इंद्रियों को तृप्त करने का एक मात्र उपाय | SB 7.4.19 | 27 Jan 2022 | Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī

Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī explains that the senses find true satisfaction only through devotion to Krishna, not material pursuits. He cites Bhagavata Purana 7.4.19 and teaches that chanting the holy names, serving the deity, and associating with devotees quiets the mind and transforms the senses into instruments of spiritual joy.
Chapters
ہائے کشنہ ہائے کشنہ اُم نمو بھگوتے واسو دوائے اُم نمو بھگوتے واسو دوائے
اُم نمو بھگوتے واسو دوائے اُم نمو
بھگوتے واسو دوائے اُم نمو بھگوتے واسو دوائے کینٹر سیون چپٹر فور ٹیکس نائنٹین سا ایتام نے جتا کعکب ایکا راد ساہین پریان یتھوپ جہو سا بھنجانوں نت پیاد جتندیا سائی تم نے جتا کعکب ایک راج بشیئن پریانو جتو پجو سم بھون جانو مطر پیار بجھتن دیا سائی تھام نے جتا کاکوب ایک راج بشیئن پریانو جتو پجو سم بھون جانو مطر پیار بجھتن دیا
सहित्थं निर्जिता ककुबा विकराद विशयार प्रियान यतो पजोसं भुञ्जानू नात्रिप्यद अजिते
हिंद्रिया
एकराय किसी आंत्रियां चतो पंजस्टो भुंजानो
سائی تم نل جتت ککوں ایک راڈ بسیاں پریاں روپ جو سمبھوں جانوں آدھری پیاد جیت اندریاں سائی تم نل جتت
ککوں ہی گھڑا کی سیاری بھی آئیں گے ڈھوڑ دو سنگھوں ڈھوڑ دانوں شبلات
شبلات
उसने भिरन्यकसिभू इत्थम इस प्रकार निर्जीत जीत ही कुब सारी दिशायें एक सत्व भी सयां इंद्रियो विशेवू प्रियान अत्यन्त प्रिय यथा उपजोसं यथा संगो भून्जान भूक करते हुए न नहीं अत्रिप्यत संतुस्ट था पदीत इंद्रियं इंद्रियों को बस में न कर सकने के कारण। ताथ पर श्राब्रुपादी का गर्श्राब्रुपाद की समस्त दिशाओं को बसन करने की सक्ती प्राप्त करके तथा यथा संभव सभी प्रकार की इंद्रित तृत्ति का भोग करने के बावजूर मिर्ण गसिकू असंतुष्ट रह आया केव कि वह अपनी इंद्रियों को ब यह आशुरी जीवन का एक उदाहरण है। भले ही नास्थिक लोग भौतिक द्रिष्टी से प्रगति करने और इंद्रियों के लिए अध्यन्त सुखमें परिस्थिती पन कर लियें। के तू इंद्रियों के बसिरूत होने के कारण वे कभी तुष्ट नहीं होते। यह आ� में बहुत आगे पड़े रहते हैं फिर भी मानुस समाज में असंतोस्त यावत रहता है क्योंकि कृष्ण भावनाम्रित के बिना मानुस समाज कवी सुखी एवं सांत नहीं रह सकता जहांकर इंद्र त्रिप्ति का प्रश्न है भौति वादी अपने बहोक को अपनी कर्पना भ अतहें एव वित्तुष्ट नहीं रहते फिर निक्रस्पू मानोता की इस असंतुष्ट डसा का एक चोलत्तु दाहन था। अनुवार्ण पिसी सो बोलिये समस्य डसाओं को बस में करने की सक्ती प्राथ करके तथा यता संभो सभी प्रकार की इंद्रित्रिक्ति का भोग करने के बावजूर भिरने कशिपु असंतुष्ट रह आया क्योंकि वह अपनी इंद्रियों को बस में करने के बजाए उनका दास बना रहा है।
ہم گیاں تیمین دا سیاہ گیاں جناہ شلکیاں شکشر ملتا نہینا تس مجید ہوئے شیچے تانیا مناوے اسلام صحابت آمین ابھو تلے صلی اللہ علیہ وسلم چاہے شریف کرشنا چیتنیا پھائے
