भगवान् के प्रिय कैसे बने || How to become dear to God? |8.12.2017 || ISKCON Bahadurgarh

A talk on becoming dear to God through sincere devotion, humility, and selfless service rather than external status. The speaker draws on the Bhagavad-Gita and stories of saints to show how regular chanting, scriptural study, and ego surrender open the path to divine closeness, transcending caste and social barriers.
Chapters
ہماری نجلوں سے اپرکت ہوتا ہے کہ کہیے نہیں کہ وہ اپرکت ہو گیا ہے جیسے اس وقت آپ سریعہ کو نہیں دیکھ سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں آپ؟ اور کیا سریعہ چھوڑ گیا ہے؟ سو رہا ہے؟ نہیں! روشنی دے رہا ہے امریکہ یہ آپ کے رات کے نام ہو جائیں یہ ہمیں صبح کا گیالہ بجائے گا اسی طرح مہانسان اگر ایک سال تک اپنے گھٹوں میں بھرمان کے آدھے شہروں کے لئے کسی اور مکان میں گھڑی سکے گئے ہیں تو بھکتی شہر میں ہماری ساتھ بڑے پرسند اچاریاں تھے جنہوں نے ہم سب کو بڑا चेतने महा प्रभू प्रकट होई थे प्रिती पर नगवद 500 साथ पूरवा और उन्होंने एस कदील का उपाये दिया होने किया हाई राम हाई राम हाई राम हाई क्यों राम हाई क्यों राम और उन्होंने की भविष्वानी थी प्रिती प्रिती आचिदर नगरादी का सर्वत � विश्व के जिसे नग्रा हैं जाना हैं तो विश्व के जिसे नग्रा विश्व के जिसे हैं जाना जाना तो हैं तो विश्व के जिसे नग्रा हैं तो विश्व के जिसे नग्रा हैं तो विश्व के जिसे नग्रा है پھر سے چیت نے مہاں پر بھوکتی ہی گئی شد سکھشہ کو اصطلاح کیا تھا پھانک پکڑوں کا جارہ مہا تھا رئیس خاندان میں پڑھے لکھے تھے اور ان دنوں میں بھارت میں انگریزوں کا شاستن تھا اس وقت کسی بھارتی کو District Magistrate سے اوچھا پد نہیں دھین دیا جاتا تھا اور District Magistrate کا پد تھا Governor کے پد سے نیچے پھر ساکھن پکتی نوز District Magistrate تھے اور پھر District Governor نے انہیں قیمدارین سوکھئی وہ سمجھ جگناہ پوری مندر میں کہیں کم प्रेड़ो समे एक धोंगी गुरू था पुरी में ये जो धोंगी सादु था जंगल में निवास करता था वो अथाको पुत्तिन हो था जंगल में गए मस्तुमान सिपाई हो गए ہندو سپاہیوں کا نہیں لے گئے. عیسائیوں جو ڈھڑتے تھے اس جھوڑی صادق کو سننے میں ان کے پاس یوگی تھی جانتی تھے۔ تو ثاقب احمدی نے کہا کہ جیسے وہ وہاں پہنچے، جھوڑی صادق پہچان گیا تھا، کون آیا تھا؟ تو اس نے کہا کہ کدار نہ جاتا سمجھاں دینے پہ کون ہوں؟ میں ہوں بشنوں کا افتار اور میں جو کوئی یہاں سے نہیں کہا تھا، تمہیں میں نے دیش کا راستہ بنا دینا ہے۔ وکیل ڈھاکو جی نے کہا اگر آپ بشنوں کی افتار ہوں تو جنگل میں کیوں نیواز کر رہے ہو؟ جہاں جھگنات پوری مندر میں ہے وہ آپ کا استھاں ہے۔ اور اس دھونگی میں ساتھوں نے کہا جو جگنات پوری کا مندر وہ بھگواں چھوڑی ہے جگنات وہ تو ڈکڑی کی مرتی ہے میں ہوں بھگواں تو اُنہوں نے ایسے کہا تو ساکھ بھگتوں کی دینوں میں ساکھ بھگتوں کی دینوں میں ساکھ بھگتوں کی دینوں میں ساکھ بھگتوں کی دینوں میں ساکھ بھگتوں کی دینوں ساکھ بھگتوں کی دینوں وہ رکھ شیعہ میں کہنے لگا تھا کہ بنتی نور نے بھگوان کو دفتار کیا ہے نا کہ یہ ہر چیز سجائے گا اور سب کہہ رہے تھے چھوڑ دو چھوڑ دو اسے تھا کہ بنتی نور نے کہا کہ میرے پدی مجھے ممہنے دو پھر یہ کل سری آگی وہاں تھوڑی دور باہر اس آدمی نے آتمہ ہاتھی کر لی تھا پھر وہ بنتی سارے بچے तो इस परखांग वक्ति नोडी ने शुद वेडिक जर्म के सांपना करें। सब वो सारे भजन जो