हरिनाम जप में रूचि कैसे बढ़ाये ? || Instruction to Disciples Series ( Chanting-01 )

Prasad Raval explains why disciples struggle to enjoy chanting divine names despite their sweetness. He calls this condition "Avadhya," a spiritual ignorance that dulls the mind, and prescribes focused practice, guru guidance, and sincere intention as remedies to restore taste for bhakti.
Chapters
رب گاہ کو اس وقت کہتے ہیں بھگوان کے جو نام ہیں چینی جیسے مٹھے ہیں بھگوان کے جو لیلہیں ہیں چینی جیسے مٹھے ہیں بھگوان کے جو انیک گن ہیں وہ بھی چینی جیسے مٹھے ہیں آپ سب کا مٹھا پان اچھا لگتا ہے ہاں اسی لئے آج کل لوگوں کو اتنی ڈائی بیٹیز ہے۔ بھارت جو ہے، بیشتر کا ڈائی بیٹیک کیپٹل بن گیا ہے۔ مطلب کہ سب سے زیادہ ڈائی بیٹیک بن رہی نہیں، کونے بیشتر میں ہندوستان میں ہے۔ کیا میٹھا سب کو اچھا لگتا ہے۔ اکثر لوگ میٹھا انت میں کھاتے ہیں۔ گجرانی بھائی بھائی پہلے کھاتے ہیں۔ تھوڑا لگا ہے نا تو کہا گیا ہے روپا کو سمجھنے کی طور پر بھگوان کی نام میٹھے ہیں اُن کی نیلائی بھی میٹھی ہیں اُن کی گن بھی میٹھے ہیں اُن کا ہر کاریاں میٹھا ہے تو میٹھا ہے تو اِس کا ارد ہے سدھا ہمارا بھاہ ہونا چاہیے بھگوان کی نام میں بھگوان کی قیلیلوں کا ورنن کریں، بھگوان کی اپدیش کا ورنن کریں جیسے بھگو گیتہ۔ جیسے کی بھگوان کا اپدیش جو بھگو گیتہ میں دیا گیا ہے تو ایسے ہونا چاہے بھاؤ۔ پھر واقعیت میں ہم کیا دیکھتے ہیں؟ وہیں نام میں روچی نہیں ہے جیسا۔ نام میں روچی ہے یا بھگتوں کی سچ پولی ہے؟ اگر ہے تو ہم سوچیں گے آپ شدھ بھک بن گئے ہو۔ نام میں روچی ہے ہماری؟ بہت کب ماترہ میں روچی ہے۔ بھگوان کی لیلوں میں بھی اتنی روچی نہیں لیتے۔ اگر کوئی بہت ایک چرچہ کر رہا ہے، کتہ کر رہا ہے تو ہم سنیں گے دھیان سے۔ اگر کوئی کچھ کی چکلی کر رہا ہے تو دھیان سے سنیں گے۔ پھر کشنا کتہ ہو تو تھوڑی در سنتے ہیں بھئی تھک جاتے ہیں نا۔ تو یہ ہے واسق سچائی سماج میں۔ اور روپکہ سمجھے کہتے ہیں ہماری بھگوان کے ناموں حالکہ نیتے ہیں ہماری روچی نہیں ہے۔ کیا کارن ہے؟ کون بتائے گا؟ کیا کارن ہے کہ ہمارے بھگوان کے ناموں میں کم روچی ہے؟ ملے کی بیماری نہیں مانتے ہیں۔ جوائنڈس، جوائنڈس، جوائنڈس، اچھا، ٹھیک ہے۔ پھر روپا کسامی ایک خاص شفت استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، عبیدیہ کی بیماری۔ ہاں۔ ایسے تو پرابا جی نے مثال دیا ہے۔ جب آپ کو جوائنڈس ہو، تو میٹھی چیزیں بھی دی جائیں آپ اس کا سوال انباب نہیں کر پاؤ گے۔ روپک سمجھے کہتے ہیں ہمارے جیب میں عویدیہ کی بیماری ہے۔ سب کی جیبوں میں۔ آپ کہو گے ہماری جیب میں کوئی چھالے نہیں ہیں۔ عویدیہ کے چھالے ہیں۔ کبھی کبھی جیب میں چھالے لگ جاتے ہیں۔ کتنا بھی اچھا تیز بوجن دیں۔ تیز آتا ہے نہیں آتا ہے۔ تو ہم سب کے جیم میں عویدیہ کی بیماری ہے۔ اس کا ارض ہے کہ ہم سب کے جیون میں کھام، کھون، لوگ، موہ، مند، مصریہ کا تیچ پراباہ ہے۔ اس کے لیے ہم بھگوان کے شرنگت نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ہم ادھیک تر مایہ کے شرنگت ہوتے ہیں۔ ہمیں مایہ میٹھی دکھتی ہے اور بھکتی کڑوی دکھتی ہے۔ سچ یا جھوٹ؟ شاید میرہ روڈ کی پرجاہ الگ ہو۔ کیونکہ آپ کے عیلاکے کا نام ہی ہے میرہ روڈ۔ یہاں تو سب میرہ بھائی جیسے بھکت ہوں گے۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ نہیں ہے۔ میرہ بھائی تو بہت مچھے کوٹی کی شد بھکت تھی۔ کیوں کہ من میں 26 گھنٹے ایک ہی بھاو تھا کریشنا کی سیوہ تو روبک سبھی کہتے ہیں کیوں کہ ہمارے جی میں آویڈیا کی بیماری ہے اس لیے ہم بھائی نام کا میٹہ پن محسوس نہیں کر پا دیں تو آگے کیا پرشن پوچھو گے آپ یہ بیماری کا کوئی علاج ہے یا نہیں؟ آپ خودک سماج میں بیمار ہوتے ہو تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو علاج کرانے ہیں نا تو پریشان یہ ہے آج اس سمجھے کا حل ہے یا نہیں ہے حل نہیں کیا ہے حل یوبکہ سب جی کہتے ہیں اگر ہم دھیان پروگ بھگوان کے ناموں کا اچھان کریں گے تو پھر یہ عویدیہ کی بیماری دور ہو جائے گی بہت ایک سماج میں اب ہر بیماری کا علاج نہیں ہے جیسے آج کے باترن میں ایک بیماری کا علاج نکلتا ہے اس سال میں دس نئی بیماریاں نکل آتی ہیں۔ آپ کا پتہ ہے کتنی نئی بیماریاں ہیں جن کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پر ادھیاتمک شیطر میں ہر بیماری کا علاج ہے، جیسے کاماں۔ بھگویں گیتہ میں بھگوان سے ارجن نے پوچھا یہ بتاؤ کہ کس طرح ہم جانتے ہوئے کل کام کر جاتے ہیں۔ بھگواں نے کہا کہ کام ہے ایسا کھوڑ ہے ایسا اور اِس کو آپ ادھیات میں گیاں کے سیوک سے جھول کر سکتے ہوں۔ تو عبیدیہ کے کارن ہم بھگواں کے شرنگت نہیں ہوتے۔ ایک پراتنہ کا اوچارن ہم کرتے ہیں ओम ग्यान तिम्रन्दस्या ज्यानां जणाच्छलक्या शक्षिन्मुन्दमियेना रत्माईश्रीग्रावेनमा ہم سب کا جلم ہوا تھا کس میں؟ جھانتہ میں پھر گروہ سادھو کی سیوگ سے یہ جھانتہ دور ہوئی
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

