हैं� تو اس پندر ادھائی میں آپ بہگانگی ایک اور لیلہ پڑھ رہے ہیں وہ لیلہ کیا ہے جس میں انہوں نے اسور جنہوں نے کوئی سورہ کہا ہم وہاں جب پکڑ ہوتے ہیں حد بڑھ لیلہ پکڑ ہوتے ہیں کیا کارن ہے کہ پہلے راسلیل نے ان کی بھالی نہ گواننے کیا پھر آگے جا کر اُن کی راسلیلہ کی چرچہ کرتے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ آج کل بھارت میں دیکھتے ہو، لے کتا کرتے ہیں، سیدھا پہنچ جاتے ہیں کہاں؟ اُن کی راسلیلہ پر۔ راسلیلہ پر ایک گھرائی کے ساتھ اُن کی بالیلہ کا منان کرتے ہیں۔ کیونکہ اُن چاہتے ہیں کہ جب ہم پاکت وہاں تک پہنچے گا اس کے مند میں کوئی شک نہیں رہے گی کیا کرشنا تیوں بھگواں سے، بھگواں جو ہیں وہ ہیں دیویوں، پرم بھگواں ہیں دیویوں، وہاں کے سکھوں کے تاتوے میں پاپا جی اس وشک کی جڑچہ کرتے ہیں۔ تو ایسا دھیائے میں آپ پڑھتے ہو کہ موان نے دیوس ہوئے ہیں، زندگی کوشش کرتا، ایسے ہوئے تھے آپ؟ پریش فرشے کی چرچہ کرنے سے پہلے گاتھ لیوڑی ہمیں بھگوان کے دھام کا جان دے رہے ہیں اور آپ پڑھتے ہو کہاں بھگوان کے اندر دھام ہے وہ کیا ہیں تو ساتھ پر میں پربھو جی کہہ رہے ہیں ہم بورم جو شبت ہے بہت ہی مہتقون ہے اور پرم بھگوان جو پکڑ ہوتے ہیں وہ پکڑ ہوتے ہیں ان کے دیوے روپ میں اور سیدھارین بیٹی جیسے ہمیں یہ سمجھ دینا چاہئے بھگوان کے لئے کوئی بھی کاریاں اسمبال نہیں ہے اسمبال نہیں ہے بھگوان کسی کاریاں کو کسی بھی انگ سے کر سکتے ہیں جیسے کہ آپ اور ہم جب پرشاد کھاتے ہیں کیسے کھاتے ہیں؟ ایک ہی سادن ہے۔ پھر بھگوان کسی ایک اندری سے دوسری اندری کا قائم کر سکتے ہیں۔ جیسے بھگوان مجھ نے کہا آپ ہو ہماری چیز بھی کھاتے ہیں۔ تو بھگوان کے جو بھکت ہے وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ وہ صدا بھگوان کے گنگان کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ بھکتوں کی اچھا یہ کیا کیا جائے پرم بھگوان کا گنگان پرم بھگوان کا گنگان کروگے تو کیا درام ہوگا پھر آپ اپنے آپ کو ایک بہت ایک جگہ سے چھڑکار سے داؤ سکتے ہیں بھگوان کے روح کی وجہ میں کیا کہہ جاتا ہے کہ وہ جو ہیں بے کل دیویوں ہیں اور اُن کے جو شریر ہے، کیا ہے؟ سچی دندر، کھول جاتا ہے۔ آوان شریر کیا ہے؟ بابا جی صاحب پہلے میں کیا کہتے ہیں؟ آوان شریر ہے، کشتوں سے بھڑا ہوا، وہ ہر چیز جو ہے، سائے ہے۔ تو یہ ہے انتر، کشت میں، مائے میں اور پرمائے میں۔ ہمارا جو شعیر ہے وہ کشوں سے بڑھا ہوا ہے آج ہم سوال مکہ دیتے ہیں جو کش ہے وہ کیا بڑھتے جاتا ہے وہ کلیش ہے اس لئے بھوگاں کیا کہتے ہیں سر و دھرما پر چھوڑ جا ہمیں کشوں گے ہم سر و دھرما پر چھوڑ گے بھوگاں کہتے ہیں سر دھرما پر چھوڑ گے کیا کرو تو یہاں تاثر میں پرابو جی کہہ رہے ہیں یہ گودھیں ہم سب کے دوارہ کہ بھگوان جو پکڑ ہوتے ہیں وہ دکھتے ہیں سدھانا جو بھگوان جیسے وہ ہیں کیا پرابو بھگوان وہ آج کے وطن میں ہر بھگت سکان نہیں کرتا بھگوان کے انبوز کی راستے میں بھگوان کے انبوز کی راستے میں بھگوان کے انبوز کی راستے میں بھگوان پکڑ ہوئے تھے ماتا پتا کے سماکھ تو کس روپے پکڑ ہوئے تھے؟ چھتر تک پکڑ ہوئے تھے کیونکہ ماتا پتا قیدی تھے اور اُن کے بھائی کو پھائے تھا، اُن کو موت ہوگا، بھوگاں دیوکے کی پتوں کی پتا تھا تو اُس نے ایسے ہاتھیں چار کیا تھا اور بھوگاں جب پکڑ ہوئے، ایسے پکڑ ہوئے، کس روپے؟ چار ہاتھ ہوئے تھے اور جب اپنے ماتا پتا کو یقین دلانا چاہتے تھے کہا گھبراؤں بات جب ماتا پتا نے کہا سدانہ بچے کا روپرینٹ کرلو انہوں نے کیا کیا سکرنٹی سدانہ بچے کا روپرینٹ کرلے تو پھر بخوان جو ہے کہ اچندیا اچندیا کا کیا مطلب؟ بخوان جو ہے اچندیا تو تارپے میں پرپاو جی نے شلوک کے مہتبر شبڑوں کی اوپر اپنے اپنے ساتھ پھیل دیا ہے تو بھگوار کے جو روپ ہیں وہ سائے دیویم ہیں اور آنن سے بھلے ہوئے برہمہ مورتہ پرسداتوہ سوچتی نگاہ تھی جو وقی ایس ادھیات و اکمان میں جھڑیں گے کیا پرابت ہوگا آنند نہیں آنند تو بہت ایک سماج میں ہم سب آنند کی کھوش میں ہمیں پرابت ہوتا ہے روپگو سومی نے بھکتی رسالت میں ہمیں شدھ بھکتی کے لکھوں کا ورنن کیا ہے اور روپگو سومی جیسے آپ جانتے ہو ایک سب میں بڑے پرسد راجہ کے راجہ کا شاستن کر رہے تھے کیونکہ روچی نہیں تھی تو انت میں انہوں نے اپنی نوکری سے آیا اور بھاپ کو انہیں انہیں بھائی کو گھیان دیا جس کے دوالہ انہوں نے یہ کہا کہ بکتی کس کے مندے تھے انسون کی شاستن کیوں کہ بکتی رضا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا کرتے ہیں کہتے ہیں کہ شریف بھگتی کے نیک لکھشن ہے اور شریف بھگتی کے