How to Always Remember Krishna ? | SB 10.3.11 | ISKCON Juhu | 28 Jan 2020 | Gopal Krishna Goswami

In this devotional lecture, Gopal Krishna Goswami expands on the central theme of maintaining constant remembrance of Krishna, weaving together scriptural references, mythological narratives, and practical guidance. He stresses that remembrance is the core aim of a bhakta and can be nurtured through chanting (japa), hearing the glories of Krishna, and ritual worship (puja, abhisheka, offerings of flowers, incense, and food). The speaker discusses the guru‑disciple relationship, explaining how a guru can absorb a devotee’s sins, thereby facilitating spiritual progress. He highlights the importance of dana (donations) such as land, cows, and charitable giving, presenting them as expressions of devotion that support the community. Goswami also addresses contemporary challenges, warning that modern technology and distractions (smart devices, media) can hinder remembrance, and urges devotees to balance worldly engagement with spiritual practice. Philosophical insights on the soul, karma, and Krishna’s supreme position are interlaced with stories of past devotees, Brahmanas, and cultural customs surrounding births and festivals. The lecture shifts among Hindi, Urdu, and occasional English, reflecting a multilingual devotional setting. Overall, the message is that by integrating chanting, ritual worship, sincere service, and mindful detachment from distractions, a practitioner can sustain an uninterrupted connection with Krishna.
Chapters
ओम्यां तिम्णन्धस्यां त्यानं तिनाश्वरागतां तर्शुर्भिन्द्रभिर्धां अधस्माईश्री गुर्वेहमा ईच्छे तन्यां तमुपिष्टं साप्नां गेना भूतले स्वयं लूपां जामेलं तराथी स्वर्धानिकम् बन्तेहां श्रीद्वरुं श्रीवा گھروں پہ شہان شہ شریف روپا ہوں چاہتا تھا سارا گھروں پہ گھروں سے گھروں سارا گھروں سے گھروں شریف روپا ہوں چاہتا تھا खेले कृष्णा तर्मा سارا सिंदू گھروں जिना سے मंदू जगपते भोगे सा भोगे आधान्धर राजा आधान्धर मुष्वणे अवतरांचन भोगाही राखे विल्डा विलेश्वरी तुष्वान तुस्रे देखि प्रणामि धरिभे पांचा तंपत्र प्रस्चा ग्रासिंदू खेले پتی کھاناں پاک پیٹھو پھرشن پیٹھو پھر موڑ پھاناں جائے سری کشتہ رج کنیاں ربوں پیٹھا آنکھلاں سیدھاں پیٹھا آنکھالاں شیواں ساتھی پھول پکھلناں ھائے کشتہ ھائے کشتہ کشتہ کشتہ کشتہ ھائے ھائے ھائے رامہ ھائے رامہ ھائے رامہ ھائے رامہ ھائے
ہم پڑھتے ہیں کہ بھگوڑا जमनने जनन लिया है. भगवनने अपने आपको प्रगट करते हैं. आतइशव जनन साथ. हमारे जनन प्रेवर होता है कर्वो के अधार तर. और जब हम जनन लियते हैं श्री गन्दा होता है वो दूसरे पंचार से जन्दुलेता है तो परण बग्वान भी प्रकट होते हैं अब ये दिगे दूसरे पंचार भी प्रकट होते हैं वो प्रकट होते हैं अपने देखा किस लोग में दूसरे लोगों में बहुत प्रकट होते हैं अब ये दे सज्जावा था घेलों के साथ मनियों के साथ और उन्हें बास्तवी पहने करते थे। बहुत भगवाण के इस्तिती में पकत करते थे। मैं कहते हूँ, जानमां ग्रमचार में में पकट होना पकट होना उन्हें मैं कुछ
