हरिनाम का अभ्यास और भक्तों के संग रहना सीखे | SB 11.3.30 | Delhi | 2021 | श्रील गोपाल कृष्ण गोस्वामी

In this extended discourse, the speaker (primarily Shri Gopal Krishna Goswami, presented by Prasad Raval) emphasizes the central role of chanting Harinaam (the holy name of the Lord) and maintaining close association with fellow devotees as the foundation of spiritual progress. He illustrates the power of devotion through vivid scriptural anecdotes—such as a fish that lures others, an elephant trapped by a hidden stake, and the behavior of a moth attracted to light—showing how divine attraction works in the material world. The talk introduces the concept of a spiritual ‘foundation’ (Swarnavanam/Swaranvanam) and the metaphorical ‘dew’ (Shabnam) that nourishes the seeker, urging listeners to build an inner sanctuary akin to a sturdy building. Obstacles like Maya, Arsh, and Dosh are discussed, with practical advice on overcoming them through sincere bhakti, the company of sadhus, and disciplined sadhana. The speaker also addresses modern challenges, encouraging the distribution of spiritual literature, leveraging the internet for outreach, and organizing community events (e.g., anniversary celebrations). Throughout, he calls listeners to adopt Harinaam chanting, engage in sadhana, and support each other, promising that such collective practice yields love, respect, and spiritual upliftment.
Chapters
منشی
کو چاہیے کہ بھاگوت بھکتوں کے ساتھ اکتر ہو کر بھگوان کی مہیمہ گائم کے لیے ان کے سنگتی کرنا سیکھے یہ ودھی अच्यंत शुद्ध बनाने वाली है। जो ही भक्तगण इस प्रकार प्रेमपूर्ण मैत्री स्थापित कर लेते हैं, यो ही उन्हें परस्पर सुख सतातुष्टि का अनभव होता है। इस प्रकार एक दूसरे को प्रोशाहिच करके वे उस भौतिकिंद्रे तुर्फती को
प्रोगती मितुस्ता सुन। ये स्प्रोग आप पागोदम के यावेश कर्में प्राप्प करते होँ और इस अधिखाई में भाइनु विशल्देव के फुत्रों चर्चर की राजिये हैं पागोदम के पाझवेश कर्में आप क्या पढ़ते हों भाइनु विशल्देव की कला رشہ دیو جی کون تھے؟ بھاگوان رشہ دیو آفتار تھے اور اُن کے کتنے پتہ تھے؟ سوہ پتہ تھے بھاگوان رشہ دیو آفتار تھے اور اُن نے کیا؟ میں تک اُن سندیج دیا ہے کہ آپ پانچ بیش کا نتاب سکتے ہیں اُن کے سوہ پتر تھے اور اُنہوں نے سائے سوہ پتر کو کیا دیا؟ کیا دیا؟ اُنہوں نے کیا دیا؟ اور ہمارے شہزیب جی نے کہا تھا ویکی کو پیتا نہیں بننا چاہے پاتھا نہیں بننا چاہے گروہ نہیں بننا چاہے اندھیابت نہیں بننا چاہے۔ اگر وہ اپنے سشے کو وہ مدھیار جی کو ہاں بھیج سکے وہاں سے ہاں بھیج سکے۔ انہوں نے سو پسند کو اپدیش دیا جیون کا کیا لکھ ہونا چاہے۔ انہوں نے یہ کہ بڑا پسند اس لوگوں کے نا ہم دے ہاں دے ہاں پاسند لوگوں کے کہ بھڑا نیشتہ دے ہاں دے ہاں۔ چھوڑو، سفر شاید کرو۔ کہ اس بھی ہی ہمارے کے خوشی گئے۔ تو مہارشہ دیو جی نے رشت کیا اور انہوں نے سو پتھل کو الگ الگ جمع داری میں دی، ان کے جو سب سے بڑے پہ، آپ کو سنائی دے رہا ہے پیچھے؟ سب کرپی
اپنے موبائل بند کر دیں پلیس، بیت
میں بجنے شروع ہو رہا ہے۔ اگر سنائی نہیں دے رہا ہے تو اشارہ کر دیں۔ تو مہنشاہ دیو کے سو پتھر تھے جن میں سب سے بڑے کا نام تھا باہد اور باہد مہنشاہ نے ایسے حاجہ کیا تھا کہ پورا سماج بالکل سنتوش تھا شاہ سمجھ آپ پڑھتے ہو کہ جب راجہ دھانک بھاو کا ہو پرجا بھی سُدھ پراب کر دیا ہے اگر آج آپ اشوری بھاو کا ہو پرجا کا بھی کاش ہونا پڑتا ہے تو بہت بہت آج بڑے دھانی تھے انہوں نے سب کچھ تیار دیا تھا اور اس میں کوئی پیزی کی پرجا کا کیا نام تھا بہت بہت شاہ بہت بہت شاہ کے لیے ان کے میں نے اُن کے شاستن سے کوئی پجا سکی تھی جیسے آپ آج بھی رام راجے کی چرچہ کر رہے ہو کہتے ہیں لوگ؟ کیوں؟ کیونکہ رام راجے کی سمجھ ایسا راجے تھا کہ کسی کو کسی طرح کا قیس نہیں جو اگر کوئی مرنا نہیں چاہے ملتے سے بھی بات سکتا تھا۔ ملتے کا سمیں بھی جھوٹے خود چھونتے تھے۔ آج اگر آپ ملتے کا سمیں چھونیں گے تو سمشہ جھاڑ بند بند جائیں گے۔ تو پھارت مراج کا راج ہے۔ اتنا دھارمیت کا پورے پیسوی کا نام بن گیا تھا پھارت مراج کا۔ اور بھائی مراج نے اپنے شاستے میں چھاگا اور جنگل میں گئے تو سب سے بڑے بیٹے کا نام تھا بھائی مراج باقی جو نو بیٹے تھے ان کو اُنہوں نے بلکل بھائی مراج شاستوں میں مجھ کو چھوڑ دیا تھا جس نو بیٹے تھے انہوں نے انہوں کو بلائاتے تھے نوے کے اندر پھر جس نو بھائی تھے بینا کسی وقت تک کے یاسا کرتے تھے جیسے چار کمارا تھے وہ ننگے گھومتے تھے اور جب انہوں نے پیار کیا وہاں کہتے تھے دیوے دھام میں پروبیش کرنے کے لئے جو دوار پہنچے ہیں انہوں نے روک دیا اتنے ننگے بچے اندر کیسے جا سکتے ہیں پھر انہیں خلود آیا انہوں نے دوار پہنچنا دیا تو یہ جو نوے کے اندر تھے نوے کے اندر جو کس کے بیٹے تھے ان کے پاس بڑا ڈھیارا جہان تھا اور ان کا ایک ہی قدر ہے تھا سارے بشک میں کمارش جیسے بند کرنا اور لوگوں کو کہہ رہے تھے جہانے کو بیٹھ رہے تھے تو نو بیٹے جن کو نوے کے اندر کہا جاتا تھا وہ بندے پچارہ اور اسی بیٹوں کو انہوں نے کیا کیا اسی بیٹوں کو انہوں نے برامکل گیان دیا اور وہ بھی دھلوں کا پالن کر رہے تھے جو زمیں کے اندر تھے وہ زیادہ ایکسپورٹ تھے وہ زیادہ جو بھی ہوئے تھے اور جو اسی بیٹے تھے انہوں کو برامکل سکھ کر دیں اور دس اور بھائی تھے انہیں بشروں کے الگ الگ ستان میں راجہ کے لیے ستان دیا ان دس بیٹے تھے ان کو شتریہ سکھائے میں سکھائے میں سکھائے میں
سکھائے میں سکھائے میں سکھائے میں سکھائے
سکھائے میں سکھائے میں سکھائے میں سکھائے سکھائے میں سکھائے میں سکھائے میں سکھائے میں سکھائے امدد بھائیوں میں سکھائے سکھائے میں سکھ کی مجاہدہ ہے تو ایسے پرکار بھگوان پریشانی میں آبھے بیٹوں کو جمع دا ہی رہی اور ان کے جو نو نویں گندے تھے اور ان کے کیا نام تھے اگرہام تھا حمیر حمیر अंतरिक्षा, पूदा, पलायां, अगोत्र, रुमिना, अगोत्र, अगोत्र, बजान। तो इनके ये नौ बेटे थे, उनको ने क्या लिया, अगर नहीं लिया, तो ये जो नवागेनर थे, याता करते रहते थे, अलग अलग सानों में, याता करते रहते थे, तो مہاراج ریمی راجہ تھے اور مہاراج ریمی کے محل میں سندھا پکندہ پہنچ گئے اور سندھا پکندہ وہاں پہنچ گئے مہاراج ریمی اور مہاراج ریمی کے کیا اچھا تھی؟ کیا تھی اچھا؟ اُن کی اچھا تھی ادھیادی گیان کو پرات کرنے کے تھوڑوں نے بڑے پریم سے اِن بھائیوں کا سب بھائی تھے پیمت سے اندر سوالت کیا جیسے یہاں پر دیو جو کمار پہنچے تھے پیتو مراج کے محل میں پیتو مراج نے کیا کہا کہا کیا سب آگیا ہے کہ تم میرے محل میں آئے ہو بڑے اچھا سے اُن کی چرنز ہو جو ادھیاد بھاو کا بیاکتی ہیں وہ خوش ہوتا ہے جب کوئی سندھ میں گھر میں آتا ہے. آج کے water میں جب لوگ دیکھتے ہیں سندھ ہمارے گھر آ رہا ہے تو دروازہ ہی نہیں کھو رہا ہے. اُن کو ڈھے رہتا ہے کہیں پیسے تو نہیں مانگ رہا ہے. پراشیر سمیں میں جو سندھ کے راجہ تھے اُنہیں راج دیکھا جارہا تھا. تو اُن کی اچھا لیتے ہوئے اس طرح کہ سنتوں کو نماندھن دیا جائے اور اُن سے کیا پوچھا جائے جیونکہ کیا لکھ سکتے ہیں تو جو آرانجی می نے اِن نفع کے دس کا سواغت کیا چھلند ہوئے وہ کہا کیا سوابھاگیا ہے میرا کہیں تم سب آئے ہو کہا میرے محبت ہے اور اُنہوں نے اُن سے عنیق پسند پوچھے تو آپ دیکھتے ہیں بھاگوتہ میں پیشن پوچھتے ہیں ایسی جہاں پیشن بنانے پوچھا کیوں کہ کیا لکھ ہونا چاہتا ہے شبید گوھر سوامی بہت پسند تھے تو اسی پرکار یہ مہینہ نمی نے انیک پیشن پوچھتے ہیں اور انہوں نے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے نو بھائیوں سے تانے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو بھائیوں سے پرشن پورے تانے نو भाई ने उत्तर दिया بھائ फिर मारा ने मी दूसरे भाई के पून पून पुछा था वो उसके चरद पूछा था उनसे अलग अलग प्रशन पूछा तो वो उनसे नौ के नौ भाईयों से अलग अलग प्रशन पूछा था तो यहां पूछा तुम्हारे के बेटे से वो उत्तर दिय ہائی رہم کی مہمہ سب گنگوان کیا جا رہا ہے تو آج کے اس سلوک میں پربودہ کیا کرے ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ اس وقعہ ہم بکتوں کے سنگ میں رہ کر ہائی رہم میں اُچھی لے ان سلوکوں میں اس ادھار کے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ ہمیں شادل سنگھر میں رہنا چاہتے ہیں اور بھکتی کے بشیر میں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں ھمیں وہ ھ کون ہے؟ سیدھا سومی سیدھا سومی نے بھی کہا ہے بھکتی بھی اتنی شکری ہے کہ آپ آنکھ بھن کر کے بھی دھوڑو گے گیرو گے نہیں بھکتی جو ہے is very useful آپ کوئی کبھی یہ نہیں کہہ سکتے ہو کہ نے سیوہ کی سائیں بیش لیا جان سے یا گیان سے جو بھی بھکتی کرے فرسواللہ آب نے کہا تو یہاں کہا جا رہا ہے کیونکہ ایک دن وہ سیکھنا چاہئے کہ اس پرکار ہم گوڑھوان کے بھکتوں کی سنگل رہے ہیں اور کس پرکار ہم سب مل کر گوڑھوان کی مہیمہ کا اُنہوں نے کہا تو اس ادھیائے میں یہاں 6-7 سلوک ہیں جن کا ایک ہی بھاو ہے ایک ہی سندیش ہے کھی بار آپ لوگ پوچھتے ہیں ایک ہی بھاو بار بار کیوں پڑھ ست کیا جاتا ہے اس لئے پڑھ ست کیا جاتا ہے کہ ہم اتنی دھیلیں کریوگم ہیں کہ ایک بار سننے سے موچہ نہیں پہتا بار بار سننا پھر کوئی پیش اس لوگوں میں کیا کہا جاتا ہے ہمیں سیکھنا چاہئے کہ ہم کس طرح بھکتوں کے سنگھ میں رہنے بھگوان کا گلوان کرنے کے لئے اور بھگوان کا گلوان کرنے سے کیا لاحب ہوگا بھکتوں میں پریم بڑھ گیا بھکتوں میں اور سنتوشتہ تو کئی بار لوگ پوچھتے ہیں آپ سے کہ یہ جو مہینہ کرتے ہو اس کا کیا ضابط ہے پوچھتے ہیں آپ کو کیا ملتا ہے تو یہ سلوک میں کہاں جا رہا ہے کہتے ہیں بھکتوں کے سمجھ میں کرسن کرو گے گلگان کرو گے تو بھکتوں میں پریم کی بھاوزہ پڑے گی یہ سچ ہے اور اس کائے کے دوارہ کیا ہوگا آپ سنتوش بھی ہوگے اور آنند بھی محسوس ہے مولی کرسیٰ میں ہم سب آنند خوشی چاہتے ہیں سچ والا ہے کہ اپراپ تھوڑی ہے کوئی بیکتی یہ کہہ سکتا ہے I am very happy अब नो प्राब्राम नहीं है। बुख लोग कहते हैं पर चाय कोरे आरपत्र भी हो अन्त में उससे साथ परके कर्षनों को अनुबाव करना पड़ते हैं। यहां पुर्पुता मारा जिम्मी को कह रहे हैं कि हमें भक्तों के संग में रहकर किर्षन करना चाहें। इससे क्या हो आदर दूसरे भगतों के लिए पढ़ेगा। क्या अनुमा बोलेगा? हैपिनेस और हैस्वैस्वैस्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्वास्� پھر جو ادھیاز بھاو کے ہیں وہ کیا ہے؟ سوک ہو یا دکھ ہو وہ ان کی اوچی ہے ہائی نام پھر ہائی نام اکیشن کرنے کے دورہ کیا پرابت ہوگا؟ سنتوشتہ اور خوشی اور بہت اچھ سنتوشتہ نہیں ہوں کتنے بھی پریاج کرو آپ سنتوشتہ پراب نہیں کرسکتے بھاگوتے میں ادھارن دیا جاتا ہے آپ کو کبھی کبھی چمرے کی بیماری ہوتی ہے تو جب چمرے کی بیماری ہوتی ہے خجلنے کا دل کرتا ہے جو اب شروع میں کرتے ہو تو تھوڑا آنن آتا ہے تھوڑا سو کیونکہ کرتے جاؤں گے تو کیا ہوگا وہی بیماری اور گمبیر بن جاتا ہے تو اسی ادھارن دیا گیا ہے یہ بتانے کے لئے بھاگوتا میں کہ یہ ہیں بہتے کائیوں کا فائدہ شروع میں تھوڑا سا آدمی ہو جاتی
ہے
اس لئے ہمیں ایسے کائیوں سے بچنا چاہے تو سنتوشتہ और खुशी तो एक प्रकाया की खुशी हैं बहुते खुशी शुरू होती हैं और हम आप से जाते हैं बहुते खुशी के विच्चे में हम कहते हैं स्टार्ट एन एंड जाते हैं किसी काहे को ले लो किसी सफोला को ले लो शुरू में राजना दाएं तो वस्मा प्रेवारे हैं and happiness obtained by spiritual activities वो क्या है केवल बढ़ते जाता है वो केवल बढ़ते जाता है ये रुपा को कभी नहीं कहना है तो एक स्लोक में आ जा रहा है कि سنتوشتہ اور خوشی ہمارے مند میں یہ بھاو رہنا چاہئے کہ بھکتی کے دوالہ آپ اصلی آنس انباب کرتے ہوں بھکتی کی پوری شہرسائنگ تھی جو گوسوں میں تھے بنداون کے ان کے پاس ہر پرکار کا سکھ تھا تو ان کی اوٹھی نہیں تھی بہت ایک راجے کا شاہت کرنے والے تھے وہ کہاں گئے؟ بنداون گئے وہاں مدوکڑی کر کے جی رہے تھے اور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کرشتے ہیں کیوں؟ کیوں وہ جھڑی ہوئے تھے مبارک دعوت پوچھانے میں ہمارے مند میں یہ بھاہ بیٹھنا چاہئے مہازمیؐ نے پوچھا ہم اس عجیانتہ سے کیسے نکلے؟ مہازمیؐ نے بڑے ایک اچھوڑت پسن پوچھے وہ نے کہا میرے جیسا ملک کیسے پودک ساگر کے پاس جاتا ہے ملک نہیں تھے یہ ہمارے سنطوں کی وعدہ ملتا ہے سنطوں کا بھاو کیا رہتا ہے ہمارے وعدہ کا بھاو سنط اگر کسی کو آشبا بھی دیتے ہیں جیسے کہ آپ محسوس فیضانت میں دیکھتے ہو کہ ہمارے جو گوسومی تھے کسی برندت کو لکھنے سے پہلے دوسرے گوسومیوں کے بعد جاتے تھے کس لیے آشبا تو آپ کو نہیں لے گیا اور کئیوں نے کہا ہم آشبا دیں گے پھر ایک ہی شرط پر کیا آج میں ہمیں نہیں لے گیا تیسرے کشنرال کھڑے ہو جو اُن سے نبی بنتی کی ہاں اُن نے کیا کہا میں نامی میں اشودوں کو بہت زیادہ نامی نہیں دیتا یہ ہے بھی رمزہ کا بھاو نیوہ دولہ ساکھو کہ ہمیں نیک رشنائی دی ہیں وہ کیا کہتے ہیں نیک رشنائی میں میں ہوں پتی پوانے دیتا ہو ادھرا موسمہ پریتہ بھگونہ پہ بھی آتا ہے آپ افضالی دل ہو پتیدوں کا ادھار کرنے کے لئے پھر میرے جتنا پتید کوئی ہے ہم آگیاں دھڑا سوچتے ہیں I am no.1 میں no.10 پھر ہمارے جو چارے ہیں انہوں نے ہمیں سکشت دیا کہ کیا سوچنا کہ آپ سب سے پتید ہو یہاں کہا جا رہا ہے کہ بھگتوں کے سنگ میں رہ کر کیلتن کرنے سے ایک ایسے کے پرتیب پریمی بڑھتا ہے یہاں یہ کہا جاتا ہے یہ سچ بات ہے آپ اگر بھکتوں کے سمبند میں پریمی بڑھانا چاہتے ہوئے تو ایسے دھیائیں میں ہیں انیک شروع ہیں جن کے دوارہ یہی سمدیج دیا جا رہا ہے کہ بھکتوں کے سنگ میں جائے گا ہمیں کیا کرنا چاہئے اوکیسن کروگے تو आपका अश्टो देश दे, क्या हो रहा? अश्टो बढ़ेगा। और इसके दुआरा आप संतुष्टा भी अनुभाव करोगें। पर इसके दौरा असली कुछ भी आरेगे। इन्हीं तो आप किता भी प्रयास करोगें। यह संभाव भी है। आगे वो कहते हैं, जब आ� तो अगर आप इंडिया जिफ्टी को त्याँगना चाहते हो तो क्या करना चाहें? अगर आप एक नोक्री कर रहे हो और आप को दूसरी नोक्री में नहीं उसे ज्याना अच्छी सुविधा तंगार के तो आप लोगें आगर नहीं आप सुविधा लोगें तो to give us something inferior We need to develop something superior. Is that right? So, یہاں کہا جا رہا ہے کہ اس کے اتھر میں بھاگیاں لینے سے ہمیں ایک دوسرے کو اتھر میں encourage کر دیں اور اس کا کیا پینام ہے؟ ہمیں ہندوستیوں پر وہ چھوڑ دیں۔ جیسے کی خشک بھگتی میں چھوڑنے سے پہلے بھگ بھگ سارے بھگ کچھ انیک پرکار کے پاپی کاریوں میں چھوڑے تھے پر انہیں چھوڑ نہیں پڑھے تھے تو جب ہی نام سرکار کیا پھر ایسے زیادہ دیر چھوڑ گئے تھے جب پرابا جی امریکہ گئے تھے ان دن امیریکہ میں ڈرڈ ریولوشن تھا وہ سرکار اب وہ ڈالر کسٹری تھی امریکنز کو ڈرڈ کی بیماری سے چھوڑانے گے तो नहीं चुणा पाए। और फिर उन्हें देखा कि स्वामी जी, इनकी संसा में भोग चाय भी नहीं पिले। वो आये प्रापा जी को मिलने। उन्हें कहा, हम अपने प्रापा के लिए अच्छा जाने के लिए अपने प्रापा के लिए अच्छा जाने के लिए अपने प्रा Because you have to give them a positive alternative. And the positive alternative is... और उन्हें अमें... लोग ड्रा क्यों रहे थे? Stay high. हमारे भगतों ने एक पोस्टर बनाया था, Chant Hare Krishna and stay high forever. ये ही संदे اس سلوک میں بھی دیا جا رہا ہے اس سلوک میں بھی بلے دیا جا رہا ہے کہ جب ہم ہیناں کرتن میں جھڑتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں ہم ایک دوسرے کا اصحاب بڑھاتے ہیں جب ہم لوگ کرتن میں جاتے ہو ناستے ہو ایک دوسرے کا اصحاب بڑھاتے ہو گے تو جب کرتن میں شو نم کرتن نم کے دوارہ جب کرتن अब भगवतम का क्लास हो, अब जो भगवतम पढ़ते हो, तो मिलकर पढ़ें, अब एक दुसरे ओसा उड़ाते हैं. तो यहां कहा जा रहा है, कि अगर आप इंद्यातित्ति को छोड़ना चाहते हो, और यहां यह कहा जा रहा है, इंद्यातित्ति ये किसका कारण? कश्टों اُن کو analyze کرو، دیکھو گے. They are all bad for health. ایسے کی smoking, drugs or anything. Smoking. ہاں کیا پناہ مطلب ہے؟ Cancer. ہم کئی تو
ایسے ہیں.