دوارا جو آنن پرابت ہوتا ہے وہ پر بھی سمابت ہوتا ہے روپا کو سمجھیں تین پرکار کے آنن کا ورنن کرتے ہیں ایک ہے مود اک ستھ کی بشمی کیا کہتے ہیں مود اک ستھ کسی سبے بھی سمابت ہو سکتا ہے अध्यान्दिक सूख अध्यान्दिक सूख अध्यान्दिक काये करने से केवल बड़ेगा और पलाद में आज करते हैं इस विशे में नियते बिदं सोते करते हैं विविश्वन लोगे ये नहीं जानते हैं कि अस्तिक सूख कैसे प्राप्त होगा तो भौतिक सूख के � یہ ہمیں بھولنا نہیں چاہے کسی سمجھ میں استعمال ہوتا ہو سکتا ہے پھر جو دیہاڑ میں تھوک ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ دیکھو بہت زیادہ ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ بہت زیادہ ہوتا ہے پھر یہ تو اُن کا نیلہ یہ ہے کہ جو بھکتی یوگ ہے اُس ہی کے دوالہ آدھے سُنتی ہو جاتا ہے تو بھگوائن شہدیٰ پاچڑس خن میں ہمیں افضل دیتے تھے انہوں نے اپنے بیٹوں کو دیویہ گیان دیا تھا اور وہ اس پرسیش لوگوں میں کیا کہتے ہیں اگر ہم دیویہ تپسیہ کریں بھگوان کی سیوہ کرنے کے لئے اس کے بدل میں کیا پرابت ہو جائے؟ پھر پرابت ہوئے گا؟ کیا؟ کیا؟ انینڈنگ سپریچوال ہیپنگ تو ہمارے میں پورا بشواس ہونا چاہئے اگر ہم شد بھگتی کے بارے میں جھڑیں گے تو آپ کو اصلی آنان پرابت ہو جائے اور بہتے کاریوں کے دورہ اگر آنان پرابت ہو بھی جائے وہ کسی سمیہ بھی سمات ہو سکتے ہیں. کتابے میں پرابو جی کہہ رہے ہیں کہ جو بھگان کے بھکت ہیں وہ بھکتی یوگ اس لئے پالن کرتے ہیں بھکتی یوگ دولا کیا پھاپت ہوتا ہے کہ اگیان تھا تو اگیان تھا ہمیں اگیان تھی میں دسیا ہم سب کا جنم ہوتا ہے گیانتہ میں فہ سادو کی سنگھ میں آنے سے کیا ہوا ہے یہ گیانتہ دور ہو جاتی ہے تو جب بچہ پیدا ہوتا ہے یہ بھی شریف لکھنا جانتا ہے آپ اسے پاچھلہ میں بھیجتے ہو اور سکھتے ہو تو اسی طرح سادو سنگھ میں آنے سے آپ کو کیا پرابت ہوتا ہے؟ سبھی گیان پرابت ہوتا ہے۔ جیسے کہ اس انصاف میں پرچار کے پر اتنا پل دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ کہ لوگ جاب کرتے ہو کہ سندھی جی کو سنیں گے پڑھیں گے۔ وہ علیہ السلام کی جاگتیت پڑھیں گے۔ تو صادق اس طرح میں آنے سے ہمیں یہ گیان مندہ ہے کہ پھر مہگوان جو ہے کیا ہے؟ بلکل دیویم ہے۔ اور سچ ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ایلین ای گوجھم شب کے ونن کرتے ہوئے ان سب چیزوں کو ونن کرتے ہیں آگے کہا گیا ہے جب ہم ادھیاتمک نام سنتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہوتا ہے ہماری بہت ایک آکشن سواپ کرنا چاہتا ہے جو پھر ہم نے کیا کہا ادو شرات ادو سالوں کہ پہلے قدم میں ہمیں شہدہ ہونی چاہتے ہیں کیا شہدہ کہ ہم بھگوان کے شرنگت ہونا چاہتے ہیں اور اگر آپ صادق سنگت میں آؤ اور آپ کو جو گیان پرابت ہو اور آپ جب اس کا اُکچھارن کرو تو کیا ناپ ہوگا ہماری حدیث میں جو جہاں تھل ہے کام تو جو محمد مصنف کیا ہوتا ہے اُن کا محمد مصنف ہے تو پھر بھائی یہ کہہ رہے ہیں ساتھ پہلے میں کہ جو بیٹھتی بھاکتی یوگ میں جڑتا ہے بیٹھتی کیا کیا پرات کرتا ہے ہمیں سادھو سنگلہ پڑھنا چاہتے ہیں سادھو کی سنگلہ پرات کرتے ہیں دو مادیوں سے واپو اور وانی اور دونوں ہیں یہاں کہا جا رہا ہے یہاں ایک اور شبڑ ہے تیرتا اور تیرتا کا عنوان آتی ہے جوڑوتی سزا بھگوان کے ناموں کا اچھوڑن کرتا ہے تو یہاں کہا جا رہا ہے کہ بھگوان کے ناموں کا اچھارن کروگے تو کیا اصلی سلطنت آپ کا سلطنت ہے اور جو سندھ ہے وہ ان کا ایک گن ہے سائلنس اس کا ارض ہے کہ سائلنس کا ارض کیا ہے؟ سائلنس کا ارض ہے چھپ جو گئے پھر یہاں ساتھ پہ پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر اگر وہ چرچہ کرے تو کس وجہ کی چرچہ کرتے ہیں؟ بغانی ناموں کی اور شاستوں میں اس وجہ پر بہت زیادہ ہے تو بغان کی ناموں کی اچھارن سے ہماری جگہ آتا ہے وہ یہاں لکھا وہاں ہے جو بغانی بھاگت ہیں وہ نونسنٹ وہ چرچہ جس کا فرما بھاگاں سے کوئی سما نہیں ہوتا اور اگر ہم دیویوں کی چرچہ کریں تو کیا لام ہو رہا یہی تو درپن دیکھیں یہ محل ہے تو جو سنت ہیں ان کے بشر میں کہا جاتا ہے جو سنت ہیں ان کے بشر میں کہا جاتا ہے جو سنت جہاں ہیں ان کے بشر
میں کہا جاتا ہے جو سنت سنت