देखा हूँ
کسی روپ میں بھی پتہ کر سکتے ہیں۔ ہم گودی کے بیعترین جب سُنتے ہیں بھگوائی کے افتاروں کے بیشے میں تو کئی بار کہتے ہیں یہ تھا mythology ہے یہ تھا گالکھنا ہے یہ بات تک کرنے ہے سچائی نہیں ہے۔ وہ جو باتیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھگوائی ہمارے پاس کسی
روپ میں
بھی तो यहाँ आप देखते हों कि वासेव देव की देवने 12,000 देवताओं के वर्षों के लिए पड़ी घैंइ तपसे उठाएँ थे। मैं अनुभी 6 मुझें देवताओं के 12,000 के बाहुलाया। तो 12,000 देवताओं, देवताओं के वर्षों के लिए کچھ کھایا نہیں، کچھ بھی آئی نہیں۔ کیونکہ پتے کرتے ہیں پیروں سے، یہ اُن کی قرآن ہے۔ آپ کو یہ قرآن بھی جائے، سکھا کر گئے ہیں۔ ہر کیسے لینے میں پتے کرتے ہیں، آپ کو اگلے لینے میں کرتے ہیں۔ کچھ بھی نکھایا اور उनका थेनरा ये ही चन्दल था एमें भगवान प्राप्त हो उससे कुछ प्राप्त। भगवान जन प्राप्त होते हैं, अपनी भगदों को मादा, पिता, भाई करते हैं, वो प्रविदुयाने दिगर रूप में, दिगर रूप में कोई सचवा था, घैलों के साथ, एक मनी है, प्रविदुया मनी कहते हैं, वो इसका रहा है, हर सकेंग बदलता है, अभी हाथ, पीड़ा, मेरा, अगर ये बद्धुन्या मानी के लिए नाये एक दुकान मुझे पुन्दर नाम में एवं है कि एवं पुन्दर नाम में प्राव्पर देता है। तो पुपारा पुपारा ये प्रकेट हुए, अपने दिवेंद्धुन के प्राव्परना, उप्सदेर, बल्ड़ प्रसं وہ سمجھ گئے کہ پرمہمان پکڑ ہو گئے۔ پرمہمان جب سے دیگر لوگوں پہ پکڑ ہوئے۔ اس کا ایک اور تعلق یہ تھا کہ پرمہمان مادہ کے درمیان پتہ نہیں چاہتے۔ آگے پکڑ ہو گیا ہو گیا۔ تو جب ہاں وہاں سے دیکھا یہ عجبوت روح پوچھتا تو उन्हें पढ़ा था कि उन्हें भगवान पगर हो रहे हैं और बड़े खुश रहे हैं पैसे के लिए जो बेटा कहला उन्हें भगवान पगर हो रहे हैं तो बड़े प्रसन हो रहे हैं कि भगवान पगर हो रहे हैं और उन्हें की इच्छा थे कि یعنی وہاں جب بہت ایک سماج میں بھی جب بیٹا پھول بچہ پیدا ہوتا ہے تو مٹھائیں پھانتے ہیں۔ امریکہ میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو سیرار پھانتے ہیں۔ اور بھارت میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو مٹھائیں پھیلتے ہیں۔ تو وہاں سے اُن کی انشاء بھی ہوتی ہے کہ ملیں پانوں کیوں ہیں دھائل بھاگوں. سات پرکار کی مات دھائل ہوتی ہے. سات ماتیں ایک ہے. اصلی مات. پھر ہے گروہ کی پتی. اُس بھی مات ہے. پھر ہے بھرامگل کی پتی. پھر ہے راجہ کی پتی. اُس بھی مات ہے. پہچی سمیر میں جو کائلوں کو رکھتے تھے، ند منانے منانے کے لئے، آپ کو پتہ ہے کتنی کائلیوں کے پاس؟ 9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9-9- योगी सुगन्दिल दूर देती थी आप इसकी करतना भी नहीं कर सकते जो गाय से सुगन्दिल दूर आ रही थी इन गायों को सुगन्दिल धास कराये जाता था और सुगन्दिल दूर नहीं करता था क्योंकि इस्तुदा मादर को सेला चिंदा होती थी भेव बेटा था پروز کے گھڑوں میں جا کر کیوں مکھل کی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی
ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی
ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی ڈھائی
ڈھائی ڈ
کیوں महमवार पिती और ये सब महमवार पिती और ये सब महमवार पिती और ये सब महमवार पिती और ये सब महमवार पिती औ� اس وقت ہم نے بند کر دیا گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ سکتے گاہی کو نہیں رکھ نہیں سکتے رکھ گاہی کو سکتے گاہی وہ کو نہیں سمجھنے رکھ کبھی سکتے گاہی سوکھ شانتی پر آتے کو نہیں رکھ ہو سکتے گا اور آج समगशममें क्या देखते हैं आज विश्व बिदेखें हो भारत भी देखते हैं इतनी बात हमें गाय मतना परिचे हो रही हैं हम गुज्ञात में देखते हैं कुछ सुरकार हैं हर कुल में काय देख کہ میں بھی کوئی ڈھاڑ دے دوں گاہوں کو باٹوں کس کو؟ براہمانوں کو جو براہمان ہیں وہ ہر ستھی میں سنتوش رہتے ہیں ایسے جو سداڑھ کرتے ہیں سمانے پر وہ ایک دوسرے کو دوسریتے رہتے ہیں دھوائے کھانا، دھوائے کھانا، دھوائے کھانا، دھوائے کھانا، دھوائے کھانا اتنا ہی ہے بھائی جنہاں پڑھ سکو اُس سے ہے بھائی. آپ پڑھتے ہو کہ رام نجھے کے سمیں کوئی رام کو سیدھا دے. اب یہ سارے گھینے باہر دیتے ہیں براملوں کو. سیدھا دیتے ہیں کہ وہ ایک نتی رکھتی ہے اپنے نتی. کہا کی ہم سنتوچ ہیں آگے چرنکوں کا سمارت کرنے سے۔ سارے کہنے گھڑھا گیا۔ آپ ہی امید کر سکتے ہو آج. آپ برہم لوگ ہوئے کوئی دھوڑ ہو۔ پاپا دھڑا ہوئے۔ اور جو بھگوڑنام نے کہا مانگو کتنی دمیہ چاہیے تم لوگوں کو۔ اتنا ہی ہے اتنا بڑھ جاتا ہے۔ پھر جس وی براہ مند ہیں، کیسے بھگو گیتہ میں بھی براہ مندوں کو محبت کرتے ہیں۔ سبوں کو سبوں جمشاہ دی رکھتے ہوں، نہیں بڑھ جاتے ہیں۔ کیا نماز دیکھیں؟ کیا نماز دیکھیں؟ کیا
نماز دیکھیں؟ کیا نماز دیکھیں؟ دیکھیں؟ کیا
نماز دیکھیں؟ کیا نماز دیکھیں؟ کیا نماز
دیکھیں؟ کیا نماز دیکھیں؟ کیا ن शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह्मान बहुत एक लिए शुदाव ब्राह् پچاس پریشان آبدن کا کہتے تھے گھڑھڑی تھی تھے پھر ڈھوٹی تھی بھیگڑو سنگھو تھی تو بھرامن آتے تھے میں سنگھتے تھے تو گھڑھڑ نے کیا کیا گھڑھڑ نے منہی منہ میں دس ہزار ڈھایا تو کھڑھڑ کر کے شُل بھرامنوں کو دان میں دے رہے ہیں وہ قیدی تھے اور قیدی ہوتے ہوئے بھی اُنہوں نے منہی منہ میں ایک ہاتھیں پھول سوکات بنا دیا تو اِس طرح سے اِس معافی میں پرابا جی کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی ملتی ایسی حصہ میں ہو کہ وہ رسیلی سے سیوار نہیں کر سکتا تو کیا کر سکتا ہے؟ منی کی طرح سیوار کر سکتا ہے۔ ہاں۔ اور یہ نہیں رسیلی میں جو بندہ ہو میں تھوڑا سیوار کر سکتا ہوں۔ بات میں پاس کوئی بات نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں منی، من میں 10,000 चुगागाय हम लोगो हाली देते हैं। रुपको स्वामें यह मैंने करन दियें। जिस में दो सिंदु में मात्रा परे ले किया है। बाकी रस्तलों से सिंदु और देश में। तो बाकी रस्तलों से सिंदु में आप एक कता पड़े सुन। एक प्रावन था پہلے تو بھاگتی رسول اللہﷺ نے کہا ہے کہ ہمارا گیال چندل ہونا چاہئے سزا جانے کے لئے کروں گا اور اگلی طریقے چھٹے لے آئے جس کا پڑی شید گیال نہیں ہوئے پھر وہ ہمارے کیا کہتے ہیں منگ کو مندو بنا شدو نہیں