کرشنا
آپ سب بھکتوں کا ہیلک سواغ ہے سائی تھا ہم نے جیتا کاکم ایک ہڑھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ وہ بہت اوچھے کھوڑے کے بھکت ہے آپ تیسے سکرمیں پڑھتے ہو کہ بھرما کی پتھر کمار چار کماروں سے آپ پرچیت ہو وہ گئے تھے بھگوان کا درشن کرنے کے لئے انہوں نے پاس یوگیتہ تھی کہ انہوں نے بھرما کا یادہ کر سکتے ہیں کہ یہ ہوای جاز کی بھی نہیں ہے اور وہ پہنچے سکوندہ دھام میں ہاں بھگوان کے درشن سے پہلے سات دواروں سے آپ کو گجر کے جانا پڑتا ہے اگر آپ کبھی بھارت کے راشتر پتی کے گھر گئے ہو گئے ہو تو وہ راشتر پتی کے ایک کمرے میں پہنچنے تک چھا یا پانچ دوار سے گجر کے جانا پڑتا ہے رین میں جاکے ایک چھوڑا کمرے جاں راشتر پتی ملے گا تو لگتا ہے کہ یہ شروع انہیں نکل کی ہوئی گی آرکی رہ گیا ہے نکل کی ہوئی گی کہ یہ بھنگوان کے دھام سے یہاں سات دوار تھے چھے دواروں سے جہاں یہ کمارہ دی نکل کر چلے گئے کسی نے روکا نہیں پھر جب وہ سات میں دوار پہ پہنچے تو وہاں تک کیا دو چوکیدار سیکیورٹی کمپنک ہے۔ دو چوکی دار تھے، دو دوار پا، جائے بجائے۔ جیسے آپ کے مندر کے اندر آنے سے پہلے بھی جائے بجائے کی مورتیاں ہیں اور ساڈھ نگر مندر میں بھی ہیں۔ اب ایک سب پڑے مندروں میں ہیں۔ تو ان دوار پا لوں نے دیکھا، ان ننگے پچھے جا رہے ہیں بھگوان کے سان پر موہین کو مانا جس کو اتنا گہرا اندر آرہا تھا اور دوار پالوں نے کیا کیا روک دیا تم رنگے بچے اندر نہیں جا سکتے موہین نے کیا کہا تمہیں کوئی عدیقات نہیں ہے ہمیں روکنے سے ہماری بھگتی میں ہر چن بن رہے ہو تو جائے بھجائے نے روک دیا بھروکا تو کمارت اور بھی غصے ہو گئے تھے یہ آنکھیں ایگزم لال ہو گئے کیونکہ مجھے اتنا آنند آ رہا تھا اللہ کا درشن بھگوان کے کمرے میں پہنچنے کے لئے اور تو بھارپالوں نے جب سمجھا کہ ہم نے بھکتوں کو روکا ہے بھگوان کی درشن لینے سے تو وہ سمجھ گئے کہ ہم نے گلتی کیا ہے یہ جو ارتلاف ہو رہا تھا اسے بھگوان سن رہے تھے ان کے ایک مہن سے تھوڑی دوری دوری دار بھگوان ادھر آئے دیکھیں گے کہ کیا ہو رہا ہے کیا ہو رہا ہے جیسے آپ کی مندر کے سامنے کوئی جو جو سے بات کرے گا تو آپ کبھی کبھی آگے کوئی دیکھنا چاہو گے کون ہوگا تو بھگوان آئے بھگوان نے دیکھا ان کمارات نے دیکھا کہ جائے و جائے کا ہم بھگوان کے سامنے پڑا گہرا سمبند ہے بھگوان بڑے پیم سے آئے اور کہا کیا ہو رہا ہے اور جب جائے بجے نے دیکھا جب کمارس نے دیکھا کہ جائے بجے کا اتنا گہرہ سنبند ہے تو وہ سوچ لگے ہم نے گلتی کر دی ہے اور ہمیں وہیں شراب کو واپس لے لینا چاہئے تو بھگوان نے کہا نہیں یہ میرے ہی چاہتی کہ میں کیتوں میں نے شراب کرو اور پھر پھر جنہاں بجے نے کہا جیسی سجا دینیے دو پر ہماری ایک ہی اچھا ہے کیا جو جس سجا بھی دو گئے ہم اگوان کو کبھی نہیں پھولے گا ایسی سجا دو کہ وہ ہمیشہ اگوان کو سمجھنے کرسکے واقعتی رسم لیتے ہوئے سندو میں روپا کو سمجھنے کے لئے نے ایک نیم دی وہ کہتے ہیں ان سب نیموں کا ایک ہی مور وہ دیش ہے، single point. وہ کیا ہے؟ We should always remember Krishna, never forget Krishna. All these rules and regulations have only one goal. لوگوں کے ساتھ بھی کہتے ہیں، جو انیک نیم ہے، بکتی اور رسم لسندو, is a law book of the Krishna conscious movement. پراپا جی نوس انجلیز میں تھے جبیں کتاب چھپ کے آئی تھی جیپین سے اون دن میں ہماری بی بی جی کی بک جیپین میں چھاپی جاتی تھی تو پورا مندر کا بھکتوں سے بھراوا تھا پراپا نے نیکٹر ڈیبوشن کو اوپر اٹھا کر کہا This is a law book of the Krishna Conscious Movement Everyone must study this book تو اور پاکستان کیا کہتے ہیں ان سب نیوں کا مول ادیش یہی کی ہے ان سے زیادہ کرشنہ کا سمارنگ کرو کبھی کرشنہ کو پھولو نہیں اگر اندر سنوں میں کرشنہ کا سمارنگ کر رہے ہوگے تو بہوان کی جہاں ہم جا سکے اندر نرائنز میں تھی تو ہیرانے کا شکور کہہ دیتا ہوں انہیں حصول کے روح میں سمکھا کرتے ہیں تو وہ تھے بغمان کے مجھے بھگ اور انہیں ایسی شعاب ملی تھی جائے و جائے کو کہ دین جنم لیں گے جنم کیا ہوں گے بغمان کے شعب لوں گے خودت بھاہ سے بغمان کا حصول چکے گئے تو جائے و جائے بن گئے تھے ہیرانا کا شپو اور ہیرانا کا شاپ ہیرانا کا شپو کوئی صداناً حصول نہیں تھا ان میں جو شکتی تھی اس کی تلنا کوئی نہیں کر سکتا۔ مثال کیلئے یہاں نے کہا کہ ایشی بھوگی کیا ہی چاہتی ہے کہ مجھے کبھی بھی مذہب کے سامنے نہیں کرنا پڑے۔ تو وہ گئے برامجی کے بعد۔ برامجی نے کیا کہا؟ برامجی نے کہا میرے طریقے سامنے تو مجھے بھی جھوٹنا پڑتا ہے تھیہن ایڈیو اینڈ چلی اینڈ مارٹی بلینئیئرز یہ پہ مجھے کی آئیوں تو جائے بجائے بن گئے یہاں نے کہا جھپو یہاں نے کہا جھپو کا بات ہوا تھا کس کے دوالہ؟ پرام پرام خان کے دوالہ تو یہاں نے کہا جھپو بشنوں کے شاتلوں بن گئے تھے یہاں نے کہا جھپو کی اچھا تھی کہ مجھے ایسا جنب پرابت ہو کہ اس کے بعد مرتبہ سامنا نہیں کریں گے انہوں نے بہت گئری تپسیا کی آپ آشکری ہوگے ان کی تپسیا دیکھ کر مدھارنے کے لئے اب ایک انگوٹے میں پاؤں گے انگٹوز میں کھڑے ہوئے اور ہاتھ آکاش کی ہوگا اور کیا کر، کیسے، کتنی دیگر لکھ رہے ہوئے؟ دیوزوں کے سو ہمارے پریشان کے چھے مہینے، دیوزوں کی بارہ گھنٹے کے برابر ہے۔ تو ہنڈیس سیلیسٹری گیوز تک، یعنی کچھ کیا، اپنے روز پر کھڑا تھا، ہاں تھا آکاش کی اور، جیسے آپ کے پریشان، بھارت کا سطح پریشان، یوگی کون ہے؟ رام دیو؟ اُن کسی کو پوچھو کہو تو اپنے انگوٹے پر کھڑے ہوکر بتاو کتنی دیر کرسکتے ہیں میں کے خیال سے زیادہ سے زیادہ آدھا گھنڈہ کر پائے گئے ہیں پہنچانے کا اشکو سو ورشوں کے لیے دیو تکبر کے اپنے ٹوز پر کھڑا تھا وہاں تھا آگاہی کی طرف اتنی شکریت میں اور اُنہوں نے ایک بودھ پانی کبھی نہیں پیا انداز لگا سو ہزار کے کھڑے سے کھڑے ہوئے ایک گون پانی ہونے اور کچھ کھایا نہیں تو برمان جی وہوں کے جو شریع ہے وہ ایک اینٹ ہل جیسے بن گیا تھا چیٹے اوپر نیچے جا رہی تھی پورے شریع میں وہیں سب کو انہیں بہت احسانی سے ایسے لے لیا تو برابا جی نے جب دیکھا کیا کرے؟ برابا جی نے کمنڈاک سے پانی پیکا اور پھر سے یوگ میں گئے۔ تو ہیرانی کا شیبو جو تھے صدیان عصوب نہیں تھے۔ ہیرانی کا شیبو کہ جو اچھا تھی مرزی سے بچے پر جو بھاو تھا وہ بھی کیا کر رہے تھے صدا کے من میں مجھتوں کا ہی چندن تھا مجھتوں کی روح کا چندن تھا تو یہاں نے کشیبور کے پاس ہر پرکار کی شکتی تھی ان کے پاس کسی چیز کی کم ہی نہیں تھی اور ہیں آنے کا اشپور کے بعد ایسی شکی تھی کہ وہ کنٹرول کر سکے ہر جگہ اور پوری سفیدہ پرابت ہوئی تھی انڈیا سفیدے کی پھر سارے پوری سفیدہ پرابت ہوئی تھی انڈیوں کے انڈیا سفیدے کے لئے پھر پتہ آج میں میرا پرابو جی کیا کہتے ہیں پھر وہ انڈیوں کے داست بن گئے تھے ہیرانے کے شپو بڑی گہری تپہ سے اٹھائی اور ان کے پاس انیت ایپٹی کی انیک سبیدائیں تھیں اور آنٹھ میں ہیرانے کے شپو جب بھی بہت سنتوش نہیں تھے انہوں نے انیوں کو بہت سنتوش نہیں کر سکی تاکہ اسے ہم کیا سیکھتے ہیں ہم سیکھتے ہیں کہ اندھیوں کو اگر آپ سنتوش کرنا چاہو تو بھابا جی تاپیز میں کیا کہہ رہے ہیں آپ کو اندھیوں کو اپیوک کرنا چاہے بھابا جی سیوں میں تو ہیرانی کا جھپو انہیں بالرام انہیں بھابا جی کی دوارہ یہ وار مل گیا تھا جب ہیرانی کا جھپو شریف نے سنا کہ برابا جی یہ ورن نہیں دے سکتے کہ امیت کے سامنے نہیں جھکنا پڑے گا تو یہاں نے کہا جب کوئی نہیں سوچا، ٹھیک ہے میں انڈریکلی وعدہ لے لے داؤں دل میں نہیں، رات میں نہیں، ساگر میں نہیں، ایسی طرح کے انیک مر پراپ کے لئے وہ کیا سوچ رہے تھے؟ اب میں مجھے وہی ادیشے پراپس ہو گیا ہے برابا جیسے نے لوس اینجز میں لیکچر دے رہے تھے ایسی ہی نانکہ شکو کی لیلہ کے اوپر تو پرابا تھے کہا after killing ہی نانکہ شکو the lord told Brahma don't give such very lectures in future you made my job very difficult تو پرابا جی لیکچر دے رہے تھے ایسی قصہ کے اوپر تو پرابا تھے کہا کہ ہی نانکہ شکو کا موت ہونے کے پچھل بھگوان نے کہا برامہ سے ایسے ورگ بھگوشت بھی مت دینا تم نے میرا کاریہ بہت کھٹیل منا دیا تھا تو یہاں نے کہا شیپو یہ چار بیٹے تھے جن میں سب سے پرسد کون تھے پراناد نے دیویہ گیان پرات کیا تھا جب وہ کہاں تھے ماں تھا کی گھر میں جب حیران کا شپو منجانہ پروت میں بڑے گہنی تپسہ کر رہے تھے خلات ماتہ کی گھر میں تھے اور اندر اور دیوزوں نے سوچا یہ بھی پتہ جیسے نکلے گا وہ گزیر کے لئے جا رہے تھے جبکہ حیران دمونی پہنچ گئے حیران دمونی نے کیا کہا یہ کیا کر رہے ہو اور انہیں کیا کہا ہم اس عورت کو گسیل رہے ہیں اس عورت کا نام ہے شریمت ہی گھانے کا شبوء تو ایسے نے کہا نہیں گلتی کر رہے ہو اس عورت کے گھر میں کیا ہے ایک مہل پوچھے پڑے گا بھگت ہے تو ان کا عصفہ آگیا تھا کہ انہوں نے گیان پرات پر کر لیا ہم مادہ کی گھر پر تو گھانے کا شبوو کے بعد ہر پرکار کی سبیل آتی ہے
اُن کی