ہیں ان کے بشر میں کہا جاتا ہے جو سنت ہیں ان کے بشر میں کہا جات سینٹ اپنی فرصہ کس طرح کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے؟ کس طرح کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے؟ پاکتی کے راستے میں جو آپ جھڑتے ہو ہمیں سامنا نہیں کرنا چاہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں پاکتی نش کیسے ہوتی ہے؟ جلپا یا ماجو ہم لوگوں کو کہتے ہیں کہ جو جلد پاک کرو گے تو اجازت میں جو آپ کا ہے وہ مکمل ہو جائے گا اور ناشت ہو جائے گا تو شاستوں کے ادھار پر ہمیں پورا گیاں ملنا ہے یہاں انکول ہے یہاں پتکول ہے تو یہاں تاکہ میں پلپو جی کہہ رہے ہیں جو سانت ہیں وہ سائلنس وہ جارہاں چرچا نہیں کرتے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چرچا نہیں کرتے یہ مطلب ہے کہ وہ پھر جھلپا میں پھر جھلپا سے بچتے ہیں اگر ہم شعصوں میں لاب اٹھائیں تو ہم پورا گیاں پرات کر سکتے ہیں کیا نقود ہے کیا خطور ہے تو بھگت ہے وہ کیا سدا یہ ہی چاہتے ہیں بھگوان کے بھگوان کیا جاتے ہیں تو آپ اس ادھائی میں برنامہ دھام کے محیمہ کا بلشہ میں سن دیکھو اور بھگوان کے دھام میں ہر چیز جو ہے کیا ہے مجیدی پرانس میں اور بھگوان کے جو بھت ہے کیا اچھا رہتی ہے کہ سدا بھگوان کے ناموں میں اچھا رہتی ہے شریف بھرکتوں کے طور پر ہمیں یہ سندھیش پرابت ہوتا ہے اور شاستوں میں کیا ہے؟ شروع نمبر کیسے ہے؟ راج و راج نے دیوی گیان پرابت کیا لگا؟ یومہ مالہ کی جگہ لگا تو یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب ہماری بھاک تھے وہ سائلنس ہوتا ہوگا، سائلنس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اتنا پہلے میں پروبوجی کر رہا ہوں، اصلی سائلنس کا مطلب کیا ہے؟ کہ آپ اپنی وانی کا فیوک کرو اس لئے سلاح بھگوان کے گنگان کریں گے تو اگر ہم وانی کا فیوک کریں گے بھگوان کے گنگان میں تو کیا پینام ہوگا اس کے ذوالہ آپ سے حضران اللہ تعالیٰ کو دور کرسکو گئے تو یہاں کہا جا رہا ہے کہ ایسے ہمیں حجابِ گھنٹی کرنی ہے اور یہ کہا جاتا ہے ہمیں سدھا بھوگوان کا گنگان جنگ جاتا ہے بھوگوان کلیوگا میں پکڑ ہوتے ہیں کس روپ میں ہمیں ہی راہ میں پکڑ ہوتے ہیں کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی کھلی رہمہ ربہ کھلی رہ پیتھے پیتھے آج سے جتا آج دنیا کے کھونے کھونے میں کیا ہو رہا ہے کہ ہری نام پہنچ گیا یہ ہے کلیوگا کا فائدہ جب پریشان باہر نے پوچھا بتاؤ اس کلیوگا میں کیسے لوگوں کا ادھار ہوگا کلیوگا میں نے کیا کہا کلیوگا سے میں دوشی دوشی دیکھنے کیا کہ بھگوان مکرد ہوتے ہیں، یہ دیکھیں نام ہوتے ہیں اور بھگوان کی جو نام ہے بھگوان سے بہن ہے، نہیں دوسرے سے مختلف ہے۔ نامہ جن تامنی کریشن، چھتے ناسر جا رہا ہے، پورے چھوٹے بندوں تو بہن ہاتھ بنا رہا ہے۔ بھگوان کی نام ہے چندامنی پڑھت پتھر جیسے ہے پڑھت پتھر تو جہاں بھی آپ چھوڑ گئے کیا پیغام ہوگا تو اس لوگ میں یہ سندیش مل رہا ہے کہ جو سنت ہیں وہ آنن اٹھاتے ہیں بھگوان کا دندان کرنے کی طرح اور جو سندھ ہیں وہ چاہتے ہیں سادھو سنگھ پر رہے ہیں کہاں کی بھگوان کا گلغان چاہتا سارا تر سے ہو یہ وہ بھوتی نے پوچھا تھا اپنے بیٹے سے یہ بتاؤ کہ کس طرح میں بہت ایک سنگھش سے سلطان پاک پر رہا ہوں یہ ہونا چاہئے ہم سب کا بھاو کہ ہم ادھار میں اونٹی کیسے کر سکتے ہیں اور شیطان مہا پھر نے کیا کہا جو بھکتی کے لئے انکون ہے اسے ادا کرو اور جو بھکتی کے لئے پتکون ہے اسے شکا کرو تو sharing the holy names is our worship one and business اور خدا کی ناموں کے وشیع میں جتنا آپ ہو گئے جتنا یہ کام نہیں ہے، ایک بہت لوگ پوچھ رہے ہیں، چوٹی کے چاہے اور چیننگ میں ہوئی نہیں، اب ایک ہی نام کا اشارت کرتے بار بار، اب تھکے نہیں ہو، اب کیا ہوتا؟ نہیں تھکے، اب بھگت گیتہ کو پڑھتے ہو، تھکتے ہو؟ نہیں تھکے، کیوں؟ کیونکہ یہ ہے بھگوان کی وعنی اور بھگوان کی وعنی میں کوئی یہ پوچھتا نہیں کوئی دوش نہیں اور اگر ہم بھگوان کی ماننے کا دعویٰ اٹھائیں تو کیا پرنام ہوگا بھگوان کی آدمی شیطر میں آگے بڑھنے کے لئے پرم بھگوان کا بھگوان کرنا سب سے مہترین کاریہ ہے اور آپ کی صحیحہ میں دیکھتے ہو بھگوان کہنے کے لئے بھگوان نے کئی سکولوں کا عبادت کر دیا تھا اس کے پرسچاد برمان جی کو بھی پڑھا دیا تھا برمان جی کی اچھا تھی پڑکشا لی جائے اس بالک میں کتنی شکلی ہے اور برمان جی نے ہر ایک غوالوں کو چھپا دیا تھا برمان جی برمان کا پتہ تھا کہ برمان جی کی حرکت ہے برمان نے انہوں نے بستار کیا گوالوں بچوں کے روپ میں اور بھما کو کیا کرنا پڑا کیونکہ جو اپنا یوجنہ ہے اسی پرکاہ آپ دیکھتے ہو کہ اندر جی ان کی اچھا تھی کہ وہ بڑے خرودت ہو گئے تھے جب اندر جی رکھا تھا تو بھگواں نے کیا کہا اندر نے تیجی کے ساتھ بھار بھاری پھیلی سمدہ کا بادل جو کی بہت اوچی آواز کردے ہیں ان کے دوالہ پوری بھاری ورشہ گئی اور بھگواں نے کیا کیا چھوٹی امری کے ناکوں کے بل پر کیا کیا گوھر پرن پرن پھر پیچھے دہن میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح بھرما جی نے سوکھار کیا کہ ان کے وہ مجھے نہیں سمجھ سکے اور بھرما جی نے بڑے سندھ ستوطیوں کے دورا بھرما جی نے سمجھ سکے تو بھرما جی نے اپنے بھائی بالو کو لے کر کھانے ڈالوان جنگل میں جا رہے ہیں اور اُس جنگل میں سوگندت پیر تھے اور ان سگندت پیروں میں سگندت پھل بھی تھے۔ تو جو بھوان کے بیٹھتے گئے تھے انہیں پتہ تھا کہ کرشنہ کے دوران ہم اسمباب کاریاں بھی کر سکتے ہیں انہوں نے دیکھا تھا کیسے انہوں نے نیلکور اور منیگیب کا بھی ادھار کیا تھا اور بھرمان جی نے بھی سرکار کیا تھا کہ ان کی یوگتہ ہے وہ اتنی صاف ہے انہوں نے موٹیف ٹھیک نہیں بھرمان جی ایک سامنے گئے تھے دوارکھا میں پرم بھرمان کو ملنے گئے بھرمان جی نے کہا جوہا پاکو بولو بھرما جی آئے تو ان کے خیبر نے کہا کہ بھرما آئے آپ کو ملنے تو انہوں نے کیا کہا مجھ بھرما جی لیکن بھرما جی جو چار سلکے تھے آکشت ہوئے اسی بھرما پہ بھی ہے اس کا مطلب تو جب بھرما جی گئے بھرما جی کا پرنام کیا پرنام کیا کرنے کے اور سوات کرنے سے پہلے بھرما جی نے پوچھا میں ہی راوہ اور کوئی بھرما ہے وہاں تورنٹ کیا پکڑ ہو گئے انیک انیک بھرما کئیوں کے کروڑ سیڑھ بھی تھے مرمہ دیکھتا ہے آشریہ ہو گئی یہ سمجھ گئی ہے تو مرمہ جی دوالہ پرمہمان گنگال سلطان دینک اور کشنر بالرم ابھی وہ جا رہے ہیں اس بند میں اس کا نام کیا تھا؟ کالوان اور جہاں کی ایک سکندت پیر تھا جس میں اتنے سکندت فل تھے اور جو بیج بازی تھے وہ ترس رہے تھے ان فلوں کا تیز پراپرنگ رہے پہلے تو بھگوان جب چھوٹے تھے وہ دیکھ بال کر رہے تھے، کس کی؟ پچھلوں کی، پچھلوں کی جیسے بھگوان کی عمر بڑھی ہوئی، جیسے ان کا شریع زیادہ چندرس ہوا تو بریج باسی تھے انسان، now you are the big boys, now you take care of the cows and buffalo. پہلے تو بھگوان بچھروں کی دیکھ بات کر رہے تھے جیسے یوگیتر میں بڑے سنیر پڑھا ہوا باقی مجھ باقی نے کیا کہا ابھی آپ کھائیوں کی دیکھ بات کر رہے تھے تو یہ بھگوان ہمارے بچھروں کے ساتھ گئے سالاوان جنگل میں انہوں نے دیکھا بہت سچ پچھو جنگل میں بڑے خوبصورت فلت ہیں اتنے سوگن ہیں بالرانہ کیا کیا آپ جیسے ہمیں دیکھتے ہوں کئے سور کئے سوروں کا عوض ہوا بالرانہ کے دورا اور کئے سوروں کا عوض ہوا برام بھگوان نے جانا حصولوں کا بات کیا باندھر نے کہا آٹھا حصولوں کا بات کیا میک ہے دین کا حصولہ تو باندھر نے کیا باندھر نے جا کے پیڑے کو ہلایا وہ پیڑے سے پھل نیچے گرنے لگے تو دین کا حصولہ تھوڑی دوری بات تھا وہ سمجھ گیا سمجھ گیا اس کا انسائل اس نے آگے بول بولا کون ہے ادھر میرے راچے میں کون آسکتا ہے کوئی نہیں آسکتا تم کیسے تم یہاں آکر ایک پیڑھ کو جھلا رہے ہو تو اس نے مارا پرمہن کو اور پھر انت میں مارا میں بہت سرال طرح سے بت کیا وہ ایسے گھوانگ گھوانگ کے پھر گرے جوکے گرے پیڑھوں کے پھر پرمہن کی لئے کوئی کچھ ایسا ہو نہیں آپ کہو گے how is it possible چھوڑا بچہ یہ کھڑ کر دے گا اسی لئے ہم کہتے ہیں He is God He is God He is the Supreme Personality of God کیونکہ وہ بچپن سے ہی اپنی عدو نیلہ پکڑ کرنے شروع کر دیتے ہیں تو بھاگوان نے دینگل سورا کا مد کیا بڑی سالہ دیتا ہے اور تھاکر بھکتی مینود نے ایش وشی کی چرچہ کی ہے تھاکر بھکتی مینود پہلے مہان سندھ تھے جنہوں نے یہ ویڈک سہیدہ کے سندھیج کو انگریجی باشا، اوریا باشا، منگلا باشا میں پکڑ گیا تھا تھاکر بھکتی مینود نے ان سارے سوروں کا بہت کی چرچہ کی ہے اور اِن نیلوں کو سننے کے دوارہ ہمارے ہدے میں جو ہنیک پرکار کے اپراد ہیں، دوش ہیں، آکشن ہیں، کیا ہوتا ہے؟ وہ کٹ جاتا ہے۔ اگر آپ اسے کوئی بیماری سے بچنا چاہو تو کیا کرتے ہو؟ اگر آپ دیلوں کو پڑھو گے تو کیا دیکھو گے ان دیلوں کے بشے میں سن کر آپ کی جو بھوتی کا اکرشن ہے تو پڑھ بھوان نے دیلوں کا سورہ جو کی پکڑ ہوئے تھے گدے کی روپے ایسے بڑی سرادار تھے اُن کا مذہب اور جب جنہوں کا صورہ کا وضع ہوا اُس کے دوسرے ساتھی تھے ساتھ ایسے جو ہیں ان کے ساتھ ایک بڑی سینہ رہتی ہے کہیں اکیلے نہیں آتی اور جب انہوں نے دیکھا کہ جنہوں کا صورہ کا وضع ہو گیا ہے تو ساتھ جو ساتھی تھے سب آگے بڑھے بھگوان کے بھائی سے لڑنے کے لئے بھگوان نے ایک ایک ایک کو پکڑ کر پھیک دی تو پرم بھگوان جو ہیں انہیں لیلہ سارا کیا ہوتی ہے اسی پرکار آپ پڑھو گے اور بھی اصولوں کا مد ہوا اور بھگوان نے بھگتوں کی سرکار کی اِن ویدہوں کو ہمیں پڑھنا چاہئے اور پڑھو گے تو کیا؟ اگیاں تدو، اگیاں پڑھ سکے۔ اگیاں تدو کیا ہوگا؟ اگیاں پڑھے۔ اِس کے لئے اِن گھڑوں کو ہمیں پڑھنا چاہئے۔ تو اس ادھائے میں آپ پڑھ رہے ہو کہ کس پرکار بھاگوان نے دینو کا سورہ کا عوض ہوا تھا دینو کا سورہ کا عوض ہوا تھا کس کے دعا کشنا یا بھاگوان ہر حصول کو عوض کر سکتے ہیں وہ جاتے ہیں تھوڑا پیڑے اُن کی بڑے بھائی کو بھی لیا تھا باہرام جی جو ہیں کبھی پرکت ہوتے ہیں بڑے بھائی کے روپ میں وہ کبھی پرکت ہوتے ہیں ادھاران کے لئے جب بھگوان رام پرکت ہوئے تھے تو ان کی بھائی کس روپ میں پرکت ہوئے تھے؟ لکھوپن لکھوپن اور لکھوپن کے روپ میں انہیں کئی پرکار ایسی سیوہ کرنی پڑی جو اتنے خوش نہیں تھے انہیں پرادھا کیلئے اگر مجھے پھر سے پرکت ہونا ہے چھوڑے بھائی کے روپے نہیں پرکت ہونا چاہتا بڑے بھائی کے روپے پرکت ہونا چاہتا کیونکہ بڑا بھائی order کرتا ہے چھوڑے بھائی کو ہمیشہ سننا پڑتا ہے پھر یہ ہی بھگوان پھر پرگٹ ہوئے کس روپ میں؟ نتی زندگی روپ میں تو آج کے اس سلوک میں آپ پڑھتے ہو کہ جو سندھ ہیں وہ سدھا بھگوان کے ناموں کا اچھانے جاتے ہیں وہ کبھی تھکتے نہیں اور اگر کھش کی ستھی سامنا کرنا پڑے وہ بھی کرتے ہیں ایسے حریدہ ساکر کے بچے میں کیا پتہ ہے حریدہ ساکر ان کا کیا دوشت تھا ایک ہی دوشت کہ ان کا آکشن تھا حینام کی پتے جبکہ چاند تازی نے وہ حریدہ سے کہا تو بند کرو کہ حینام ہم جو مسلمان ہیں وہ ہندو کی بھگوان کے نام نہیں لےتے ہم دونوں کے گھر سے ایک بون چامل بھی نہیں کھاتے اور تم ان کا نام لے رہے پھر حیدر صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور انت میں جب راجہ نے کہا انہوں نے سفکار نہیں کیا اور پھر راجہ نے کیا کہا لے جاؤ اور انہیں پیٹو بجھاروں میں تو بائیس بجھاروں میں انہیں گھسید کر لوگ پیٹ رہے تھے اور حیدر صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے گئے جب کہتے گئے ان کے پورے شریر میں ایک نشانہ نہیں تھا اور پھر حریدار نے سنا کہ جو پیٹ رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں اگر ہم اِسے جندہ چھوڑے گے تو راجہ ہمیں جندہ نہیں چھوڑے تو حریدار ان کو پیٹا جا رہا ہے ایک طرح سے ان کی دیا کی بھاونا دیکھو وہ سوچتے ہیں اگر میں مروں گا نہیں تو راجہ ان کو جندہ نہیں رہنا چاہتا ہریداس نے ایسا بیوار کیا جیسے ان کی متی ہو گئی اور جو پیٹر تھے انہوں نے سوشنہ بھی لی ہریداس is dead now good news راجہ کو سوشنہ پہنچی ہریداس کا دیخان ہو گیا تو جو خاسی تھا وہ کہہ رہا تھا مسلم نیتیوں کے انصار انکو انکی سمانی کر دو پھر کاری نے کہا نہو وہ دھرم کہتا ہے بیرودی تھا اسے پھیک دو اس کے شریر کو کہا جنگ ندی میں اور حیدر پھیک دیا حیدر کی بہت زیادی شکستیاں تھی کہ وہ اپنی بیڈنگ پروسس کو وہاں روک سکتے ہیں اور راجہ تو بات میں سوچنا مل گئی کہ وہ حیداث جو انہوں نے سوچا تھا مر گیا ہے کیا وہ جب کر رہا ہے ریلی کے پاس تو راجہ آیا انہوں نے معافی مانگی تو حیناں میں روچی رکھنے کے لئے حیناں میں کیا حیناں کو جاننے کرنا چاہتے ہیں اور کئی بار کٹھن چیلنجرز بھی آتے ہیں لہٰذا ہمیں انکو بھی سرکار سننے جائے آدمی سے پوری نے اللہ کا ادیش کے نصرہ گوپال بھیگا کے استعافتہ کی لئے پھر بھوائی نے مجھے سمجھ میں کہا مجھے چندن آکے دو مجھے بہت گرمی لگ رہی ہے اتنی کھٹن جمہداری شکار کرتے ہیں تو بھگوان کی جو بھگت ہے بھگوان کی سیوہ میں کے جو راز اگر انہیں کھٹن سیوہ بھی کرنا پڑے وہ یہ نہیں کہتے ہیں آج والی اسکون میں ایک شعب پوپلر ہو رہا ہے اس کو انگریزی میں کہتے ہیں comfort zone آپ نے سنا ہے پہلے ہم سیوہ کریں گے پر ہماری اچھا کے نصارے ہماری اچھا کے نصارے سیوہ ہماری اچھا کے نصارے شاست کا سمجھتے ہیں تو ہم اس بھاو سے کریں گے تو آپ بھگتی میں آگے نہیں پڑ پاؤں گے اگر ہم اس بھاو سے کریں گے do whatever is necessary پھر آپ بھگتی میں آگے پڑوں گے تو بھگتم کے ادھین کے دوارہ آپ اشوال بھگتی کا گیار کر سکتے ہیں اور اس کا اگر آپ ملاب اٹھائیں تو بھی آپ بھگتی کی مانگ میں آگے پڑھ سکتے ہوں تو آج کے سلوک میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جو بیر ہیں وہ سندوں کے ساتھ رہتے ہیں اور جو بیر ہیں وہ کیا کر رہے تھے وہاں بھگوان کا ملنا تو برنداور میں जो भी हो, पेर, पत्ते, फूर, बीफ, सब का एक ही भाव रहता है। यह क्या है? क्या है? पिश्चान करते हैं। इसलिए जोड़े भाईं क्रिष्णा हैं। और वो कभी धक्ते नहीं है। हमें भी इससे पेढ़ना लेनी चाहिए। کہ آپ پریاست ہونا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمیشہ دا سلوک کریں اور سائلنس کا مطلب کیا ہے پرجل پر سے بچنا پرجل پر سے بچ پا ہوگے اگر آپ کوئی پوزیٹیو الٹرنیٹو کو ڈویل اپ نہیں کروگے تو بھکتوں کی سنگل میں جائے پا ہوگا نہیں اور ہمارا بھاو ہونا چاہے جو بھی سیوہ کرنا پڑے تو بھگوداں پڑھنے سے کیا دام ہوتا ہے؟ شدھ بھکتی کا کیا دام ہوتا ہے؟ رَسْتَ پَرِحِشْ وَبُتَشُ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْوَدَاٰ فَتِحْ بَغْو اُن کا پورا بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں میں بیشواس رہتا ہے کیا گھنٹوں ہم سب کا پیاس رہتا ہے ہینہ میں روچی بڑھائیں شاستن میں روچی بڑھائیں ہینہ میں روچی کیسے بڑھے گی اور شاست میں روٹی کیسے پڑھے گی؟ شاست پڑھنے کیسے پڑھنے کیسے پڑھنے کیسے پڑھنے کیسے کیسے پڑھنے کیسے کیسے پڑھنے کیسے پڑھنے کیسے پڑھنے کیسے پ� کتنے سیٹ بھارتے ہیں؟ 25,000 سیٹ 25,000 سیٹ ہمیں کسی نے سپنہ بھی نہیں دیکھا تھا کتنے سیٹ ہم بھار پائیں گے؟ تو پرشن شریف پربھو کئی بھگتوں نے پیدا دی پر انت میں سب بھگتوں کے پریاز سے کیا ہوا؟ جن کو ہم نے سیڈز باتے ہیں ان کو پڑھیں گے ایسا بہت اہم ہے کہ یہ نہیں کی سیڈیالیا سجا دیا، بہتر کیسا ہے کہ آپ پڑھو گے، پڑھو گے پھر جاننے دوں گے تو سری مہد بھگو دم کے دورہ میں یہ مہتر پن سکھش مل رہی ہے کہ سری مہد بھگو دم کے دورہ فیضوالتی کا جہان پرابت ہو جب ویاسدیو جہاں تھا منی کے بعد پہنچے تھے انہوں نے کہا میں نے ان دے گھنٹوں کی رچڑ کی ہے ان کے سار کو پرستد کیا ہے ابھی بھی مجھے لگتا ہے میری رچڑوں میں کچھ کم ہی رہ گئی ہے اور اُن کی گروہ نے کیا کہا کیونکہ تم نے کیونکہ شدھ بھاکتی کے بیشے پر جلد بلنے لیا پھر اُن نے ہمیں بھاکتم کو دیانے لیا تو یہ شریفت بھاکتم جو ہے کیا ہمیں گلپہ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلوڑ گلو اگر پکا وہ فضل ایک بیٹے سے دوسرے بیٹے کے دوران نیچے پہنچایا جائے تو کیا ہوگا؟ ستھروپ پرابت ہوگا اگر اوپر سے کوئی پھینکے گا تو کیا پرنام ہوگا؟ ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے یہ میرے ساتھ جائے گا کم ساڑھ، پھر یہاں راکھوں گا، آپ سب کو چانس ہے کہ آپ اس یوجہ میں ساتھ رہو اور پھر کمان کیا؟ دیکھیں تو آپ پسند ہوں گے، آپ بھتکوں سے نہیں بلند ہیں سمجھتے ہوئے اور تشریف کرتے ہوئے۔ اس کے دوارہ جھانت ادھر ہوگی اور آپ اصلی سکھ آپ کرنے کا جھان پراب کر سکتے ہوئے ہیں۔ हائے گوشنر! ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی طرح۔ ایسی ایسی طرح۔ ہاں. چل رہا ہے. ہاں. چل رہا ہے. چل رہا ہے.
چل رہا ہے. چل رہا ہے.
چل رہا ہے.
چل رہا ہے. چل رہا ہے.
नहीं, वापी सेवा, वापी सेवा, वापी सेवा, वापी सेवा, सेवा, वापी सेवा, वापी सेवा, वापी वापी सेवा, वापी सेवा, वापी सेवा, वापी सेवा, اور جو بھارت پڑتا ہے وہ بھارت پڑتا ہے بہت زیادہ امید ہے بھارت پڑتا ہے بہت व زیادہ امید ہے بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا
ہے بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا ہے
بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا ہے بھارت پڑتا
ہے
He lives forever by divine instruction. And what? The followers of the temple. So, we should feel the presence of the Guru. You will feel the presence when you follow the instructions. Any more? ہاں پھر گریشن دی ہری گریشنا مہدید مہدید جیسے آپ جیسے ریڈیو کا مہدید مہدید ہے تو ریڈیو کرنے بھی چاہتے ہیں روپا جی کے بہت سے لیکن
اس میں پہلے تو اتنا روپ چاہیے
لیکن کبھی کبھی بہت سمجھ نہیں کارتے ہیں یا پھر روپا جی تو پیسے بیٹھے چاہیے مہدید مہدید مہدید روپا جی کیا بتا رہے ہیں سمجھنے کا ایک بار سننے سے یا ایک بار پڑھنے سے ہم پورے جھان کو پراب نہیں کرسکوں گے اس لئے شاستوں میں کہاں کہاں ہے ریگلر ہمیں پڑھنا ہے اور سننا ہے اور اگر ہم ریگلر پڑھوں گے سنوں گے پھر کیا ہوگا جو ہیڑڑا کی مہل ہے So regular hearing is very important. I can't understand the Bhagavad Gita. हम کہتے ہیں, एगा पढ़ने से तोड़ी गिता समझते हैं। आप रोज पढ़ो, फिर आप even understand. Yes, any more? Quick. प्रभु जी, जब रादा राही, हलो, महाराज है, जब रादा राही श्री कृष्ण जी से विरखत हो थी, तो उनको बहुत दुख हुआ था, और वो दुख में भी आगलत ब्राख करते थी। सर जब रादा राणी जी श्री कृष्णची से मतलब जुदा वही थी तो उन्हें बहुत दूप हुआ था तब भी वो दूप में भी आनंदा बात करती थी और आज हम आज मेरी अगर बात करें सर तो हराज वो जब मेरे मन का कुछ होता है अच्छा तो मुझे बगवान पे व اچھاؤں کو پوری کر رہے ہیں بھئی بھائی یہ خوبصورت ہے اگر ہمیں کوئی جھول کر نہ پی جائے ہم کہتے ہیں بھئی بھائی یہ کیوں کیا میں نے کیا کلتی کی تھی ہے نا تو یہ کلت بچار ہے ہمیں یہ سوچنا چاہئے بھائی بھائی جو کرتے ہیں بھائی بھائی کے لئے اور اگر ہم کوئی دل گھڑنا انتباہ کر رہے ہیں وہ ہمارے پاپوں کا پینا ہے یہ نہیں ہم بھگوان کو کہیں گے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے
ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں
ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے جنہوں نے ایک سوشنہ دی ہے کہ یہاں آپ کے جہو مندر نے جمہوریہ اٹھائی تھی دو ہزار سیل باتنے کی ضرورت ہے اب تک آپ بھکتر نے اتنی محنت کی ہے اور کیول چودہ سو سیل بیٹھے ہیں سمجھ دیتے ہیں پیچھے جی اب ہماری سیل؟ چھ سو سیل آپ نے باتنا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اسکون میں بہت سے میراتن ہوتے ہیں ایک میراتن ختم ہوتا ہے دوسرا شروع ہوتا ہے دوسرا ختم ہو رہا ہوتا ہے پیتا کی یوجنہ شروع ہوتا ہے تو ہم شادی سے نہیں بیٹھ سکتے اسکون میں ہمارا سیدھان کیا ہے؟ پرادھوکھا یوکی اور بھگوڑاں پرسن کیسے ہوتے ہیں جب ہم ان کی سمدیش کا پرسن کرتے ہیں یہ جو بھگوڑاں پرسن سے ہم بات رہے ہیں کس لئے؟ کیونکہ ہم چاہتے ہیں اس سب آپ جیسے باقی شریف ماننا آپ اپنے آپ کا باقی شریف مانتے ہو یا نہیں؟ اِس کو ہمیں چڑھ گئے ہو، چیتن مہا پربھو نے ایک دن کہا، میں آج سے کیونگ لک پتیوں کے گھر میں جاؤں گا، کھانا کر رہے ہیں، بھگوان کی جو بھگ تھے وہ گفتھا گئے، لک پتی، ہم سے لک پتی نہیں ہے، مہا پربھو ہمارے گھر نہیں آنے گا، ہوئے گھمراتے ہوئے روتے روتے وہاں پربھو کی بات پہنچتے ہیں ہم نے سوچا کہ آپ نے سمجھ گئے کہا ہے لاکھ پتہ کے گھر سے کھاؤ گے وہاں پربھو نے کہا لاکھ پتہ کا بندہ نہیں لاکھ پتہ کرو پیسے اور جو ہی نہ ہوگا لاکھ پتہ کرتا ہے تو بھاگوان پرسن ہوتے ہیں جب اگر بھکت پیش کرتے ہیں ان کی اچھا کو پورا کرنے کے لئے یہ جو بھاگو دھم سیٹھ ہے یہ میں کیا ہے میں نے سنیا تو آپ یہ میں سوچے کی کیسے کی روچی نہیں ہے اگر آپ پریاج کرو گے کہ یہ لوگوں کا ادھار ہو تو آپ بھی مادیا مل سکتے ہو ہمارے محرطہ میں کئی بھگت جنہوں نے کبھی جنگی میں نہیں کیا تھا انہوں نے بھی محنت کرنے پر کافی سن پا دی آپ سب جھڑ گئے جھڑو گئے؟ جھڑا ہوں یہ کتنے دن بچ گئے یہ میرا سن کیا؟ پھر پندرہ دن پندرہ دن بچ گئے پھر ایک سن سے نہیں ملے گا اب ٹرائی کرو گے؟ جتنے فرق ٹرائی کریں گے اور بولنا نہیں چاہیے آپ کو سوشنہ دے سکتے ہیں یہ بھاگتن مہرزن کے بعد کونسا مہرزن آئے گا مہرزن کا ارض ہے جب آپ کو اتھک پریشان کرنا پڑتا ہے اتھک پریشان تو جو بھکت ہے اسے جھڑتے نہیں ہیں وہ یہ ہی سوچتے ہیں اگر بھکتی کا میرانتان نہیں ہوگا تو ماہا کا میرانتان وہ چل رہا ہے ماہا کا میرانتان سال سال چلتا ہے کی نہیں؟ تیس سکسٹی فائیو ڈیلو یار امریکہ میں کئی سٹورز ہیں جس میں رکھا ہوتا ہے 24 بائی سیون آپ سمجھے کیا مطلب ہے 24 بائی سیون یہ دکان سات دن کھلی رہتی ہے چوبیت گھنٹے روز تو ہمارا جو پرچار کا ملتن ہے اسے بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ٢٨٤ دیز، ٢٨٤ آنس، ٢٠ دیز ہوئی ہے اوکے اینی مور؟
और अभी हम आजकल देख रहे हैं मरच कि जो लौजवान हैं, यूद्स हैं वो भक्ति करना चाहते हैं उनका रुजाव है, उनका लगाव है वो प्राक्टिस के लिए प्राक्टिस के प्राक्टिस के लिए प्राक्तिस के लिए प्राक्तिस के लिए प्राक्तिस के تو وہ کیا کر سکتے ہیں؟ بھگوان
کہتے ہیں گیتہ میں دیوی شکرمائی، مایا ضرورت ہے، قومِ قوم پھر پھر دیندے، مایا میں کام دیندے اس مایا کا بھیروت کرنا بہت کچھ ہے تو بھگوان نے کب کہا؟ پانچ ہزار سال کو کل نہیں، کل کا سندیش نہیں ہے یہ گیتہ کا سندیش ہے ہزاروں سامنے، بھگوان کہتے ہیں مایا کا فروت کرنا بہت مشہور ہے ہر بیٹی سنگش کر رہا ہے بھارو ہندیوں کے ساتھ تو بھاگوان نے کارن کیا ہے اور اوپائی کیا ہے اسے بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان کا کہتے ہیں بھاگوان शर्णगत होने के ज्ञान کا کہتے ہیں بھاگوان کہتے बात करेंगे। रुपविश्वान भी भी कहते हैं। भगवान की नाम तो अच्छेन मीठे हैं। क्योंकि हमारी वानी में ज्ञान तक है, बिमारी है, अविद्या, हमें जब अन्मसूस नहीं करेंगे। क्या है विपाय? जब करेंगे। और अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा अच्छा ہماری سوال نہیں ہے۔ ہاں۔ مجھے شاکر نہیں ہے، ہماری سوال نہیں ہے۔ مجھے بہتر کہہ سکتا ہے.