Cancer. We will go. Cancer کے warning میں لیتے ہیں. چھوڑنا چھوڑ نہیں سکتے. چھوڑ نہیں سکتے کیوں کہ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے
ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک
کیوں؟ یہ دیسے بھی ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دیسے بھی ہے ایڈکٹک کیوں؟ یہ دی وہ ہیں सरे कश्चों नकर हैं. तो ये हैं सरे कश्चों नकर हैं. आप अगर चुरा पिओ, कुई भी काये देकर, ये हैं, उसके दोड़ा क्या, क्या परिणाम होता है? उसके दोड़ा बहरे में परिणाम होता है. शास्त में उधान दिया जाता है अनेक पश्च کوئی مچھلی کو پکڑنا چاہے تو ابھی نٹ کی نیچے کھانا جوڑ دیتے ہیں جو دوسری مچھلی دیکھتی ہے سو جاگے کھاتی ہے کیا آتا ہے وہ پھل جاتی ہے جو ہیلر ہیں اس کو پکڑنا بہت مشکل ہے تو شکایے کیا کردے کوئی خاص ڈھون بجاتے ہیں خاص ڈھون بجاتے ہیں کہنے جو بھاگتے رہتا ہے وہ کھڑے ہوتا ہے یہ دیکھ لیں یہ ڈھون کہاں سے آگئی ہے وہاں جو واشنگین کا مندر ہے اس علاقے میں ہر کوٹی میں ڈھون بھاگتے رہتے ہیں وہ رکھ جاتا ہے یہ دیکھنے کے لئے یہ دھون کہاں سے آئی ہے جو رک جاتا تھا شکاری کیا کرتا تھا وہ بھی مال دیتا تھا ہاتھی جو ہے اسے پکڑنا بہت ہی مشکل ہے تو وہ کیا کرتے ہیں تو ہاتھی ہے اس کو وہ جو ہاتھی ہے آدمی کا پیچھا کرتا ہے وہ آگے ایک کھڑا کھڑا ہوتا ہے جو اسے گھاس سے ڈھکا ہوتا ہے اور جب وہ ہاتھی اس کھڑے کے اوپر آتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کھڑے میں پہنچ جاتا ہے۔ تو شاستر میں پھر تتنگا تتنگا ہے جو ہی اتنائی کے لئے لائی تھی۔ تو رات کو جب آپ اتیجر آتے ہو تتنگا کہتا ہے۔ اوہ یہ روشنی کی میں رات دیکھ رہا تھا۔ जो उसने जाके बैठता है तो क्या होता है पतंगा से वो भाव गर्मी से इच से वो जो पतंगा है जल जाता है तो शास्त ने कहा क्या है ये भगवतम के उदभारन है कि जिस प्रकार अनागरद पशू इन्दियों जिवति की कार्य में آگشت ہونے کے قانون پھرستے ہیں ہم جو منسور ہیں جن کی جو پشو ہیں وہ اکثر ایک ہی شطر میں ان کے سپرمیں جڑتے ہیں جیسے کہ موت ہو اسے کیول بجلی کرے اسے خان پکے خان کی سننا چاہتا ہے پھر جو ہم منوشے ہیں ہم کیا چاہتے ہیں نیتر دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کھانوں دوبارہ کہ इन्दिया दिफ्ती का कारण क्या है भौतिक आकर्शन और भौतिक आकर्शन जो है जब तक हमारा भौतिक आकर्शन रहेगा तो तो क्या परिणाम होगा आपको भौतिक संसारा में जन्मन मित्ते के बंदन में तो इसलिए आप देखते हो कि इसलिए वड़न क्या है کس پہونڈ پر ہم سے شورم کیتنم شورم کیتنم ان ایک روپوں میں ایک ہی سمدیج دیا جاتا ہے اس میں آپ کو کہہ رہا تھا اس ادھائے میں بہت بہت ورنن ہے بلد دیا گیا ہے شادک سنگڑ شورم کیتنم شورم کیتنم اور پورے भगवतम में हर जगह आप के देखते हूँ थात परे में प्रतंस्कर्ण में भी साही नाम कहा है कि उपर बल था श्रिवता सवा करा कृष्णा पूर्य श्रिवन किर्ष्णा अब एक ग्यावेश्कर्ण में पोच गए हो वहां भी यही भाव तो यही भाव अनीक रपू में प्रस्पत के जा जा रहा है और चात्रे में क्या लगा गया اسے عرشہ دویش سے بچنا چاہیے اور آپس میں بھگانی کرنا چاہیے دویش اور عرشہ سے بچنا چاہیے تو ہمارے ہنیں انہیک اناترس ہیں اناترس کا عرش ہے کمچھوڑیہ اور اگر آپ ان انتہ سے بچنا چاہتے ہو تو کیا ہے اُپائیں ماتی ہو اگر شدہ شدہ صادق جو شروع میں وہاں ہندے میں کیا ہونا چاہے یہ شدہ کہ ہمیں جیون کے نقش کو پرات کرنا ہے اور جب ایسا وچار ہو تو پھر کیا ہوتا ہے شدہ صادق آپ کو کسی سادھو کی سنگت پاپت ہو گئی ہے اگر آپ سب ایک دوسرے سے اگر آپ سب کو ایک پرشن دیا جائے آپ بھکتی میں کیسے جھڑے آپ کیسے جھڑے بھکتی میں یہ چین میں یاتر کر رہے تھے وہ کوئی کتاب بیچ رہا تھا بیچے پر دے ان کے بات پہنچا انہیں کتابیں اور پھر یہ سنگت ہم پرات کرتے ہیں یعنی کیا دو صادق ہیں ایک ہے جنس صادق اور دوسرا ہے باقی صادق پڑھ سے مجھے کوئی جھگونی ملا تھا جس نے کہا مجھے سڑک میں کس نے پکڑا ہو اگر آپ شد صادق کی سنگھت پات کر گئے تو اس کے لئے دوبارہ کیا ہوگا آپ کو اصلی سندیش ملے گا وہ جو ہے پیار اور آپ یہ اصلی سندیش کا پالن کریں گے تو کیا لاب ہوگا کیا لاب؟ اناسز میں ملے جو آپ کے اناسز ہے وہ پھنگ لیں گے تو یہی سندیش اس شلوک میں بھی دیا گیا ہے اس شلوک میں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ भक्तों के संग में रहे कर हरी नाम करोगे तो आपका एक दूसरे के प्रती प्रेम, श्रदा, आदर पड़ेगा। अगर आप बान दो, आप मंदले में जाते हैं तो भक्तों के साथ श्रवनम कितना नहीं करते हैं तो आपका प्रेम ही नहीं पड़ेगा। इस बात प्रच आप इसलिए कहा जाता है सादना भक्ति सादना भक्ति में आप भक्तों के साथ आते हो किर्चन करते हो उसका बढ़ा गेहरा बापरत है इसलिए जो घैने में भी जाते हों कौंके किस्छनी पूरी उनके लिए भी बढ़ा बहत्तपूर है कि हम भक्तों के संग में हर शर्मनं के संग यह तात्वे में यह कहा जा रहा है कि सम्कितन के द्वान यहां होता है हम इंजिया चित्री को त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे हैं तो त्याग रहे जो प्रदाद मनार्ज के पिता ने ने से पूछा तुम इतने महतरपन विष्यों को पढ़ते हो सबसे महतरपन क्या विष्यों था प्रदाद ने कहे गा स्वरंवनम किर्तिनम विष्यों स्वर्णवनम पारथ है तो स्वर्णवनम किर्तिनम हमारा फाउंडेशन है जैसे एक تو building کسی پر بھی گر سکتے ہیں اسی پرکاہ ہم بھکتوں کا spiritual foundation اگر آپ کون بنانا چاہتے ہو کیا ہے وفاہی؟ کیا ہے وفاہی؟ شبنم کسنم یہاں کہا جا رہا ہے شبنم کسنم کے مادیم سے جو بہت ایک آکشن ہم سب کے حیدرے میں ہے اور جو نے بھگوان سے پوچھا تھا کیا کان ہے کہ جا دے بھی ہم گلدان کر سکے؟ اور وہ نے کیا کہا؟ ہم ایسے کھولے کے راج کو کھولو بھگوان نے کہا کیا ہے کان؟ پھر بھگوان نے کہا جان کی تلوار سے اس کا موت کر دو یہ نہیں کی آپ جانتے ہو یہ میں کمی ہے آپ اسے رہنے دو آپ کے شریع میں سمجھو کہ گہری بیماری کا لکھشن آتا ہے تو آپ صورتن دھوڑتے ہو ڈاکٹر کے پاس جہاں وہ لکھشن کو رہنے دیتے ہو تو اسی طرح بھوکی طور پر بھوکی کہتے ہیں جہاں کی تلوار سے ایسی ہاں بہت کرو جہاں کی تلوار کا کیا ہاتھ؟ شاصن کی سکشن اس لیے شاصن آتی ہیں بہت امتحان ہے اگر آپ شاستنگ ایڈھین کرو گے تو یہ زیادہ سمجھتا سے آپ اس میں بہت کر سکتے ہوگے آپ آپ کو کچھ سمجھ سکتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں اگر آپ کچھ سمجھتے ہیں پھر یہ وکھولی نیم ہے اس کے بارے میں کوئی کسی کے ساتھ ڈال سکتا ہے یہ نہیں کہ یہ بھارتیوں کے لئے ہے جیلیوانوں کے لئے ہے آپ اسے کسی کونے میں بھی جعب کر سکتے ہیں شیطان مہبول نے کیا کہا؟ کسی بھی تیارچے دیتا ہے نگرہ دیتا ہے سبز پچھلے اور بڑے بڑے دنیا کے کونے کونے میں کیا ہوگا؟ دنیا کی نام کو پچھلے और ठाकर भक्तिनोर जी ने कहा था एक महान सेना पती आएंगे जो की यहाई ना हमको क्या विश्व के हर कोड़े में पुछाएंगे जी महान सेना पती कौन थे और ये सारा हम ठाकर रहे हैं पुपा जी कहा विश्व के हर कोड़े में पुछाएंगे जी महान सेना पती کیونکہ بڑھ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ प्रभाजे का गुन्गान कर रहे थे तो उन्हें बड़ा च्या प्रभाजे की प्रतंस रखी और शायर विश्व में ये सुचना पहुँची थी तो हमारा प्रयाज क्या होना चाहिए हम प्रभाजे की खुशी के लिए कोई खास कार्य करते हैं तो हम सबको सोचना चाहिए हम مور حرینام क حرینام بڑھ کرو گے لوگ سنیں گے اور اُس کا ناپ ہو گے گھنٹوں کا پتہ ہمارے بھگت پیعاس کر رہے ہیں کہ اور بھی گھنٹ بادر جائے کیوں کیونکہ اِن گھنٹوں میں ہے دل کی جان