आप गाते हो, साहे जान जादा मदव हो, आर्थी कुर आर्थी हो। सब विरस्णा अगर वक्ति नोडी ने करें। यहने सों से अधेक विरस्णां की थी। वेडि तो हर बेटी जो परकर्ट होता है परकर्ट भी होता है उन्हें प्रात्ना की थी बहुबान से कि आप ऐसा कोई बेटा भेजो क्योंकि इस आर्यको मेरे अब्भगर्भगी बाल आगे बढा सके उनकी इच्छा थी विश्ण की किरन प्रदर को तो बती सिनाने साल भड़ी ठाकुर उनका बदाईशी नाम था क्या था बदाईशी नाम उनका पस्ता जगनाजी की अंचलन शक्ती ये प्रकष हुए थे बती सिनाने ठाकुर के सुच सच्ची रूप में और उनकी मनता का नाम था भगोती दास्ती उनकी पांच में ब کیونکہ یہ مہجستیں تھے جہاں پوری میں ہر سال ہنوان پر رات اُن کے گھر کے سامنے رکھتا تھا اور رات رکھتا تھا رات تھوڑا ٹوٹ گیا تھا پھر دین میں رکھتا تھا مغودی دانسی نے فیضان رسالہ اُٹھایا اپنے بیٹے کو سُنہ پسار پانچ مہینے کرتے ہیں بھگوان جگناہ جی کے چڑھنوں میں رکھ لیا تو جب بڑکی امت ہوئی تھی سُنہ پسار نے جنہوں میں لیا تو جو ہمارے کے کوڑ ہوئی ہے وہ شریف کے ذریعے ہوئی تھی کہ جب برامن جنو پھر جڑا ہو گیا تو جیسے انہوں نے بھگوان جگناہ کے शर्ण में जा था एक बुल्माजा कानंदी का हार गिर गया उनके उपा और अनेक लक्षनम्दिर्वारा भस्विर्ण था कोई देख सके ये है वो बेटा जिसी प्राता भवारा जो भवारा से गिया तो छोटी आयु से उन्हें धेया देविया ज्ञान प्रदान करना چہار سال کی عائیوں میں جو میں پرسان ہے پوری گیتہ کو پہنچا سکتے ہیں پوری گیتہ چہار سال کی عائیوں میں اور ایک دن جتا آم لائے تھے بجار سے گھٹنے کا آم کھا لیا وہاں کو بھوک لکھائے تھے بھگو گیتہ میں بھوک کیا کہہ رہے ہیں جو بھوک لگائے بھی نہ کھائے وہ کیا کھاتا ہے؟ تو پیتا نے ڈاٹا یہ ٹھیک ہے کیا پرسانت کی ضابطیوں کو پہلے بھوک لگانا چاہیے بھگی سنادھ جی کے پر پرسانت نے اتنی کمیتہ سے سنکار کیا کہ جنگی بھل انہوں نے آہم نہیں کھایا جب بھی کوئی سشا آم دے دیتے تھے وہ کہتے تھے انہیں بچپر میں عبرات کیا ہے آم نہیں کھاتا تو سال سال کی عائیوں میں انہوں نے فردوں کا آدھیاں پیام کر دیا تھا اور گیالہ سال کی عائیوں میں انہوں نے اپنے پتہ کے لئے ایک ہلکل سکا ایڈیٹنگ شروع کر گیا تھا اور اُن کی پیدا جہاں بھی جا سکتے تھے پھر وہ جنگے میں اُنہیں ساتھ جا سکتے تھے اور وہ بہت بڑے رضوان تھے وہاں میں سے کسی نے فرقی سیزاندہ جی کے انگریزی لکھوں کو پڑھائے आप उनकी आर्डिकल तो पढ़ोगे तो उनकी इंग्रेश इतनी कठोड थी आप वो डिक्शन दी लेना पोगा पढ़ना पढ़ागा तो नहीं तो भगदी स्थ्यान्दर जी बहुत बड़े विजवान थे सुनने हैं एक्स्ट्रॉलजी सब सीखा था कौन का पूर उनकी पि� ایک سمیں بھکتی میں ڈھاکر کو نماندن دیا تھا بھرامنوں کی سباہ میں امدید سہنے کے لیے ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاکر ڈھاک یہ ثابت کیا کہ برامنوں بینا سماج ادھرا مان جاتا ہے۔ ویسے تو بھریوں میں ورنہ آشنام کا ورنہ ہے۔ سماج کا بیباجن ہونا چاہئے۔ چار ورنہ اور چار آشنام ہیں۔ چار آشنام ہیں برامچاری بھی ہے سب ورنہ پر دوسرے آشنام جو بولنا ہے برامین پھر بہشہ برامین کی تنہ کی جاتی ہے ستر کی تنہ ستر کی تنہ کی جاتی ہے بہوں کی تنہ بہشہ کی تنہ کی جاتی ہے پیٹ کے ساتھ سندوں کی تنہ آپ نے دیکھا کہ کسی کو ہاتھ کی بینہ ہون کی بینہ آنکھ کی بینہ پرسے کے بیناں دیکھا گئے ان لوگ. ہاں؟ نہیں۔ تو دوسری شعبت میں برامناں بیناں سماج میں دھڑا مانا جاتا تھا۔ آج کا سماج میں شدھ برامناں کی کمی ہے۔ اس نے دھرم کی نام پر کا دھرم کھانا رہا ہے۔ شدھ برامناں مجھے ایسے نہیں کہتے۔ بیمار پرسان تھوڑے تھے بیمار پرسان نے پہلے تو براموں کی بڑی پرسان سنی براموں بڑے خوش ہوئے بہت سندھر ستوتوں دوارہ ہمارا گنگھان ہو رہا ہے پھر انہوں نے اس شلوکوں کے دوارہ یہ ثابت کیا کہ بیگتی براموں بندہ ہیں گنوں کی اثار پر جنم کی اثار پر نہیں अब भगविता के क्योंते अध्याय में वहाँ क्या कहते हैं? कुण कुण करेगा? स्यातर वर्णाम माया सेस्टाम गुना कर्मा गुनों के अध्याय बात हैं तो एक ब्रामन इतनी दिश्वन में नहीं थे उन्होंने योजन बनाई बाती दिश्वन को मानने की तो बाती दि� जो मायावदी हैं, जो किसी नहीं सुचा करते हैं, भगवान सर्थार हैं. ये कहते हैं, भगवान अंदे, नग्रे, कूगे, बेहरे हैं. मायावदी क्या कहते हैं, भगवान का रूप हैं ये. वगाईशा का क्या सुचा करते हैं, भगवान का रूप हैं और द اگر ہم کسی ایک آنکھ سے کسی اور آنکھ کا کاریاں کر سکتے ہیں آپ کہتے ہیں ہم نے کھانا ہوا تو کیا ہے اوپائے کھانا کہاں دعوتے ہو مو میں کھانا میں دعوتے ہو نہیں پہنچے گا نہیں آنکھوں میں دعوتے ہو اچھا ابھی دیکھیں ڈراؤپ کر کے دور سوپ ڈالو گے پھر پھر مون دے گا نہیں تو بھگماں جب آپ بھوگ اربن کرتے ہو تو ہمارے کانوں سے آپ کا منظر سنتے ہیں آنکھوں سے دیکھ جاؤں کھا لے گا اور کہوں مہینوں لو کے لیے لیکن مڑھ مڑھ ہو کہیں بھگماں نے کھا لیا تو پوری پیٹ بھری ہوئی رہا ہے بھگوان کھاتے ہیں نیتوں سے اور کانوں سے تو بھگوان کے لئے کوئی کاریئر سمبھ میں نہیں ہے تو بہت جیسی نام سے جنہیں پہلے پچھلوں سے پچھا رکھتے ہیں پچھا رکھ شروع کرنے سے پہلے انہوں نے نرنے کیا تھا کہ ایک کروڑ بار ہائی نام کا جاب کرنا ہے تو دس سال کے لیے اُنہوں نے یہ نننے کیا کہ کانچ میں ہی روگا ہوئی مہین پر میرے کھوٹیاں بنا کر ساپتے لیے اور ہوج کتنا جاب؟ تین سو بار، تین لاکھ بار، one ninety two rounds اور کون کس کا ادھارم ہے؟ پہلے سال वो एक कुटिया बनाई थी वोनने माया पुर मैं जीयों का भित्रुपार सुबह से रहा तर जाप कर देते हैं और कि वो चावल साला चावल खाते थे एक समय वो चात थी पारे से गिर गई थी जो वोनने बाये हांसे चाता खोला वो दाए हांसे जाप कर देते हैं پھر کئی سالہ اس وقت جاب کرتے گئے پھر چیتنِ مہا پبھوگ نے سپنے میں کہا کہ تم آئے پریتھی پر پکڑ ہوئے ہو پچھانک کرنے کے لئے اب جاؤ پچھانک کرو پھر انہوں نے کہا کہ آج آرہوں نے 1922 میں پرابا جی کے ایک منسل تھے انہوں نے پرابا جی کہا यहाँ एक खास संत रहता है, नहीं चाहता हूँ तुम्हें से मिलो। प्रभाजी के पिता के नाम तो गोर्मों थे। ज्यादर धनी नहीं थे, middle class, प्रेके वर्पारी। पर बहुत मुच्चे कुड़ी के भक थे बहुमान थे। वो उनकी इच्छा रहती थी हमेश ہم نے گھنے میں کمرہ لکھا تھا ہم نے بھوجن دے دیتے تھے پھر پرابا کا پریچ ہے کئی صندوں سے ہو باتی ہے پھر پرابا کی جسے بھی پرابا نہیں سمجھتا پھر پرابا نے کہا کہ میں کئی صندوں کو مل چکا ہوں میری روچی نہیں ہے جس کو ملنے میں اس میں سمجھا یہ صند دوسرے جیسا نہیں ہے پہلے ہی مونکار میں ہی مرچی سے دور پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے پہلے ہی پہلے پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی پہلے ہی اومیگا گئے کھڑ گو جہاز میں مہتروں کی بھوکشوانے کو پڑھا کرنے کے لئے۔ تو بڑھی سینانہ سال پہلے تھا گوھر بہت بہانہ چاہیے تھے۔ جب دکھشہ کا سمجھ آیا تو یہ پتہ نے کہا گوھر کشوردار بابا جی سے دکھشہ کرو گوھر کشوردار بابا جی बहुत एक जिसी से बिल्कुल आंपड़ थे नामें लिखना जाते थे पढ़ाई नामें घहरी रूची थी और पूरी कीता उन्होंनें खंडश की हुई थी तो कोई विजदास्पारें तो निनावनें विराजबान थे جب انہیں سوچنا ملی کہ بھگیر مہتھاکر اور شہر مہداد بابا جی انہوں نے ایک ساندھ کرشنا کتھا کہتے ہیں کہ وہ گرہیں نہ ہو دے گا تو بھگیر مہداد جی نے ان سے کہا میں آپ کا سشہ بننا چاہتا ہوں وہ گرہیں نہ ہو دے گا میں نے نجنے کیا تھا کوئی سشہ نہیں بنانا میں نے اور میں تو انپڑھ ہوں، اپنا نام نہیں دیکھ سکتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوڑکی شہزادہ اپنی نے کہا مجھے مہا پھربھول سے پوچھنے دو میں پیچھلوں گیا نہیں اگر دن پھر آئے تو مہا پھربھول سے اب سے پوچھا اور سوڑکی شہزادہ اپنی نے بھول گیا پوچھنا پھر پھر بھی مہتا کوئی نے کہہ لیا تھا اگر وہ تمہیں سمکار نہیں کرے تو گھر نہیں لوٹنا پھر تو نے پسانے کہاں مجھے نیت سشا بناؤں گا میں آتماں ہزار کروں گا پھر انہوں نے نیت سشا بناؤ سب کو پچھلا تھا بابا جی دن داتھ ہری نام کا اچھالن کر دیتے اور ان کی یہ اچھا لہتی تھی کہ کوئی انہوں کو ڈسٹرب نہیں کرے گا اوہ پھر ایسا تو سنا ہو اُن کی ایک لگاہ یہ تھی وہ پبلک کو ہیلیٹر پہڑ کر دروازے آنے سے بند کر دیتے ہیں جب کر دیتے ہیں کیوں؟ وہ چاہتے نہیں تھے کہ ایسے استان پر ہو کہ ہمارے پانچ میں واقعہ کوئی آ جائے گا۔ انکو یہ جیتی تھی کوئی چھڑی نہاں پر وہ چاہتے تھے۔ مرزق ناندہ سال ہوئے چاہتے تھے پڑے بھارت میں کیم رکھتے تھے اور उन्होंने चार प्रिंजिंग प्रेस भी खुले थे गंध का प्रकाशन विचन उनका महतपून जेवा की प्रावभाजी से मिले खाले खुल में अभी जब आर्मेंजे कितने परतों ने नवते परिगरम किया है तो जब आप नमद परिकरम करते हो तो आप देखते हो आपको कहा जाता है यही लाई यहां पी दी यही लाई यहां पी दी यही लाई यहां पी दी यही लाई यहां पी दी यही लाई यहां पी दी यही यही लाई यहां पी दी यही लाई यहां पी दी यह تو بھگیز نیابدی میں اُن سانوں کو کھو جا کہ بھگوان نے مجھے دیوی لیلہ پکڑ کیجی آپ اگر دکچن بھارتی یہاں سے کرو تو کئی مندوں میں جب پہنچو گے جیسے تیروپدی کہ آپ کو یہ جنہاروں کی چڑھنوں کے پھٹپرنٹ دکھیں گے یہ لکھا، تیرے لکھا، کیسا لکھا ہیا؟ کیسی نام نہیں لکھی۔ تو کل اس مہاں سندھ کا تیرہ ہوتی تھی جہاں میں سوچا تھا آپ سب اُن کی چھنڈ کمڑوں میں پرنام بھجیے، مجھے بھیگ مانگیے، یہ ہمارے نبی دیرد بھاو ہو۔ स्थवा में महान संदों का अविभावों तीर तीर वाव मनाते हैं हमें उनकी जीवन की वीदाओं का स्मालन करना चाहते हैं कि इस पढ़ार अश्यतमान चल हो जाएगी। तो आगी कॉलने का नाम क्या है जीता कॉलने मैं सोच रहा था आपका मंद तो बुरे अश्यतमा यहाँ तो धर्गर घीदा को अपदेश हो रहती हैं। है कि नहीं? हाँ की कुन नहीं है? नाम ही है घीदा कुन नहीं? इसने जाता है यहाँ। तो जैसे आप जाते हैं वो एसन सद्वा घीदा परवत्तर संदेश दिया जाता है। पापा जी ने कहा कि वेदिक शास्त्र اتنے ڈیٹنگ ہیں کہ اگر آپ روچ پڑھو گے تو بھی جیون کی سناپتی تک پڑھا ہی پڑ پاؤ گے۔ ویڈک شاستوں کا سار کہاں ہے؟ بھاگوڑ گیتہ پڑھو جب آپ گیتہ پڑھو تو اس کا مہل مہل تھا سارے ویڈک شاستوں کو پڑھ دے گے۔ گیتہ کا سار پڑھ جائیں گے۔ तो आज आप समाज में क्या देखते हो? लोग खुश हैं? हाँ? हाँ है ना? हाँ है. मिराश हैं? हाँ है ना? हाँ है. पेचह हैं? हाँ है. चिन देत? हाँ है. क्रेश पढ़ते जा रहे हैं. क्या कालन है? अज्ञान्दा। रुपविजवी कहते हैं بھگوان کے نام چینی جیسے مٹھے ہیں بھگوان کے سکھشہ گن چینی جیسے مٹھے ہیں ہمیں مٹھاپن محسوس نہیں ہوتا ہم نام لینے بیٹھتے ہیں نین آجاتے ہیں کتاب کھولتے ہیں نین آجاتے ہیں پھر کوئی پھلوی کتھر کھڑے ہم بہت اکتر ہیں پھر سوئے بھی جاگ جاتے ہیں اور جب پریشتھال کا سمجھ ہو، پھر ہمارا اُنسہ ڈبل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ان میں ہماری روچی ہے۔ تو ہمیں اِس روچی کو بدلنا ہے۔ آپ سب جیسے سری شہبتی میں جڑے ہو۔ کیوں؟ کیوں کہ آپ نے سفیقار کیا، آپ کو یہ اُبدیش ملا ہے کہ منگوشی جیوان بہت ضلال ہے۔ इसका हमें जुड़ियो के लिए तम्हें से जुड़ियो के लिए तम्हें से पर आप देख सकते हुँ पहले समय में चाहिए आप किती भी सबोजा प्रात करो आचा बिर्जाबानी बिल्गेश मन जाओ बिल्गेश जाते हो विश्वा का सब सज्ञान नहीं करती है ह کام نہیں کرے تو بھی تو پھر یہ کب تک رہے گا ہمیشہ کے لئے پانچ چیزوں سے ساری ہے اٹھا رہے ہیں ہم پانچ چیزوں سے ساری ہے جہاں سے دیکھو دو سارے طرف پلیش ہے پانچ چیزوں سے ساری ہے تو اس لئے بھرمان کہتے ہیں میری شہر میں آؤ بھرمان یہ سندیج کیسے بھیج رہے ہیں अपने प्रतिदीवियों के द्वारा अपनी वानी के द्वारा उनकी वानी काम प्राप्त होती है विरंथु में भगवत हमें वधाराने के लिए है क्या है भगवान की वानी काम भगवत घीता में किसका संदेश है किसका स्री भगवानो आचा परमगवान बोल रहे हैं भगव इसकी बगाई के लिए थास्वरी कीता कौन लेके पढ़तों हैं। पूरे महान समान के सुधारी में। प्राभगी भवगीत यतिरुप का नुवाल असी से अदेक भाचा में हुआ है। वो इस सारे विश्व में आज लोग कीता पढ़ रहे हैं। ये इसमें हर समय से कहा रहा ह تو اگر ہم یہ نراشہ، بے چینی، بے چندہ سے بچنا چاہتے ہیں، کیا ہے افعال؟ نئے موڑا کھری لے لاتے ہیں، نہیں گے کپڑے کھری لے لیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے گیا ہے کہ کمی ہے سماج میں۔ یہ کمی ضرور کیسے ہوگی؟ یہ نشاست کمی ہوگی۔ اگر ہمیں اصلی سُکھ چاہیے تو ہمیں لحاظِ زیبان کو بنانا چاہیے۔ اور گیتہ کا سمجھ کیا ہے؟ کون جائے گا؟ کوئی ایک سلوک جس میں گیتہ کا سار پرابت ہوتا ہے۔ کون جائے گا؟ ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، ہاں، سارا آپ کو پوچھو گے بھگواں جے دعا میں جب لوٹنے کا کیا دعا ہے؟ ہمیں تو دیلی اچھا لگتا ہے دیلی میں پولوشن ہے تو بھی اچھا لگتا ہے نئی سٹڈیز سے یہ سوچنا ملتی ہے کہ آپ بیوی سگر نہیں بھی پیتے آپ کے لنگز میں بیوی سگر پر پینے کا اثر ہے तो अपनों धार में अगर अपनों चाड़ दिवारों को बंद तर गे, चेला पर सकते हो, तो देखा जाए, क्लेशी क्लेश हैं। महमान कहते हैं, धाम से निकलों, महें धामे आओ, वैकुन्ता और कुन्ता, कुन्ता जगत का अरथ है, धाम क्लेशी क्लेश, پھر بھائی کندہ کہا جاتا ہے کہ سکتی سکتی کہ ویڈا کا جو سمدیش ہے اسے کیا ثابت ہوتا ہے ایک ہی ثابت ہوتا ہے اُنہوں نے بھگوان کون ہے اور ہر جنہیں یاد رہا کہ میرا نرنے نہیں سیدہ دیوڑہ پیار سے مرادہ سب کا نرنے ہے کیا اس میں آتی ہو بھگوان کے یہ کوئی ہماری کالتنا نہیں ہے फिर घीता द्वारा ये स्थापिस होता हैं अब हो पाउन हम सब अज्ञान्ता में जनन लेते हैं अज्ञान्ता में पढ़ते हैं पर अच्छर अज्ञान्ता में ही मृती हैं जनन लेते हैं वो भागेशाली भी होती है प्रभानतर्व में मेरे कोना भगवाव नजीग कुरु کوئی نہیں کیوں نہیں ہمیں گل جنگل کے پرشاہد بھگتی کا بیت پرافت کرتے ہیں۔ تو آپ سب کے یہاں ہوں بستیت ہو آپ سب کے پاس یہ سکتیاں ہیں کہ ہمیں بھگواں کے شہنگس وردیں کرنا چاہتے ہیں شہنگس وردیں کا مطلب ہے مجید سکھ شہنگس وردیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ گیتہ میں یہ سکھ شہنگس وردیں ہے اس لیے نشور ہے आत्मा क्या है सनात्म? इसपकार आपने खुराने बसन पर थियाकर नए बसन स्विकार करते हो एक आत्मा एक देखो प्रभुत थाकर अगर देख प्रभुत सकती हो तो भगवतन की दीसर सन में बहुतन की भीलदेव से کیوں کہ मादा देव उपती नहीं पूछा उन्हें पूछा है हे वेदा सम कहरे कर दिहाँ तर हो रहा है कि कैसे निर्ने किया जाता है किस वरह का दिया पूछा हो रहा है अच्छा प्रशन है हया नहीं आप भी ठीक है अगर दिया ہمارے ہر کھاڑیوں کی عنیق ساکشی ہیں سُریا کے دیو تھا، چندہ میں کے دیو تھا، سارے، سیاری، یہ سب گوائی دیتے ہیں ہاں، ہاں، یہ سب ہے، اس بیٹے نے یہ کیا کہ سمجھ لو پونے دل میں نے پونے دس بجے جن میں آج یہ سجن قصہ سن رہا تھا۔ پھر آج کو ساڑھے کیار بجے جا کر سینے پیشن دیکھ رہا تھا۔ وہ اس دبیل کو ریشٹر میں کھا رہا تھا۔ آج یہ ریکارڈ ہو جاتی ہوں گے۔ صرف انیق سے ایک بار یہاں لوگ کہتے ہیں अले ये सादू का प्रापगेटा है दियांतर होता है आत्मा का कौन साक्षी वरता है? तो सूर्य के देवदा, चम्नमार, आरे, वाजव के देवदा, अग्री के देवदा, ये सब साक्षी वरता हैं. पौदेक समाय में थोड़ा विश्वत देकर बच भी जाते پھر یام راج کا کمپیونر کبھی بھی فیل ہوتا ہے تو ہمیں بس کل کام کر کے بچنی ہے سب پھر اس لئے بھگوان کہتے ہیں گیتہ میں کھایا کھلو پر دوشوں سے بچو ادھارہ دیتے ہیں ادھارہ دیتے ہیں کمکہ پھول جے جل میں ہیں جہاں کوئی چھوٹا نہیں भवान ने ये नहीं कहा अर्चुन से अर्चुन के इच्छा दी जो इसमें नहीं लड़ें पर भवान ने क्या करा तस्मान सर्वेशु करेशु महमनस्मान यूदचा महमन बुदी को मुझे अर्पन करते रहे मेरी खुशी के लिए लगो जैसे भवान कहते हैं याद करो शीयर کہے جو اسی دل ہاں سے یہاں سے کہہ تھے وہ سوچے کون تھے ہاں اس کو رشتہ مانگا جو بھی تم کالیاں کر لو کس کی خوشی کے لیے کس کی کھاؤ کس کو بھوک لڑاؤ تو دان دو کس کو بھگوہاں کے بیچ میں بھوک تیلا میں گیا تھا پسند سرولوں کو مریت میں گیا تھا وہیں اس کی بھوک تھا ہم نہیں ہم بھوک تھا وہ ہیں अस्थी स्वोमी, وہ हैं हमारे शुक्त. तो ये जो घीता का घ्यान है, इसकी बहुत आवशक्त है. हमारे गुरुजी ने प्रयास किया था, बाहरत में स्कूलों में घीता के से चले जाएं, पर सरकान ने साथ नहीं दिया. तो ये जो घीता विश्रम की से� ایسے لو پرچار کے سیوہ تمہیں مہش پاستوں میں بھگو گیتوں میں بھگوان جا جاتے ہیں. سب بھگتوں میں سب سے پریہ کون ہے؟ کون ہے؟ ہاں؟ آپ ایسے کون کون بھگوان کے پریہ بننا چاہتے ہوں؟ یہ بہت ایسی بات ہے آپ پوچھو گے کیسے ہم پریہ بنائیں گے؟ ہیں نہ؟ تو بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا کہ بھاگوں نے یہ کہا خاص کر کے گیلہ جہنگ کی اوپلاک تھی گیلہ جہنگ کی کب تھی گیلہ جہنگ کی اوپلاک تھی سارے بشنوں میں پیار کر رہے تھے ادھر سے ادھر محکم ہیں جیتہ کبھر سے محکم ہیں آج آپ دیکھتے ہو گیلہ جہنگ میں کچھوں کی سنکھیوں بڑھ رہی ہیں یا گھٹ رہی ہیں آپ کو جل پتہ ہو آپ کے اسکاں سنسلی میں کئی کے محلے سے ہیں پہلا کینڈر تھا رادہ پاستہ ساتھی تھا پہلے تو چھوٹے استھاں میں تھا انام دی کے دن میں دو کمڑے کے استھاں میں پھر ہاں سے ہاں سے تھا کوئی جی گئے بنگانی مارکٹ میں بنگالی مارکیٹ میں چاٹ کھانے جاتے ہوئے بنگالی مارکیٹ میں جاتے تھے وہاں لوگ چاٹ کھانے ہاتھ ہمیں یاد ہے کہ ہم دو سال بنگالی مارکیٹ میں تھے تو پھر بنگالی مارکیٹ میں جائے چھوٹے گھر میں گھر کا مالک تھا سرکاری نوپر اور وہ نے سرکاری نوپر جاتا اور میں ملکانی نے ایمیڈنیسی لکھیا تھا आते हैं आपको? तो जब मैं से लिग्रेट किया इन्हां जग जग अधिका ही होता था आदमें ज़्यादा का ज़्यादा देता था तो उसके लिगे मंदर में खाली करो मुझे ज़्यादा किराया चाहिए मुझे इन्हां था फर्से सथे को उठा कर सलक में रख लिया ये � वो क्या आयता हो गाना था। 