جس
بیٹی نے مان پر مجھے براہ کرنیا وہ ہر ستھی میں سنتول ہے جس نے مان کو بچ میں نہیں کیا کبھی ستھول کی نہیں تھا तो मसमी इसका थाका उरणन करसे दक्षिन भारत पे एक बहुत ज़री राहन था तो बहुत सन्तुल था जैसे मैं कहयतके राहन सतھی में सन्त प्रीम साहब पस्तुत्योच था और उसके मन में सड़ा यही भाव था भवान की सेवा तो वो एक कथा स्पना गया था जिसमें कताकान ने कहा भवान तो जो हैं आम की सेवा تو کہتا تھا کہ میں نے کہا بھگوائے نے بھاو اگلائے گی اور یہ بھاو کو سمجھتے ہیں تو اگر آپ ایسی صفیت میں ہو کہ شریعت کے دوارہ مجبور سے اودہی کر سکتے ہیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ مر کے دوار سے کر سکتے ہیں۔ تو یہ برامن نے سوچا میں بہت ہی بہت سے کسی کے ساتھ غریب ہوں یہ میں پاک کرنوں کا پری نام ہے۔ مجھے اگری بھی سہر لے لیچکے ہیں۔ تو جب میں نے سیوہ کرنا ہے بھگواں کے۔ تو اس نے ملی مند میں بہت سندھر مند بنا دیا۔ لادہ پاکریک مند سے بھی جانا تھا۔ بہت سندھر مند بنا دیا۔ اور ملی مند میں لادہ کیشہ کی
سہارت
اور रोज मन मन में भवान का अभिशेख करता था जो पुजारी हैं वो जानते हैं जो हम भवान का अभिशेख करते हैं बॉंबे मुन्सिपती की पानी तो मंग्डों से उचारत जरके वो फिर से दन्जों का पानी बनाने लेते हैं ये भी तुरुख से हमें गंध जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जाना जा تو ہمارے اچھائی نے ہمیں ایک سارا رفعہ دیا ہے منتوں کے اچھارن سے آپ یہ گھومے منتوں کے پانی کو گھنگاں گھنگاں ہی بنا سکتے ہیں تو یہ جو بھرامت تھا وہ سچمچ مان میں سوچتا تھا اب میں گھنگاں میں جا رہا ہوں سوڑے کا لوٹا اس نے بنایا تھا کہ میں ندی کا پالی لے کر آنے ہوں اسے میں میں اپنے بیٹا تھا ہمیشہ تو ہر روز ہوتا تھا میں سائے تیرتوں میں جا رہا ہوں پالی لانے اور دی میں تم سے کئی سا یہ سمجھتے ہیں اور بھگوڑا شگاہ شگاہ بھی وہ خود کرنا تھا بھگواں کا شکار اور بھوک وہ بھی بھگواں کا اکیلے بنا دیتا تھا۔ وہیں دیدھی دیپارٹی میں تو 25 سیٹ آتی ہے۔ یہ ون میں ہونے کے سب کام کچھ کرتا تھا۔ وہ پھر بھگواں کو بھوک لگاتے تھے۔ بھگواں کو بھوک لگاتے کے بعد آندھی کرتا تھا۔ اور آندھی کے بعد پرشاہد لے لیتا
تھا
کئی سال بیٹھ گئے اور यह ब्रामन मनी मन में भगवाण का सेव करता है। क्योंकि जब मैं सम्पूर्ण रूप सेव करता हुआ था कि इनकी पती मुझे पुते हुआ था और भोग भी बना था। एक देवन ब्रामन नहीं है मनी मन में खीर बन پہلے ملتی ایک کھڑا ہوتا ہے اور پھر جب سندھا ہو جائے تو اسے ہم کیا کرتے ہیں؟ تو ہم کو گھول کرتے ہیں تو اسے کھیل منائی کے مانے میں اور وہ دیکھا تھا کہ کھیل ڈھنڈی ہوگی آج ہے تو اسے ہماری املیت آتی کھیل میں اور وہاں سے کبھی املیت جھگئی کوئی चरच्चन देन था थूड़ किया उसे देखा सच वोज़ ने हुमें जा गई। वो आश्रे हो गई। परमार्मान ये ब्राह्मत की सेवा से इतने प्रसंद थे कि परमार्मान देख रहे थे ओ ब्राह्मत की हुमें जा गई वो आश्रे हो गई। तो लख्षिजी गुरूर्ण में पूछा, अप क्यों महस करते हैं? भगवान्दे अपना हवाइना, मैंगुन दाएगा हैं, मैंगुन दाएगा के जहास को भेजा, ब्रामन तो अपने पास नाहीं है, और जब ब्रामन आहे, तो ये एक उठारन है जो बहुत सुमे देते हैं ये स्थापित करने के लिए कभी आम ऐसी स्थिती में हों, जैसे वासिलेर कैसी स्थिती में थे, क्योंकि वो दाल खुले रुप से नहीं दे सकते हैं. खुले रुप से देते हैं, कम इसको पता लग जाता तो पर हम � تو اُس ہی طرح یہ براہ پریشان تھے۔ بہت ہی قریب تھا۔ اور اُس کی اچھا تھی کہ وہیں بھاگوان کے لئے بہت بڑا پندر تھا۔ بھاگوان کی سیوہ سویم کرو۔ تو اُس نے پنی مل میں سیوہ کی۔ تو کیا پرینام ہوا؟ بھاگوان کی پتہ ہوا۔ तो अन्हाल्दी को लिदी के लिए मन पर कोई शुनाना बहुत हो जाते हैं। चेदर चेदर भी तुम यहां पढ़ते हो। एक बगते प्रसिंग, चेदर मारा भुचाये से बिन्दावन, विनस ब्राविन की, चेदर सिंग मारा भुचाये की चादी अगर चीति महारोग ने बृधावन जाना है, तो साली सराग में नहीं चलके जाना चाहिए। आगर चीति महारोग ने कुन है, तो सेंगावन नहीं। तो मनी मन में प्रसिंग ब्रह्मचायी ने बहुत تو منی من نے اس نے بہت خوبصورت سارا جناحی ہے۔ وہ سارا سجوئی تھی تیرے موتوں کے ساتھ۔ تو من جو ہے اس کے دوارے کہ ابھی ہم مندوارا سفر کریں گے، پاکستان روح سے نہیں کریں گے۔ وہ بے خطرہ ہے۔ ایک زمینہ ہم ڈیلی میں تھے، پرابا جی نے ایک ماں تاجی سے پوچھا، تُو جعب کرتے ہو، تو اس نے کہا، ہاں سمیتی، میں نے چوبیت گھنے جعب کرتا گوھر لگی لو کہ کیسے کھاتے ہیں۔ منی مند میں کھا رہے تھے۔ پھر بہت بہترین تھا۔ پھر اسی طرح ہاں۔ تو یہاں لوگوں نے ایک ایسی صفیتی تھی کہ وہاں سے منی مند کوئی اُپائی نہیں تھا۔ وہ کسی حالت میں یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ پھر بہت بہترین پھگڑ ہو گئے ہیں۔ تو وہ نے منی مند میں صفیت کی۔ یہ جو برابر کی قصہ سُنائیں گے وہ بہت ایک نیسی سے قریب تھا اور میں تھے ملی مندہ سیوہ کے تو اسی طرح ہمیں مند کے دوار سزا بھگوائیوں کی شکریہ دے سکتے ہیں اگر ہم سوچیں گے ہم بودھ شریف سے پیار نہیں کریں گے ملی مندہ سیوہ جائیں گے چیک ہے ہم ملی مندہ سیوہ جاتے ہیں اور آپ کہو میں نے کہا رجال کی دوالی آپ کیا نکالی ہے کچھ بھی کہتے ہیں مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی
مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی
مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی مانی ایسے تو بھاگوان گیتہ میں چاہتے ہیں. مَن مَن بھاؤ بھائی مَن مَن بھاؤ مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَن مَ گوھروں کی میلوں کا اُن کا اُن کی گھوڑوں کا اُن کی آدھےش کا جیسے کی بھاگوں تک پڑھنے کا پڑھتے ہو کہ پڑھا بھاگوں نے پہلے ہوئے سوڑھے جسے نازل ساتھی تھے آج اتیار ڈھوکی آج سے اُن کا نام پہ سوڑھنا ڈھوکیا کیونکہ بہت ہی دلچسپ سے اسمبب ہو سکتے ہیں اس لئے کہتے ہیں ہمارے کے سلوک سے اس کے پسچا آیچن نے گیتا کے سلوکوں کا سمجھنا ہوتی ہے جب گیتا کے سلوکوں کا سمجھنا ہوتی ہے انہیں ایسے لگا کہ پرم بھگوین سوئے وہاں اُپستے تھے اور جو سلوک تھا اُتھرا نیل سماتھ ہو گیا وہ پہسن ہو گیا تو پرابہ نیل کہتے ہیں جیسے اردن نے ایدہ کے شعوم کا سمجھن کیا کھڑے لگے وہ پہسن ہے اسی پرکار کہ گیتہ بھگوان میں اندھا ہے، گیتہ ہے بھگوان کی بانی۔ بھگوان کی روح بھگوانی میں پہنچ سکتی ہے۔ بھگوان کی نام پہنچ سکتی ہے، پہنچ سکتی ہے۔ تو بھگوان کا چنقل کرنے کے کئی سادن ہیں، بھگوان کی روح بدیشت ہے، اس کا سمجھو۔ ایک اور سادن ہے، بھگوان کی روح نام پہنچ سکتی ہے۔ بڑھوائی کی جو نیلائیں ہیں یہ سب ہی حکومت ہیں اور نیلاؤں کا وشہ میں دس دس کرم میں انہیں نیلائیں ہیں پھر کیا اس پر انتہائی ہوئی ہے اور کسی کو کوئی نہیں نیلائے گا پھر نیلاؤں کا ہم جا دیں گے کہ بڑھوائی کی جو نیلائیں ہیں ساتھ سوٹی بھی ہوں گے उनकी तुलना कोई सिधारन के लिए लग सकता है? नहीं लग सकता है। विधारन के लिए या प्रिकुछ छुटी से तुम्हें लाइक्श्य से कहता है। जब मादा रे कहा, तुम्हें भिन्थी खाये या क्या? नहीं। जुड़ी से कहती हैं। रिखा� پڑھے ہوئے شرکات ڈالتے ہوں مہت کام ہوئے हाँ जर मुफ़ कहते हैं करकर करकर करकर करकर करकर करकर करकर करकर करकर करकर करकर करक� پرواد کو اٹھائے تھے بھکتوں کی سرکشہ کے لئے وہ سمیں تیزی سے پارش مڈل سوئی تھی ایک پانی کا مون کھم بے جتنا پارش مڈل سوئی تھی اور عیسائیہ پریجوان بھگوائنی کو دیکھ لیتے تھے عیسائیہ پریجوان بھگوائنی کو دیکھ لیتے تھے جتنے سمیں کیلئے وہ دیکھ لیتے تھے کہ لوگوں کو ڈھڑ سا پرواد گیٹی جائے تھے چھوڑے بچے کے ہاتھ میں तो भागुपार ओरमंदेल में गोधन परवज्य था आज की परवज्य से चादा उठा इतना उचा था कि जो चूटी थी पहार के वहाँ आकाश पर चूटी थी नाज़र ख़म तो उस इतने बड़े उठाया उन्हें प्रिव्रिके नाथ प्रिव्रिके नाथ प्रिव جب ہم نے بھگواں کے چہرے کو دیکھ رہے ہیں، اِس بھیجوازوں کو نہیں بھوک لگیں گے نہاں۔ دوسرے شعبوں میں بہت ایک بھوک اور پیاز کے خواہد، ہم بھگواں کے چہرے نہیں کہتے ہیں، بہت ایک بھوک اور پیاز کے خواہد، ہم سنتے ہیں روج، ادھیادوی زیون کی آمشاکتہ ہے، جو کہ ہم اِس کا ناظری ہوتا ہے۔ پھر اگر ہم مند والا بھگوائینا چندھر کریں گے، کوئی وفاظ نہ کریں گے، کوئی پوجہ کریں گے، پھر آپ کا مند ستھے بنے گا اور بھوک پیاسے کا پہ چلے گا۔ پہلے سکھن میں آپ پڑھتے ہو کہ پریشان بنا دیں۔ जस्वित कर्ण में प्रेश्वान कहते हैं कि एका किष्णा कता सुनने के कादल में जो महुती भूप और प्यास हैं वेवकूर मिल रहे हैं किष्णा सुनने के कादल किष्णा कता सुनने के कादल हैं तो किष्णा कता सुनने में कुछी बढ़ा देखें اور ساتھ میں کس میں روچی کا ڈالی چلی ہے؟ بجھوڑ پاڑھو۔ تیار پرہ شہ شہ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بجھوڑ پاڑھو یا مار گیا؟ بھگتی بجھو کیا ہوگا؟ اور مجبور ہو جائے گی۔ تو اس لیے شاہت میں کہا گیا ہے سزا کرشنا کا سوال کرو. ابھی کرشنا ممکن ہو نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ کرشنا ممکن ہوں گے۔ کہنا احسان ہے، کرنا مشکل ہے۔ اس بات ہے۔ ہمیشہ کہتے ہیں یہ جیسے ہے جنہوں نے اور پریاض کرنے سے وہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ پریاض ہی نہیں کریں گے کہتے ہو ۔ فلاڈ ملائیں مہاجن ہیں ۔ سری مولی ناظر صحبہ کہا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ तो मैं सूचता हूँ कि इस परकार मौली मौली व्यक्ती भयास कर रहे हैं दुख की स्थिति और सुख की स्थिति मतने के लिए तुम्हें तुम्हें दुख होता है। बुलाल मैंने क्या सोच है देखता है सरा? कैसे अपती दुखों ना करें? कैसे � अपने परंकुर कहते थे जूता लेंगे समाजा तो उठो शिर को क्या करो तो मान मान परिश्वने में लाठी से माना तो तो यह नहीं करती कि आप सच्चों जूते से मानने शुरू करते हैं तो लाठी से सबके शिरों में मंदर से मैंने लेंग बगे � अपने शतार्ग मन का अलेश नहीं मानना। तो किसका मन आलेश मानना। शतार्ग मन का अलेश नहीं मानना। शास्त का, गुरु का आलेश मानना। तो मन को आपने मन्द को बनाना दिया। नहुदर भक्ति का ज्यान पलान मानना दिया। तो सबसे पहले क्या है? श्रणम कितनम करोगे ध्यान ते तो विश्वस्वान संभाव हो पाएगा। अगर श्रणम कितनम नहीं करोगे ध्यान ते ये संभाव हो पाएगा। तो हर चीजी दिर्बद है उम्हारे श्रणम कितनम कितनम। अइना भजब जिंदे ध्यान से करेंगे अब भगवान चेतने पर सर्वेत है। अगर वो हारे वगक्षान नहीं करें, ये सब होगा। तो आज किस स्लोग में आप पढ़ते हो, कि महंच देड़ होते हैं। जब उन्हें लेखा, जिए भगवान पढ़न हो जगए हैं, अलबूत रूप � کیا چھوڑ کا ڈال دیا ہے؟ ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال
ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال ڈال
ڈال ڈال چھوٹ ہے اُس کی ستھی کے لئے جب ہم مجبورن نہیں کر سکتے تو جاہے کسی ستھی میں ہو ہم ادھیانِ گُردی کے لئے بہت پریاس ہینا چاہئے پیمان کو بھی بندو بنائیں اور بھگوان گیتا پہ کہتے ہیں بھگیوں کے پالن سے بھگیوں کے پیجوں کے پالن سے آنکھوں کے آپ پچھ پل آسکتے ہیں تو بھئی مند کو واجب نال سکتا ہے۔ کچھیں ہیں، پھر ایسا ممبع نہیں۔ وہ پراموالی کہتے تھے، اب ایک کلم اٹھاؤں بھگواں کی طرف، بھگواں دس کلم اٹھائیں گے۔ اب تھوڑا پریاز کرو، نھیان پروجہ پڑھیں گے۔ نھیان پروجہ بھگواں کی دینوں کا اسمانت کرو۔ بھگواں کی امدیش کا بھگواں کی روح کا بھگواں کی آج چلوی رہا کا بھگواں اپنے اپنے اپنے حکومت پکڑ کر دے۔ بھگواں آئیں تکنولوجی کی قربان سے ہمیں ایک سانے بیٹھے بٹھے نہیں کونیوں کا درسل دے سکتے ہیں۔ ایک نراضی راج پہ آئی ہے کئی بھی نراضی۔ لنڈن میں سے کیوں تکنولوجی کا ہاں दुरोगो तो दुरोगो भी कर सकते हों। तो सब दुरोगी है। जैसे ये स्मार्ट-पॉर्ण हैं। तो जो वसूर हैं, वो स्मार्ट-पॉर्ण के लिए सिल्मा देखने हैं। तो तो इतने में जाओ, तो आप देखके सब स्मार्ट-पॉर्ण हैं। तो सि प्रापजे की किता हम दो पिठाते हैं जब आका मिले महगों तो प्रापजे की किता मिले तो इसी परकार में प्रयास करना चाहते हैं कि हम सदा भागती में जुड़े रहे हैं और हम प्रयास करेंगे प्रापजे की पंभाद सेव करेंगे वही کہ ہم इस بھگوان کے لیے ہماری آنچ سے بھی کرنے کا کمیس مدد کرسکتے ہیں اس بکار ہم بے دہائی ڈھونٹ نہیں کرتے
कि जब हम सुनते हैं शास्त्रों में कि जब हम दिक्षा लेते हैं तो गुर्वां हमारे पाप, जो हमारे पाप हैं, पुराने पाप का मोखे पर वो नश्च हो जाते हैं. तो फिर दिक्षित भक्तों को भी दुखते हैं. क्या उनकी अपराज की वाज़े से हैं?
