तपस्या के क्या है लाभ ? | SB 4.30.4 | Iskcon Pune | 24 Jan 2020 | Srila Gopal Krishna Goswami

Srila Gopal Krishna Goswami explains tapasya, or spiritual austerity, from Srimad Bhagavatam 4.30.4, describing how it purifies the heart and deepens devotion. He warns against modern distractions like smartphones, movies, and drugs that cloud the mind, and urges sincere chanting and study of scripture instead of seeking chemically-induced happiness.
Chapters
होम ज्या तिम्रान्दस्या ज्या गंजलाश्याथ्या चक्षुवर्मिकदानियेना तस्माईस्तित्वलेना सीचे जानिया मलाविस्तान पाक्रदानियेना भूचले स्वयं रुपाक्रामियं राथि स्वावधान्ति बन्देहं स्रीग्रूः स्पीराखन कमन श्रीग्रूः वर्षावां सर स्पीरुपां सरणकां सहागनारभुराखन कमकं प्रिवा स्वी आना कृष्टवाक्तः स्वार्जनान्डरिखा स्वी आना कृष्टवाक्तः स्वार्जनान्डरिखा स्वी आना कृष्टवाक्तः स्वार्जनान्डरिखा स्वी आना कृष्टवाक्तः स्वार्जनान्डरिखा स्वी आना कृष्टवाक्तः स्वार्जनान्डरिख वहच्या काल्मा तर्म्य रिष्या। प्रिपासिंदू भेवच्या। परितानां पवधेवियो। किष्णे करोणो। जाईश्टि कृष्णात्रिया। گھوڑی کیندھ سری آنکھیں گھڑی آنکھیں گھوڑی کیندھ سری آنکھیں گھڑی آنکھیں گھوڑی کیندھ نازہ مرشد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تے قرشاز یوب سناتنا تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما بھوت تیساما ملا بھوت تیساما ملا بھوت تیساما تو میں سے مونی اس شلوکہ اچھارن کر ملا بھ رہے ہیں اور وہ چڑچا کر رہے ہیں ندورہ سے اس علیائے کے آرہن میں ندورہ نے میں سے مونی سے پوچھا پرچیدت پرچیدت کون تھے ایک راجہ ہمارا پرچیدت بڑے جس کے خوصوے سے اور ان کے پتا چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے ویوہ کر کر سندھان کو بڑھائیں اور بیٹوں کا یہ بھاہ تھا پہلے ہمیں تپسیا کرنی چاہئے اور اس کے پسچا گریہ سا شوہر جھوڑنا چاہئے پھر پچھلی طرح میں بڑی گھری تپسیا کی جیسے جانتا ہوں کہ آج لوگوں کو کہو جائے 10,000 سالوں کے لئے فٹیلر نے تفصیل کی 60,000 سالوں کے لئے وانویڈی نے بھاگاں نے چلٹن کیا مہدیبادی مرویہ کی کیا کریں گے یہ سب کلپنا ہے Mythology Is it possible to live for 60,000 years یہ سمبھویہ ہے کیا 60,000 سال کوئی جی سکتا ہے شانسوں کے دوالہ یہ سکھشہ پاتھ ہوتی ہے کہ ستی اگر میں لوگوں کی حمدی کتنی تھی؟ ایک لاکھ سال، ایک لاکھ اور ستی اگر میں بھگت پراپتی کا احسانت تھا بھگوان کا چندن کرنا اور ساٹھ ہزار سال دار چندن سمب سال ادھارنگ دیا جاتا ہے پھان بھی گئی کا اس کے پچھا سیتہ یقہ ہے سیتہ یقہ میں لوگوں کی عمدی دس دنہ اور کم ہو گئی کتنا ایسے لگا جاتا ہے بھگو سب کی حسانت تھا بڑے بڑے یجیہ کرنے جس میں منصوب کا اچارن ہوتا تھا اگنی کا اچارن ہوتا تھا پہلے ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے پاس ہمارے ہمارے پاس ہمارے ہمارے پاس ہمارے ہمارے پاس ہمارے ہمارے پاس ہمارے ہمان کی چرنوں میں پھر آیا یہوں کا تو پچیت ہے اس نے دس ہزار سالوں کے لئے بڑی تپسیا کی اور جب وہ گئی دریاں میں تو ان کا پریچہ ہوا شیو جی کی تھا اور شیو جی نے دیکھا یہ بڑے شہداروں ہیں پھر شیو جی نے انہیں ایک منطر دیا جس کے دوارہ پرم بھگوان کا گنگان ہوتا ہے ہم سوچتے ہیں سائے بھگوان ایک ہی ہے کسی مار کو اپنا رہو انت میں ایک ہی نتیجہ ہوگا یہ سوچا جاتا ہے اور جب آپ اس قسم میں آتے ہو تو آپ کیا سنتے ہو؟ اور سنتے ہو؟ ایشورہ پارمکرشنہ ہچھنندہ بگرہ نہ اراد گوھرندہ سرمکرنا کرنا ایک ہی ایشور ہے اور ایک ہی پرمیشور ہے اور وہ ہے ہر چیز ہوتا ہے کیونکہ جو دیوتہ ہیں وہ بھی اسمکار کرتے ہیں ادھائن کے لئے शेव जी जो बड़े प्रसिद देवता है। उन्हें कौन सा मंतर दिया। मंतर दिया जिसमें परम भगवान श्री कृषन का मुणगाल मना है। इनकी वो सिकार करते हैं कि कृषना की जो भगवान सोया। शेव जी की रक्षा कुद परम भगवान ने की। शेव जी बड आशुतोष एसानी से प्रसन और एसानी से प्रोदर तो एक असूर था ब्रग असूर था जिसने पूचा नारदमुनी से मुझे बताओ श्मिष्णु शिवा और ब्रह्मा के बीच में सबसे एसानी से मैं किसको प्रसन कर सकता हूँ था असूर तो नारद मुनी समझ गए ये बड़ा सूरिक भाव का व्यक्सी है तो उन्हें नारद मुनी प्रशन था नारद मुनी मुझे बताओ किसको प्रशन करके किसको सबसे एसानी से मैं प्रशन कर सकता हूँ नारद मुनी जानते थे किया था भाव तो हम शिवजी की पूजा करो वो تو برکت سورہ گئے کدھار نال اور شرمی کی راہ دیکھ رہے تھے یگ اگنی جلائی اپنے شریف کے سے ماس کاٹ کر اگنی میں جو ارپن کر رہے تھے چھے دن ہو گئے ہواں شہب کا درشن نہیں ملا ساتھوے دن ہوں نے سوچا مجھے یہاں بھی تو آتمہ ہدیہ کرنے نہیں چاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو شیو جی نے یادو ہے سارے شریف کے جو چمڑہ کاٹ کر ارپن کیا تھا جوڑ دیا واپس. Cosmetology. اگر آپ کو یہ اندھادہ ہو جائے تو وہ کدھر ورد سے چمڑہ کاٹ کر لگا دیتے ہیں. تو آپ کو پتہ ہی نہیں لگتا. تو شب جی نے بھی تکنولوجی سے سارے شدیر کے جھوڑ دیا واپس کھاتا کا چمڑا بولو کیا ور چے مجھے یہ ور چیہے کہ جب میرا ہاتھ کو ہر چیز کے نیچے پھٹ جائے شریف نے کہا یہ تو بڑا خطرناک ہوا رہا ہے یہ ور سے تو سماج نشت ہو جائے گا یہ میں کیسے دوں گا آدھے ورشن دیا تھا دھو گے تو آپ کو دینا ہی پڑے گا تو ہچکتے ہوئے ہیں شریف نے ورشن دیا تھا ور دے دیں گے اسو نے کہا گیا ور پرابت ہوتے ہی ہاتھ پھنا دیا ہاں ہاں، شیو جی کے اوپر، شیو جی کو جھوڑنا پڑا وہ دیوتوں کے پاس گئے، دیوتوں نے کہا ہم تو کچھ نہیں کرسکتے، پھر وہ کہاں گئے، سویدہ دیوتوں نے کہا، بھگوان کا پتہ تھا چالی رہا بیٹھ لیا، بھگوان نے برمچاری کا روح گرہن کر لیا اور وہاں تھوڑی دیر بعد کہ احسور پہنچے پہنچے گا یہاں شیو جی آئے تھے تم کیوں ان کا پیچھا کر رہے تھے؟ انہوں نے مجھے ایک ور دیا تھا جہاں بھی میں ہاتھ رکھوں گا اس کے نیچے ہر چیز پھڑ جائے گی تو شیو جی نے کہا تو بھگوان نے کہا تم بیشوانس کرتے ہوئے اس ور میں तुम्हें पता नहीं जब से शिवजी का दैक्शा के साथ जग्डा हुआ था उनकी वोरों में शक्ती नहीं रही पहले देखो तो सभी यह बहुत जुटा है या सचा है اگر جھوٹا ورڈ دیا پھر تو تمہیں ماننے کا عادی کا رہا ہے اگر ورڈ سچ ہے پھر تم مانو گے تو پاپ ہوگا تجھماؤ تو سری پہلے پھر گسنوں نے یہ اچھا امدیش ہے پھر اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا دیکھنے کے لئے یہ سچا ورڈ ہے جہاں جھوٹا پر ہاتھ رکھتے کیا ہوا انہیں سر پڑ گیا तो शेव जी, ब्रह्मा जी, साहे देव, इंद्रा जी सब सुखार कर दें क्या? कि कृशिन भगवान कौन है? इंद्रा ने भगवान ने मादा पिदा को लुका दिया था सरादा इंद्रा यक से इंद्रा ने बड़ा अपमान मसूस किया और इंद्रा ने क्रोधित होकर वर्ष ہر پانی کا بون کھمبر جتنا بھاری تھا ساہر برج باسی گھبرا گئے اب کون ہوائی ترک کرے گا ایسی تیجی سے بارش برس ہوئی تھی سب کس کی طرف دیکھنے نہ کہیں بھگوان کشن کی طرف بھگوان سمجھ گئے بھگوان نہ جاتا کھبرا ہو مات اور بھگوان نے کیا کیا مہان پربت گوھردن آج جو آپ گوھردن دیکھتے ہو وہ پرانچی سمیں کی تُلنا میں تُچ ہے وہ سمیں گوھردن پربت جو تھا آکاش کو چھوٹا تھا اتنا اوچھا تھا آج تو آپ گوھردن پربت کی چھوٹی کو بڑے حسانی سے دیکھ سکتے ہو آکاش تک جتنا اوچھا ہو دیکھ سکتے ہو تو بھگوان نے بڑے سہاری کے ساتھ چھوٹی ہنگلی کے بل پر بڑے پرواد