अक्षय तृतीया & चंदन यात्रा विशेष | Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī | ISKCON Patna | 3 May 2022 | Inauguration

इस वीडियो में गोपाल कृष्ण गोस्वामी ISKCON पटना के उद्घाटन समारोह के अवसर पर एक विस्तृत प्रवचन देते हैं। वे प्रथम भाग में अक्षय तृतीया के धार्मिक महत्व, इस पावन दिन पर मंदिर के दीवार‑बनाने, अभिषेक और उद्घाटन की तैयारियों का वर्णन करते हैं, जिसमें चंदन यात्रा, अभिषेक, और विभिन्न सेवाओं (सेवा) की व्यवस्था शामिल है। मध्य में वे कई भक्तों की अद्भुत लीलाओं और चमत्कारों की कहानियाँ सुनाते हैं—जैसे मदन/मधन पुरी, गोपाल भगड़ा, और अन्य भक्तों के अनुभव, जहाँ दिव्य दया, दूध‑पानी की प्राप्ति, और भगवान के दर्शन की घटनाएँ वर्णित हैं। प्रवचन में चंदन यात्रा के रस्म‑रिवाज, चंदन के प्रसाद, और इस यात्रा के आध्यात्मिक अर्थ पर भी प्रकाश डाला गया है। अंत में वे भक्तों को निरंतर कीर्तन‑हारे‑कृष्णा, सेवा‑समर्पण, और सामुदायिक सहयोग के माध्यम से मंदिर निर्माण एवं आध्यात्मिक प्रगति में भाग लेने के लिए प्रेरित करते हैं, साथ ही कई बार "हरे कृष्णा, हरे राम" के मंत्र दोहराते हैं। कुल मिलाकर यह प्रवचन धार्मिक उत्सव, मंदिर निर्माण की व्यावहारिक चुनौतियों, और भक्तों के आध्यात्मिक अनुभवों का मिश्रण है।
Chapters
جائے سری کرشنا چیتانیا پھر بھو نتنا دا جی ادوی تک دادا پچھلی کھوڑ بھگتا ہے ہارے کرشنا ہارے کرشنا کرشنا ہارے ہارے رام وہ بھگتوں کو سنائی دے رہا ہے؟ تو بڑی پرسلسل ہے دیکھ کر کہ یہ سندھر رادہ بھاکی ویاری جی کا درشن آج پراپت ہوگا آپ کو اور کرشنا کرپا اور انیک بھکتوں کا بھار ہے جن کے پریشان یہ مندر آج بنا رہا ہے آج جیسے آپ جانتے ہو بہت ہی شب دن ہے کیا ہے آج اکشار جو اتنا شب دن ہے انیک آج کے دل کاری ہوئے ہیں۔ مثال کے لئے ایک مثال کے لئے آج کے دل اکشا پتہ بھی دیا گیا تھا۔ آج کے دل قویر نے قویر کو جمعدانی دی گئی تھی۔ آج کے دل مہابارت کی رشنہ آرم ہوئی تھی۔ آج کے دل چندنیہ تک اس سے بھی آرم ہوا تھا۔ یہ قطعہ پڑھتے ہو چیتنے چلتے بریتوں میں جانا چاہتے ہیں ہارے کرشنا سنائی دینا ہے بھی آج کے دن چھڑنے نہیں آتے گا سب بھی آرام بہت آتا تھا آپ یہ پوری قطعہ پڑھتے ہو چیتن جتن بھی کرتے ہیں ایک واہد سنت تھے جس کا نام تھا مہد وند پوری اور مہد وند پوری اتنے اوچھے گوٹی کے سنت تھے چوبیس گھڑے ان کا مند رہتا تھا قبائل کی سیوہ میں نہ کوئی مانگتے تھے کھانے کے لیے نہ پینے کے لیے اگر کس نے کوئی دے دیا تو کھا دے دے کوئی پینے کو دے دیا تو پی دے دے تو ایک دن ماندل پوری نے گوھرنہ کی پریگرام کر کے وشرام کر رہے تھے گوھرنہ کن میں آپ اگر آپ نے اگر گوھرنہ پریگرام کی ہے وہاں مادین پوری بشرام کر رہے تھے جب ایک بہت خوبصورت گوالا آیا گوالا نے کہا اے سندھ مہاتمہ تو مجھے پیاسے لگتے ہو دو یہ دودھ پینے کے لئے مادین پوری آسٹری ہو گئے تھے کہ اس خوبصورت بارک کو کیسے پتہ لگا کہ میں پیاسا ہوں اور بھوکا ہوں۔ انہوں نے پوچھا تو اس بارک نے کہا میرے گاہ میں کسی کو بھوکا رہنے کی احتیاط نکال رہی ہے۔ انہوں نے کہا تم دودھ پیو میں آتا ہوں تھوڑی دیوے اور ماں نے پوری اس خوبصورت گوالا کی راہ دیکھ رہے تھے، پھر وہ لوٹے نہیں۔ وہ ہلکی سے نیند آگئے۔ اُس نیند میں وہی بالک جس نے انہیں دودھ دیا تھا پینے کو سبز میں آئے۔ اور اس بالک نے کہا اے مادن پوری میں تمہاری تپسیہ سے بہت ہی پرسن ہوں اور مجھے بچانے کے لیے برج باسیو نے مجھے چھپا دیا تھا کہاں؟ اس پیڑ کی دیچھے اُن دن ہمیں مسلمانوں کا راجیا تھا اور بھارت کی کئی پرسند مردیاں یاد و کھنٹ کردی تھی یہاں پجاریوں نے جائی پور لے گئے یہاں پجاریوں نے چھپا دیا کھول کے تو یہ تھا گوپال بھگڑا تھا جس کی استعاپنہ لقبت 5-6 سال پہلے ہوئی تھی تو بعد میں پوری کو گوپال نے کہا میرے بہت گرمی لگ رہی ہے مجھے وہ سال سے نکالو اور میری استعاپنا کرو تو بعد میں پوری آج بڑے پرسن ہوئے یہ دیکھ کر کہ جس نے انہیں دو دیا تھا وہ سوئے ہم کون تھے؟ بھاگوان تھے اور دوسری طرح سے وہ شرمندہ بھی ہو گئے کیوں؟ انہوں نے بھاگوان سے سیوہ لی ہم اکثر سوچتے ہیں کہ جو ہمیں چاہئے بھاگوان کو پورا کرنا چاہے اور جو اتھم کوٹی کا بکت ہے وہ بھگوان سے کچھ لینا نہیں چاہتا۔ کیا کرتا ہے؟ دینا چاہتا ہے کہ وہ بھگوان کو۔ محمد علی پوری بہت شرمندہ ہو گئے کہ میں نے بھگوان سے سیوہ کرا لیا اور وہ دکھی دے۔ اگلے دن محمد علی پوری نے گہاں والوں کو کہا مجھے گوبال سپنے میں آئے تھے اور انہوں نے کہا کہ اُن کی مورتی دبی ہوئی ہے اِس ستان پر اُنہیں گرمی لگ رہی ہے۔ تو گاؤں مولانا نے نرنے کیا چلو دیکھ کر چلتے ہیں دیکھ دیکھ یہ ستی ہے یہ دیکھ اور کھونے پر کیا دیکھا وہ بیگرہاں اُسی ستان پر پرابت ہوئے جس کا ورنن کیا تھا سمجھ میں۔ تو آنے دن پوری نے دو دن میں پوری یوجنہ بنانے کے لیے کیا کرنے کے لیے موردی ساپتہ کرنے کے لیے دو دن میں ہم جب مندر کھولتے ہیں تو وہ تیاری کرنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں انہوں نے دو دن میں وہ سارے برج باسی تھے سب کو جھوڑ دیا سیوہ میں سب کو اور ہر برج باسی اپنی طرف سے گاہے اور کھیتی لا دیتے ہیں پہوار کے لیے پراجی اس وقت میں ہماری اُنٹی دیکھی جاتی تھی کتنا دھانہ ہیں کتنی گاہیں ہیں اور کتنی کھیتیں ہیں تو سارے برجواسی نے سیوہ کی مہدن پوری نے دو دن میں بند کر دیا اور نو سو لوٹے پانی کے آئے اور انہوں نے بہت دی اُنسائید کیا کیا؟ عبیشیق کروایا آپ دیکھو گے تھوڑی دیر میں آپ کے ناظر آباد کی بیانی عبیشیق کروایا آپ لوگ سنان کرتے ہو روج بھگوان کگوز سنان کرواتے ہیں عبیشیق پر تو عبیشیق پر پورا برج جڑ گیا تھا اور کسی چیزی اور آنکڑ اُتصاف جو بنائیا تھا بھگوان نے وہ اس پرکار کا اُتصاف کیا گوپال بھگڑا کریں۔ دو سال تک اسی پرکار سے گوپال کی پوجہ ہوئی اور گوپال بھگڑا کریں۔ ایک ہی پجاری تھے۔ پجاری کا نام کیا تھا؟ مادند پوری۔ مادند پوری سارے بیگران کی پوجا اکیلے کر رہے تھے صبح سے رات تک رات کو بھگوان کو سنانے کے پسچاد وہ جا کر سوتے تھے اور کھانے کے لیے چاہتی ان کی کھڑا کیول تھوڑا سا دودھ ایک کٹوڑی دودھ ماندن پوری کی تفصیل دیکھو چوبیس گھڑے جڑے ہوئے تھے مبارک جندر میں مبارک بگرا کی ساری عارتیاں وہ خود کرتے تھے اور پنچھے گمیاں پنچھے منت کے ساتھ عابد شاہی کیا اس پر دو سال کی پوچھا چلی دو سال بعد انہیں پھر سے سپنا آرہا ہے مبارک نے کہا اے مادن فوری میں تباہ بھاری ہوں کہ تم نے مجھے اورسان سے نکالا۔ مجھے ابھی بھی گلنی لگ رہی ہے۔ میرے لئے کیا لاؤ؟ کیا لاؤ؟ نہیں مانو مانو چندن آج کے دن چندن یاترہ بھی اچھے تیترے کے دن حرم ہوتی ہے۔ میرے لئے چندن نکالو۔ میں نے پوری نہیں یہ نہیں کہا۔ اچھا پوری جانا ہے چندہ نانگلے انگینی لینڈ کی ٹکٹ ہے یہاں ٹرین کی انہوں نے پوری یاترہ بالکل پیدل کی پوری یاترہ اور جب وہ پہنچے پوریسہ میں رمنہ میں انہوں نے یاد آیا کہ ہمارے گروہ جی اس میں پوری یہ قطعہ سلاتی ہے تو مدد پوری گوپی ناظرین مندر ہے۔ وہ مندر اتحاسی مندر ہے۔ آج میں کتنے بھگ گئے ہوں؟ رادہ کیچور گوپی ناظرین کے مندر میں۔ تو جب ہم پہنچے وہ مادر پوری سوچ رہے تھے کہ اگر مجھے اس مندر میں کھیر چکڑے کا موقع مل جائے تو پھر میں جا کر اپنے گوپال کے لئے ایسی کھیر بناوں گا جو کھیر بن رہی تھی اس مندر میں اس کو کہتے تھے امرت اکیلی امرت اکیلی کا کیا حرکت جو امرت سورج میں بن کر آتی ہے پھر مادہ پوری کی کمی یہ رہ گئی کہ جب بھوک لگ رہا تھا انہوں نے کیا سوچا کہ مجھے چکنے کا موقع ملے گا اکثر جب آپ بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھوک بناتے ہو بھو وہاں پوری شرمندہ ہو گئے اور کہاں گئے؟ گئے بجان میں اکانت میں اللہ کی عباسنا کرنے کے لئے جب اللہ نے کیا کیا اس مندل میں روج بارہ چھوٹے لوٹوں میں اللہ کو کھیر کھلائی جاتی ہے اللہ کو پتا تھا ان کے بھکت کی کیا تھی اچھا کیا اچھا تھی انہیں یہ کھیر چکڑنے کا موقع ملے تو بھگواں نے کیا کیا ایک کھیر کا پیالہ چُرا کر پردے کے پیچھے چھپا دیا اور پجارے کو سب نے میں کہا میں نے میرے بھکت مادہ پوری کے لیے ایک حفظورت کھیر کا پیالہ چھپا دیا ہے پجار میں جاؤ اور اس نام کو پکار کر مجھے ڈھونکے دو۔ پجاری آشریر ہو گئے تھے۔ بھگوان نے کیل کا پیالہ چھڑایا اور وہ گئے۔ مہدن پوری نام کا بیقتی ہے کیا؟ جب مہدن پوری نے اپنے نام سنا تو بڑے پرسن ہوئے۔ مہدن پوری کو جو پتہ لگا بھگوان نے ہیر کا پیالا چھپا دیا ہے چھڑایا ہے ان کے لئے وہ جنہاں پرسند تھے اور آشرے چھکے بھی تھے ان کی چاہتی تھی کہ کس کو پتہ نہیں لگے کہ بھگوان نے ان کے لئے ہیر کا پیالا چھڑایا تھا سادھارا جیول میں ہم چاہتے ہیں لوگ ہمیں خوش راہمت کریں جائے جائے جائے کہ کوئی اور جو اشفد بھگت ہے وہ پریشان سے نہیں چاہتے وہ کیونکہ سیوہ کرنا چاہتے ہیں تو آدمی نے پوری اس لیے آدمی نے پوری اس لیے ریوناں چھوڑ کر جگل پوری جانے پر انہیں اُنہوں نے مجھے چندن پربند کیا اور اسی پاؤنڈ چندن اور کیمفر لے کر ساتھ میں ایک بیقتی دیا تھا بوجہ اٹھانے کے لئے۔ اُن دن ہمیں سارے چونکی والے لگ بگ مسلمان تھے جو کہ ہندو کو بہت تنگ کرتے تھے۔ پھر مانڈل پوری چلے راستے میں رکھے کہاں گوپینات کے مندر میں وہاں بھگوان نے سناپنے میں ایک اور آدھے دیا وہاں نے کہا اے مانڈل پوری میں تمہاری بھکتی سے بہت پرسن ہوں تم نے ایک بڑی کتنائی کے ساتھ چندن پرابت کیا ہے میرے میں اور گوپینات میں کوئی انتر نہیں ہے گوپینات کے پجاریز کو پتہ لگا۔ مہدن پوری کی طرف سے آسی شاہ پاؤنڈ چندن مل رہا ہے۔ پھر چندن نہیں آتا کہ وہ سب شروع ہوا تھا۔ شروع ہوا تھا اکریت کی دیا کے لئے۔ مہدن پوری کو بھگوان نے سبل میں تین بار آدھے دیا۔ تو پرام بھگوان ہم سب کو سیوا کا بوقعہ دیتے ہیں۔ ہم سب کو کہتے ہیں سیوا کرو۔ جو بھاگشاری بیقتی ہے وہ اسے لاب اٹھاتا ہے۔ ہندوستان پوری کی بھگوان نے پریکشاں لی۔ کہاں؟ لاب چندر بھیل لی ہے۔ ہزاروں میل کی یاترہ تھی۔ مسلحہ سے پہ سب چھنگی والے مسلمان تھے۔ جب ہی مہدد پوری نے دیر دھوکر بھگواں کی سیوہ کی اسی پرکار ہم سب کو دیر دھوکر بھگواں کی سیوہ پر جڑنا چاہئے اور دیر دھوکر سیوہ پر جڑے گے بھگواں کیا کہتے ہیں پانتے پرتیجہ رہی نے ہمیں بھگتے پر نشدی یہ قطعہ تھوڑی لمبی ہے اور سمیہ کا بہام ہے مہدد پوری کی آج کی دن پراپا جی نے جانسی میں لیگ آف ڈیووڈیز کی ساتھنا بھی کی تھی. بیدیش جانے سے پہلے بابا جی نے ایک سنسا کی ساتھنا کی تھی لیگ آف ڈیووڈیز جانسی میں وہ اس کی ساتھنا پہ کب ہوئی تھی آج کے دن آکشاہ تیتیہ بہت ہی شب افصال ہے اور جو لاب ملتا ہے وہ کبھی سمات ہی نہیں ہوتا آکشاہ تیتیہ کے دن اس مندر میں ہماری یہ اچھا ہے کہ اجارت ہوگا ہے بھگوان کا درشن لینے کے لئے بھگوان کے سکھشے کو پرات کرنے کے لئے رام صاحب خود بھی جڑنا اس کو بھی جڑو اور اس کو ایسٹ ان انڈیا کا سمایہ پور کے بعد سب سے نمبر دو بھوئی سب سے خوبصورت مندر بناو کریشنا کریفہ نے بڑی محنت کر کے یہ مندر بزایا ہے اور اگر آپ پریشان کرو گے تو کیا پرات؟ بابا ہماری کی کریفہ پرات ہو گئی ہے۔ آدھر پری کی آکشیت کی تحقیق جوہر پر مندر یہ یہاں نام ہے باقی بھی آرہی ہے ہماری نیرووی میں مندر بڑا خوبصورت مندر ہے پہلے پانچ میں پہلا ہے اور پہلے پانچ میں دوسرا ہے۔ ہارے کرشنا ہارے کرشنا ہارے کرشنا ہارے کشنہ ہارے کشنہ کشنہ کشنہ ہارے ہارے ہارے رامہ ہارے رامہ
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

