In this devotional lecture delivered in Urdu/Hindi, Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī Maharaja commemorates the disappearance (līlā‑prāpti) day of the great saint Sri Ramananda Raya. He narrates the historical background of Ramananda Raya, his lineage, and the circumstances surrounding his departure from the material world. The discourse distinguishes two categories of devotees – the ‘Abhid’ (those who remain in the world) and the ‘Tiro’ (those who renounce worldly activities) – and explains how both serve the Lord’s mission of spreading bhakti. The speaker emphasizes the supreme importance of nama‑sankirtana (the chanting of the Hare Krishna/Hare Rama maha‑mantra) as the most effective means of spiritual advancement for both householders and renunciates. Practical guidance is offered on how to observe the disappearance day, including chanting, singing the divine glories, and maintaining a devotional atmosphere at home and in temples. Throughout, the lecture is imbued with reverence, enthusiasm, and instructional tone, urging listeners to internalize Ramananda Raya’s teachings and to deepen their own bhakti practice.
Chapters
ہاں ہے کिشنا، ایک مہان سنت جس نے کون تھا رام ڈھونگا تیرو باو ہمارے سنسکرت بھاشا میں دو شعب راتے ہیں ایک ہی عبید باو اور دوسرا ہے تیرو باو عبید باو کا ارض ہے وہ شب دن جبکہ مہان سنت پرتھی پر آتا ہے بھگوان کے شکا پرچار کرنے کے لئے اور تیرو باو کا ارث ہے وہ شب دن جبکہ ایک مہا ہنسان ار پرگرد ہوتا ہے تو جیسے وہ ار پرگرد ہوتا ہے بھکتوں کو موقع ملتا ہے ان کی لیلاؤں ان کی سیوہ ان کی بھکتی کا گنگان کرنے کے لئے اور اس مادیم سے ہمارا اشد ہدر بھی شد بنتا ہے مہا پربھو کی لکھن مارت کی یادہ چل رہی تھی اور مہا پربھو پہنچے کہاں؟ ادھاوی ندی کے چھٹ پر وہاں جاملنہ روئے سو سیوکوں کے ساتھ پہنچے تھے اور مہا پربھو یادہ کر رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ رمزندہ روحے یہی شہر ہوگا وہ راج پاک جس کی چڑچا سرغوبہ مولا چاہیے نے کی یہاں جب مہا پربو ملے رمزندہ روحے سے وہ الٹا بھی بحیوار تھا مہا پربو جو بھگوان ہے انہوں نے پرشن پوچھے مہا پربو نے رام نن روحی نے مطلب کیا تو جب رام نن روحی نے دیکھا رام نن روحی نے دیکھا یہ سنیاسی ایک پسر سنیاسی یہ شہر مہا پبھو ہے وہ تھیونتی پلکی سے دیچھے آئے رام نن روحی نے پنام کیا شیطنہ مہا پبھو یہ مہا پبھو جیسے انہوں نے دیکھا کہ بہت سندھر سنیاسی وہ سمجھ گئے کہ یہ ہے مہن سے اور انہوں نے سب کو بڑھ جائے کا عبار پکڑ گیا کیونکہ ان کی قبضہ سے انہیں انکردہشن بنایا تو رامنندہ روئی جو تھے ان کے پتا کا نام تھا بابنندہ روئی اور ان کے رہنے کا ستان تھا اوریسہ آل ناظ مندر سے 12 کلومیٹر کے دوری پہلے تھے۔ ویسے تو بہت ایک درشتی سے رام نینڈ روائے نیچی جادی کے تھے، سادھا نینڈ جادی کے۔ وہ تھے اس وقت پھوٹی کے بعد۔ رام نینڈ روائے پریستہ آشرا میں تھے اور ایک راجہ تھے پوریسہ کے مجھے نام دا مراج پتہ پودرہ مراج پتہ پودرہ بھگ بھی تھے اور جب ان کی بڑی اچھا تھی وہاں پر محسن پرابت ہوئے تو رامنندر روئے ان کے راجے کا شاثن کر رہے تھے he was working as a governor and the king was مراج پتہ پودرہ تو رامنندر روئے کے boss تھے مراج پتہ پودر وہاں پبھو ملے رمضان روحے سے وہ بہت ہی خوش ہوئے رمضان روحے کے پتا کا نام تو بابندر روحے اور انہیں بشاکہ کا اکثار مانا جاتا ہے ارجون کا اکثار مانا جاتا ہے اور للیتہ کا اکثار بھی مانا جاتا ہے رمضان روحے اوڈری بھی ایکسی نہیں تھے امپاور تو دونوں کی چرچہ ہوئی اور رام نندر ہوا ہے کہ چار بھائی تھے پانچ بھائی تھے سب ملا کر پانڈو کے سوال ماننے جاتے ہیں اور سب سے بڑے تھے رام نندر ہوا تھے وہ کہا جنہوں نے ہوا تھا وہ سب ہیں ارناد مندر کے نگر رام نندر ہوا ہے بہت ہی اوچھے کھڑی کے بھکت ہے اور مہا پبھوک نے انہوں نے دیکھتے ہی اچھا ہونے جاتی ہے مہا پبھوک کی اچھا تھی کہ رامنہ دروائے ان کے ساتھ چلے رامنہ دروائے نے کہا مجھے اجازت لینی پڑے گی راجہ کی اور جب راجہ کو سوشنہ ملی کہ ہم انہوں نے روئے ابھی نوکری چھوڑ کر مہا پیبھو کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں انہوں نے پوری جاہد دی اور پوری پریشن دی پھر ہم انہوں نے روئے اور مہا پیبھو کا بہت بڑا ورطلاب ہوا تھا یہ یہاں گواہی ندی کے طرف یہاں پریشن اتر ہوگا بھی عمران روحے سے بھگواں مہابرہو پیشن پوچھ گئے اور رمزن روحے پیشنوں کا عطا لے لیا پھر سب سے پہلے بھگواں نے پوچھا یہی بتاؤ یہ ایک پرکار کی ودیہ پراتھ ہوتی ہے سماج میں سب سے بہتر کونسی سکھشہ ہے اور رمزن روحے نے کہا سب سے بہت بڑھ سکھش ہے بھگوان کے پرتی سیوہ کا جھانا نمکوڑ جانا تو ایسے آپ دیکھو کہ بھارت میں کونے کونے میں پاتھ شلائے ہیں گے نہیں کہتے ہیں بہترین بزنسوں، ہسپیٹلز اور سکورٹ کیونکہ ہر ایک بھگڑی جھان چاہتا ہے یہاں پرشن یہ تھا کنیں ایک پرکار کی بدیوں میں سب سے ایمپورٹن ایڈیوکیشن کیا ہے تو رحمن اللہ روحن نے کہا سب سے مہتبون ہے وہ سکھشا جس کے دوارہ آپ کو بھگوان کی سیوہ کا جان ملے آگے پوچھ رہا ہوں مہا پھر بولیں بھگتوں کی سنگ سے جدہ ہو جانا یہ ہے پوچھ رہے ہیں بڑی بڑی جو پوچھ رہے ہیں سب سے بہتر پر کون ہے؟ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ جس کی ہدے میں بھگوان کے پراتی پریم اتپن ہو گیا ہے وہ ہے اصلی بھگ۔ تو بھگوان نے پوچھا رم نن اور روئی سے بڑی بڑی گانے ہیں وہ سب سے بہتر پر کون سا گانا ہے؟ और रामनरन भोय ने कहा वो गाना जो की रादा कृष्णा सम्मन के वश्व में ग्यान देता है वो ग्याना है सुपीर दूसरे शब्दों में ये महा मंत हरे कृष्णा, हरे कृष्णा, कृष्णा, कृष्णा, हरे ने हरे राम, हरे राम, हरे राम, हरे राम مہاں مندر کا جاب کرو گے یہ ہے اصلی گھانا ہے گھانا۔ تو جھانتہ میں ہم بہت سے دھون ایتیاتی کے پتی آکششت ہوتے ہیں۔ اور جو بودیبان بکتی ہے وہ کیا کرتا ہے؟ وہ بھگوان کیا؟ نام کو چھوڑنے دیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے یہ ہی اصلی تھا۔ تو بھگوان کا پریشان تھا کہ جیو آتما کو کس وشہ کا چندن کرنا چاہے؟ کیونکہ من جو ہے اگر آپ اسے ٹھیک سال میں نہیں جڑو گے تو گل جگہ پاگے گا۔ دامنہ روی نے کہا سب سے مہتبون چندن ہے بھگوان کے ناموں کی مہمہ کا آپ دیکھو یہ سوچو بھگوان یہ دیالو ہیں اب یہ نام کی روپ میں پرکھٹ ہوتے ہیں ستی یگ میں بھگوت بھاپتی کا سادن تھا بھگواں نے چھنٹن کرنا اور سات ستر ہسی ہجرہ ساتھ تک لوگ چھنٹن کر دیتے ہیں پھر آیا ثیتہ یگ ثیتہ یگ میں تھے بڑے بڑے یگیاں پھر آیا دورپی یگ اس میں ہنگی ہنگی بھیٹ رکھتے تھے بھگواں کے لئے وہ سب کا لاب مل سکتا ہے آج کیسے یہ ہی نام کیوں چلا تھا یہاں کچھ نہیں تھا اور ایک گروپوں سے بھگواں کا چیندن کر سکتے ہیں۔ اور ہمارا روح نے کہا ہم سب کا کرتبیہ ہے، چیف ڈیوٹی۔ کیا کہا ہے؟ چیف ڈیوٹی مطلب یہ ہمارا سب سے مہتکر کرتبیہ ہے کہ کیا ہم رادہ کشنہ کے چرنوں کا سمون ہوتے ہیں۔ ہم، جب آپ ہری کشنہ مہا منطر کا جاب کرتے ہو تو ہری کشنہ منطر میں رادہ کشنہ کی چرن آ جاتے ہیں۔ تو آپ مینیجیر کا مدد یہ نہیں، آنکھ بند کر کے سو جاؤ۔ مینیجیر کا مدد ہے، آپ شینڈنگ کرو۔ تو اس طرح روی نے چیتلِ مہا پربھو کو سکھا دی۔ اُن کا پریشن یہ تھا کہ ہمیں کہاں رہنا چاہیے۔ اُنہیں کہا کہ برج میں یہاں کی اللہ نے اپنی دیوی لیلہ پھوٹو کی دیتی ہے پھر برجمی کا یہ ارد نہیں اب آپ سب اپنے جا کر اپنی مکانوں کو سیل پر لگا دو وہ سب بندہ آون میں رہیں گے جہاں بھی آپ بھگواں کا گلنگان کرو گے وہ سان کیا بن جائے گا بندہ آون بندہ آون بن جائے گا تو جہاں بھی آپ کا گھر ہو گلگاں میں ہو نوہیڑاں میں ہو کلے بھی کیا کرنا چاہے ہمیں مہا مندر گھر جاؤ اور گھر میں सब जब करेंगे, भोग लगाएंगे खाने से पहले तुम्हें आप कान हों, मिन्ना मुन्धा में हों। तो आप सब आज बहुति शुब दिन हैं, महान संत रामनर्वाय का तिलबावती थी, तो आप सब उनकी सिख्षा पर विचार कीजिए, उनकी सिख्षा का पालन करने का प ہمیں چندن کرنا چاہیے بھگوان کی چھرن کمروں کا گیت گانا چاہیے بھگوان کے رادھر کشنا کیا گنگان کا اور سمارت گانا چاہیے بھگوان کی لیلم کا اگر آپ اس پرکار جی ہوگے تو آپ بھی ایسا رشتہ میں رہ کر بھکتی میں بھی آگے پڑھو گے اور جیون کے لکھش کو بھی پراپ کرو گے جب وہ کُرمہ برامہ نے کہا میں گھر میں نہیں رہنا چاہتا، بہت جھگڑا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے ساتھ لے چلو۔ آمدن روی نے کہا، نہیں، میرے ساتھ چلنے کی کوئی احوالشکت نہیں۔ چاہو وہاں ہی رہو۔ تیویل، چینٹ، ریڈ، پیچھ، اکڈوڑیو دو ہوری نیم، پیچھ، بکس، گیت ایڈ بھگڑا۔ اگر تم یہ کروگے، تم ہمیشہ میرے ساتھ رہوگے، میں ساتھ آپ کے ساتھ رہوں گا۔ تو روہنند روہ نے بڑی مہت پن سکشہ دی ہے مہا پربو بہت پرباویت ہے اُن کی مطی سے پھر روہنند روہ چھوڑ نوکری تیار کر پوری میں گئے مہا پربو کے ساتھ رہنے کے لئے تو آج اُن کا تیر بہت تیتی ہے ہمیں بہت بہت سندھ کا چڑھن کھمڑوں میں ترام کرتے ہوئے ان سے یہ کفہ مانگنی چاہئے کہ ہم بھی بھکتی میں پڑھیں۔ بھائی