مجھے کہا کہ مجھے
بہتر Spider-Man, Batman,
वो भी Comical Characters हैं, वो भी तो प्लीव کہہ नहीं कर सकते हैं, क्योंकि वो रियाल में इंजिस्ट नहीं करते हैं। तो मैंने سکتا भागवाद अंख़ने के लिए जो भी उसको इस्प्रेशन दिया तो वो वैसा था कि, ہے I gave one example of Nature, Nature का भी Laws हैं, तो वो भी, भगवाद की सम्पेट آپ
اپنی طرف سے اماندری سے پریاز کرو اگر آپ امانداری سے پریاز کر رہے ہو تو پھر بھول پیشنا ہے آپ امانداری سے کہو کہ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ یہ پڑھیں اور جب آپ امانداری سے کرو گے تو پھر پیشنا ہے ہمارے سامنے کے سیوکتے ہیں سویم پریاز کریں प्रयास करो। प्रयास एफ़र्ट है हमें। अपने अपने एफ़र्ट नहीं है। अपने अपने एफ़र्ट नहीं है। अपने अपने अपने अपने � اتنی سکھاہوڑ ہے اس بھکت نے اتنی مہینت کی تھی بھکت میں اتنی شکتی ہے کہ اگر آپ آنکھ بند کر کے دوڑوں گے تو بھی گیروں گے نہیں بھکت میں नहीं अपने पड़ते है। करते हैं? यह नहीं? यह नहीं। अपने पड़ते हैं, करते हैं पड़ते हैं, अपने पड़ते हैं, अपने पड़ते हैं, अपने प
وہ بڑی مدینہ ہی سے سیوہ کرتے ہیں کوپالی کی سامنا میں۔ تو اپنا comfort zone کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
تو یہ جو مدینہ ہی سے جب
ہم سیوہ کرتے ہیں تو ہم ایک بار، دو بار، تیس بار ایسا منجول کرنے لیتے ہیں۔ ہم مادوں میں تو دیکھتے ہیں کہ ادھاریں نہیں کریں۔ اور کیونکہ resources اور یہ limited ہوتے ہیں۔ تو کوئی نہ کوئی تو comfort zone میں رہتا ہے۔ اور resources limited ہونے کے प्रावापा के
दिवर में आप देखते हो और वो 40 लिए प्रावापा के दिवर में प्रावापा के दिवर दिवर में आप देखते हो और वो 40 लिए प्रावापा के दिवर में प्रावापा प्रावापा के दिवर में प्रावापा म بہت ایک سنگلش ہوتا ہے اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو کامیابی پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو کامیابی پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو کامیابی پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو کامیابی پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر آپ کامیابی کرتے ہیں تو کامیابی پر اپنے کام نہیں کرو۔ اگر आप नहीं दोड़ी آپ होते हैं आपको अच्छा करने के लिए क्रिश्णा کامیابی आपको प्रेड़ा کر करते हैं आपको प्रेड़ा करते हैं और बहुत करते हैं अपने दोड़ी के लिए क्रिश्णा करने के लिए क्रिश्णा करने के लिए क्रिश्णा करते ہاں ہاں है ہاں ہاں ہاں ہاں
سو میرا یہ question ہے کہ میرے لوگوں پر میں دیکھتا ہوں کہ سادھنا میں اتنا کچھ ہی نہیں ہے موزننگ میں ہے ووکڑنگ میں ہے لیکن سیوا کرنے کی مطلب بہت اچھا ہو دی جاتا ہے ایک activities میں کے passion میں ایک activity engagement رکھتے ہیں تو ہم بہت سارا سیوا کا میرا پیاس کرتے ہیں لیکن سادھنا اچھی نہ ہونے کے کاران پھر وہ mentality سیوا میں نہیں رہتی ہے کیونکہ بہت بار hopeless میں
سا جاتا ہے آپ کا کہہنے کا مطلب ہے سیوہ کرنے کا پتہہار ہو پھر شاستوں میں اتنی روچی نہیں ہے آپ کے.
Yes.
Doesn't matter. Go on serving. اور شاستوں میں روچی بڑھ جائے گی. آج آپ کو لگتا ہے شاستوں کے ادھر میں اتنی روچی نہیں ہے. پھر سیوہ میں ہے. تو آپ یہ کرتے جاؤں سیوہ. We say purification. There is one boy in Canada and one in Montreal. وہ 35 سال سے روج مندر آتا ہے پارتن مانجنے کے لئے اور شاستوں کو پڑھنے میں اس کی روچی نہیں ہے سیوہ میں روج آتا ہے ایک دیکھ دو گھنٹے کے لئے سفائی کرنے کے لئے تو اگر آپ کی شاستوں میں کم روچی ہے اور سیوہ میں زیادہ ہے تو جو دیتا ہے اس لوگوں کو آپ کو پیوٹیفائی ڈالتا ہے आज
आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज
आज आज आज आज आज आज आज आज आज आज دیوشل سیروز ڈالتا ہے کس طرح ڈالتا ہے کس طرح ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے ڈالتا ہے سمجھ گئے ہیں کہ میں کس طرح سمجھتا ہوں کہ میں کس طرح سمجھتا ہوں کہ مجھے بہت مفید ہے
चत्रवति प्रभुजे मेंशन है कि यूध प्रभुजे मेंशन है कि यूध प्रभुजे कि यूध प्रभुजे मेंशन है कि य
प्योर दिवोशन सर्वस नहीं। प्योर दिवोशन सर्वस नहीं। क्रिष्णा पक्तेन इसका माते वशंता। मुख्ति मुख्ति सिदी कामी। सर्वकार याच्छना। पर हम तो कुछ कुछ हैं। हम कहते हैं क्रिष्णा पक्तेन
इसका माते वशंता।
مجھے ڈھروہ मुख्ति मुख्ति सि� مراج ڈھروہ مراج ڈھروہ مراج کیونکہ ہمارے پاس بہت ساری ایستیسیوں ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں؟ بھائی مہربان، اب میں کسی چیز نہیں چاہتا ہوں۔ مجھے دیکھنے کے لئے ایک گلاس پیدا کرنا چاہتا تھا جہاں مجھے ایک دیمان پیدا کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں نہیں مانگتا ہے کہ ہمارے ساتھ جمع کرنے کے لئے ہمارا محفوظہ محفوظہ ہے۔ لیکن اگر ہم اسے پیدا کرتے ہیں تو ہم محفوظ ہوجائیں گے۔ अपने बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत बहुत ब ہری کشنہ مہاراج مہاراج
جب میں نئے ہوں تو سولہ مہاراج کر جائے میں مند نہیں لگتا مہاراج
بھی گائیڈ کیجئے آپ مند نہیں لگتا کتنی چیزیں ہیں جن میں مند نہیں لگتا آپ بیمار ہو جاتے ہو ڈاکٹر کی علاج کراتے ہو ڈاکٹر کہتا ہے انجیکشن لینا پڑے گا ابھی دیکھو جگہ بھی جانے میں ویسے انجیکشن لینا پڑتا ہے آپ کو وہ اچھا لگتا ہے پھر آپ کرتے ہیں اتنی مجبوراں تو اگر آپ سمجھو تھی جیونگا لکھ شاید بغداد کی سیوہ تو پھر بند نہیں بھی لگے جو بدستی سیکھ راستے پر چلو سو آپ کو بھولو گے نہیں بغداد کا راست ہے بغداد کی کتنے سیٹ اور کرنے پھر چھے سے دو جھوٹ کے بھکسوں کے لئے چھوٹی بات ہے. So you please try. Okay? Sai Krishna.
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

