In this short lecture, Speaker A confronts the modern claim—often circulated in media articles—that the deities Rama and Krishna never manifested in the world. He argues that such assertions are based on misguided 'research' and lack genuine spiritual insight. Drawing on Vedic and Puranic sources, he cites Brahma’s statements, Advaita concepts, and specific verses (e.g., from the Brahma Samhita) to demonstrate that the Supreme Lord does indeed appear in countless forms, including the avatars Rama and Krishna. He explains the doctrine of ananta‑roopa (the Lord’s infinite forms) and emphasizes that both manifested (prakat) and unmanifested (aprakat) aspects are divine. The talk concludes with Speaker B leading a devotional chant praising Krishna and Rama, reinforcing the devotional affirmation of their reality.
Chapters
ये भारत की बड़ी पत्रिका है, Times of India उसमें एक full page का article एक हिल्डूने लिखा था जिसे उनसे कहा के हमारा research ये कहता है कि राम और कृष्णा कभी प्रकटी नहीं होए वो बल्माश कहता है कि राम और कृष्णा प्रकटी नहीं होए कोई हमारे पर प्रभान नहीं मिल रहा لوگ یہ نام کمانے کے لیے یا رشوت کے کارن ہے کیا بڑی بڑی اکباروں میں research shows رام اور لکھشور رام اور پریشن never existed کہ ہمارا بہت ایک research یہ دکھاتا ہے کہ رام اور پریشن کبھی پرکت ہی نہیں ہوئے یہ سب لوگوں کی کلپن آئے تو یہ ہے ہمارا ضرورت بھاگیا بھاگوان رام پرکت ہوئے تھے کیسے پہکت ہوئے تھے اپنے تین بھائیوں کے ساتھ وہیں سب کے ساتھ ہیں بھریشنور تاتوہ تو بھرما سمیتہ میں کہا گیا ہے ادویتہ اور چیوتہ منادی انتر روپہ براہ پہنچی سلوک کا ونن کرنے ہیں اس تاتوے میں یہ بڑا پرسید سلوک ہے اس میں بھرما جی کہتے ہیں بھرمان کے انہی گنوں میں ایک گن ہے ادویتہ عدیدہ کا ارد ہے کیونکہ بھوتک دھے اور آتماں میں کوئی انتر نہیں، ان کا دھے جو ہے بلکل عدیدہ دے گا۔ اچھوتم کبھی وہ گلتی نہیں کرتے۔ انانت روپا، بھگوان اپنے آپ کو انانت روپوں میں پھرکت کرتے ہیں۔ آپ بھوتک اندھیوں سے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بھگوان کس کس روپیں پھرکت ہو گئے۔ भवान वरा के रूप में प्रकट हुए थे, मच्री के रूप में, दृसिंगनेव के रूप में, अनांतर रूप हुआ. तो यहां प्रापा जी एक और ब्रह्मत समिता के स्लोक का उप्योग करते हैं, ब्रह्माद्य मुद्रीश्यो कलान्यामेन अतेष्थान, ये भ اور پرابہ جی نے وہ لیکچر آرام کیا تھا اس برامہ سندھی دا کے سلوک کے طور پر رمادی مطیشو کلہ نیمینا تشتہ کیونکہ اس سلوک میں پرابہ جی نے کہا رمادی شف کا ارد ہے بھگوان راہ بھگوان پرکھٹ ہوتے ہیں اپنے آپ کو پرکھٹ کرتے ہیں انہیک روپوں میں جنہیں ایک ہے بھگوان راہ جیسے بھگو گیتہ مہگوان نے کیا کہا اس وشہ پر جنما کرمہ چاہنے ڈیو یم یہاں پرکت ہونے اور اپرکت ہونا دونوں ہی دیویاب ہیں یہ بھگوان کے لیے گن ہیں جن میں یہ کہتے ہیں सच चेज अनंजा. परम भगवान को हमیں किसी रूप से सधारत व्यक्ति यह प्रसिज व्यक्ति के रूप पे नहीं सिकार करना चाहते हैं. जैसे कही लोग प्रिशन भगवान को मांते हैं और प्रसिज देवता के ہارے