6000 बारत को महिना लाया था। फिर अच्छा से बद्धवान ने जमीन ही जानकी से लादा पड़े था। वो नैनी एड में ये जेश्ची प्रदारों अंदिया वाजपाईजी में उसको उठारण किया था। अपसे एक उपनी में कोई چودہ مندہ ہیں جیسے آنکھ کے سباہ میں 6-7 سوڑ ہو گئے تھے سرنگڑ کے سباہ میں 7-8 سوڑ ہو گئے تھے پھر پنجابی بھاگ میں بڑا مندہ ہے کشنہ مانہ مندہ دیکھ گیا پھر روحنی میں روحنی میں بہت بڑا مندہ ہے साने के मंदरे से भी बुड़ा है। भादविर्ण, गाजवा, साइवबाद, पंची, द्वाधा, द्वाधा का मंदर देखा के लिए नहीं नहीं। वहाँ भी बड़ा मंदर पन्जा नहीं। द्वाधा का वो धुरगाव, धुरगाव में दो मंदर नहीं। वो नो شکور محیرمہ سلیمہ کچھ ملانے کا چھوڑا ہے آپ کا گیتہ کولنی ہے تو یہ بھکتوں کی سنجیدہ کیسے پڑی؟ لوگوں کو ریشویت نہیں دیا جا رہا ہے آپ لوگوں کو ریشویت نہیں دیا جا رہا ہے؟ وہ کا تیکس لگتا ہو جاتا ہے ہے نا آپ کو ریشویت نہیں دیا جا رہا ہے؟ تو جیسے اگر کوئی عیسائی بننا چاہے तो क्रिश्ण लोग देश्व देते हैं। अगर हम मुसल्मान मनना चाहो, तो आप चार लाग कमाँ सकते हैं। अगर हम पड़े लखे हिंदु हो, तो मसल्मान मनना चाहो, तो सुनाय मां के लिए चार लाग कमाँ सकते हैं। तो आपको हाई क्रिश्ण का जाप करने के दोरा आना जाता है। तो ये भक्तों की संग्या बड़ी हैं प्रचार के कारण। घीदा आप आती हैं। घीदा तो उन्हें पढ़ा। आड़न संग्या आएं। लोगों ने देखा हाँ। ये हैं असली जी। ये जो प्रचार की सेवा है ये पतीदों के उद्धार के लिए है ایک بدیمان بیاکتی جب کسی اندے کو غلط راستہ میں چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ اس کے ہاتھ کو پکڑتا ہے ایک راستہ میں جھوڑ دیتا ہے، یقین ہوتا ہے۔ تو یہی سیوہ آپ سب کر رہے ہو۔ پچھلے سال میں ہم نے کی تھی۔ کیا تھا میرے سن آپ نے؟ کتنے بھگتوں نے کیا تھا پچھلے سال میرے سال میں؟ اُس کے پچھلے سال؟ اُس کے پیچھلے سارے، اچھا، یہ سارے، یہ جو، کیونکہ آپ بہت پریشان کرتے ہو، اس میں یہ لوگوں نے اتھار پڑا۔ تو ہمیں یہ امید نہیں کرنی چاہیے، جیسے کہ ہماری یوجنہ ہے، یہ سارے، साथ नगर मंदल की आपका मंदल उसके साथ जुड़ा बात हैं चार लाग गीता बात नहीं चार लाग बात नहीं चार लाग बात नहीं चार लाग बात नहीं चार पंजावी बार का मंदल दाईलाग अलग बात रहा हैं गाईज़बार का मंदल 40,000 अलग तो ये जो ये नह ایک بھکت ہیں ہمارے جس نے میں نے پوچھا تھا آپ بھکت کیسے بنے؟ تو اس نے کہا کہ دس سال پہلے میں نے گیتہ کھڑی دی تھی اور کبھی پڑھا بھی نہیں کھولا بھی نہیں سیدھا ہوا رکھ دیا گیا دس سال کے بعد کوئی جو گھڑنا بھی تھی میں پڑھنا شروع کراں۔ میں کہاں ओ, ये संदेश मेरे लिए हैं। और फिर मंदर गया। और मंदर गया। पर दस आगीता खोरी भी नहीं। एक माने भर्गर्गर जाने थे। जीदा बार नहीं थे। कई बार उन्होंने जंटी माली किसें दर्वाजा میں آتمہ ہدیہ کی تیاری کر رہی تھی تو یہ رسیل ہے اس نے سکھایا سمجھایا کہ یہ آتمہ ہدیہ کی تیاری کر رہے گا تو اس نے تیاری کی بات پھر کھول دیا ایسے لاکھوں ادھارن ہیں سارے بریشوں میں تو یہ جو پرچان کی سیوہ ہے بہت ہی مہتمون سیوہ ہے اور جب آپ پرچان میں جاتے ہو सब ब्यक्ति अपका साथ देते हैं अगर आप जाते हो धर गर या मॉल में तो गाधर नहीं में खड़े होते हैं हमें की लज़े हैं हम पहले आये थें स्टॉक खड़ा मज़ाएगा होगो जगड़ा करते हैं नहीं आपकी इच्छा