भक्ति में साधु संग का लाभ | SB 3.25.20 | Iskcon Delhi | 19 Jan 2020 | Srila Gopal Krishna Goswami

The video is a multilingual devotional discourse delivered by Srila Gopal Krishna Goswami (recorded at ISKCON Delhi) that explores the benefits of associating with saintly devotees (sādhu‑saṅga) in bhakti. The speaker repeatedly emphasizes that true devotion requires the company of advanced bhaktas, regular chanting of the Krishna mantra, and study of the Bhagavata and Bhagavad‑Gītā, which he describes as spiritual weapons that protect and advance the practitioner. Throughout the session, participants raise a wide range of practical and philosophical questions—about meditation, the role of material work, inter‑faith dynamics, handling anger, senior‑junior relationships, and how to maintain 24/7 devotion. The guru answers each query, clarifying misconceptions (e.g., that “don’t practice bhakti” is a misleading inner voice), encouraging consistent prasāda consumption, and urging seekers to adopt respectful conduct, service, and humility. He also stresses the need for continuous enthusiasm ("24 × 7" devotion) and warns against ego, aggression, and superficial religiosity. The discourse weaves Hindi, Urdu, Sanskrit, and occasional English, reflecting a diverse audience, and repeatedly returns to the central theme: sincere association with saintly devotees catalyzes spiritual progress and safeguards one from material and mental pitfalls.
Chapters
ہوں گیاں تیمینہ داشیاں گیاں جناحی شوایاں چھک سمجھ گیاں گیاں تیمینہ داشیاں چھک سمجھ تیمینہ داشیاں چھک گیاں چھک سمجھ گیاں تیمینہ داشیاں چھک سمجھ گیاں تیمینہ داشیاں چھک چھک سمجھ گیاں تیمینہ داشیاں چھک سمجھ گیاں تیمینہ داشیاں چھک प्रसंगा سمجھ گیاں تیمین माजरां पाशं आधन कवयो विदू सेव सदु सुप्रितो मुख्ष द्वारम पव्रितो یہ بھاروزم کا بڑا پرسید شلوک ہے اور 9 شلوک ہیں ایک ساتھ جن میں ایک ہی سُنڈیج لیا جا رہا ہے وہ ہے سادل سنگھ۔ پرابا جی نے جب اس کو انسانساکت ستافظہ کی پہلا کینڈر سانڈ نیویوک میں پھر پاپا جی نے یہ رنگ بھار کی پروگرام کی بھی ستھاپ دار کی جس کا وجہ یہ تھا کہ مہدی آدمی مہارا میں ملزی کریں اور سکھشہ پراب کریں۔ تو اس علیہ آئی میں کپیلے دے بھگوان اپنی ماتہ دے بہوتی کو عریقہ دھیان دے رہے ہیں۔ دیوہوگتی، دیوہوگتی کو پتا تھا اُنہوں نے بیٹا بھامان کے افتار ہے یہ دھیان اُنہیں براما جی نے دیا تھا تو دیوہوگتی ایک پرشن پوچھوئی ہے میں کیسے اِن سنگلشوں سے شکارہ پرات کر سکتی ہوں اور پھر وہ کسی پوچھا اور آگے یہ بھی کہا کہ صبح میں نے ادھیادنگ نے اس وقت تمہارے دوارہ مجھے ادھیادنگ گیان پر آتا ہے ہم صادقوں کو کیوں ملتے ہیں؟ اس لئے کہ جب یہ گیان پر آتا ہو وہ صادقوں کا کرتبہ یہ ہے کہ بھگوان نے ہوئے آگے پریشان کیا جائے. جیسے آپ رابطے نہیں سمجھ دیکھتے ہو، جیسا روپ گیان دیا جائے. تو بیٹا جو تھا، بڑا پریشان ہوا جب اُنہوں نے دیکھا. اور اُنہوں نے ماسا کا پریشان سنا. جیسے کہ آپ پریشان کرتے ہو، کوئی بیشتری آج اور کہے, مجھے کریشتری بھگتی کے بیچے میں گیان دیجئے. आप खुश हो जाते हों। आप गृतन को बाटने जाते हों। वही गए हैं। खुश ही गए हैं। मुझे हजान की लग चाहिए। आप खुश हो जाते हैं। खुश ही प्रगान। भवाण के पुछे देखें। माथा के प्रसंद से। वही खुश से। मुझे कहा, तु मे کہنا ہے کہ ہمیں آسکتی بڑھانی چاہیے۔ کس کے پرتی؟ سانسا کے پرتی۔ اور بہت ایک آسکتی رکھو گے۔ تو کہاں پہنچ جو گئے؟ جہنم کی طرف۔ ادھیانی آسکتی کا لاحظ کیا ہے؟ کہ آپ کو دیوی سندھیل پہاڑ کریں۔ تو کیا کارن ہے؟ کہ سادھو سنگھ اس وجہ پر اتنا مل دیا جاتا ہے۔ اب چھتری دماغ کو نے پانچ مہد پون سیواں کی چڑھشا کی جس کی مادیم سے آپ جیون کے لفظ کو پتا کر سکتے ہو۔ سب سے پہلے انہوں نے کیا کہا؟ سالو سنگھا۔ تو ایسا دہائی میں آپ پڑھتے ہو کہ نیک شلوکوں کے دھوارہ کہ پیند بھگوان اس وجہ پر پتہ دینا ہے کہ ہمیں سادھوں کی سکھنتہ نہ اُٹھنا چاہیے۔ جو آسکتی بھوتک وجھوں کی ہے وہ اس کے بلدے کے آسکتی رکھنی چاہے سنتوں کی بلدے کی۔ بھوتک آسکتی کے خارن ہم بھوتک انسان میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اس وجھے پر भमन विश्वधेव कہتے ہیں प्रभाण निश्य देव का उपदेश आप भाण विश्कल में प्राख लो देव। कहते हैं नु नम्रमसा कुरृ से विखर्मा। जो ज़्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्यों ज्य کیا دے رہا ہے؟ سُکھ یا سُکھ؟ کاش دے رہا ہے اور ویکر میں کاشوں کا پڑی نام یہ ہوگا کہ پھر سے ایک دھیل ملے گا کہ آپ کو کیونکہ کاش دے گا وہاں گیلہ میں کہتے ہیں بولک جیون کے دو مکیل اکشن ہیں ایک دکھا رہا ہے دوسرا چاہے آپ کدھے میں دھنی بن جاؤں, کدھے میں جھانی بن جاؤں, ہم دکھ کشتوں سے بھج نہیں سکتے. سال بڑا کی کشت, جن کی چرچہ ہوتے ہیں, اپنے اندر ہوتے ہیں, جنہوں نے مجھ سے آیا, پھر ہم بھگو ماریں گے. مار گا کشت پرکتی دوران اور دکھوں کے دوران. جو وِدوان ہیں وہ جانتے ہیں کہ بہتر آ سکتی ہے، بندن کا کارآن بندھی ہے۔ وہاں سب جو یہاں اُپست ہوں آپ کون ہو آپ اصلی وِدوان ہوں گے۔ کہ آپ یہ سمجھ پیٹے ہوں، بہت ہی آسکتی سے کام نہیں چلے گا۔ نہیں، ادھار میں آسکتی چلے گا۔ ایک سے میں چیتنے مہا پھر بھگوں نے اپنے بھگسوں کو کہا کہ میں نے کیون لہک پتی کے گھر میں پرشاہد لے رہا ہوئی اور کسی گھر نہیں۔ سیدھے مہا پھر بھگوں کے بھگ سے اس سنکھ کر دکھی ہو گئے کوئی بھی لگ پتی سے ساتھی نہیں تھے۔ سب سفارت بھگت تھے۔ تو وہ نے کہا مہاں نبوی سے آپ بھی لگ پتی کے گھر میں سفر کھاؤں گے۔ ہم تو لگ پتی نہیں ہیں۔ ہم تو گریہ موسیق دیشن سے ہیں۔ تو ہمارے گھر کبھی نہیں آؤں گے۔ مہاں نبوی نے کہا لگ پتی سے اردھ ہے۔ تو لاکھ بار جاپ کرتا ہے۔ ایک روک سے الگ پتی ہو آپ سب اصلی بیدوان ہو کیونکہ اس شلوک میں کہا جا رہا ہے بیدوان بھیگتی ہے بیدوان بھیگتی یہ نہیں پیچ جی ڈگری مل گئی ہم بڑے بیدوان بن گئے اصلی بیدوان بھیگتی وہ ہے جو بھگمار کی سندیج کو تکار کرتا ہے وہ ہے سنادھ وہ اتی آنادھ وہ ہے تو بھگوان کی سکھ چکو اس کی آدھار کو نہیں چل رہا ہے یہاں بھگوان کپیل ادیب کہہ رہے ہیں ایک لطف دیکھا جائے نیہوتی کے مادم سے یہ سنجھ ہم سب کو دیا جا رہا ہے کیا؟ بھوتک آسکتی سے بچوں اور ادھیانی آسکتی پڑھاؤ آسکتی ہوگی Positive or Negative. तो आसक्ति कैसे उम्मत लें? यहाद आएं सादु सण के विभाव. इस सादु सण हमें दो मांध्यम से प्राप्त होते हैं. एक है भग सादु, दूसरा है ग्राण सादु. एसे आप सो भगतों ने बहुत परि اس مہراتوں کے مہینے میں اور بڑی شکم کیا کیوں کہ آپ چاہتے ہو کہ لوگ سُکھی بنیں اسی سُکھ پراتھ ہوگا اگر ہم اللہ کی سکھشہ کو سمجھا کریں تو کئی بھی وہ بیوکتی ہیں سارے بیشتر میں جڑ جڑے ہیں ان گھنٹوں کے معلوم سے تو گھنٹوں کو پڑھتے ہیں اور نشت کرتے ہیں ہاں یہاں ہے اصلی سندے یہ ہے اصلی سندے عنیق بیٹی جڑے ہیں سارے بیشتر میں ان گھنٹوں کی مادہ سے اگر آج آپ دیکھ رہے ہو کہ آپ کی دنیا شہر میں بھگتوں کی سنکھیہ بڑھ رہی ہے تو یہ ایک موڈ کارن ہے آپ سب کے دوارہ جو گھنٹوں کا بیسن ہوتے آتا ہے اُس کا پروباب جو گھنٹوں کو پڑھتے ہیں اور جیونوں سُدھار دے۔ تو بھودکہ سکتی سے ہمیں بچنا ہے۔ اور بھودک سماج میں کیا لکھے ہو؟ ہم پریاز کرتی رہتے ہیں۔ این کاریوں سے سنتوشتہ نہیں ملی، چھوڑا کا کاریوں پریاز کرتے ہیں۔ بھودک سمجھ سال میں چاہیں آپ کتنی بھی سمجھتا پرات کر لو، کتنی بھی سمپتی بنا لو کتنے مہین یہ سفیدہ ہو آپ کبھی بھی سنتوش نہیں رہ سکو گئے آپ بھگوتوں میں پڑھتے ہو مہران یہ آتی گیتہ تھا جنہیں ہزاروں سادوں کے لئے سفیدہ پرات ہوئی تھی اندیا سفیدہ کی لیکن ان کا پرینام کیا تھا کہ وہ اپنی اندیوں کو سنتوش نہیں کر پائے تو سادوں کا کرتے ہوئے یہ ہے کہ سطح کا پرچار کریں وہ یہ نہیں دیکھے کہ لوگ کیا سننا چاہتے ہیں۔ ایک سال ہم نے پرچانک سے پوچھا ہمارے شاستوں میں تپسیا کا ونڈن انیک ستھالوں میں ہے تو آپ اپنے پرچان میں تپسیا کی عمر بلد کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا کہ ہم بچے کی زیادہ چرچہ کریں گے، لوگ آئیں گے نہیں۔ پرابہ جب وہ بھیلنے کاں گئے تھے، کئیوں نے اُن کو یہ رائے دی، سومی جی آپ جو بسٹر پہنڈ رہے ہو، جو سیدھار دے رہے ہو، کوئے بھیلنے کاں نہیں سنے گا۔ پرابہ سے کہا جاتا تھا، آپ نے رائے کو بنو۔ پرابہ جی نے سکھانے کیا اور جب تابعہ نے بھاگوڑ گیتہ کے ساروں کا انوان کیا تھا، میں کہا جان گیا ہے۔ کیونکہ سرشیر کئی پبلیشرز کے پاس گئے تھے کہ آپ یہ گیتہ چھاپی ہے۔ وہ پڑھتے تھے گیتہ کو اور انہیں نے دیا۔ اس گیتہ میں کریشنہ کریشنہ کریشنہ بہت زیادہ ورنہ ہے۔ اور بھکتی بھکتی بھکتی بہت زیادہ ہے کوئی نہیں پڑھے گا یہ گیتہ کو سب نے انکھا کر دیا چھاپ رہے تھے اور پرابہ جی کے لوگوں کو ہم نے شروع کہہ رہے تھے کریشنا کا نام کم لو بھکتی کے بار کم بل لو پھر ہم چھاپے گئے تھے تو بھکتوں نے پرابہ جی سے کہا پرابہ جی نے کہا نو کمپرومیز پرابہ جی یہ گیتہ کیسے چھپ گئی اُن دن میں پھرابہ نے ایک album بنایا تھا. हائے کرشنا منتھر کا وہ album پرات کرنے کے لیے بیاکتی کو پڑھانے جمہارے میں کچھ زمین پہنے BPB ہوتا تھا نا ہندیہ میں بھی آپ بھیجو کسی وسط کو پوچھو اس کے ساتھا جو قیمت ہے وہاں بڑھنا پڑھ سکتا ہے۔ سو ایسی یجناز بھی ہے۔ تو کھین جہاں پھر بھرمندہ پربھو گئے یہ ریکارڈ لے کر ایک پبلیشر کے اوپس میں جس نے ریکارڈ مانگا تھا تو وہاں اُن کا پریچے ہو گیا ایک ایڈیٹر کے ساتھ جو ریلیجنڈ بکس کا ایڈیٹر تھا بھرمندہ نے اُن سے کہا ہمارے گروہ نے گیتہ کا نوات کیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی کمپنی اسے چھاپے تو ویڈیو شریف نے بولنا ہم نے بائبل چھاپی ہے قرآن چھاپی ہے یویس لیٹریچر چھاپ آئے ہم گیتہ کی تلاش میں تھے پتاو ہمیں بھمی راستہ پرابہ سے پوچھ کر گیتہ کا منسکرپ دیا اور وہ سننٹ مل گئے چھاپنے کو کیا تھا روح بھاگوان کا جو سندیش ہے وہ ہمیں ستی روپ سے سپکار کرنا چاہے۔ تو جب کہا جاتا ہے سادھو سنگھ اس کا بھاوی ہے کہ سادھو کا آچرن بھی ہوگا اور وہ آپ کو شد سندیش دے رہا ہے۔ تو بہت ہی کا سکتی سے بچنا۔ بیدوان وہ بیختی ہے جو دیکھتا ہے بہت ہی کہہ سکتے کے دوران نقصان نہیں ہے۔ لام نہیں ہے۔ یہ اچھا سوڈا نہیں ہے۔ دیکھتے ہو سارے ہاسپوٹل بھڑے ہوئے ہیں کی نہیں؟ آپ دیکھتے ہو کہ بیماریاں بڑھتے جارہی ہیں۔ کتنا کلیش ہے سوال میں۔ کوئی بدیمان بیوگزی ہے۔ وہ بھی سوچتا ہے۔ کیا ہے اُپائے؟ کوئی اُپائے ہے؟ اپائے ہے وہ ہیں ادھاری بھاگ. تو بہت ایک آسکتی کے کارن کیونکہ کشت ہے. और प्रावपतनात्र कहते हैं, जब किसी मानव के द्वारा सन्तूक्स नहीं प्राप्त होता है, हम किस की तरव जुड़ जाते हैं? खुलते बिल्यों के तरव. तो मیں नावद में भी कहा था नहीं को देख साओ. नहीं, घट में घट में कुछ ये रखे हैं. हम क्यों रखते हैं? क्योंकि हमें चाहिए कोई व्यक्ति जो कहना माने है हमारा. बच्चों को सिख्षा देते हैं. बड़े होगे बच्चे कहते हैं, हाँ, कुछ में बोलो. We are independent. पर � خُسے جیسا پچھو ہے وہ جنگی برابر کہنا مانے گا۔ بول پھے گو گے، بول کو اٹھا کر لے آئے گا۔ اس لئے لوگ خُسے مریعوں کو رکھتے ہیں۔ تو ہمیں جو بدوان ہیں وہ ادھیان بھی آ سکتے ہیں، بڑھانا چاہتے ہیں۔ ادھیان بھی آ سکتے ہیں کا ارض کیا؟ جب شاہت میں کہا جاتا ہے سالو سن کا لاب اٹھاؤں تو اُس کا عوضیش ہے کیا ہے؟ مدیشن کی وجہ ہے کہ آپ سادھوں کی بھانی کو سنو گے اور اِس بھانی کا ناب اٹھاؤ گے تو اُس کے دوارہ آدھیات بھی جاگتی پڑھے گے۔ کیوں کہ سادھوں ہے وہ کیول آپ کو بھگواں کا سندھیش دیتا ہے اور اپنے آشرن دوارہ دھرم کی رحموں کو پرستود کرتا ہے۔ اچار بھی ہونا چاہیے پھر چار بھی ہونا چاہیے آپ ہائے لاج ساکھر کی قصہ پڑھتے ہوں بھرمان جی کی افتار تھے اور گیچہ تھے کہ بڑے بڑے بڑے بڑے وطن لیں جنم لیں اور چھوٹی عائد سے ہی ہائے لاج ساکھر کی روچی تھے کیونکہ ان کا جنم مسلمان خانہ میں ہوا تھا وہ اپنے ہم کو بڑا لوگ آشناں دیتے تھے۔ پھر ان کا جو آشناں ہے وہ سب سے اوچھا تھا۔ اسی طرح آدم کو سامنے نے کہا، ہائی راست کئیوں کا آچار ہے، پرچار کی اچھا نہیں ہے۔ کئی پرچار کرتے ہیں، کئی آچار نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ کئی پرچارک ہے، لیکن کوئی آچار نہیں رہتا۔ کہاں پہ دونوں ہی گن ہے کیا آچار اور سچار۔ کیونکہ وہ اصطیری سنت ہے۔ اس میں آچار بھی ہونا چاہیے اور پرچار کی ہاں پھر سلوک ہونا چاہیے۔ بھگوان پرچار کی سیوہ مر بل دیتے ہیں۔ اس لئے آپ گیتہ کے آٹھا کے دہائی میں بھی پڑھتے ہو۔ جو گتی میں پرچار کرے سب سے پریہ بن جاتا ہے۔ تو ہم اگر سنتوں کی سنگھت میں رہیں گے تو ہمیں اصلی گھیان پراپس ہوگا اور اگر آپ اس اصلی گھیان کا لاہ اٹھاؤں گے تو جیون کی لچک کو پراپس کر سکو گے۔ چیتنِ ماہ پربو اس وقت مہدوان ہے سکھشہ دے رہے تھے سیدھا تنگل سوامی کو بھگتی کے بشیر میں. وہ نے کہا بھند بھمیتے کونوں بھگوانوں جی گروہ کرشنا کے پاس آئے ہیں. انیک یولیوں میں گجرنے کے پسچاد بھگتی کو بھگتی کا بیچ پرابت ہوتا ہے. بھگتی کا بیچ کا ارض ہے یہ کیان کہ بھکتی یوگا ہی جیون کا لقش ہونا چاہے۔ یہ کیان کہ ہمیں بھگوان کی شرنگت ہونا ہے۔ دیدہ کی انت میں بھگوان کیا کہتے ہیں؟ وہ کون سے ایک سلوک ہے جس میں پورے دیدہ کا سار پرابت ہوتا ہے؟ سر حضران پوئیتہ جاں ہم تنصوبے پاپے پر موکشے جاوے۔ بھگوان کہتے ہیں سب لوگوں کو چھوڑ کر میری شرن میں آؤ تو سب دھرموں کو چھوڑنا کا یہ ارض نہیں آپ اسلام تیاغ دو، عیسائی دھرم تیاغ دو، یہ تیاغ دو اور بھائی شنو بن دو اسی ارض ہے. دھن و دھن سے کیا کرو؟ بھگوان کی سیوہ یہ ہے گیتا کا نرنے یہ ہے بھکتی یو کا نرنے شریفت بھاگوت میں ہمیں شدھ بھکتی کا گیان پرابت ہوتا ہے व्यासन देव ने अलेक सातों की रचना की थी जब ये उन्हें लगा कि कुछ खमी ना गई है जब विचार कर रहे थे क्या खमी ना गई है सारे दोरी नदी की तरपपर वो उनकी गुरुनान दोरी देने का शुद्ध भक्ति का घ्यान देने क آمے سے کتنے مقصود کے بعد گھر میں بھگو تب کا سیٹ ہے۔ جس بھگو تب میں اتنی شکری ہے کہ اگر آپ کی ملک گھر میں رکھو گے اور روج اس کو دیکھو گے اسی میں آپ کا دھیان رہے گا کہ وہ نہ ہی پڑھ سکتا۔ اور پڑھو گے تو اس کا ہو سو گناہ ہجار گناہ جا دا۔ تو ادھیان بھی کہاں سکتی بڑھانی چاہیے؟ سادھوں کے پر دیکھیں۔ تو نیکی علیہ میں گھڑھننے کے پساڑھ ایک دھیان پراتھ ہوتا ہے۔ بھکتی سے اُتنا مہارشہ. تو یہ بھکتی کا جو بیچ ہے یہ اُکتاک کیسے ہے؟ سادان بگیچے میں بیچ بوتے ہو اُگنے کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے؟ ہاں؟ پانی پلاتا ہوں۔ پانی نہیں پلاؤں گے تو ہو گیا نہیں۔ جب بھرشہ نہیں آتی تو آپ کیا دیکھتے ہو؟ فصل نہیں ہوتی۔ سوکھا ہو جاتا ایسا۔ یہی سے بھگو گیتہ میں بہت بہت کہتے ہیں۔ آن کی پرابتی ہوتی ہے بھرشہ کے قارر۔ اور بھرشہ کی پرابتی ہوتی ہے کب؟ تو اب یہ کیا کرو؟ اور یہ کیا آرت ہے؟ نرم کی نہیں ہوگا پاکستان میں آئے آپ سمان میں دیکھتے ہو کہ ہر جگہ آبشکتوں کی آبشکتوں کیلئے کھٹنائی سے پرافت ہوتی ہے اور دن پر دن دیکھ رہے ہو یہ کم ہوتے جا رہا ہے جیسے اگلی دھانت میں بھارت میں پانی کی بہت تنگی ہے نہیں کئیوں کو پڑے دن میں پانچ میں پاپ، پانی میں پاپ. یہ سب کیوں ہیں؟ پھر پھر جب پاپ کا بوجہ بڑھ جاتا ہے، پھر پھر کسی بھی ہمیں پیش دیتے ہیں. پھر بھکتی کا بھی اُگے گا، بھکتی کا اُتصاف اُگے گا. بھکتی پہ روچی بڑھے گی. اگر آپ یہ, ہر کچھ مہا مندر کا شاہد ہو. بھاگو تنگ کے باروے سکند میں کلیوت کی پرجا کا لکھشنوں کا ورنن پر پڑھتے ہو۔ اگر آپ بھی بارویس کن کو پڑھو گے جس میں کلیوت کے لکھشنوں کا ورنن ہے، آپ کو ایسے لگے گا یہ جو بھگوتم کی رچنا کس نے کلی کی ہے۔ پانچ یا ساتھ پہلے ہمارے سنتوں نے ہمیں بتایا ہے کہ کلیوت کی کیا لکھشن ہوگی۔ مدارنے کے لئے کہا گیا ہے ادھیادوی طرف میں بہت کم لوگوں کے روچی ہوگی اور آنسی ہوں گے پوتے کاریاں کے لئے نہیں ادھیادوی کاریاں کے لئے آنسی ہوں گے دھڑی لوں ہوں گے تو یہ کلیوں اور کلیوں میں تو سرکار ہے آپ جاننا چاہتے ہیں سرکار کے وجہ میں کیا کہا گیا ہے سرکار میں ایک ہی لوچی رہ گی کڑ پڑھانا، تیکس پڑھانا۔ سرکار آپ سوچتے ہو بہت اتنی سماج میں آپ کے پاس income tax lawyer ہیں جو کہتے ہیں کہ تیکس کیسے بچاؤں اور گورنمنٹ تیکس دیتے جاتی ہے یہ نئے نئے راستے سے۔ بھاگویت بھی کہا گیا ہے خلیجہ میں سرکار یہ ہی سوچے گی کہ یہ گھر کیسے بڑھا جائے؟ پرانچین سبعے میں جہاں بھی راجہ بھی تھے اور رشت بھی تھے۔ پرجا کی دیکھ باغ ہوتی تھی جیسے باباں بچوں کی دیکھ باغ کرتے ہیں۔ تو یہ بھکتی کا بیچ ہوگے گا اگر ہم شروع کریں گے۔ تو اسی بار پہ سکند میں शुगर परेक्षिन मनान से पूछा कि ये बताये कल युगा में लोगों का उदहार कैसे होगा परेक्षिन मनान से मैटे थे नरकों का वर्णन किस पकार हमें पापों का परिणान को करना पड़ता है तो शुगरेवस्वामी ने कहा कृते या ध्यायतो विश् دعا پڑے پڑچو یار، کھانو دلداری، گیر دلداری۔ سجنگ میں بھگوت پرابتی کا سادن کیا تھا؟ بھگوان کا چنتن کرنا۔ اور لوگوں کی عبدی ایک لاکھ سال ہوتی تھی۔ آج کبھی بھی دعا ہے کہ جنگیان، جنگیانی اسے مانیں گے نہیں۔ ہم یہ جنگ شاستو دور پرابت کر رہے ہیں۔ تو ستی کی مادیم تھا کیا؟ شنطن کرنا پھر کون سا یوگ اس کے بعد؟ سیدھا یوگ اس میں لوگوں کی اپنی اور دس گناہ کم ہو گئی اب اگل پلاوٹی کا سادر کیا تھا؟ بڑے بڑے یا کیا؟ اس میں شُل بھرام لوگ کی اہوشکتہ تھی یہ جو بھرامن تھے اگنی کو پیدا کرتے تھے بندوں کی اچھانا سے بس یہ نہیں سیکرٹ لائٹ ہے تو آپ نے مچے شلال ہے۔ یہاں مچے نہیں ہے۔ مذہب کی اشارت سے اور شدھ بستوکوں کی احتیاط ہے۔ شدھ کی، شدھ دو، شدھ پکھل یہاں سمبھل ہے۔ آپ کو کہا جائے گا۔ گھر میں یگیا کرو روی اتنا گھی اتنا یہ اتنا شدھ برامی بھلاو آپ کر باوے نہیں کر باوے آپ کہو گے مشکل سے گھر کا کھڑچا چل رہا ہے کہتے ہو یگیا کرو یگیا کرو شدھ دھون لاؤ شدھ گھی لاؤ اور جو ہی پندھت ہیں وہ بھی موت میں تھوڑی رہیں گے جب بھگوان رام راجے تھا, اُنہوں نے اپنی سائیں سمدھی بڑھانوں کو باٹ دی تھی۔ اب دیکھیں کہ وسیطہ نے ایک ڈست نہیں رکھ دی تھی۔ بڑھانوں نے سکار کر لیا بھیٹ جو بھگوان رام نے دیا۔ پھر صاحب نے کہا ہم اتنی پرسن ہیں کہ اس راجے میں سائیں سمدھی واپس لوٹا دی۔ ہاں جی، امید آپ کر سکتے ہو۔ آپ برہم لوگوں کو چندہ دو، وہ لے گا آپ کو واپس کر دیں گے۔ تو، تیز دیگر کا سادر کیا تھا؟ بڑے بڑے یقیاء۔ پھر آگے کونسا ویق آیا؟ وہ پھر کیا تھا ساندھ؟ رب دی اور دس منت کم ہو گئے۔ بھینگی بھیٹاڑ پڑھ کرنا بھاگوان گے۔ آپ کو کہا جائے۔ درشن کریں آؤں ہر عبیوان کو ایک اونس سونہ گاڑا ہوا ہوا راضی پڑھتے سال دے گئے ہیں یہ بھی سب ہوں گئے ہیں تو کلیگو میں کیا ہے وہی لاب کھلوں سے دھاڑی کرتا ہے کلیگو میں سادل کیا ہے یہ کشتہ کرتا ہے تو یہ شانسوں کا پروبھر یہ کسی کی کلپنا نہیں ہے. یہ شاستر کا پرمان ہے. آپ کو جو سمدید دیا جا رہا ہے یہ شاستر پر پراہت ہو سکتا ہے. हयनाव हयनाव हयनावेव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव हयनाव ہمارے اچھائیوں کی اچھا تھی کہ ان بھگوشوانی کو ستیہ بنانے کے لئے خاص کرکے بھکتیوں تھاکور جو نے ایک قرآن سے کہا تھا مہا پربھو کے اوپر اور جو کہ انہوں نے بیشوں کے مہا مہدیالوں کو بھیجا تھا اور ان کے پیچھے بھکتی سیدھا نجید انہوں نے کئی سنیاسیوں کو بھیجا بیش پھر پرچار کرنے کے لئے پہلی ملکات میں ہی وہ تیزی تھا جس نے پرچار کیا یہ ہے وہ یوگ جو مہابربوں کی سندیج کو سارے وشکوں میں پہنچا سکے گا تیسے انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے یوگ ہو اب یہ جی باہشاہ جی طرح جانتے ہو جاؤ پرچار کرو تو پرچار کیا اور آج وشکوں کی کھولے گھر میں مہاری نام کو اچھانا کرے کوئی یہ نہیں کہتا میں اوچھانا نہیں کر سکتا۔ تو بھکتی کا بیج ہوگئے گا جہاں یہ ہائے کریشناں وہاں بندہ کو اوچھانا ہوگیا۔ اور یہ بھکتی کا بیج اگرہ ہے تو ہمیں سامساں رہنا چاہئے۔ مان جو آپ کے یہ کوٹھی ہے اور مگیچہ ہے اور کوئی دیوار نہیں ہے وہ اس کوٹھی میں تو کیا سماونا ہے؟ گل دانوی میں اندر آ سکتا ہے۔ ہے کی نہیں؟ جیسے آپ اس مندر کے میں، چارہ درم دیوار ہے، چھوکی دار ہے۔ اس لئے کہ گل دانوی اندر نہیں آ جائے۔ تو اسی پرکار بھکتی کے پودے کی سرکشہ کے لیے یہ آویشک ہے کہ آپ کس کی سکت میں رہو؟ کس کی؟ بھکتوں کی سنگھ میں رہو۔ بھکتوں کی سنگھ میں رہو گے تو اُس کا کئی لاب ہے۔ ایک لاب تو یہ ہے کہ آپ سنو گے اصلی سندھیج کیا چھین ہو جائے گا۔ چاہے آپ کلاس یہاں سننے ہو یا بیشتر کی کسی پونے ہو۔ اگر آپ اس کھانے ہو کہ آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت مہمہ کا خیال ملے گا۔ کیونکہ یہ ہے شاستہ دنیا میں۔ تو چیتن مہاکم نے کہا کہ بھکتی کا جو پودا ہے اس کی سرکشہ کے لیے ہمیں ایک فینسنگ بنانا چاہئے۔ ہمیں کوئی دیوار بنانا چاہئے کہ کلت بیوکتی اندر نہیں آجائے۔ تو ہمیں بھکتوں کے سنگ میں رہنا چاہئے۔ بھکتوں کے سنگ میں رہو گے تو کیا لاب ہے؟ ایک لاب یہ ہے کہ آپ سنو گی بار بار بھگوڑ کی شرنگت ہونا آپ بھگوڑوں کلاس روز سنو کبھی کبھی سنو آپ کو کیا سنتش ملے گا؟ موردی کا اکیشن چھوڑو ادھیانوی کا اکیشن پڑھو ہے گے نہیں؟ اور سادن کیا ہے؟ ہائے نام اس آدھے سے ملوں گے یہ اصلی اُبدیش میں رہا ہے۔ آگے سالے سے بھی رہ کر اگر ہماری کوئی کمی ہے، اُس کا سنحار بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کا اصلی مدر کون ہے؟ ہم سوچتے ہیں اصلی مدر وہ ہے جو ہماری تعلیم کرتا ہے۔ جو کہتا ہے، ارے، تم دو اتنے اچھے بھکتوں، تمہارے سے گیاں لے لیا ہے۔ وہ اصلی بھکت، اصلی مطرب، وہ جو آپ کو گیاں دیتا ہے اور کمیوں کو بھی سناتا ہے۔ جو کمیاں ہیں، اگر آپ بھکتوں کے دوران نہیں سنوگے، تو آپ کے بہترین والی مل سے تو نہیں کہیں گے۔ یہ بات سچ ہے۔ تو سادھو سنگ میں یہ رہنے کا بہتر اس لئے دیا جاتا ہے ایک آپ کو اصلی تنیت سننے میں پراپ ہوگا دوسرا اگر ہونوں میں کچھ کھلی بھی ہو ہم اس کی چرچہ کر سکتے ہیں اُس فیشے میں جان سان کر سکتے ہیں रुबावि स्वामी ने हमें कई ग्रंद दिये हैं. मुझे एक ग्रंद है स्री उग्देशा में. मुझे मेरे रुबावि स्वामी कहते हैं, भक्तों के साथ छे पकार के सम्मन्द हो सकते हैं. कौन मताएगा क्या है ये छे पकार? सम्मन्द. मुहें वो किती प्रजिती. اپنے مند میں جو شک ہے، جگہ آتا ہے اُس کو پرستود کرو۔ اُن کے سمجھ جو کی اپ سے زیادہ گیان لگ رہے ہیں۔ اور آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو دوکٹر صاحب کو کہتے ہو یہ کم ہی ہے، یہ کم ہی ہے، یہ کم ہی ہے اور پھر دوکٹر دواہی دے وہاں پھر آپ کو ہوں گے نہیں دواہی نہیں چاہیے ہم تو کیوں سنا رہے ہیں ایسے کیا کم ہے اسے کوئی سدھار ہوگا نہیں ہوگا تو بھکتوں کی سنگ میں لینے کا ایک لاب یہ ہے کہ آپ اُتھر بھکتوں کی سنگت میں آ کر اپنی پرشنوں کا اُتھر پراب کر سکتے ہو جو جگہاں سے ہیں، جو شنکھاں ہیں، وہ اس کا اُتھر پراب کر سکتے ہوں۔ جیسے کہ ایسی طرح سے اس قرن میں، دیہودی کے مند میں یہ جگہاں سے تھے کہ کیسے ہمیں اِس انگلش سے چھڑکارہ پراب کر سکتا ہے؟ اور وہ نے اُتھر کیسے لیا؟ ایک پرمانک ستھاں سے کپیلہ دیو کیونکہ بھگواں گاہ سارے ڈھاؤں گوں گے دھیووتی نے پرشن پوچھا کپیلہ دیو کو اریجن نے پوچھا کریشنا سے اور کہاں ہے کریشنا کہاں ہے کپیلہ دیو یہاں ہیں کپیلہ دیو بھگواں ہیں ہاں ہے نا کہاں ہے گھنٹوں میں بھگواں پرگل ہو گئے ہیں پھر ابھی وانی کو چھوڑ گئے ہیں کہاں؟ بھاگو سن میں بھاگوان کی وانی میں کوئی انتر نہیں. جیتہ میں اور جیتہ کے سندیش میں اور بھاگوان میں کوئی انتر نہیں. جیسے کئی بہت لوگ پوچھتے ہیں آپ اگر ایک ہی نام کا اچھارن کرتے ہو تھکتے نہیں. نہیں تھکتے کیوں؟ کیونکہ بھاگوان کے ناموں سے امیر ہے. بھاگوان نے جیسے مہا مبنی نے کہا، اب یہ ناموں میں پوری شکتی لالی ہے۔ یہ سب کا انبھاؤ ہے کہ جو بیقتی یہ ہری نام کو اچھارن کرے وہ بھوتی کا سکتی، کوئی تھوڑ کر ادھار بھی کا سکتی، بڑھا سکتا ہے۔ سچ ہے؟ آپ کا بھی یہی انبھاؤ ہے؟ ہاں یہ سب کا عجبہ ہے تو بھکتوں کے سمجھ رہو چھے پکا کے سمجھ رہو مند کیا ہے مند کے بچھاروں کو ان کو پریشان کرنا جو کہ سادھوں ہیں آپ سے زیادہ پیان رکھتے ہیں اور ان کی سکھشہ کا حال کرنا دھان دینا دھان دینا آپ کرو گے ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں دان دینے کے لئے. آپ دان میں کیا دے سکتے ہو؟ کیا دے سکتے ہو؟ ہاں؟ گیان! جو گیان آپ سنتے ہو پڑھتے ہو وہ گیانت میں آنکے بھی پچھانا ہے اور جو گھنٹوں کو پڑھتے ہو یہ بھی ایک سادن ہے گیان دینے کا اور اس کے بدلے میں کیا لیتے ہیں ہم؟ تھوڑا سا چندہ اس لیے کہ ہم آگے پرشاہد کو اور بھی بڑھا سکیں اور پرشاہد لینا اور پرشاہد لینا جیسے آپ نے انہوں نے کیا ہوگا وہاں ہر کارکم سماتھ ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارکم کارک مچھت ہوئے گی بہت سال پہ ہم کہتے ہیں مچھت ہوتی تھا ہونے دلوں پہ آؤ کرشنا پرشاہد کا یہ شاستہ میں لکھا ہے شیطان ہمارا پبھو ہر کاریکن میں اس کا مصطفیہ میں خود پرشاہد باتے تھے بھکتوں پر تو بھکتوں کے سنگ میں رہو گے تو اپنی کمیوں کو سدھار سکتے ہیں کئی بار ہم دیکھتے ہیں کہ بھاگتوں سادھ سنگھے سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ آپ سادھ سنگھے سے دور رہو گے تو آپ کی کمیمت کو کبھی سدھار نہیں پاؤ گے، ہے کے نہیں؟ اُلڑتا یہ کمیمت بڑھتے جائیں گی۔ اس لئے کہا گیا ہے سادھ سنگھے رہو۔ اور آنٹھ میں بھگتی کا بھیج ہوگے گا۔ اور ایک بیچے پر سامنہ رہنا چاہیے۔ جس طرح ایک سندھر بھگیچہ نشت ہو جاتا ہے جب ایک پاگل ہاتھی اندر آتا ہے وہی طرح یہ بھکتی کا بھگیچہ نشت ہو سکتا ہے اگر ہم کیا کریں؟ کیا؟ پھر نفرانوں سے ہمیں بچ رہے جائیں۔ کیسے بچیں؟ وہ گیاں شاست میں ہیں اور سادھو دوارہ ساتھ ہوتا ہے۔ تو ہم سب کا نقشہ، اُدیشہ یہ ہونا چاہئے کہ ہماری بوتی کا سکتی کے بجائے کیا انکول کریں، اندھیار بھی کھانا سکتے ہیں۔ اور اس پیشے میں شیطن بھار پربھو نے کہا اگر بھگوان کے شرنہ کا سمجھا چاہتے ہو تو اس کارے کو سمکار کرو جو انکول ہے۔ انکل کیسے بشے کے لیے؟ بھکتی کے بشے میں اور جو پرتکول ہے اسے کیا انکل ہے کیا پرتکول ہے یہ پرابت ہوگا سادھ سمجھ دوار تو یہ جو رویوار کا پروگرام ہے اس کا آپ سب کو لاب اٹھانا چاہئے آپ سب کو یہ نیم بنانا چاہے کہ ہر رویوار کو ہم نے کہا جانا ہے مندر جرور جاتا ہے۔ میں نے شہرآم کا پہلے بھی کہا تھا۔ مومے میں کچھ سال پہلے ایک سروے ہوا تھا۔ کریشٹین لوگوں کا۔ اور سروے کا یہ نیل تھا۔ نمبے سے سے زیادہ پرسنٹ جو کریشٹین ہیں مومے میں۔ چرچ کو جاتے ہیں۔ نمبے سے زیادہ پرسنٹ۔ اور لگوٹھ ہر کریشٹین رویوار کے دن چرچ جرور جاتا ہے آپ مسلمانوں کو دیکھتے ہو وہ اپنے مسجد جرور جاتے کب؟ میں کھی بار ائرپورٹ میں اور ہواہی جاز میں دیکھتا ہوں کیونکہ جب نماز کا سمجھ ہے وہ ائرپورٹ میں نماز کرتے ہیں شرماتے نہیں ہیں کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا کھی بار بھگ دکھشہ لے لیتے ہیں کنٹی مالا کو چھپاتے ہیں۔ کیوں چھپاتے ہیں؟ وہ لوگ کو پریشان پوچھیں گے۔ آپ بولوں اس پریشان، آپ ڈیٹر کے پاس ہوں۔ کنٹی مالا کا آپ کا پچاند کا ایک سادت ہے۔ تو سادت سنگ میں رہو گے تو ہمیشہ یہ سنو گے، شہن ڈل بھی ہر ویڈیو۔ تو ہر ویڈیو آرکو پریاد کرو مندلار گئے، اچھا ویچار ہے؟ اچھا ویچار ہے یا نہیں؟ اور آپ کی پرابقی کے پاس ہے ہندلی شہر کے ہر پوڑے میں لگو مندلار آپ سب کے پاس آپ سب کے پاس سب مندلار کا پڑچے ہے پھر کیا سمجھے کہ ایک بھی پھنٹ بنانی چاہیئے اور بارنا چاہیئے چودہ مندر ہیں جہاں بھی خوبصورت سویوار کے دن مندر میں جنگ رہو آرتی میں آؤ لیکچر بھی سنو لیکچر سننے میں ہمیں جانا روچی نہیں رہتی سچ بات ہے کیونکہ ہمارا انباو ہے لیکچر میں دو سو آدمی ہوں گے پرشاہ کے لئے پان سو ٹھیک ہے، اگر آپ کو کیونکہ پرشاد ہی کھانا ہے تو بھی ہمیں اتراج نہیں ہے۔ پھر اگر آپ لیکچر بھی سنو گے تو اس کا دوگنا نام اٹھاؤ گے۔ پرشاد کھانے کا نام تو ہے، پھر ساتھ میں لیکچر بھی سنو گے تو اس کا تھوڑا تھوڑا اثر پڑھے گا۔ اس کی لئے شاستمی شرم گفت کے دن ہم پر بہت زیادہ ہے۔ یہ کہا جاتا ہے بھار بھار سنو یہ نہیں ہم نے سنیا کریشنا بھگوان پھر بھگوان ہے بھار بھار ہے ایک بار لوگ ہمیں توچھ دیتے ہیں اس پار مندروں میں ایک ہی سندیش ملتا ہے کیا کریشنا بھگوان ہمیں تو کوئی راسکی لفظ کی جان چاہیے کہ ہمارا کیا روپ تھا, کیا بنے گا. کئی بہت لوگ کوڑ آنکھنے چاہتے ہیں کہ یہ وہاں کے مہتبہ لوگ کہتے ہیں. ہاں تھے پُروجن میں یہ تھے, اب یہ بڑھوں گے. ہمارا یہ بھاو ہونا چاہتے ہے کہ ہم بھگوان کے سدھا کیا رہے ہیں? نتیدار. जिवेरे सुरुबाये कृष्ण नित्यदार. ये महाप्रबुः का मरणर हैं. हम سدھा भगवा ساتھ سو کیوں بھاری ہے کہ آپ بھکتی میں روچی لے رہے ہو۔ وہ ان بھکتوں کے بھاری ہیں جنہوں نے میرتھر کے مہینے میں خیمتی سمیں کا اپیوگیا بھمان کے سیوہ میں آپ لوگ گھر گھر گئے کتابوں کو ماننے کے لئے۔ اور میرے خیال سے اس میرتھر میں آپ بھکتوں نے مل کر چھ آلاکھ سے اتنی قرآن پاتے ہیں۔ पुरा, पुरा भी लगती नहीं हो रहे हैं पर एक बाला आपके मंदर नहीं हैं पिंजाबी बाग जो से मंदर देया रहा है नामके पुर्णा के मंदर नहीं है साथ सो भगवतन से पाते हैं दो लाग से अधिक ग्रंथ होगे हैं तो ये भक्तों का उच्छा पर निर्पर है ہمارے مندر میں یہ بھاو ہے کہ ہم نے لوگوں میں اُدھار کرنا ہے اور پریاس کرنا ہے۔ اگر پریاس کرو گے تو بھگوان کے آدھے کہتے ہیں یہ ہی ہاتھ ہمیں ہمیں قبضہ دیں گے۔ جتنی ماتر میں کوئی بھی نیچرل میں آئے گا اتنی ماتر میں اس کی میں سرکشت ہوں گا۔ تو آپ سب سے جھٹے ہیں ہر دوار کو ادھر آیا کرو مندر اور اِس بگاہ آپ مچھت ہونے سے بچ جاؤ گے۔ لیکن یہ جو من ہے، یہ من مطرح ہے، من کو مطرح بنانا ہے۔ اس وقت یہ من ہمارا شتر ہے۔ شیطان ہے۔ من کیا کہتے رہتے ہیں آپ کو؟ کیا ہے جنگلی بھکتی؟ ابھی تک تم اتنے جوان ہو۔ کیا ہے آپ کی آئیوں؟ سنتر سال۔ پھر سرکار آپ کو ریٹائر کردے گی ساٹھ سال میں پھر گھر والے کہیں گے سب تس سال پہ بخشی کریں موڑ چھپ کی جوان ہے تو کب بخشی کرنی چاہے جب لگڑے ہو جاؤں گھنگے ہو جاؤں مہلے ہو جاؤں اندھے ہو جاؤں جب کوئی آپ کے پاس نہیں بیٹھنا چاہتا جب آپ مندر پہ جاتا تو اس پر کہاں کا بھاو رکھو گے کوئی زیبان کے لیڈس کو نہیں پھاپ رکھے ہمیں کئی سال ویدے جانے سے پہلے سوری نو ٹائم یہ تھا آرٹیکل کا نام سو اس میں پرابا جی کہ سمجھاتے ہیں ایک پرسند بیگتی کو ملے تھے اور پرابا نے اُبدیش دیا اس نے کہا سوری جی آپ جانتے نہیں میں کتنا محض ہوں ام سوری نو ٹائم اور اسی بیگتی جس نے کہا اگلے دن اُس کا ہارڈ اٹیک ہوا ہمارے گئے تو آپ یہ مت سوچو کہ اُس کا ہوا ہمارا تھوڑی ہوگا ہم دکھ کر یہی سوچتے ہیں وہ طرف رہا ہے وہ دکھی ہے وہ روگی ہے پھر ہم تو دیکھوں گے کوئی سوال ہے پھر جو روگی ہے کھل آپ کی بھی بہت سیدھی بن سکتی ہے تو اسی شاست میں کہاں گیا ہے کھڑم پھڑم پر کیا ہے سلام سلام اس سکھشا کو اپنا آئی ہے. چھتنے مہا پکھوں نے پانچ بھی شمر بھگیا. سارے سنگل اوپے نام کرتن. عزیز سادھو آپ کو ایک ہی سندھش دے گا. آپ بیشتر کے کسی کونے میں چلے جاؤ اس کون کے. آپ کو ایک ہی منصف سنا ہی دے گا. سچ بات ہے. یہ دیکھ یہاں پارتہ ساتھی مند میں رادہ کھڑے کشنہ اور لندن کی مندر میں کوئی اور منصف. ایک ہی منصف دیا جا رہا ہے. کئی دھرم پرچارک لوگوں کو گفت منتر دیتے ہیں۔ ایک سامنے دو بھگتی تھے جو ہمارے شیعوگی کے سلسلے میں جڑے تھے۔ تو انہیں گفت منتر دیا جا رہا تھا۔ یہ مطلب کس کو بولنا نہیں، تمہیں ہی دیا جا رہا ہے۔ اور جس کے بدلے میں انہیں تھوڑی چالیس دولار دینا پڑتا تھا۔ تو دو گفتوں نے کہا Let's see کیا ہو کہ تمہیں کونسا منظر دیا تھا؟ پھر پھر دیکھا کہ سو لوگ ایک ہی منظر دیا ہاں لگا۔ تو کہی اپنے اپنے منظر دے گئے ہیں۔ پھر ہائے گشتہ منظر کے بیچ میں تو کوئی شانکہ نہیں ہے۔ یہ پربارک ہے؟ ایک گشتہ بیچ میں ہے۔ کوئی نہیں کہے گا یہ موقع سے ہے۔ پراپا نے کہا کہ ایک سبے پراپا جی کو ایک سبا میں ملایا تھا ہندو سوامیوں کی۔ کوئی عبادت نے کہا ہم جائیں گے اگر وہ اس بھی شکست سکار کریں۔ One God, Krishna. One Book, Bhagwat Gita. One Mantra, Krishna Mantra. اگر ہم اسے سکار کریں گے تو پھر سماج میں شاندی ہوگی۔ تو آج اندھیان کی بہت آبشکت ہے۔ بھارت کے کونے کونے میں لوگ عیسائی دھرم کا پرچار کر رہے ہیں، اسلام کا کر رہے ہیں۔ وہاں ہمارے ہندو بھائی بھائی کیا کر رہے ہیں؟ کیوں کہ ہم لوٹ گن رہے ہیں۔ ہمیں اِس دیویہ سندیج کے پرچار میں فیوک دینا چاہئے۔ اور اِس کا اندوارہ بیشتری سندیج ہر گھوڑے میں دیا جا رہا ہے۔ تو ہم سب اِس لوگوں کے سنیج پر سکار کی جگہ کپیلے لے بھگوان ماتا کے پریشان کے اوپر میں کہہ رہے ہیں۔ جو اصلی عدوان ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ آسکتی کو چھوڑ کر کیا بڑھاتے ہیں؟ آسکتی تو ہونی چاہیے۔ اگر ہم آپ کو کہیں پوزیٹیو آسکتی بھی نہیں رکھو، نگلے بھی نہیں رکھو۔ آپ سمبھب ہیں. کئی پچھار کہتے ہیں آنکھ بند کر دو بس. آنکھ دھڑکے وہ سو جاتے ہیں. تو ادھیان نہیں آ سکتی. بڑھانی ہے. تو بھکتی کی ویڈیو کا پادل کرنے کے لئے یہ سمبھب ہیں. آج اگر اِس کو کہیں ہزاروں لاکھوں بھکتیں ہیں. سارے بیشوں میں. یہ سارے بھکتوں کی پہلے بہت ہی آ سکتی تھی. ہے کی نہیں؟ پھر وہ نے ہری نام سے آرام کیا۔ پرابا جی نے پرچار کیسے آرام کیا؟ نیویوں جاں کر کرتن کیا پارک میں اور ہری کچھ مندگوں کچھ آرام کیا۔ تو آدھیان بھی آسکتی ہے۔ سمبھل ہے۔ کٹھل ہے پر سمبھل ہے۔ جیسے کہ بھوگاں کہتے ہیں देवि शक्विन मायि बवा माया दूरत रहा आप। ये माया का भिरोध करना महुद मुश्कल है। यो मेरे शनकत होते हैं, वो कर सकते हैं। तो ये हैं उपाई, ये हैं असकी लाख्ष. बहुत अन्याद भी का सकती, बड़ ہر ربی بات کو آئی ہے مندر، آپ کا مندر ہے۔ نیتہ کو پڑھئیے، ہر نام کو اچھارن کیجئے۔ اور جو اُتسا تھا آپ بھکتوں میں پرچار کے لئے پچھلے مہینے یہ اُتسا سالے سال رکھنا۔ یہ نہیں ابھی گیانہ مہینے کی چھوٹی۔ پھر اگلے سال پھر شروع کریں گے۔ مہیا کا مہینہ سال میں ایک مہینہ رہتا ہے۔ ہاں؟ full time. English میں کہتے ہیں 24 by 7 24 کا مطلب ہے 24 گھنٹے 7, 7 کا مطلب ہے 7 دن یہ دکان 7 دن 24 گھنٹے اُن کو لائے کر دیا ہے اسی بغار ہمارا پرچار کا اُنسا ہونا چاہے 24 by 7 24 گھنٹے ہر ہفتے، روج یہ اُتصا ہونا چاہیے۔ ہمیں بھکتی میں روچی بڑھانی ہے، ادیادمی کا آسکتی بڑھانی ہے، موزک آسکتی کو یاگرہ ہے۔ اور یہ سب سمبل ہیں ادیادمی ہتھیاروں کے طور پر۔ آپ جو جڑے ہو اسکار کے ساتھ، آسکی ادیادمی ہتھیاروں کے ساتھ، آپ کے پاس پرابہ جی کی ٹھپا سے ہر بڑا کا ہتھیار ہے۔ کیا ہے ادیادمی ہتھیار؟ پہلا ہتھیار یہ مہا منطرہ پھر ہے بھگوتم گیتہ کا سندے پہلے سندھر مندر بھگوان کے اچھا آچھا وکڑا کا نرشن تو اگر آپ این سب سبیدہوں کا ناب اٹھاؤں پھر آپ بڑی سہرتا سے موتی کا سکتی کو توڑ سکو گئے اور اس کی وجہ ہے کہ آپ پرابت ہو گئے اور یہ آدمی کا سکتی ہے. اریجنز سے بھگوان نے پوچھے اٹھار ویڈیو کے آدھیائے میں اے ارجل وہی جانتیں آپ دور ہو گئیں گے۔ ارجل نے کہا ہاں میرا محبت میں تھاگنے کو سیار ہوں اور آپ کے عادیج کے انسان ہر ایک کرنے کو سیار ہوں۔ یہ ہونا چاہے ہم سب کا محبت۔ جو بھگوان کے اچھا ہے وہ اسے اپنی اچھا بنائیں گے۔ یہ ہی نہیں کہ ہماری اچھا ہے وہ ہی بھگوان کو پورا کرنا چاہے۔ ہم سب سوچتے ہیں ہماری اچھا کو بن جانا چاہے بھگوان کی اچھا پھرانچ سے ہم بھاہ بولا چاہے بھگوان کی جو اچھا ہے وہ ہماری اچھا آپ سب اِس اچھا کا ہاں اُٹھائیں گے اور اپنی زیون کا سامنہ ملیں گے. کسی کا کوئی پرشن ہے؟ اس کے بعد ہم دو دن پرشنوں کے بعد ایک سوشنہ دینا چاہتے ہیں۔ ہاں بولیے پوچھیں پوچھیں یہاں پہلے ہاتھ تھا۔ ہاں بھل۔ ہاں ایک مائک دینا پڑھے گا۔ ہاں بولیے۔ लगदी लगदी, शानती शानती, और 10 मिलें में समाथ जाएगा.
हरी किष्णा माराज जी, मुझे ही पूछना था कि आपने मताया हमारे अंदर सुपर्फर परमात्मा अभिराजमान है और कभी-कभी इसे मत से आवाज आती है, आपने बोला इसे भक्ती ना करने की और पर تو ہم کیسے پچانے گی؟ من کی کونسی آواز ہے؟ کونسی پرماطمہ کی آواز ہے؟
پرماطمہ کبھی نہیں کہے گا بھگتی مت کرو۔ تو اگر کوئی کہہ رہا ہے بھگتی مت کرو یہ آپ کے مند کی آواز ہے۔ پرماطمہ تو یہی کہے گا بھگتی مت کرو۔
اور بھی ادھر ادھر چیزوں ہوتی ہیں، جیسے کھانی یہ والی نہیں، جیسے جب کوئی کام کرتے ہیں، کچھ بھی کام کرنے کے لیے مل کرنا ہے، تو اس کو سمجھ بھی نہیں آتا ہوں کہ یہ بھکتی سے related ہے یا نہیں ہے؟ کچھ کھانے کا جیسے ہوپن ہوا، کچھ کرنے کا ہوپن ہوا؟ اگر
آپ کے مند میں یہ بھاو ہے کہ پریشاد کھانا ہے، کیونکہ گیتہ پر بہت بہت کہہ رہے ہیں، تو پریشاد نہیں کھائے وہ پاک ہوا۔ پھر پریشان کھا رہے ہو تو یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ بھگوان کی اچھا ہے۔ پھر اگر آپ مکڈالنڈز میں جا رہے ہو تو یہ سوچیں کہ یہ مایا کی اچھا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اوکیے، نیچے سوال. ہری کشتنہ مہران سیدھی، دنبت کا نام. मैں چھہ مہینوں سے بیس میں رہا ہوں, इनांचल थांबेस में. मैंने लेक्शर चह मेने से भी सुन रहा हूँ. तो मैं ओफन्स कंसेस जादा हो गया हूँ, क्रिष्णा कंसेस होने से जादा हूँ. तो क्या मैं... क्या, मैं सोरी, क्या कहा आपने? क्रिष्णा कंसेस, क्रिष्णा कं I should avoid offenses and you are trying to be careful. That's very nice. Understand? अगर आपके मन में यह भाव है, कि मैं आप रादों से बचूं, इसने मैं सालदान हूँ। यह नहीं अच्छा भाव है। एक भाव हूँ। हाँ, पुछे। Yes? धल्ली पहुंचा है माईं. دو تین مائکس ہے یہ بھائی. ایک مائکس پہ چانے میں دیگر لگے گی. हاری کشنا ماراجی दनपाओ.
ماراجی सभपने पटाएगे जस ہماری जो कमिया हैं.
इदर अपने सीनئर वयसको पूछते हैं. तो कमिया दूर होती हैं.
लेकिन हमारे द�
تو اس کی نظر میں ہم گر جائیں گے۔ یا ہم ہچکتے ہیں پوچھنے سے۔ ہمیں ہچکنا نہیں چاہئے۔ اگر کوئی بھاگت آپ کے پرشنوں کا نجائز پیدا اٹھائے تو وہ سینے بس ہوتا کرم، کرمہ پہنچنا پڑے گا۔ اگر آپ شدہ سے کسی بھکتے پہ جا رہے ہوں پرشنوں کا احساس پراکھ کرنے کے لئے وہ کہتے ہیں جائز فیضہ اٹھائیں، دوش ان کا ہوگا. आओ करदे. अलवा हरे विष्टा मारा जी, जनडरपडरी मारा जी, मारा जी गीता में भद्वान कहरे हैं सारे धर्मों को त्याग दरम चहें और मेरी स्वर्ण मारा जी म
میں
نے یہ سمجھایا تھا آپ کو میں نے یہ سمجھایا تھا سر و دنبہ بڑی درجہ کا یہ حرکت نہیں کہ عیسائی دنبے سے آگو، یہ دھاگو اور کشنا کے دنبے دو اس کا یہ مطلب ہے تن مندھن سے بھگوان کی شننگت ہو جاؤ मہराजि इसायी इकि सब अर्ज़ पहला आये हिस्लाम चौना सब अर्ज़ पहला आये हिस्लाम चौना सब अर्ज़ पहला आये हिस्लाम चौना सब अर्ज़ पहला आये हिस्लाम चौना सब अर्ज़ पहला आये हिस्लाम चौना सब अर्ज़ पहल آپ پوچھ رہے ہو، ہم کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ
ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے جانتے
ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم بھگواں تاں کہتے ہیں میں ہاں جانتے میں آؤ میں ہیں ہی شرم میں آؤ ہم کہتے ہیں نہیں ہمیں ایک دو جنم اور دے دیں مجھے پھر اگلی election میں اچھی سرکار آجائے تو بھگواں تاں کہتے ہیں بھگواں یہی کہتے ہیں نکلو یہاں سے ہم نیل رہے ہم کہتے ہیں ہمارا پوچھنا ہے کہ جیسے میٹریل اٹیسمنٹ سے میٹریل کونسلسنس ہوتی ہے، جیسے پارٹ ورڈ میں نکھا رہا تھا آپ نے بھی بتایا، بلکہ جو غریبستہ ہوتا ہے، اُن کو کمانے کے لیے ڈاکری کرنا ہوتا ہے، جاک کرنا ہوتا ہے، بیزنس کرنا ہوتا ہے، تو اُس میں تو اٹیسمنٹ کی ضرورت نہیں، تو اُس کو ہم کیسے سمجھے اور کیسے ہم ملتی کریں؟ بھاگوڑ دھمکت ساتھ ویس کھند میں نارد مونی سکھشہ لیتے ہیں بھرمجاڑی کا کیا خطرہ ہونا چاہے؟ مانو پرستہ کا کیا ہونا چاہے؟ سنیاد کا کیا؟ اور گریہستہ کا کیا؟ تو گریہستہ کا بشیر میں یونسٹر مراج نے ایک پرشن پوچھا تھا اس وقت ہم سب کی بھلائی ہوئی۔ یونسٹر مراج نے نارد مونی سے پوچھا ساتھ ویس کھند میں شاستہ کے ادھار پر ہم جو گریہستہ آشتہ میں ہیں کیسے بھگوان کو پرات کر سکتے ہیں اور اُتھر میں مناظر بھولی نے کہا سب سے پہلے کچھ کمائی کرو آپ گریہستہ ہو آپ کو کچھ پیار کرنا پڑتا ہے دھن کمانے کے لئے پھر یہ بھاو نہیں رکھو کہ جو میں نے کمائیا ہے یہ سب میرے جیوں بن جائے گا یہ اسے بھگوڑا کی سیواز ہوگی۔ آگے سنتوں کے سنگ میں رہنے کا یہ سو یہ پوچھو، کیسے زیادہ شرنگل ہو سکتے ہو؟ کیوں کہ یہ سمجھ باندھو آپ ویپار کر رہے ہو، نوکل کر رہے ہو۔ اگر انہوں نے یہ بھاو ہے میرے ہونے پاس سفر ہو جائے پھر میں بھگوان کی سیفہ بھی کروں گا۔ وہ اچھا ہے، ٹھیک ہے۔ لیکن آپ کے بارے میں یہ مہو ہے؟ نہیں، جتنا کماؤں گے مینا پرینام ہے، مینا پریاس ہے۔ میں نہیں بھوگت دائیں۔ ہر کشتہ بھاؤں کو بولو، دس سال اور آئے۔ آپ کماؤں، پھر بھگوان کی سیفہ ہو۔ یہ میں لگا۔ ایسے میں لگا۔ चेतरे चेतरी तब एक कथा पढ़ते हो। एक महाब्रुभा के भर्थ से खोला वेचन श्रीरा बहुत ही प्रिश्चित से, बहुत गरीब थे। सारा धन्दा था, केले के पत्सों के फ्याले बनाना। पुर वो प्रचाज पतिशर देते थे, गंगा की सेवा में। हम त پھر کچھ اور کچھ ساتھ ہمیں ہماری سیوں میں دینا چاہیے پرچار کے لئے۔ ہے کی نہیں؟ گلواروں میں ہوتا ہے، کشنوں میں ہوتا ہے۔ اور کوئی پریشان؟ ہاں۔ ہاں۔ ہاں۔ ہاں۔ پھر اُن کے طریقے اگریشن اور غصہ رہتا ہے جو ہم کچھ بول تو سکتے نہیں، ہم ادھر ہی اندر بولتے ہیں۔ وہ سینئر بھگتوں کا ہے کہ غصہ رہتا ہے۔ ہاں، مطلب جیسے کوئی سینئر ہے، اُن سے ہمارا آواز بھی بھال ہو، پھر ہم اُن سے زیادہ تو کچھ بول نہیں سکتے۔ تو جو غصہ ہے جو اگریشن ہم اپنے اندر ہی رکھتے ہیں۔ اور اسے کے اوپنز ہونے کے ہماری طرف سے بہت سارے کام سے ہو جاتے ہیں تو اس ستے پینوں میں نہیں ہم سب کو ٹھیک اُسے ویوار رکھنا چاہئے یعنی کوئی سینئر بخت ہے تو اُس کا ویوار بھی بڑے بڑے بھاؤں سے ہونا چاہئے یہ نہیں ہی ہم سینئر بخت ہیں ہم چھڑاتے جائیں گے تمہیں بیستی کرتے جائیں گے اس وجہ میں چھنکہ پندر کا بڑا سمجھ رہا پتیش ہے چھنکہ پندر نے کہا ہر عورت کو اپنی کے علاوہ ماں جیسے ماں دوں۔ دوسروں سے ایسا بیوار کرو جیسے آپ چاہتے ہیں وہ آپ سے بیوار کریں۔ Deal with others the way you want others to deal with you. ہم کیا چاہتے ہیں؟ سب ہمارے لئے ٹھیک بیوار کریں۔ ہمارا بیوار چاہے سینئر ہو یا جونئر، اسی طرح کون ہے؟ عزت کے ساتھ۔ Okay?
بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ آپ کے درشمنت کے لئے، بہت شکریہ ایسے بہت سارے سوری آپ کے سوگری درشمنت کی نام سے کے ہی ہو جاتا ہے. پھر جب ہم تھوڑے گھڑائی پھی گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے گئے آئے پھر ہم تھوڑے گھڑے ساتھ گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے گئے آئے ساتھ پھر ہم تھوڑے گھڑے
گئے آئ یہ اچھا بھاو بھی ہے۔ اگر آپ مولتی نہیں کر رہے ہوتے تو آپ کب کے چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔ آپ کتنے سالوں سے ہوئے اسکون ہیں؟ دو سال۔ ٹھیک ہے، اب دو سال سے بھی لگا، بندھر آ رہے ہو، چھین کر رہے ہو، مطلب ہے آپ بھی بیدوان ہو۔ یہ بھی یہاں پر کئی رسلدار یا مصر کہتے ہوئے پاگل ہوئے ہو بار بار مندر جاتے ہو کہتے ہیں ہاں پوچھیں پوچھو میں سمجھے نہیں पर शंकर जी की भप्ती गित्या सेवा थे क्रिष्णा पर फ़र्म होते हैं या होगी भप्ती गित्या सेवा होते हैं पर शंकर जी ज्यादा प्रसन होते हैं मैं समझ गया शंकर जी ज्यादा प्रसन होते हैं तो वो देखते हैं आप भगवाण क्रिष्ण की सेवा कर रहे हैं ब
مگھر چھوٹنی
بھی جائے چھوڑنا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کریشاں کا نام میں چھوڑا ہو کریشاں کے بھکتی میں چھوڑا ہو ہوگے ایک اور ایک ویسر میں بند کرنا پڑے گا جیسے میرے مائن پر جیسے کچھ گھٹ گھٹ گھٹی کرتا ہے تو مجھے اللہ سے گھٹ گھٹی کرتا ہے آپ لوگ نے impression سندھے میں لے لیا کہ اگر ایک مقصد منے سے ساتھ پڑی آتے ہوئے جاتے ہیں تو ان کے بھائی ملوس لوگوں کو اچھا مقصد کرنے کا جمع ہے ہاں ان کو بھی جرم کر سکتے ہیں اس پر یہ جڑے ہیں سیوا میں आज एक क्वाइशिन वो जारते हैं। अभी बंग टेने लगे हैं। हाइ
विशान मारे स्ट्रिंज आग सत्मा हैं, हम बिलोगी से हैं। مجھے شاید وہ کوئی چیز ہے کہ کرشن سیکھ سر دھرمان پریکرش مام اکم کہ ہم سب دھرموں کو چھوڑ کر بھگوان کی شرم میں ہوں اور ذاتی بھگوان ہو جائے یہ ہی ہے کہ مام پرپڑینت ہے کہ جس ماترہ میں ہم بھگوان کو سرنڈر کرتے ہیں، ہم بھگوان رڈیل کرتے ہیں تو اس میں بھگوان کا موڈ کیسے سمجھے؟ ایک تو وہ کہہ رہے ہیں کہ سب کو چھوڑ گئے میرے پاس آجا
ایک سے سب بھگوان کہہ رہے ہیں کہ جتنی شرن، بہتر میں شرن ہوگے اتنی سرکشہ ملے گی۔ تو وہ بھگوان کہہ رہے ہیں۔ یہ میں سوچو، تم دو پرسن سیوہ کروگے اور سو پرسن کمریش ملے گا۔ یہ گند بھرم میں مت رہو۔ جیسے ہمارے ہندوستان میں سب کہتے ہیں۔ ہاں ہم تو بھاکتاری ہیں۔ جتنی بات، جیسے بے پیپاری باتشاں میں کیا کہتے ہیں جیسا نام بھڑھو گے ویسا مال ملے گا۔ تو بھگوان کبھی یہی نیم ہے۔ جتنی مال سرکشنا لوگے، you pay 10% coverage تو اسی مال سرکشنا ملے گی۔ اور ساروں نام بڑھتا جاتے ہیں۔ تم دھن بھل دھن سے سب چھوڑ کر میرے آس پر کرو، میری توجہ کرو۔ Okay. I'll take one last question. ہاں پوچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا ایک سرال اپائی ہے۔ ایک سرال اپائی یہ ہے۔ اگر آپ کر رہے ہیں کہ گروہ نے آدھے ہی سی آئے۔ اس کو دعویٰ کرو، اچھا نہیں ہوگا، پہلے کرو۔ اور پھر گیرنٹید گروہ پرسن ہے۔ جو بھی کعپا نے کہا ہے۔ If you chant your 16 navas in full of four-legged wheel principles, you'll definitely go back to Godhead. کہاں ہے؟ مجھے
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