کو اٹھا لیا اس ستھیت میں جبکہ تیجی کے ساتھ بارش بڑھ سکتی بھگوان نے کیا کیا کوئی دن پرواد کو اٹھا لیا برجواسی بھگوان کی طرف دیکھ رہے تھے انہیں ڈڑھ تھا کہ چھوڑے بالک کی اوگلیوں سے پہاڑ نیچے نہیں گر جائے تو بھگوان نے کہا گبراو مات پہاڑ نہیں گرے گا اور سات دن کے لیے سارے بریج باسی بھگوان کی چہرے کو دیکھ رہے تھے اور انہیں نہ بھوک لگی نہ پیاس لگی اسی پرکار اگر ہم بھکتی میں جھڑے رہیں گے تو اپنے آپ کو بہت ایک بھوک اور بہت ایک پیاس سے بچا سکیں بہت ایک بھوک اور پیاس کے قارن ہم بھگوان کے شہننگت نہیں ہوتے تو انہیں نے سفیقار کیا کہ وہ ہار گئے بڑے سندھ ستوطیوں سے انہیں نے بڑا مہمان کا بھی جان کیا اسی پیکار براما جی کی اچھا تھی اس چھوڑے بالکی شکتی کے پریکشاں لی جائے براما جی نے ان کی گوالوں کو مچھلوں کو چھوڑا کر چھپا دیا کلوروفم دے دی اوپریٹر سے پہلے کاروفم دیتے ہیں نا وہ دیتے ہیں دو دن چار گھنڈوں کے لئے بھرما جی نے کاروفم کو اتنا بھائی ڈوز دیا کہ ایک ساتھ یعنی وہ سوپے رہے اور پھر بھرما نے دیکھا کہ جب خان احمد صلی اللہ وآلہ وسلم نے علیہ مرسل کر لیا تو انہوں نے سکار کیا کہ یہ بالک سویم بھگوان ہے پہلے دیوتا ہم سکان کرتے ہیں کیا؟ کرشنا بھگوان پھر بھگوان تو یہ ہماری کلپنا نہیں ہے یہ ہمارا سپنا نہیں ہے یہ کوئی نیا چیز ہم نے نہیں ثابت کیا یہ شانسوں کا نرن ہے ہمارے دیش میں ہم شانسوں کو پڑھتے نہیں اس لئے ایسے سوچتے ہیں تو پچیتے جو تھے اُنہیں شیو جی نے ایک منظر دیا اور کہا اِس منظر کا اُچھارن کرو تو ایسے ہی ہم بھگواں کا اُچھارن الیک روپوں سے کر سکتے ہیں آپ اپنے آمند سے اپنی پراتنہ لکھ سکتے ہیں جب اِس کو ان کی سامنا ہوئی پھر ہمارے کئی انگریزی بھکتوں میں سنگیت کا عبیاد تھا پھر اپنے اپنے گانے لکھنے لگے پھر آپ کو دیکھا اپنے گانے لکھنے کی وجہ ہے جو ہمارے آچھانیوں نے لکھا ہے وہ اس کا اچھانا تھا تو پچیتس نے وہ پرمانک منصف دیا جس کا اچھانا تھا اللہ شیف جی نے خود کیا تھا اور اُس منطر کے دوارہ کس کا گنگان ہو رہا ہے؟ کریشن مہمان ہے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ کریشن مہمان پرمہمان ہے تو ہمیں اُن منطر کو اچھارن کرنا چاہئے جن کے بشے میں ہم شانسوں سے گیاں تاثر کریں یہ نہیں ہم اپنا گیت لکھیں تو پرچیت از نے دس ہزار سالوں میں سپس کی تو شاستہ میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم پرم بھگوان کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کیا ہے ساندھر؟ سپس کا سپس ایوہ پرم جوتیر بھاگو تب ادھوک شجاو رابا جی کہتے ہیں بھگوان کے نیک ناموں میں ایک نام ہے ادھوک شجاو دوکشہ جگہ کیا عرط ہے جو کی کٹھنائی سے پرابت ہوتا ہے تو بھگوان کو پرابت کرنا عصان بھی ہے اور مشکل بھی ہے جو کی بھگوان کی شرنگت ہونا چاہتے ہیں جو کی بھگوان کی سکھنے کی ادھار پر چلتے ہیں اُن کے لئے تو سرل ہے یہ اپنا منمنی بھاو مار گھونتے ہیں اُن کے لئے پچھلیں ہیں تو پچھلیں دس نے اُس منطق اوچھانن کیا جس کا اوچھانن شیو جی نے کیا تھا اور شیو جی نے پچھلیں دس سے کہا تو اُم یہ منطق اوچھانن کرو ایک طرح سے پچھلیں دس تپسیا کر رہے تھے اُن کے پتا جو تھے مہران پچھلیں دس بڑے شاہ وہ کارمکن کہانی میں جڑے ہوئے تھے اور نارد مونی نے بڑی دیا کی نارد مونی بنا بلائے پہنچ جاتے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں میں اُس کی گھر میں کیوں جاؤں اُس نے مجھے نہیں بلائا ہے نا تو اُس پر جو بھکت ہیں They don't wait for invitation. They go uninvited. हم یہ نہیں دیکھ رہے ہیں. उसने अगर नहीं पुलाया तह हम क्यों जाएं? अगर आप एस सिदाद पर चलोगे, तो एक किताब ही नहीं बाठागे मेरे साथ. क्योंकि बहुत लोग, कम लोग फून कर कर बगें. हाले शामाव हमें दो से दो. बहुत कम लो ہے کے نہیں؟ تو نارد مونی بنا بنائے پہنچ جاتے ہیں تو یہ تو بہت ایک سماج میں ہے ہم کہتے ہیں اس نے نہیں بلایا تاں ہم کیوں جائیں؟ تو نارد مونی بنا بلائے راجہ کے محل میں پہنچ رہے ہیں انہوں نے دیکھا کہ یہ راجہ کے بیٹے تو تفصیل کر رہے ہیں پھر باپ کرم کرنے میں جڑا وائے تو انہوں نے کہا کہ پوچھا کہ جیوندہ کیا لکش ہونا چاہیے تم کرمکردہ کاریاں میں جڑ رہے ہو پر جیوندہ لکش ہونا چاہیے کشتوں سے چھٹکاراں پرابت کرنا بھگوان کے دھام کو پرابت کرنا تو کشتوں سے چھٹکاراں پرابت کرنا اور کیا بھگوان کے دھام سوچنے کی یوگیا کرنا پریاست کرنا یہ ہونا چاہیے بھگتوں کا بھاگ پھر آگے بڑھ کر انہوں نے ایک کثہ سنائی جو کی پرسد ہے پورنجن کی کثہ کے نام پر اور جس کا نرنہ یہ ہے پورنجن کا ارث ہے جو کی اِس دھے کا سوامی ہے تو ہم سب پرانجن ہیں ایک روپ سے یہ ایک روپک کثہ ہے اور ہم سب کیا ہیں پرانجن ہم اس دے کے سومی ہیں مالک ہیں ہم چاہے تو دے کا صدیبیو کر سکتے ہیں اور چاہے تو دے کا کیا آپ سب جو یہاں اپسد ہوں आप इस देह का सुदू प्यो कर रहे हो इसलिए आप इसे उपर सुदू प्यो कर रहे हो और कहीं हैं तो यहां नहीं आते हैं न अब धैस बार बुलाओ तो भी नहीं आएंगे कोई नो कोई बहाना दे नहीं है है न क्यों वो इस देह का सुदू प्यो कर रहे है तो नार पर चीदस दे तपस्या का पालन किया जिसके कारण उन्हें भगवान का दर्शन प्राप्त हुआ। तो तपस्या अवशक है अगर आप अध्याद्मिक शेत्र में मुरती करना चाहते हो। हमारे शांसों में भार-भार ये उपदेश दिया जाता है کی تپسیا کرنی چاہیے بھگوتم کے پانچ پیس گھن میں آپ کو رشدِ بھگوان کی کاثہ پرات ہو دیا ہے رشد کا ارض ہے سب سے پسند اور رشدِ بھگوان کے سو پتر تھے ویسے تو سب کے پاس ادھیاد میں کیان تھا پھر بھگوان نشاہ دیو نے اُن کے مالیم سے ہم سب بجیوں کو شکشہ دیا ہے بھگوان نشاہ دیو نے کہا تھا لائم دیہا دیہا آج ہمیں ہوگئے کسم کہا ہوں میں تمہیں ہوں گے تپو دیویوں پتھر کا جین سدھم شدید اس مہدوے سوکیا مہدوے اے میرے پتھر تمہیں یہ مانب دھے پرابت ہوا ہے اِس مانب دھے کا اپیو کرو کس لئے؟ کس لئے؟ کس لئے؟ اب وہ دیویم پتھر کا دیویم کا ارض ہے بھگوان کی خوشی کے لئے سپسیا کر رہو پھر بھگوان کی خوشی کے لئے ایک روپ سے دیکھا جائیں بہت ایک سماج میں رہنا سپسیا نہیں ہے کئی بھالوں کے لئے ہمیں تو کچھ اندازہ نہیں ہے نرک میں کیا ہے آج کوئی ان شہروں میں رہنا نرک میں رہنے کے بڑا ہو رہے ہیں کچھ خاص اندازہ نہیں ہے جیسے کہ آپ کی ڈلی میں دنیا کا سب سے ادھے پولوشن کا شہر ہے. First prize. First prize 10 چیز کے لئے. پولوشن کا لگو. گھڑیا میں موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن ہے. موس پولوشن پولوشن ہے. موس پولوشن اگر ہے. م لوگوں کو چھوٹ ہو تو سب کہیں ہم تو باپ لیشنوں پہ جانا چاہتے ہیں ہم تو کشمی پہ جانا چاہتے ہیں پھر کوئی اپائی نہیں ہے بہت ایک جیون متانا ہے دھن کمانا ہے فیکٹر میں کام کرو چوبیت گھنڈے کام کرو تو یہ بھی تپسیا ہے کئی بار پرابا جی کہتے تھے لوگ دو دو گھنڈے بھارت میں ٹرین میں جاتے ہیں نوکری کے لئے کئی لوگ ہیں جو پونہ میں رہتے ہیں اور بمبے میں نوکری کرتے ہیں رو دو گھنڈے جانا دو گھنڈے نہ آنا یہ تپسیا نہیں ہے تو رشد دیو جی کہتے ہیں کہ بہت دیویاں پتھر کریں تپسیا کرو پار بھگوان کی خوشی کے یہ باطن تپسیا تپسیا نہیں بانی جاتی ہے تو آپ پوچھو کہ اگر ہم یہ تپسیا کریں گے تو ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا کچھ ملے گا یا نہیں ملے گا کیا ملے گا رشد دیو جی کیا کہتے ہیں ہم کو اصلی خوشی پرافت ہو گیا۔ فلاد مہر کہتے ہیں، لوگ یہ نہیں جانتے کہ اصلی سلوک کیسے پرافت ہو گیا؟ تو پرچیدت نے تپسیہ کی جس کے دوارہ کارل، انہیں بھگوان کا درشن پرافت ہو گیا۔ आपको अगर भगवान का धर्शन चाहिए तो क्या आवशुक है प्रभाजी कहते थे आज के लोग कहते थे भगवान दिखा सकते हो हाँ दिखेंगे अगर आप अपने आपको योगियो बनाओगे तो तासमे में प्रभाजी दुरुह मनाज का उधारन देते हैं यह जो तात्परिय का संदेश है यह बहुत आपशक है क्योंकि जब प्रावपाद भगवतम्मत तात्परिय की और अनुवान कर रहे थे तो अपनी समक्ष भहान अचारियों की तात्परिय को रखते थे اُن سے جو عوشی و سندیج تھا لے دیتے تھے ہم دو بچاروں کو جھوڑ دیتے تھے تو کعبہ جی نے دھرو مراج کا وضعنہ دی آئے اُن کی قطعہ کعبہ دن میں پڑھتے ہوں چوبیس کنبے دھرو مراج جو تھے وہ راجہ کے بیٹے تھے پیدا کا نام تھا مراج وضعنہ پانہ اُن کی دو پتیاں تھی سُنیتی اور سُریتی سُریتی سے زیادہ اکرشن تھا سُریتی کا ایک بیٹا تھا اُتمہ سُریتی کا بیٹا تھا اُتمہ اپنے پیتا کی گوھر میں بیٹھا ہوا تھا جس کو دیکھ کر اُتمہ نے کہا میں بھی بیٹھ جاتا ہوں پیتا کی گوھر میں پیتا کی گوھر میں بیٹھنے گئے تو سریچی جو پتی کے نکت پیٹی تھی اسے بچے کو نیچے اتار دیا تو تمہارے پیدا کے گوھر میں نہیں بیٹھ سکتے جب تمہارا یہ سو بھاگیا ہوگا کہ میرے گرب سے جنم لوگے جب تم بیٹھ سکوگے تو وہ کہہ رہی تھی اب تم شریع کو تیاغ ہو پھر میرے گرب سے جنم لو پھر بیٹھ سکوگے پھر وہ نے بڑا افمان محسوس کیا پیتا نے کچھ کہا نہیں وہ انگلیش میں کہتے ہیں ہین پیٹ ہیلڈوز وہ ناظر مدی کی ہی سکھشا ناظر مدی نے پہلے تو پریکشا نہیں تھی پھر جب انہوں نے دیکھا کھیل بھانک میں بڑا درد بھاو ہے بھگوان کو پرات کرنے کے لئے بھگوان گیتہ میں کیا کہتے ہیں چاہتے ہوئے آپ جانتے ہیں چار پریستیتوں میں لوگ میری شرن میں آتے ہیں کون ہے چار پریستیت؟ ایک جسے دھن چاہیے پھر آپ پھولا کے بھگتوں کو دھن نہیں چاہیے ایک جو جگہاں سے دھن گھیانی ہے روگی پھر ہے تو ان چار کارنو بارش، لوگ بھگوان کی شہر میں آتے ہیں بھگوان کہتے ہیں یہ سب پونی آتماں ہیں پر ان میں سب سے خلصت کون ہے جو کی جان کی ادھار پر آتا ہے تو دھوہ مراج جا رہے تھے جنگل میں کیونکہ بہت ایک اچھا نہیں ہوا ہمیں ایک راج یہ پرابت ہو اے ستیلی مانے میرا عباد کیا ہے میں وہ تو دکھانا چاہتا ہوں تو میں نے تفصیل کی کیا پہلے مہینے میں تین دن میں ایک بار پھل کھانے دیتے ہیں آپ لوگ تو دن میں تین دن بیمار کھانے دیتے ہیں breakfast, lunch, dinner یہ لوگ سپر بھی کھانے دیتے ہیں چھوٹ چھوٹ دن میں تین یا چار بار پھر دیوں گا نا تین دن میں ایک بار کیا جو بندر کھاتے ہیں، وہ فل آپ کو دیا جائے گے، ہم کیا بندر ہے گیا؟ اور پھر چھے دن میں ایک بار کیا سوکھا غاز سوکھا غاز کھاؤ گے ایک گراس تھرپی ہے گراس تھرپی ہے گراس لوگ ہیں اسوار کر دیں گے وہ آپ ایک گلاس لے سکتے ہو کھڑا کی روح میں کہاں جائے ठास को उच्छे दिल में एक बार बहुत कम लोग दे सकेंगे फिर दो दिल में एक बार इस मकान जो मुराज ने अभी तो पस्चे दोरा भगवाँगो पसंग्या साथ में वो पंत्र का उचानन भी कर रहे थे नहां तो मुनी ने उन्हें कौन सा पंत्र दिया था तो इस घहरी तपस्य के कादल धुवा मराज को परंबगवान का दर्शन प्राप्त हुआ और जब बगवान का दर्शन प्राप्त हुआ उनके पूरी श्रीद आनन में भर गया था और भगवान ने कहा धुवा भागवें से क्या चाहिए تو ہم نے اتنی تپسیاں کا پالن کیا ہے پھر ہم نے کہا میں نکلا تھا گھر سے ٹوٹے ہوئے شیشے کے خوج میں ہم مجھے کیا پرابت ہو گیا ہے ہم مجھے سونا پرابت ہو گیا ہے ہم مجھے کچھ نہیں چاہے پھر اگر آپ مجھے کوئی دینا چاہتے ہو تو یہ ور دیجئے کہ مجھے انتھ بھکتوں کی سنگت میں رہ کر کہ میں انتھ بھکتوں کی سنگت میں رہ سکوں انتھ بھکتوں کی سنگت میں رہوں گا تو دیوے گھیان پرابت ہوگا جس کی اپیوگ سے جنرل مہدی کی بندن سے سلکار پاکستان تو تپسیہ کے بینا بھگوان کو پرات کرنا بہت مشکل ہے آج کے وطن میں عنیق دھرم کے پرچارک ہے، سچ ہے؟ دھرم کے پرچارک کی کمی نہیں آپ برناموڑ میں جاؤں پروحیش کرتے ہی آپ کو بیل بورڈ دیکھنے دینے لگ جائے گا یہ مہادمہ کی قطعہ، یہ مہادمہ کی قطعہ، یہ مہادمہ کی قطعہ اور آپ اُن کی اُبدیش پہ سنو بہت کام کی اُبدیش میں آپ سنو گے تُپسیا کا ورنہ کیوں؟ ایک بار میں نے ایک پرچارک سے پوچھا آپ اتنی پرچار کرتے ہو کوئی تپسیا کی چرچہ ہی نہیں کرتے جب شانستان میں لکھا گیا ہے شانستان پر تپسیا ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا ہم تپسیا کی اوپر چرچہ کریں گے لوگ آئیں گے نہیں فراہ پا جی نے بالکل نہیں بدلا فراہ پا جی جب امریکہ گئے تھے کئیوں نے انہیں رائے دی سوامی جی آپ جو یہ سندیج دے رہے ہوں کوئی نہیں سنے گا، پاپا جی نے کہا آپ مدد کرتے ہیں، پاپا جی کی چھتی بھگوت گیتہ پکاشت ہو، انہوں نے اپنے بھگت بھرم رضا کو بھیجا Publishers کے پاس جانے ہی گئے Geeta کو پکاشر کرنے کے لئے Publishers نے پڑھا اس کی گرانت میں Krishna Krishna Krishna کا نام بہت زیادہ لیا ہوا ہے Bhakti Bhakti Bhakti आँ लेक्खर को बोलो Krishna का नाम घटाए और Bhakti Bhakti Bhakti में इतना बल नहीं रहे थे फिर हम चापने की सोचे हैं तो ब्रह्मनद प्रभुने आँगे प्रापा से कहा जो आँगे प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा से कहा जो प्रापा اس لئے شاستر میں جا گیا ہے یگیہ دھانا اور تپسیا کسی کو نہیں تیاغنا چاہیے یہ نہیں کہ ہم بڑے مہادمہ ہیں ہمیں تپسیا کی عاوش کر دیں یگیہ دھانے تپسیا کسی کو نہیں تیاغنا چاہیے کیا ہے ہمارے بھگتوں کے لئے تپسیا پرابا جی نے یہ تو نہیں کہا دھروہ مراج کی نکل کرو فلاند مراج کی نکل کرو فلاند مراج کا تو پہاڑ کے چوڑی سے پھےکا تھا انہوں نے سہریاں ہم بھی یہ تو نہیں کہتے ہمیں بھی یہاں پورا کے پہاڑوں سے پھےک کر دیکھا ہم یہ تو نہیں کہتے کیا ہے تب بڑا جان جیب کی تپسیا کیا ہے؟ کیتہ میں بھگوان، وانی، مان، بھے کی تپسیا کی چرچا کرتے ہیں۔ وانی کے بشیر میں کیا کہتے ہیں؟ جیب کی ایک تپسیا ہے، ستیہ کا اچھارنگ کرو۔ ستیہ کا اچھارنگ اور خاص کر کے جہاں بھگوان کے سندیش کا پرشن اٹھتا ہے ستی روپے سے کار کرو یہ نہیں بدلو لوگوں کو آنکھشت کرنے کے لئے پھر مٹھاس کے ساتھ یہ نہیں کہ کڑوی بھاشا میں اس کو روکنے کے لئے سدا نہیں پیار کرو مٹھاس کے ساتھ اور سالہ منطقہ اچھارن کرو پھر ایک منطقہ بخان نے ایک جیب دی ہے اور کتنے کان روپا کو سومی کہتے ہیں اے بخان آپ نے ایک جیب دی ہے دو کان دی ہے پر یہ بس نہیں مجھے تو اور جیبیں دو آپ کے اتنے ادھے کن ہیں پھر ہماری کیا ستھی ہے ہم ایک جیب کو بھی نہیں سنبھال سکتے ہیں دو کھان کو بھی نہیں سنبھال سکتے ہیں انادھا کرو پھر آپ کی دس جیبیں ہوتی جنگلوں پر چاریس پچاس کھان ہوتے نہ سنبھال پاتے جیب کی ایک تپسیا ہے کیا جیب دوانا کریشہ کتا کی چرشہ کرو بھگوان کی ناموں کو اچھارن کروگا اگر آپ کشنر کتھا کی چرچہ کروگے جیب کے دوارہ بھاہ مندہ کو اچھارن کروگے کیا نام ہوگا چھیت و درپر مہجنم، بھاہ مندہ مانگنی، بھاہ مندہ مانگنی تمہارے ہدھے میں جو میل ہے جو بہت ایک اکرشن ہے وہ دور ہونا کام، کھو، دھو، مو، مدمت، سریعہ انہیں انارتہ کہا جاتا ہے इनके कारण हम भगवान के शर्णे का नहीं होते हैं। तो इनको दूर करने का क्या है सबसे सबसे विपाय? ये आईराम। तात्वेर में प्रापा जी कहते हैं सत्ही उत्यति उद्वापियूर और कल्यूद्वा में ये है सानव। श्रीमन भगवतम के बारवे सकंद में پاروز کن آکیس کن میں پریکشن مہاں نے پھر سے پوچھا یہ متاہیے کی کلی اگر میں لوگوں کا ادھار کیسے ہوگا پریکشن مہاں نے کہا شکریہ خساوی نے کلی اگر کے لکھشنوں کا ورنن کیا یہ سمجھایا کی پہ سب آج انہاں پدیت ہے اور پھر کہا اس کھلیگاں میں کیا ہے سادھ کرتے یا دھیایا دو بھشنوں سیڑھ آئیوں یا جتوں مکے جو وہاں پر پڑے چھوڑی آرہے ہیں کھلیگاں دن آرہی ہیں وہیں نام جو ستی اگ میں پراپت ہوتا تھا بھگواں میں چھنٹن کر کے جس کی ہم چرشہ کر بیٹھے ہیں وہی لاب جو تیرے میں پرات ہوتا تھا یگی کے جو بدوارہ وہی لاب جو دوابی میں پرات ہوتا تھا بیٹوں کو عرفن کر کے حریق میں پرات ہو سکتا تھا ہو سکتا ہے اس کی دوابہ جیسی کوئی بس ہوگا ہجار، لاکھ روے کی بکری ہے اس کا پرائیس ریڈیوز کر دیا ایک روے کے لئے سب بھانگیں گے نا، کھرینیں گے مرسیدیز گاریں ایک کھروڑ کی بکتی ہے اور کوئی ایک ہجار روے بیچ رہا ہے سب پہنچ جائیں گے، کھرینیں گے اسی طرح جو لاب ساٹھ ہجار سال کے چھندن دوارہ پرابت ہوتا تھا دن سے ہزار سالوں کے یگی دورا پرابت ہوتا تھا ہزار سالوں کے بھیل دورا پرابت ہوتا تھا آج پرابت ہوتا تھا کلیوگا میں کس مادیم سے یہ ہری رام کے بچارت ہے تو پرابا جی تیز پریز میں کہہ رہے ہیں کہ شریمت بھگوتیم کے بارویس کھن میں شکلے کو سونکھا وہی ناپ پرابت ہو سکتا ہے کلیوگا میں کس مادیم سے یہ ہری رام کے مادیم سے और इस भगवत में कहा गया है कले दोसी देने राजन अस्ति एका महाँ गुना केतना देवर कृष्णत्या आप इस लोग को रोज सुनते होगे क्लास में कल्योगा में क्या है दोसी दोसे एक गुन ये खर जाता है तो दुरुभराज की तपस्या की नकल करना असंभव है وہ ہی نہ پرابت ہو سکتا ہے کہ حرینامہ کیوں چھوڑنے چاہتا ہے یہ جیب کی تپسیا ہے اور جیب کی ایک تپسیا یہ ہے پرجل پا سے بچوں یہ چھوٹی تپسیا ہے پرجل پا سے بچنا احسان ہے بہت مشکل ہے کیوں کہ ہم سب کو پرجل پا کی آنن ہے پرجل پا میں آنن آتا ہے تم نے سنا کیا اس نے کیا کیا کیا لپڑا ہے کوئی افگون سامنے آ جائے تو ہم بڑے پرسن ہوتے ہیں جب گون کا پرسن ہوتا ہے تو پرجل پا سے بچو روپا کو سامنے کہتے ہیں اتیارہ پیسہ شرم پرجل پا پرجل پا دوارہ بھاکتی کمجور ہو جاتی ہے اور پھر جنبہ کرتے رہو گے، علوشنا کرتے رہو گے، نندہ کرتے رہو گے تو اس کے قابل کیا پہلام ہوگا؟ بھکتی کا جو بیج ہے بھکتی کی جو روچی ہے ملکو سبابت ہو جائے گی تو اس لئے ہمیں ابگنوں کی جگہ گنوں کو دیکھنا چاہئے پرجالپہ سے بچنا چاہے پرجالپہ سے بچنا چاہے کا مطلب کیا ہے کشنہ کثہ میں روچی پڑھاری چھائے یہ ہے جیب کی تپسیا اسی طرح گیتہ میں بند کی تپسیا کی چرچہ کرتے ہو چرچہ گیان پرابت ہوتا ہے اور نے کے دورہ تپسیا گیان پرابت ہوتا ہے ایک پچھل بھگ پوچھتے ہیں تپسیا پالن کرنے کی شکتی کہاں سے آئے آپ کے شریف کمجور ہے اب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں وائٹمین لو انجیکشن لو تو آپ پوچھ سکتے ہو کہ تفصیل پالن کرنے کی شکتی کہاں سے آئے کیونکہ آنے میں تو وہاں میں کوئی شکتی نہیں رہتی سچ بات ہے جس کی شکتی آتی ہے ویلی بھکتی کے پالن سے وہینی بھکتی کا پالن ارد ہے سادنا بھکتی یموں کا پالن اور ہری نام کی اچھارن سے یہ دیوی شکریہ پراتھ ہوتی ہے تو سکشیپ میں تپسیہ جو ہے انہوں نے بڑی گری تپسیہ کا پرچار پالن کیا دس ہزار سالوں کے لئے اس منطق اچھارن کیا جو کہ انہیں پراتھ ہوا تھا शिव जी के मादें उसे जब भगवान ने देखा कि इतनी घहरी तपस्याई प्रचीतर ने किया तो भगवान स्वयं प्रकट हो गए हैं उनकी समार्थ में ये मत वो जब वो समक्ष प्रकट हुए प्रचीतर ने को बड़ा आनन्द आ गया है आप बहुत परिशम करते हो और फ اور کتابیں پڑھیں تو آپ کو لگتا ہے محرکی پر نتیجہ بھی ملا اچھے اینکے تو پچھلی طرح اس کو بڑا آنند انبھاؤ ہوا کیونکہ اس تپرشا کا کیا پریدام ہوا