خوشی تھی کس میں اندیا دیپٹی میں اُن کو ہر پرکار کی اندیا دیپٹی میں خوش ہوئے پر انت میں کیا دیکھا کہ اُن پہ کوئی سنتوش نہیں تھے اگیانتہ میں ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہمیں اندیا دیپٹی کی سویدہ پرابت ہو تو ہم سنتوش رہیں گے اور یہاں ہم کیا اُبدیش دیا جا رہا ہے یہاں تاہت پچھ بھی پرابو جی کہہ رہے کہ آپ کسی بھی پرکار سے اندر شکریہ دوارہ عزیز سنتوجہ پراب نہیں کرسکتے ہیں تو جو بدیمان بیقتی ہے وہ کیا کرتا ہے وہ شاستہ کے سکھشہ کا لہوڑہ ہے شاستہ کا ارض ہے بھگوان کی مانی اور شاستہ دوارہ ہمیں سکھشہ ملتی ہے کیا کہ کیسے آپ عزیز سنتوجہ پراب کرسکتے ہیں شریف اندر بھاگوتہ میں شروع سے ہند تک انیک خیطائیں ہیں جن کے ساتھ آپ کو یہی سکھائی ملتی ہے کہ آپ چاہے کتنا بھی پریاس کر لو آپ کبھی بھی محسوس نہیں ہوں گے تو پلاد کے جو پتا تھے وہ سمجھ نہیں پائے کہ پلاد کو یہ جان کون دے رہا ہے اور پتا نے سندھ اور مرگا سندھ اور مرگا کون تھے شدھر شاہی کے پتھر اور پلاک کی حریابت ان کو پتا نے خاص سکھا دی لی کسی فکر سے اسے بیشنوں کی پتی جو آگشن ہے وہ سمبھ توڑ رہا ہے تو سندھار مہر کا کئی بار مہران کا جبون انہیں ڈھانٹے تھے وہ کہتے تھے ہمیں دوش مند ہو ہمیں برامن ہیں ہمیں کچھ نہیں سمجھاتا کون آپ کے بیٹے کو گھیان دے رہا ہے پیش بدل کر آ رہے ہیں یہ ویسے لوگ میرے بیٹے کو یقین دینے کے لئے جو پلال مراج کے جیون سے ہم کیا دیکھ رہے ہیں انہیں انیک پرکار کی کٹنائیں ہم سے سامنا کرنا پڑا تپسیا پرلال کو حلمہ کرنا پڑا وہ شہر کسی کو نہیں پراپس ہو گیا کسی نے اتنا گہرا کش نہیں اٹھایا پہاڑ کے چھوڑیوں سے اس نے پھیکا جہل سامبوں نے گہرا انگری چاروں ساروں سے جب بھی مر گئے شاہ سمجھے کیا کہتے ہیں راکھے کرشنا مانے کی مانے کرشنا راکے کے تو پھلا ہیرانے کا شپو کو بھما سے یہ ور مل گیا تھا وہ کیا سوچنے لگے جی اب وہی لکش پراپ ہو گیا ہے تو ہیرانے کا شپو سے اب دیکھتے ہیں جو دھانت سے ان کے بعد ہر پرکار کی سویدہ تھی ہندیہ تیوتی کے لئے اور جب بھی ان کی ہندیوں کو کبھی سنتوش نہیں کر سکتے وہ شاصوں کے سکھ شکل ہاں پڑھا سمجھا ہے. مطلب کی شاصوں میں جو بدیش ہے وہ ایسی طرح سے رکھتے ہیں. آج کیا سیدھی سماج ہے. ہم شاصوں کے شاصوں پہ رکھیں گے تو یہ بیشواس نہیں رکھیں گے کہ شاصوں میں کیا سندیش ہے جو سندیش ہے جو سندیش ہے ہم ڈاؤٹ کر دیں. کوئی بہتے کوئی پاری آپ کو گیرانٹی دے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے ہم نے تو اندھیوں کا اگر shift کرنا ہے ہم نے ہم ہم نے ہم نے ہم نے نے ہم نے نے ہم نے نے ہم نے کیا ہے اپائے اندھیوں کا اپیوک کرنا بھارمان کی صحیحت میں اپنے اشپڑھائی کے ادھاران میں آپ نے کیا لیکھا انہوں نے ہمیں ادھاران دیا ہے کیسے آپ اندھیوں کا اپیوک کر سکتے ہو بھارمان کی صحیحت میں ادھاران کے لئے آپ نے بانی کا اپیوک کیا کس لئے کس لئے بھارمان کا گندان کرنے کے لئے اور کرشنا پرشاد پہلوں کو اپیو کیا کیسے؟ بھگوان کے مندر میں چلتی جانے کے لئے ہاتھوں کو اپیو کیا کیسے؟ بھگوان کے مندر کو صاف کرنے میں اور آنکھوں کو اپیو کیا کیسے؟ بھگوان کے سندھر پہلے آنکھوں کو دیکھنے کے لئے تو امریش بنانے ہمیں وضاحت ہے کیوں کر سکتے ہیں ہمارے کسی میں شیمن بھگوتم کے دس بسکن میں آپ ننکوڑا منی گیوہ کی قطعہ پڑھتے ہو آپ پڑھتے ہو کہ ننکوڑا منی گیوہ کس کے پتھر تھے دھن کی کوئی کم ہی نہیں تھی پھر ایک دن جب سند ناز مونی گجر کے جا رہے تھے وہ سمیں کھیل رہے تھے ننگی عورتوں کے ساتھ اور عورتوں نے زبدہ ننگا شریفی چھپا دے ڈھک لیا پھر یہی تھے شراب کے نشے میں تھے انہوں نے گروہ بنے کی بات کہ وہ ننگی رہے تھے انہوں نے ملائی کے لئے کیا کیا؟ انہوں نے شراب لی شراب پیڑ بجھ جاؤ گے کیونکہ پیڑ جو ہیں وہ ننگی کھڑے کھڑے ہوتے ہیں اور ایک بار ہے اس کے ساتھ کیا تھا وہ بار؟ دیوزہو کے سو سال کے بعد میں ہمارا درشن پرات ہوگا تو وہ بن گئے پھر کہاں؟ دنمارا کے آنگل میں گاجہباد میں نہیں دنمارا کے آنگل میں اور سو سال کے بعد میں جب دو پیر گرے جن میں دیکھنے کے لئے کبیر کی پوچھا انہوں نے سب سے پہلے نہاڑ منی کا بہار پکڑ گیا یہ کہا کہ نہاڑ منی کی قربا سے ہمیں یہ درشن پرات ہو رہا ہے پھر انہوں نے کہا اب سے ہم صدا ہمارے ہندیوں کو اپیوک کریں گے ہماری سیوہ میں انہوں نے کہا اب سے ہمارے ہاتھوں کو اپیوک کریں گے مندر سیوہ کے لئے وانی کا اپیوک کریں جیب کا کھالے کے لیے پرشاہد مرمان کے نام کا اچھا ہے تو اس سے ہم کیا سکھتے ہیں جنہاں کو اپنی گیوہ جب ہم گیانتہ میں تھے تو انہوں نے ٹھیک بیوار نہیں کیا پھر جب انہیں ادھیاد میں گیان پرابت ہو گیا تھا اور انہوں نے نراندہ منی کی سکھشت کو سبکار کیا جب انہوں نے کیا کیا کہا اب سے آپ سے ہم صدا آپ کا چندن کریں گے آپ کا اسمان کریں گے اسی پرکار کریشنا بھکتی میں جھوٹنے سے پہلے ہم سب کے منگ پٹکتے تھے منگ کا اور ضرور پیو کیا جاتا تھا فلموں میں اور نینی تصویروں میں وغیرہ جواب بھکت بن گئے تو اس کے پچھل آپ نے کیا نرنہ کیا آپ نے یہ نرنہ کیا کہ ہم نے جو نفول کاریا ہے اسی پر ہندیوں کو اپکیو کرنا ہے یہ ہمارے ہاتھ میں ہے آپ چاہتے ہو کہ ہندیوں کے ہندیوں جب آپ کا ورش ہو ہم کیا دیکھتے ہیں ہم ہندیوں کے دھات میں جاتے ہیں ہماری ہندیوں کہتے ہیں یہ کرو ہم توڑن کرتے ہیں تو گھیان پرات کرنے کے پسچاد ہمیں جیون کو صدا لینا چاہئے جیسے ملک جیوان اور اُن کی بھائی نے سو ہندیوں کو پیوک ہونا چاہے بھگواں کی سیو میں پھر آپ سندوش ہوگئے اور امریش مراج کے سدھانے سے آپ دیکھتے ہو کیسے ہندیوں کو پیوک ہونا چاہے بھگواں کی سیو میں سو یہاں پھر بابا جی تاج میں میں کہہ رہے ہیں کہ انہوں کو آپ کی ایک ہی پرکار سے سنتوش ہو سکتے ہیں انہوں کو پھیو کرو مہمہ کی سہوائی شریفت محمد حمد کی نوویس گھن میں آپ صبحائی مونی کی قطعہ پڑھ دیو صبحائی مونی بڑے اوچھے گھولی کے یوگی تھے اور وہ چندن کر رہے تھے جامنہ ندی کے انڈرگراؤں جیسے سرمیرین ہوتی ہے نا، سرمیرین پانی کے نیچے چلتی ہے۔ تو کئی یوگی ہیں، وہ بھی پانی کے نیچے رہ کر چندن کر سکتے ہیں۔ سباری وہ نہیں چندن کر رہے تھے بھگبان کا۔ تو ہم کہاں دیکھی ہیں، ہم نے دیکھی ہے چندن کر رہے تھے اور انہوں نے دیکھا دو مچھلیاں بھونگ گلاس کر رہی ہیں تو اس گھڑنا کو دیکھ کر وہ بچلت ہو گئے سواری منی سوچنے لگے ہاں اس کائیہ میں آنند ہے بھونگ گلاسی تیاری اور انہوں نے اپنا چندن سمالی چھوڑ کر اس شہر کے راجہ کے پاس پہنچ گئے جہاں سے نے کہا سبھائی مونی کو لمبے ناکھن، لمبے بال جنگلی جیسے چلتی کیونکہ آنکھیں وہ پانی کے نیچے بیٹھ کر چندھن کر رہے تھے تو جب نکلے وہ مونی کا شریعت جنگلی جیسے تھا اور سبھائی مونی نے کہا میں چاہتا ہوں کی میں چاہتا ہوں کہ آپ کی بیٹی سے میرا بیواہ ہو راجہ نے دیکھا جنگلی جیسا شریف بجھ سورت لمبے ناکن اور لمبے باہ جنگلی جیسے تو راجہ نے بڑے راجہدک طریقے سے کہا میں تو ان کو جبلاستی نہیں کہہ سکتا کہ تم سے بیواہ کریں تو تم جا کے دیکھ لو وہ دیا ہے سباری مونی پہنچا وہاں پچاس بہنیں تھی سب نے دیکھا اے سب نے دروازہ بند کر دیا اس کو اندر بھی آدھے دیتا یہاں پتھر رہتا سباری مونی نے کیا کہا وہ تھے یوگی وہ جو اصل یوگی ہیں ان کے بعد تو تھے یوگی وہ نے کہا سب نے مجھے ٹھکڑا دیا کیونکہ وہ سوچتے ہی میں بڑھ سورت ہوں میں ان کو اپنی یوگی شکتی کا روپ دکھاتا ہوں وہ یوگی شکتی کے دوران کیا بن گئے؟ بہت کفصورت بہت کفصورت اور انہوں نے محل بھی پیدا کر دیا اور پھر جب کیا جاکے بیٹیوں نے دیکھا بہنوں میں لڑائی ہو گئی ہر بہن نے کہا میں نے اسے پہلے چھنا تھا یہ میرا پتی بنے گا نہیں میں نے پہلے چھنا تھا بہنوں میں لڑائی ہو گئی اور صبح ہی مجھے کہا یہ تو اچھا نہیں ہے بہنوں میں لڑائی ہو گئی انہوں نے پچاس بہنوں سے شادی کر لی اور ہر بہن سے کھاپ ہوتے تھے پھر سبانی منی نے کیا نماز کیا کہا؟ اس نے کہا میں کتنا مولک ہوں اس گھڑنا کا سمجھن کرنے سے میری بھکتی بھی نشت ہو گئی اور میں انیل جیبتی کے کاریاں میں جھڑ گیا سبانی منی نے کہا اب مجھے اس صدی سے شرکارہ پراپ کرنا جائے سبانی منی نے کیا کیا؟ پھر جا کر پھر سے چندن شروع کر دیا اور اُن کی بادی نے بھی کہا سبھاری منی کی کاثہ سے آپ کیا دیکھتے ہو آپ بھگوت میں اس بیشے پر انہیں کاثہیں پڑھتے ہو جیسے مہرانیہ یادی کی بھی کاثہ ہے تو ان کی دوارہ ہمیں کیا سکشہ ملی ہے کہ جاہے آپ کتنے بھی پریاس کر دو آپ کبھی بھی انہوں کی دوارہ سنتوش دوارہ سنتوشتہ پراب نہیں کریں یہ سمجھنا ہیں سب سے مشکل
ہے
آج کے سماج میں ہم سب کیا سوچتے ہیں؟ یہ اصلی آنن رابطہ کا کیسے؟ اندر سبزی دورا اور ہمارا پریاس رہتا ہے صبح سے رات تک یہاں بہتر کاریوں میں جڑنے کے لئے یہ آگیانتہ کا فروغہ آگیانتہ میں اکثر ہم جنب لیتے ہیں آگیانتہ میں رہتے ہیں اگیاں دوئے وہاں جیون سے مار بھی کرتے ہیں اگیاں دوئے پھر جو بھاگے شریف بیٹھتی ہے اسے کیا ملتا ہے بھگتی لوگ بھی رمندھ بھمیدھے کنو بھگوانو جی گروہ کرشنا کی بھگتی لوگ بھی تو یہ بڑا مہتر پونس سلوک ہے کیونکہ ہم سب کی اصلی شدو کیا ہے یہ بودھے کا اکرشن اور یہ بودھے کا اکرشن کی کارن ہم جھوڑے رہتے ہیں انہیں دیتکی کانے میں تیسرے دہائے میں گیتہ کے