हम देली कहते ह سائے پڑھانے پاپ کے ہم مل جائے گا. अभके जो नहीं आंटी मने नहीं पाप करता हैं. परकी दिख्षा लेने परता हैं. पाप कितनी मातर में नहश होते हैं. परकी जैक्टी कहाना मुश کہ پاک کا پرینام ہو جائے گا تو کوئی کائشت مکندہ نہیں پڑے گا۔ جب باقی کوئی کائشت مکندہ پڑتا ہے، کوئی سوچتا ہے، کھڑموں کے ادھار پر کوئی سو گناہ، چاہتا کہ یہ بیماری ہو رہی ہے۔ بھارت کی بات ہے کہ اگر چھوٹی ماں سے میں پرینام ہوگا تو یہ ہی ہمارے پاک کا پاک ہے۔ और गयपरी कहला कहला कहला कहला اُنہوں نے بہت زیادہ سوادہ طریقہ دے دیا ہے۔ اُنہوں نے بہت زیادہ سوادہ
वो उसी
طریقہ دے دیا ہے۔ प्रस्ण के उपर जो परभुलें पूछा पाप तो नस्ट होनी जाता है गुरु पाप नहीं लेते हैं इसका मदव ये नहीं कि सिष्णों को और पाप करते रहे हैं तो बज़ गयें कि मैं सपर कर रहा हूं क्योंकि सिष्णों का पाप मैं ले रहा हूं सिष्णों को गुरुद जड़ों ले लिये हैं और ले करके ही वो कृष्ण भक्ती दिये हैं। आपका पाप गुरुभी प्रिपा है कि आपका पाप ले करके ही कृष्ण भक्ती दिये हैं। और कृष्ण भक्ती में इतना सक्ती है करमाणी निर्दहती इन्तू चो भक्ति भाजाँ। करमा� तो यह हमनों को डिपेंट करता है कि हमनों क्या करेंगे। गुरु को प्रिशान करेंगे। पाप करकर करके, कि जो गुरु ने इतना कृपा करके हमको भक्ति, भक्तिलिता बीच दिया रहे है, उसको हम आगे बढ़ाएंगे। जो वैसा करेंगे, यदि दिखाई पड़ता है क इसके विसहमें दान देने का अधिकार तुम्हें लोगों को हैं एक छत्रियों को और एक वैस्यों को छत्रिय लोग प्रायव भूमी दान देते हैं और वैस्य लोग गाय दान देते हैं तो नंबावा वैस हैं प्रामर्ण यो दान देते हैं वो दान नहीं देते हैं और वे ही काई का दान देते हैं।
एक बात और है तो वे दान देते हैं।
आप पश्देव देते हैं। नदावेती हैं नदावेती हैं।
एक दुसरा बात है मुदात जिर्भ्योत।
जब भी दान दिया जाते हैं तो ये ध्यान रखना चाहिए कि हम प्रसंद हैं। ऐसा मस ہاں ہاں لیکن وہ مند سے ایک ڈھل جسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بہت بڑا سلوک ہے
अपने प्रवचन के दरम में कहा कि शरुवन और कीरितन यही लीव हैं हम सब चीज़र करते हैं सब का आधार हैं लेकिन जैसे जैसे हम बगते में देखते हैं साम साम बजरते हैं तो कुछ प्रोजेक्स रहते हैं कुछ प्रकब रहते हैं कुछ सेवाई रहते हैं उसके � तो कैसे दोनों का बैलांस मना लगें?
कुछ निकालों, पिछडों के जब कोंप्रमाइस बात करों. ये सबसे महत्रबुद सेवा है, सबसे कुछ भी. अगर हम पिछडों कोंप्रमाइस करेंगे, ये हमारे होडिशन हैं. तो जाये किती में सेवा और किते में भेवज़ेवा सर्वन के सदम में शुरूच माते हैं।
अलेक्शन माते हैं सर्वन के सदम में शूरूच माते हैं। अलेक्शन माते सर्वन के हैं सदम में शूरूच माते हैं। अलेक्शन माते हैं सर्वन के सदम में शूरूच माते हैं। प्रिश्णों �
उत्तुं उत्तुं परिश्णों उत्तुं परिश्णों उत्तुं परिश्णों उत्तुं परिश्णों उत्तुं परिश ہمارے کہتے تھے کہ ہم آپ کو بتایا سکتے ہیں. ہمارے نجو سے پوچھا ڈھاگتا ہے کہ کیا تمہیں یہاں سے دور ہوگئی ہے؟ کیا تمہیں یہاں سے سنا ہے یہ سمجھ؟ جنہوں نے کہا ہاں. ہمارے نے کہا آپ کرو جیسے تمہیں کھول سکتے ہیں. ہمارے جگہ نتیج شریف بھگتی نہیں کرنا چاہتے ہیں. وہ دیکھتے ہیں تم کیا कृष्णा कृष्णा
हाले हाले हाले लामा हाले लामा लामा हाले हाले
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