ہمارے اچاریوں نے کیوں ہی سیوہ پر پھل دے गिर्मे हैं दिव्यज्ञान। अगर आज आप देख रहे हों कि इसकार संसा के उर्भाक बढ़ रहे हैं सारे विश्व में, उनका मूल कारण क्या है इन गंतों के मालेम से? अगर गंत नहीं होते, तो ये पुचार नहीं हो बाता है। प्रापा जी कहीं योगिना थी, अमेरिक पिर प्रापा दे कहा, अगर मैं माया के लिए भी भी भी भी होगा, अब मेरे पर हत्यार है माया का यूट करने के लिए, वो फिर एकदम गए का, तो हमारा भाग्या क्या है, प्रापा जी हमें हत्यार नागच दे गए, और जो प्रापा जी थे, वो एक आपका आपका आपका � विदेरी आना, गंदों को चुपाना, उनको वित्रन करना, चन्दाई खड़ा करना, सब अकीले करना पर आज परबाशी क्रिपर से आपको वेरी मेरी मेरी स्ट्रेयार मिलते हैं आपको किताबें वेरी मिलते हैं हमें किताबों उठाना है जाना है اور لوگوں کو اس کے پوچھ بنائے۔ تو ہم بھکتوں کے لیے یہ بھکت ڈیسٹریبیوشن مددشان بن گیا ہے۔ تو ہمیں یہ ایک پریزنٹ ہے پھرپال میں۔ اور کیا پریزنٹ ہے؟ موہ ہائی رام موہ پریچنگ۔ تو یہ ساتھر میں لکھا ہے کہ جب ہم ایسے کریں
گے
अगर वोडियों के लिए तुम्हारे के लिए करते हैं, तुम्हारे के लिए तुम्हारे के लिए तुम्हारे के लिए तुम्हारे के लिए तुम्हारे � اگر وہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ہم کچھ ایسے پیچھے رہے ہیں تو جب آپ ہائی نام میں جاتے ہو کئی لوگ تو پہلی بار جب آتے ہیں اُنہیں آپ کہتے ہو نو ٹی نو کوفی اُن کا ہائر ایٹ ایٹ کرتے ہیں پھر وہ دیکھتے ہیں باقیوں نے چھوڑ دیا ہے تو ہم کیوں نہیں چھوڑ دیتے ہیں ہے کی نہیں؟ تو جب آپ ہائی نام میں جاتے ہیں प्रचार की सेवा में जाते हैं दूसरे व्यक्ति देखते हैं ओहो ये क्रियस्ता हैं इन्होंने ये सब छोड़ दिया तो हम कुछ नहीं छोड़ सकते हैं तो इसलिए शादु सर्जन ये एक वाल है तो प्रापा जी की मुझे प्रियास करना चाहें कि हम कोई सेवा पढ़ाएं تو آپ سب تیار ہو اور اس وشہ میں انہیں کی اوجڑائیں ہیں ایک ہے بھاگو تنگ سیس ہیل اکسپینڈ ہے رشی کمارو اس کی وشہ میں بات کریں گے اور گرنٹوں کا اس وشہ میں مرد سلطنتوں کو کوئی بول سکتے ہیں تو آپ سب تیار ہو جاؤ یہ سال پراپا جی کا جنہوں نے منایا تھا چار دن پہلے तो एस साल से अगले साल साल पीड़ेट है ये संचेन्टेनियर एनिवर्सी को सेलिबर्ट करेंगे तो आप सब जुड़ोगे तो प्रचार बढ़ाओगे तो लोग कहेंगे वीडियो बोईल लोग तो हैपी है एक हमारे भाज़ करें کینیڈا میں شروع کے دنوں میں موکری کر رہے تھے ریسٹوین میں مندر کا سعیدہ دینے کے لئے تو ایک دھنی دیکھتے ہوں رو جاتا تھا کہیں گے تو اس نے کہا I am such a rich man I drive a Mercedes, Rolex watch and I am so unhappy and you are just cleaning the table and I see you always smiling पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्टे पूस्ट अगर हैं कृष्णा हमें करते हैं कृष्णा हमें करते
हैं
कृष्णा हमें करते हैं
हरे दुष्णा माराज, माराज आपका बहुत जनवाद इतना वैस्ट होने के बाद भी आपने एक प्रवेशन को लिया और बहुत इतनी जानता है कि किस पर्टास है, जब हम दुम्पर के साथ जानते हैं तो उनको आनने मिलता है, उनके परती प्र سمجھے
آپ؟ کھئی بار شروع میں بڑا اتھا رہتا ہے پھر اتھا کم ہو جاتا ہے. تو ناظر منی اس وشہ کی چرشہ کرتے ہیں بابا جنگ کے چوتے سگل میں وہ کہتے ہیں بیمار بیگتی دوائی لیتا ہے یہ راج کے لئے تو پھر وہ تھوڑے دن بعد سوچتا ہے میرے ہاتھ راج ہوگی اب دوائی لینے کی آفتہ نہیں ہے تو کیا ہوتا ہے یہ گیچر ویلا तो वो ही हमारा भावत है। हम शुरू में सादना रखते हैं अच्छी, जब धिले हो जाते हैं, तो वो ही भौतिका कर्षन, तीजी के साथ हमें खेल रहे हैं। तो इसलिए आ गया है, हमें किसी हालत में, किसी स्थिति में सादना नहीं बंग करना चाहते हैं। अगर आप मोटर चिला रहे हो अब वो एक मिले कहीं नहीं आ जाए हाइवे में बचोगे तो इसी बचार माया का प्रयाश हैता है हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हमें हम