जगड़ी होगो कहें जगड़ा हैं हरिदा समेध नन्दर को कहा जाओ घहर घहर संदेश दो बोलो किष्णां वालो किष्णां बोलो किष्णां सिक्षां किष्णां की जीता की सिक्षां रोपना होगा कहियों ने उनका स्वागत किया किसका भगवाण ने चिननदा हरिदा समेध तो किष्णां ने दरवाजा भी � ताँके पागा आ गए हैं हमने जाने में कहें। कहें उन्हें यह भी कहा, जासूस आ गए हैं संदोगी कपण में। यह ताँको नहीं कहता पोरीं। जासूस आ गए हैं। तो जब आप प्रचार करते हो, कई बाद बेस्ती से नहीं पड़ती हैं। कई बाद, अब जिन से जब میرے سنجیش کے پرچار کے لیے آخر گیتہ میں ہے کیا؟ ہم کہتے ہیں پرابا کے گناہ تھا پرابا میں ہے کیا؟ بھگوان کا اپنی سجی نہیں ہے تو پرابا جی نے مطیبہ ساتھ پر امیں سرد سبزوں میں سمجھایا ہے یہ جب بھگوان کہہ رہے ہیں اس کا آزت کیا ہے؟ تو یہ ہیں بھگوان کی وہانی اور اگر ہم آپ سے ملتی کرتے ہیں جیسا کہ کریشنہ ہونے والی پاتنے صاحب کیا سب چاہتے ہیں ہم بھگوائی کے سمدیس پر آگئے ہوئے ہیں کہ کوئی چاہو یہ جو پرچار کے سیوہ ہیں بہت ہی مہتبون ہیں مجھے پتہ نہیں ہم کو پتہ ہے کیوں نہیں تو کریشن لوگ ہیں بھارت کی کونے کونے میں جا رہے ہیں بھائی بھگ کے ساتھ گھر گھر جانے ہیں. آپ اگر نورتیز بھارت کے جاؤں آنگلین ڈیزرگام صاحب. سب کے پیش میں ملنے ہیں. پیداکش ہی نہیں تھے. آپ آندھر پدیش میں جاؤں, کیرلا میں جاؤں, ایمین آلوں میں جاؤں. ہر دس قدم میں ایک چوش دکھے گا. آپ نے دکھایا ہے. اور بندر دکھے گا. ہر لاکھ قدم میں. ये सब कैसे बड़ बड़ें सचार के माले में करें। किर्शनों धर्गर जागें। आगे महरत में किर्शनों को ये छे चैनल चल रहे हैं। इसने क्या दिखा रहे हैं। हो ये अशोग दुखी था अब ये आदर ग्जाने में बन गया उसको की मंत है। हो महरत ऐसे लो� یہ صحیح بات ہے आम अगर जानते हैं सहाँ जानते हैं तो ये जो हैं एक रूप से देश की सेवाई समाच की सेवाई हमारे प्रदानामस की योजना थी स्वच बाहर जानते हैं सर्गों को साफ रखो सब यची बात हैं तो हमारी योजना का नाम है स्वच के लिए केदें स्व� ہر دن میں مہل ہوگی تو آپ چاپلوسی کی تیاز رکھ سکو گئے جیسی لے آؤ کچھ لے آؤ اگر آپ ہر دن کو اشکت بناؤ گے تو پھر لوگوں کی چھوٹے میں صدار ہوگا ہے گے نہیں تو یہ سیوہ بہت ہی مہند پوری سیوہ ہے کیتہ کے بارے میں آپ सब से निवेज़न हैं। उच्चा के साथ चुड़िए और प्रयास कीजिए। प्रयास करना हमारे हारत में हैं। दीज़ा हमारे हारत में हैं। बग़्मान प्रसन हो जाते हैं। तो मैं आपका भारी हूँ कि हर साल आपके उच्चा से जीता बात रहो। � کچھ سوالیں کیسے ہیں؟ کوئی سوال نہیں ہے؟ ہاں अधिकृष्ण माराजी, सास्त्रों में जलसे ब्राह्मानी का क्वाल्टीज्ञादाई गई हैं, इस शात्याश्ण मुझे चाहिए, सम्तार्वाव मुझे चाहिए, ये क्वाल्टीज्ञादाई कैसे गर्लुप की जायें? तो प्रजास के लिए पुलेगे ना साध्म भक्ति सप्ना बजाएंगे। अच्छा प्रशन है। सही मारे बाद पुरिश्टे हैं। यह जो गुनों का पढ़ते हो शास्त्में, यह गुन हमारे में कैसे आएंगे। यह साथ मैं पूछा। नहीं। प्रामेन की गु यहाँ पर वो जाप करो और शास्य परो सानन पक्ति यह भाव उच्छा बढ़ेगा और यह गुन प्राप्त होगे तो यह जापने चाहते हैं नहीं करोगे तो यह गुन अभगुन बढ़ते हैं वान सलूशन दूद के तारें बेट खराब होता है नहीं से बेट ठीक होता जब करोगे ज्या नहीं तो इन भुलों को अलगों को पाओगे जान्दरों को साथ आने रखोगे एक अभुल बढ़ जाएगे औके? हारे कृष्णा हारे कृष्णा कृष्णा कृष्णा हाले हाले हाले रामा हाले रामा रामा हाले हाले
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

