Guru Maharaja ji glorifying Sri Radha ParthaSarathi ji| 21.11.23 | EOK Delhi | Gopal Krishna Goswami

In this devotional discourse recorded on November 21, 2023, Gopal Krishna Goswami, accompanied by a co‑speaker, delivers a reverent glorification of Sri Radha ParthaSarathi while recounting a series of past programs, festivals, and the contributions of senior devotees such as Pappa Ji, Baba Ji, and Prabha Ji. The talk weaves together chants, anecdotes, and detailed descriptions of an ongoing temple project in Delhi, highlighting the blend of traditional craftsmanship (artisans from Jaipur) with modern technology in the temple’s design, the procurement, transport and installation of deities’ murtis, and the logistical challenges of large‑scale festivals. A substantial portion of the discourse focuses on the financial side of the project: specific donations (e.g., a 7 lakh contribution from BBT, half of which was allocated), discussions about bank interest, decisions regarding property purchase versus rental, and personal testimonies from donors such as Ashok, Kamal (described as the “smartest client”), and Gobind Ristant. Goswami also reflects on community engagement, fundraising methods, volunteer coordination, and the spiritual significance of these activities. The overall tone is devotional, narrative, and enthusiastic, aiming to inspire devotion and participation in the temple’s development while candidly addressing practical and financial hurdles.
Chapters
ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو
بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم
نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے
واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے
ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو دیوائے ہوم نمو بھگوتے واسو د ہاں ہاں ہاں ہاں ہم پریاز کریں گے، اگر آپ ہماری کو سن پاتے ہو۔ میں صرف ٹھیک سنائی نہیں دے رہا ہوں۔
میں پریاز کریں گے، اگر آپ کو ٹھیک سنائی دے رہا ہے، ٹھیک ہے نہیں تو پھر میں ریپیٹ کروں گا۔
آج بہت شب دن ہے۔ حضرت پاکﷺ سعادی کی سامنے کے بعد ایک سماج میں کسی بھیکتی کا جنم دن ہوتا ہے تیری ففٹی، سفٹی فائیڈ بڑا اُس طرح کرتے ہیں ہم کریں گے حضرت پاکﷺ سعادی کی گریجی کا گرنگان گرنگان گرنگان کا مطلب یہ نہیں کہ کہ وہ جو مندر میں اُن کے ساتھ ہو گیا ہے۔ پورا پروجیکٹ جو ہے، جانا پڑھتا تھا لیکن، آپ سب جانتے ہوں کہ پرانپل کی کسی چاندی، ڈیلی شہر میں پورا پرسد مندر بنائے گا۔ خاص طور پر ڈیلی، جس کے بشیر میں پرانپل نے کہا، موسٹ پورنسی، موسٹ پورنسی ایشیا۔ پاپا جی میں ایسے ہوں گا بہت پرانا ہوں گے۔ لی بھی ایمان ہوں گے۔ پھر پھر ماں پہاڑ شکیر کرتا ہوں گا۔ جب نے پاپا جی برنامل سے مصروف جا دیتے تھے، ٹانگا میں ٹانگا سے جا دیتے تھے جلی سے جا دیتے تھے سیشن سے جا دیتے تھے شپی وڑا اور پھر کئی بار پہلے تھا اور شپی وڑ میں اپنا اپنے پیٹ میں پیپر لے کے شپائی والے کو دے دیتے تھے اور پرنٹر تھا شرما میں نے کہا کہ ایک بار پاپا جی ناسے بھی نہیں کھاتے لگے وہی نہیں لگے کہ اُن کی گھنٹوں کا پکارش کریں تو پکارش کرنے کے پچھا پاپا جی نے دوسرے ناسے کھانے کیا پھر بڑی کچھنائی سے مجھے بڑی کچھنائی سے مجھے سمیدہ پراب سکے پاپا جی دہلی میں بکریش پھیل گیا ہے اُنہوں نے۔ دہلی کی لائبریوی میں پرابا جی جاتے تھے۔ پھر ایک لائبریوی میں گئے۔ اس پرکار پرابا جی نے جوہاں پر جا گیا۔ دہلی شہر میں پرابا جی بہت زیادہ رہے تھے۔ جو چپی بڑا میں ہے۔ جو اُن کا کسان تھا۔ آج اُن کا ہیلو ہے ہیلو ہے۔ تو اوہ سان میں خوبصورت مندر ہے تو بھابا گئے ویسٹ ویسٹ میں گئے بھابا اور ویسٹ جب لوٹے تو ویسٹ میں جاکر پرچار شروع کردیا تھا انہیں جیسے کی سیکھنے اور جب وہ لوٹے دیکھ دوں گے دو سو، پھر ایسی چیزوں کے ساتھ، آنڈ میں، اگر پڑھا کہنا، بہت پڑھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ لوگوں نے دیکھا، پھرشنگیں بہت سی، گھوٹی گڑھتا پہنڈے ہیں، سرکی پہنڈے ہیں، کرسن کرنے ہیں۔ ایسے بہت بڑی اٹریکشن، بابا جی نے میں نے دلی میں دو پروگرام کیا تھا، ایک ساتھ تین دن کا پانڈل، الائیسی گراؤن، کنال پیسے، الائیسی کی بیلڈنگ ہوتی تھی، وہاں ہوں گیا۔ رام نہیں رہا بھی کوئی، پھر کیا ہوں نے، تل کو سارا شیڑیا میں، میں نے دو بڑے پروگرام کہا، پانچہ سال، ایک بھگ سے آگوال جی، ان کی کمپری تھی سلویڈیا۔ سلویڈیا اُس وقت میرکن کمپری تھی، اُس کا بڑا اچھا نام تھا۔ کمپری کا نام تھا؟ سلویڈیا کہتے ہیں؟ ہاں، لکھمان اقبال۔ پاپا جو ان کے گھر میں تھے، رحیبی تھے۔ تو ایک بار پاپا نے پریس کونفرنس کی تھی، ان کی گھر میں۔ گھر بڑے اچھے علاقے میں تھا، پانچہ پانچہ۔ تو ایک ریپورٹر نے پوچھا، کرشنبطی کے بیش میں پوچھا۔ ایک ریپورٹر کہنے لگا، یہ سب کا کام بھگوان کراتے ہیں، جو گل کام بھی وہی کراتے ہیں۔ ہمارے لئے کافی جو بیٹا ہوتا ہے۔ وہ ہمیں پھلوک سمجھتے تھے، پھلوک سمجھتے تھے دلی میں، ہم اگلی لوگوں سے سبیلہ مانگتے تھے۔ میں پہلے جنوب سمجھتے تھے تیجہ ازداد، تیجہ ازداد بہت سا پاس اکیل، بہت سا پاس اکیل۔ وہ اس کے بتنیں بلکل سرگال روپ میں رہتے تھے۔ سنیاسی جیسے تو ایڈری شاہت امریکن تھا جس نے دلی میں پیچنگ شروع کی 1932 کے وہ ہنڈی بھی بول دا تھا ہنڈی بھی دیکھتے تھے اور کئی میمبرز اوپر ہنڈیز کے مہنڈز کے مہنڈز کے مہنڈز کے مہنڈز کے مہنڈز مہنڈز کے مہنڈز کے مہنڈز مہن� تو اُن دن میں پرابہ جی نے ایسی سیستم ملایا تھا کہ مرتیوں کو پرست کیا جائے بڑے بڑے پانڈل میں اور پھر اُن مرتیوں کی حساب نہ گئی جائے جیسے بھمبے میں ہوتا ہے، کشنگرین میں بہت بڑا عثمت ہے۔ اس میں چانس پچاس ہزار لوگ رہ جاتے تھے۔ اور اس وقت پرابا جی نے جو آج بھی شیشی ہے، ناظرین حضرت پیارے کی مرتی ہے، پرابا جی نے ناظرین حضرت پیارے کی مرتی کو رکھا تھا اور اگلے دوارہ ہزاروں لوگوں کو درشن لیا۔ پھر وہ ہی نیڈیس کی استعاقہ ہو گئی ممکنہ جہوں میں تھے۔ تو یہ جو ہاتھ بھائی جی کی مورتیاں ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں لے گئے ہیں، یہاں میں بھی دھوپ بڑے پڑے ہوئے لے گئے ہیں، یہاں یہاں لے گئے ہیں، ہوئے تھے۔ ایک ایسی گھرم نہیں ہوئے، یہاں ایک لے گئے ہیں، یہاں لے تارگو سالہ گارڈن میں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہمیں ریوائن کرنا چاہئے، ایک بڑے فیسٹ ویڈیو۔ کوئی جبوری نہیں تھا، تیجس نے ارینج کر دیا۔ تو نیلی میں، پاپا جی نے تارگو سالہ گارڈن میں یہ مورتیوں پر رکھا تھا۔ تو یمنی مادریز جی اور مادریز جیسے کی باتی ہیں تو انہوں نے گئے تھے جائی پور ڈی ٹیز کو آرڈر کرنے کے لئے اور جب وہ ڈی ٹیز بن گئے آئیں تو پھر جب یہ ڈی ٹیز والے جو کھائے گھر بناتے ہیں پورا گیان ان کا نہیں ہے۔ حیم فاقس جن کی آج بلوشی نہیں۔ آکر ان کو سمجھاتے تھے، کیسے کرنا ہے، کیسے کرنا ہے۔ تو یمنار مذنی جائی پورا گئی تھے کہ مرتی آنے کے لئے۔ وہ انہوں نے چکشلی، وہ آرٹس کو مرتی کو کیسے بنانا اور یہ جو مرتیاں لے کے آئیں ایک اتصال ہوا اور اس پنڈر میں اس فیسٹیول میں رادہ کریشنر کی جو مرتیاں لائیں تھے مجھے چائے پوچھ دیں اس کی پوچھا ہوئی ہم نے پوچھا کہا کہ ہم اپنے ڈیٹیوں کو جا سکتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم دیلی میں دیلی دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی میں دیلی دیلی میں شرید رام پربو وہاں
گئے ہوئے ہیں، انتو پتہ ہوئے ہیں
شرید رام پربو جی جی نے مجھے پوچھا کہ جی جی یہ بری وقت کا کار نہیں ہے جو دلی میں ساتھ نکلے گا تو پرابا جی نے شی نکلے گا اُس نے نام آمدہ تھا وہ ہے تو بڑا اچھا ایڈیا جانا دینے آج کے دن 1933 میں بھابا جی کی رادہ کشنہ کی صاحب آنانزی کے دن ہے اور بڑی سارا لڑکے سے بھابا جی نے چھپنا وہ اپارمنٹ کا سب سے بڑا کمرہ تھا اس کو تیمپل روم بنا دیا وہ جنہیں کہاں؟ بڑے سمپت بھی گئے تھے. بھکتہ نے پوچھا پھر بھکتہ سے, when should we do all these deities? بھکتہ سے کہا, any minute now you can do it. So پھر تھوڑے بھلتوں کے ساتھ پھر مجھے راض پاڑھتے تھے نہیں کہا. پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر جب برطی کی حساب نہ ہوئی تو پھر بھاگزہ نے پوچھا کیا نام دے برطی کو؟ پاپا نے سوچا ایک منٹ شریح رادہ پردہ سالی تو شریف سندہ نے کہا ہاں پاپا رادہ پردہ سالی کا دو مذہب ہے ارجون اور کرشنا رادہ کرشنا نہیں لے گا یہ تو شوقہ نہیں لے گا بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی کا مطلب ہے ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، بھائی پاکستانی ، اوہ بچو جنہوں نے کہا پاسد ساتھی نام پر لوگ ہسے گئے کیونکہ پاسد ساتھی اُس کو آرجون و کرشنا کہا ہے۔ اُسے لوگوں میں پھروپہ نے کہا جہاں بھی کرشنا ہے کی ہلدینی شکلی بھی اوہ پسند ہوتی ہے۔ اپنے پاس کوئی مخاطبہ نہیں ہے۔ اس طرح ڈاڑھا پڑھنے سے ہی کہا کہ اصطابت ہو گئی اور بھائی جی پریاز کر رہے تھے کہ ایک سندھر بنے ایک راجدھانی میں بھائی جی کہہ رہے تھے ڈیلی میں ڈیلی میں ڈیلی میں ڈیلی ڈیلی میں ڈیلی میں ڈیلی پاپ میں ڈیلی جی کے ساتھ ہم بھی گیا گئے تھے میں ڈیلی ڈیلی بہتر دمیانوں کو دیکھنے کے لئے۔ پھر کچھ دمیان پھاپ نہیں ہوئی تھے۔ پھر ہم بنے شیرہ کول جو اس وقت نیرو خانہ کی ہے۔ اس وقت وہ ایڈیوکیشن ملیسٹر تھی اور محمد علی ملیسٹر تھے۔ اگر ماما نہیں تھا تو پھر بھائی نہیں تھا۔ ایک بھائی نے اپنے بچوں کو دکھائی دیتا تھا۔ وہ بچوں کو دکھائی دیتا تھا۔ پھر آج میں گارمنٹ آفیس میں جاتا تھا۔ فشیلہ کول نے شیر بر لیٹر لکھی۔ یہ جگ مولڈ کے لیے تھا۔ جگ مولڈ، ہاں، جگ مولڈ۔ تو ہم گئے جگ مولڈ کو ملنے کے لئے۔ وہ دنوں میں ڈی ڈی اے جو ایسے زمین کا مالک تھا اُن سے اُن کے پاس زمینوں کے بجائوں میں اُن کا جمعہ نہیں تھی۔ تو وہ دھارمیک آدمی تھے، ایماندار آدمی تھے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے مساعدہ کریں۔ وہ بڑے پیار سے، بڑے پیار سے ایسے زمین پراتے تھے۔ مجھے جبین اُس میں بیس ایریہ نہیں تھا، پھر ہانی مہن بھی کرنی پڑی تھی، میں چاہا رہا ہوں، چیہے کر مہن کر چاہا رہا ہوں۔ پھر پھر گربر شروع ہو گیا۔ کیا تھا گربر؟ کہ جب مسلمان منسی تھی، اس کی اچھا نہیں تھی جب انہوں نے اس پر محمد اکرر دیا۔ وہ منسی کا ایک سیکیٹری تھا، مجھے سنگھ، وہ مجھے محمد اکرر دیتا تھا۔ پھر الیکشن ملے تھے اُن کو، اُن کے لیے میں سائن کر دیا۔ آج پھر میں سائن کر دیا، میرے گئے تھے۔ مجھے بمبے میں، ہاں ایک پرنٹر ہے، تو سہا جس نے مجھے دکھائی کوئی اچھی قوالیٹی کی قرآن جو اس نے چھاپی تھی، بہت سوستہ قرآن میں نے اسے ایک قرآن لے لیا۔ پھر قرآن پہلے دیا مرینہ فیض بھائی کو۔ وہ ملنیشن منتری تھی جب ملنیشن ہو گیا۔ پھر اس قرآن کا ایسا اثر پڑا کہ وہ جنہاں پہ گئے۔ پھر پہلے شروع ہونے جانا تھا۔ میں نے کہا کہ میں نے دو کروڑ کا بجل دا۔ وہ دو یتین کروڑ میں ملنے گا۔ اور پیسے کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ آنے سے آئے گا۔ آج بہت بہت شکار پہنچنے کے لئے محافظہ نہیں دے سکتا۔ پیاس تھا اور ہم نے پہلے ٹوپ نوچ ٹوگوں کو جھوڑا، کنسٹرکشن ٹیم میں۔ سب سے پہلے نے ایک قدمی نہیں جئی تھی۔ وہ جنہوں نے مفت میں سیوا دے۔ پچھلے پچھلے پچھلے پچھلے پچھلے پچھلے پچھلے تو کے ویڈیو جی بھی مہت مہت کام کیا بڑے سارجان آدمی تھے اور وہ بڑے اوپڈیس آرکیٹ پرماشک میں ملے لیا ہوئے کہ یہ حمل میں ہیں تو اُنہیں پہلا مندر ڈیزائن کیا ہے اُنہیں ڈیزائن کیا ہے اوپڈیس آرکیٹ پرماشک میں ملے لیا ہوئے کہ یہ اوپڈیس آرکیٹ پرماشک میں ڈیزائن کیا ہے اوپڈیس آرکیٹ پرماشک میں ڈیزائن کیا ہے ہچین سنسکریتی اور آدھونک بدھی تصمیم کو مکس کیا ہے۔ یہ جو مندر بنا ہے، یہ ایک مکسچیر ہے جس میں ہماری سنسکریتی اور تکنولوجی سنسکریتی ہیں۔ آپ اس مندر میں تردیشنل بھی دیکھیں گے اور تکنولوجی سنسکریتی بھی دیکھیں گے۔ تو اس پر کہاں مندل شروع ہوا ہے اور شاید آپ لوگوں نے بھومی پویا کی تھی وہ کیونکہ میں جیوی تھی بھی نہیں میں تھا پھر میں جاب جایا تھا پھر تب جنہوں نے مہا منظر بن دینا میں نیلر سائنٹ شروع ہوا اور سبب کے پریاد سے مندل بنا پھر بجھیٹ بڑھتے جا رہا تھا سین کروڑ کا سوچا تھا، اب وہ سات کروڑ پر پہنچ گیا، آنکھ پر پہنچ گیا۔ تو بگوان صحیحوں دے دیتے ہیں اور کچھ کچھ پتہ بھی نہیں مانا جاتا ہے دینے پھر پیدا بھی آیا تھا، پھر پیدا بھی آیا تھا، مجھے یاد ہے، مجھ کو میمبر بنایا تھا، ایک پرانے دیووٹی تھے، گریب خانانگ ہے۔ ان کا پیشہ تھا سکوٹر چلانا۔ وہ سکوٹر چلاتے تھے، سکوٹر والا بن گیا دیووٹی۔ وہ سکوٹر چلاتے تھے روزی کمانے کے لئے۔ اور وہ دیووٹی پر گیا۔ دیووٹی بن گیا تھا اس کو اپریشٹی بن گیا تھی، پیسے کی ضرورت تھی۔ میں تھوڑی سا پرچارک بن گیا۔ پرچارک نے کم سے کم ویدہ ویاس کو بھی بھی بنایا ہے۔ ویدہ ویاس کو لائکہ مرکز نے بنایا ہے۔ پھر بھگ سے ملنے جاتے ہیں۔ اس کی اصل کمیٹمنٹ شروع سے ہی بہت پکی تھی۔ مجھے بشواظ تھا کہ کس کو ایک مندر ایک پھلو گھر کی طرح ہے۔ تو بڑے پریاس ایک مندر پھر بنا۔ اور مندر بنانا کوئی ایسا کام نہیں ہے مندر کو چلانا زیادہ مشکل ہے بنانے سے پھر چلانا بنانا مشکل کام نہیں ہے پھر اس پرکار آزا پرتہ سارتی جی کا پرکارشن ہوا آزا پرتہ سارتی نے کئی مندروں کی یاثرہ کی ہے مدارین کے لیے پہلے وہ پندل میں تھے ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد وہ گئے ہیں کہاں؟ ہنڈل کے بعد ہاں، چھوڑ میں ملوں وہ گئے گا۔ بنگولی مارکیٹ، جو ہیں کہاں؟ کناؤٹ پلے سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اون منڈی ہاؤس ہے۔ ہمارے مندر کے سامنے ایک چارٹ والا
تھا کیا؟ بنگولی سویٹ.
بنگولی سویٹ. تو بھکت उस दिल में लच्चे साथ भग से पर दिल्ली अपने पर एक परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद परवाद بہت بہت چھوڑا جنگلوں تھا تین کمڑے تھے پھر میں تیجہ ازمس کی پتنی پجاری ہوں تو ایک جنہاں گھٹنا بھی دی آپ کو شاید یاد ہو اُن دن ہمیں امرجنسی تھی بھارت میں جنہاں گھانی نے امرجنسی ڈبلیو کیا تھا اُن امرجنسی میں یہ جو اذکاری تھے اُن کا بھاگ بڑھ گیا ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہاں ہمارے ملک مکان تھا جہا میں کہاں تھا پتہ تھی کچھ پھر بڑی مشکل سے ہم نے پھر یہ استان چھوڑا ہمیں مانگے رہے ہم کہاں تھے روزنانڈی روڑ یہ تھا ان کا چھوڑ تھا یہ روزنانڈی روڑ میں مندر میں تھا مندر میں کیل بھیلنگ کا کھایا پڑھنی جس کی ہمارے پاس 20 لاکھ رہے تھے پھر ہم نے کہاں پہنچے گئے؟ پچیس ہزار پہلے آگے آیا تھا اس کی دو بھاگ سے ایک بھاگ ساتھ جو ہم نے لیا پھر اسے باہر میں باہر باہر لے لیں چل رہا تھا پھر ہماری مکانے ہمارا ہوتل کے روپے میں چل رہا تھا اور ہم نے کڑیدا تھا یہ ساندھ. BBT نے ایک donation دیا سات لا کا اور سات لا کے لیے ہمیں ایک کھولا تھا اور آدھا باق کوڑڑے دے دیا. تو ہمارے ایک مکان ہوتل چھوڑا رہا تھا۔ میری مانے مکان سے بات ہوئی تھی کہ ہم خرید کیوں نہیں لیں۔ تو میں نے پرفاہ نے کہا کہ یہ مل سکتا ہے کوئی دوسرے باقی، پچیس تیس باقی، ایسے کچھ بولا تھا۔ پرفاہ نے کہا، ایسی پیسے ہوا بینک میں دانا میں کیا سوز ملے گا؟ وہ سود اس میں جا دا تھا بابا لگایا کہ نہیں کریں لیکن وہ اس پر پڑے گی کہ میں آج پڑوں گا کیا وہاں فیرون کانی روڈ میں تھے وہاں دشمنوں سے پڑوں گی پڑوں سیوں سے کوئی سمجھا نہیں لیکن میں نے پرچان شروع کیا کہا کہ جا کے پرچان دینا آپ نے نہیں دیکھا ہے وہ مندر کیلئے یہ لچپت نگر میں ہوا تھا فیرون کانی روڈ اچھا مندگر میں جس سڑک میں بازار ہے وہاں مہنگو شیخ مندگر ہے۔ تو ہمارے بھاگ بھی رہے ہیں۔ ہر بھاگ مہنگو شیخ بھی رہے ہیں۔ میں بھی کہہ رہا ہوں۔ مہنگو شیخ۔ تو پھر آدھا پاڑھا سادھی گیش و کلاش میں رہے ہیں۔ اور پھر ہائی پرسنٹلی آئے ایسے استانے ہیں جہاں کہ کوئی انکو بھی روز نہیں کرسکتا کوئی انکو بھی نوٹس نہیں دے سکتا کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں گے کہیں اور اُن کو دینا پھر کرمیل نیل جی کی بہت کانٹریبیشن ہے اگر کرمیل نیل جی نہیں ہو سکے اور کوئی اور آرکیٹیک ہو سکے کمیشنل بائنڈ کا اُنہیں پیسے بچانے میں پوری کوشش کی اور بہت بدیوان تھے آج بھی دیلی کے آرکیٹیک جو سٹوڈنٹ یہاں آتے ہیں لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ کیا ہارکیٹیکچر ہے۔ ہارکیٹیکچر یہ سب سے بہترین چیز ہے۔ پھر انہوں نے مطلب کی اُن کی ساتھ تھے دیوے جی، جسے مسیح داد. اُنہوں نے بہت زیادہ فکر کرے۔ اُنہوں نے 24 گھنٹے کھڑے اور دیکھے کہ کوئی بیماری نہیں کرے، کوئی چھونی نہیں کرے۔ एक और सारे पड़ वाला कमप्री है। वो पार्सी नाम है। पर उन्होंने हमाई किंस्ट्रक्शन की। हमाई किंस्ट्रक्शन के लिए ऐसे ही स्प्राइर चाहिए थे। उन्होंने हमाई क्रेडर भी दे। तो इस जब के प्रियास के लिए मंदर खरो جب ہمارا پرجرد بڑھتے جارہا تھا اور ہم کوشش کر رہے تھے کہ یہ کہاں سے چلنا ہے تو ہندو جاکھاناں کو ہمارا پرجرد بڑھتے جارہا تھا میں سب سے بڑے تھے شریچن، شریچن کو میں نے ہندو جب کوئی پروڈکٹ سمجھایا، شریچن مانگے کہ وہ جھوڑیں گے، وہ جھوڑے تھے اس بھاگ کے ساتھ جو بھی خرچہ ہے تاکہ تیسرا ہم لیں گے، دو حصہ اس کو ہم لیں گے۔ پھر پھر ایک اور سبسیح آگئی کہ وہ چاہتے تھے اپنا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چھوٹے چھوٹے بھائی ہیں اشوک ہنوزہ نے بہت زمین دیا اور بہت اچھا contribution make diya پھر بھی نہیں، پھر بھی نہیں، مجھے ایک بار مولا تھا۔ He is the smartest client I have ever met. اوشیہار کلائن، مجھے کبھی نہیں ملا۔ جو گوبندہ ریسٹنٹ ہیں، اُن کا contribution ہے۔ ایسے اُن کا بھی بھارے ہیں. تھی گئے پھر دوسروں بھی بولیں گے. شیشی ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟ کی؟
ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی
کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟ ڈاڑا پرد سادھی کی؟
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