اس وہی ہم بھگوان کا نشان پرابت ہوا اور وہ بڑے سندوش تھے تو پرابا جی یہی کہہ رہے ہیں کہ تپسیہ دوارہ بھگوان کو عقید کر سکتے ہو اور اس کھلی اگر میں یہ ہائی نام کا جو اچارند ہے یہ ہماری تپسیہ ہے تو ہم سب کا پریاس رہنا چاہئے کہ ہائی نام میں روچی بڑھے ہائی نام کو ہم دھیان سے لے اپرادوں سے رہت اور یہ ہائی نام کے دوارہ اناند ابودی اصلی آنند انبھاو کر سکتے ہو بہت ایک سماج میں ہم سب آنند کی کھوج میں ہیں آج ایک وسطے کو چھوٹے ہو کل دوسری وسطے کو آج ایک فلم دیکھتے ہو کل دوسری فلم دیکھتے ہو پہلے لوگ سنمہ ہال میں جاتے تھے سنمہ رہنے لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، ٹکٹ لے دیں، اوکے بار ٹکٹ بلاک مارکیٹ میں لے دیں آج آپ ابھی جیب میں سائیں فلموں کو بٹھا سکتے ہیں میں جب پلین میں جاتا ہوں تو چھالتا ہوں جو ایکسرسائز کے لئے دیکھتا ہوں ہر آدمی فلم دیکھ رہا ہے فلم دیکھ رہا ہے پلین میں یا کچھ اب یہ سمارٹ فون سے کچھ کھیل رہا ہے اینا تو آج کل عریق سادات ہو گئے تو آپ ایک فلم کیا سارا دن فلم دے سکتے ہو آپ اگر جیو اسکیم لو تو آپ کو ایک کروڑ گانے بھی سننے میں مخصوص ہو جائے گا تو آپ سوچیں تو عریق پرکار کی سبیدائے پر ان سب کا پرینام کیا ہے لوگ زیادہ سکھی ہیں लोग ज्यादा दुखी हैं लोग ज्यादा चिंपर में हैं लोग आजकर भारत के कॉलेजेज में एक बिमानी पहली हुई है वो है ड्रक्स की बिमानी आजकर कॉलेजेज में बोत कॉमल हो गया है और दिन पर दिन द्याया फॉर्म वो ड्रक्स इंटिडूस हो रहा है मुझे को کیمیکل سے بنا دے ہر پرکاہ کا ڈرگ، ہشیز، میریوانا سب لے لیا سنتوش نہیں ہوئے اب ایک نیا کیمیکل کا انہوں نے ڈرگ بنایا یہ نہیں سوچتے کہ اس ڈرگ دوارہ ان کا شریعت نشت ہو رہا ہے پھر ان کو چاہیے خوشی خوشی چاہیے جو اصلی ساندھ ہیں اس کو سکھانے کریں تو آپ سب جو کی ادھیان لیتا میں روچی لے رہے ہو آپ اصلی ساندھ کو سفکار کر رہے ہو اور آج کے تات پر کے سمافتی میں آپ ہمارے کہہ رہے ہیں یہ مہا منطق و چناند ہم سب کا سباگیا ہے کہ ہمیں شدھ سندیش پرابت ہو رہے ہیں ہمیں اس کا لام اٹھانا چاہئے اور اسے گھر گھر جا کر پھلانا چاہئے جائے داگت آئے کہو شدھ سندیش یہ جو بک میراتون کیا بھکتوں نے اس کا ادیشہ کیا تھا؟ اس کا ادیشہ یہ تھا لوگوں کو اصلی سکھ پراب کرنے کا سہانہ ہے اس میں جگہ چرچہ شامل ہو کریں گے یہ جو پرچار کی سیوہ ہے پرچار کا کاریہ ہے اس کا امبور ادیشہ یہ ہے سماح کو سکھی بنانا اور اصلی سکھ نکلی سکھ نہیں تو جیسے پرابا جی نے کہا ہے اس کھلی وگہ میں کیا ہے سالند یا مہا مند لگا تو مہا مند لگو سالند کرو، اپنا دل سے رہ درو، دھیان پر جعب کرو، ویسے یہ پرینام ہوگا جو ہردے کی میل ہے، جیسے روپا کو سمجھ کہتے ہیں بھجنِ کریہ کے پالن سے انرث نورتی پرابت ہوتی ہے یہ انارتت ہمیں اندھا بنا دیتے ہیں اگر ہم بھکتی کی ویڈیوں کا پالن کریں آپ انہیں دور کرسکتے ہیں ہمیں اس سکھشا کا لاغ اٹھانا چاہئے اور ہم اپنے جیون کو سبز بنا سکیں گے اور دھیان سے بھگوت کو سننا بھگوت کو پڑھنا گھنٹوں کو پڑھنا وہ تو بہت شک ہے پرابا جی کہتے ہیں کہ گھنٹوں کو پڑھنا اور بیٹھن کرنا اصلی استعمالی ہے پھر اِس پر بھگوت امریکہ آگیا یہ ہے اصلی استعمالی گھنٹوں کو پڑھنا اور بیٹھن کرنا اور اگر ہم یہ کریں گے تو بھگتی کی مانگوں میں ملتی کر پاؤگے اور بھگواں کے نام جانے کی یوگی ہوگی ہمیں یہاں دے مولی دے مراد پرتی نے بڑے شہر سے کیا کہا جیوان کا لقص ہونا چاہیے کشو دے شرکار آبراف کرنا اور بھگواں کے نام جاننے کی یوگی ہوگی یہ ہمارا پریاد ہائے کریشنا ہائے کریشنا कृष्णा कृष्णा हाले हाले हाले रामा हाले रामा रामा हाले हाले
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