भावतिक प्रकृति के ऊबर जो प्रभुत्व जताने की जो तेलन्ट जी है उसको दूर करने के लिए क्या
देती है? एक भावतिक प्रकृति के ऊबर
जो प्रभुत्व जताने की जो तेलन्ट जी
है उसको दूर करने के लिए भावतिक प्रकृति
के ऊबर जो तेलन्ट जी है �
ये ये हैं दवाई, ये हैं उपाई अगर आप इस माग, इस घ्याँ का पुरा नाब उठा रहे हो तो आप बड़ी सरदा के साथ माया को केंटोर्में राखने के लिए होगे और अगर आप धीले हो जाते हैं फिर माया तो केंटोर्में राखने के लिए होगे अगर आप धीले प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने
के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने
के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने के लिए प्राज्ञाने तो के लिए प्र आपके देनिया में आते हो। वांबी आपका कुम्प्यूटर पोन जाता है। और वांबी लाइक्शन पोन जाते हैं। So now, internet, as I say often, is a mixed blessing. There is blessing and a curse. Now, wherever you are, you can get association. دنیا کے کسی کونے میں چلے جاؤ آپ راہ بار کے لکھ سے سن سکتے ہیں کھیل سن سکتے ہیں پرچار کرو اور ڈیبوڑیز کی سنکھیہ پڑھو
आपको क्योंने करने के लिए अपने अपने करने के लिए अपने करने के लिए अपने करने के लिए अपने करने के लिए अपने करने के लिए अपने करने के लिए अपने क
आपको अच्छा होना चाहिए। आपको अच्छा होना चाहिए। आपको अच्छा होना चाहिए। आपको अच्छा होना चाहिए। आपको अच्छा होना चाहिए। आपको अच्छा होना
चाहिए। आपको अच्छा होना चाहिए�
In to my right ear, out to my left ear. अमने ऐसा वो नहीं भावा हुँगे। एक कान से सुनो, दूसरे कान से निकारो। जो सुना है, उसे हिदने बच्छाओ और रोज सुनो। एक बास सुनने से काम नहीं चलेगा। इसके लिए भावत उपतार मंदलों में रोज होती हैं। जीदा के लाद रोज होती है। तो एक लाद नहीं होती है। ताछी थमे में शुरू रगुस्वामी ने भगवतम सुनी और एक बार सुनने में कंटस कर लिया। जब केशव कश्मिनी महापभू को मिले थे जो महापभू ने एक बार सुनने से ہمیں ہمیشہ ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے کے لئے ڈالنے
کے لئے
हमेशा
भक्ति करते रहते हैं तो और ये क्या करते होगी हैं तो वैसे मुझे खाया ना करें महराज हैं हमेशा
हरी नाम करते रहते हैं तो बन भी करोगे घर वाले कहते हैं ऐसे कई बात। तो आप बोलो, हरिणा में इतना आनन आ रहा है, कि छोड़ने की देली नहीं कर रहा है। ज्याव। से दिन्या महा प्रभुव, मैं अपना हरिणाम संक्रितन शुरू किया था नमभृत में। तो जो स्पार्ट ब्रामिन थे, उनने जाकर یہ نمائی ہندو دھرم کو نش کر رہا ہے یہ ہینہ ہونے ساتھ مکان نہیں کھایا اور جو مسلمان تھے وہ بھی شکایت کر رہے تھے وہ کہتے تھے اگر تم نمائی کو نہیں روکے تو سارے مسلمان ہندو پر جائیں گے ایک مولا تھا جو ہمیشہ شکایت کرتا تھا اور جب بھی کوئی اسے دیکھ رہا تھا وہ ہائے کشان ہائے کشان پڑھ رہا تھا تو قاضی نے کہا تم دن رات شکار کرتے نہیں پائیں گے کہ میں تو جب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ چیننگ ہائے کشان پڑھ رہا ہے یہ کیا ہے یہ بات سچ ہے جب سے میرے حیلام سنا ہے یہ بند ہی نہیں ہوتا لہذا میں اتنی خوبصورت ہوں ، اگر آپ انتہائی ہوتے ہیں تو آپ اسے نکلتے ہیں ، ٹھیک ہے ، ہاں ،
अच्छी
बात ये है कहना चाते हो अपनी खम्जोरियों को दूर करने के लिए वह अच्छा है। तो अच्छा आप करते हैं। अच्छा हमारे भक्त वो तो ध्यान नहीं देते इसको। वो सोचते हैं, में में सारे गुन हैं, दूसरों में सारे अबगुन हैं। तो आपके भाव अच्छा है। आपके भाव करते हैं, आपके भाव करते हैं। یا ہے بابو
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