بغان نے پوچھا ارجون نے پوچھا کیا کہ جانتے ہیں بھئی ہم گل کام کیسے کرتے ہیں اور بغان نے کیا کہا ہم ایسے کرو دیتے ہیں راج قنصوبت بغان کہ کام باستان کے پر اچھا انہیں دیتکی اچھا کے کانے میں پھر بغان کہتے ہیں یہ آپ کا شتل ہے اس کا جماعت کا اسطان کا ہے جیسے مان لو آپ کسی غربادی کو ڈونڈ رہے ہو ہو گیا گال جماعت میں پہنچ گیا ہے پھر آپ پوچھو گئے گال جماعت کے کونسی علاقے میں ہے نور ساؤڈیس ویس اس کو پکڑیں گے بھگوان نے گیتہ میں پہلے سے یہ ثابت کیا کہ مراج کی شتل کون ہے وہ ایک کام آتا ہے پھر بھاگوان کہتے ہیں یہ شتروں کا نماز کا ستان کیا ہے کہاں ہے کہاں ہے نماز کا ستان منبودینی میں یہاں یہ شتروں نماز کا ستان ہے پھر آگے بھاگوان کہتے ہیں کیسے اس کا عبد کیا جائے کیسے اس کا علاج کیا جائے بھاگوان کہاں کہتے ہیں گیان کی دوارہ اس کا اس لئے بغان کی سمیں ہمیں جننے کے لئے تو یہ سندھیر آپ ہمارے لئے شروع سے آن تک پراب کرتے ہو کیوں کیونکہ یہ ہمارا اصلی شتل ہے اور بغان ہمیں دھیان دے رہے ہیں کیا کیسے اس شتل کا اس کے بعوار کرنے جائے ہمیں شتل کا داس نہیں بننا چاہتے اور کیسے یہ سمبھب ہے؟ ہے سمبھب باقتی اور قدرہ تو بہت ایک سمجھ میں دھن اور اینڈیا دیپٹی کے لئے ہم کچھ بھی کر لیں گے تو جیسے پرابو جی کہہ رہے ہیں دھن اور سیوں کی سرکار سے آپ سنتوشتہ پرابنے کر سکتے ہیں تو یہ بودھی مانو یکتی ہے وہ کیا کہہ کرتا ہے؟ وہ یہ چاہتا ہے کہ انڈیاں کا اپیوک کیا جائے اس لئے بھگوانگی سیوہ ہوئے اور اگر ہم انڈیاں کا اپیوک کریں گے بھگوانگی سیوہ ہوئے پھر آپ اپنے آپ کو سنتل سمجھ سکتے ہوئے اور نہیں تو چاہے کتنے بھی پیار کرو کتنے بھی دربرات کرو آج بشور میں دھنی لوگوں کی کمی ہے ورنٹے آپ آج کل کیا دیکھ رہے ہو؟ آج کل یہ دیکھ رہے ہو کہ دھنی لوگ ہیں وہ زیادہ دھنی بن رہے ہیں اور جو گریب لوگ ہیں زیادہ گریب بن رہے ہیں، ہے گے نہیں؟ یہ ہے کلیوگا کا ہر سامنے پر کہ امیر ہیں وہ اور امیر بننے جا رہے ہیں پھر بان لو آپ بن گئے سب سے دھنی بھی ہیں کیا دھنگی پرابتے سے آپ سنتوش رہ ہو گئے ہیں کئی ویدیشی ویدیش جو کی عارتک سدھشری سے بھارتک سدھشری کے آگے ہے وہاں کی پرجا بھی کتنی مرہ آتماتیاں پر ہوتی ہے آج آپ کیا دیکھے ہو سوسائیڈ ریڈز کی سوسائیڈ کے علاوہ دیپریشن چندہ تنام نراشا کیونکہ ہم سیدھ راستے پر نہیں آ رہے ہیں تو یہاں آپ دیکھ رہے ہو آپ آج بڑے سپس روپ سے کہہ رہے ہیں کہ کرشنا بھکتی کے بنا کوئی بھیکتی بھی سنتوچہ نہیں پراب کر سکے کرشنا بھکتی کے بنا تو ہمیں کیا کرنا ہے کرشنا بھکتی میں جڑنے کا خیال کرنا چاہے ہمیں یہ بشواثت رہنا چاہے یہ بہت ایک انیت ہے پریتوارہ چاہے آپ کو کتنے بھی دھن پرات ہو جائے یہاں آپ کے سامنے جانے کا اشبوکہ ہوتا ہے جانے کا اشبوک کو ہر پرکار کے سبیدار دی دھنوں اور عورتوں کی سنگت میں رہتے تھے سب پرکار کے سبیدار آپ اس کی کلپڑا بھی کر سکتے ہیں وہ سندوش نہیں تھے۔ یعنی کہ جس پاس جب کوئی محبت نہیں تھا، وہ نے منحالہ کی جنہیں دفتگی بہت سبیدہ پرابت ہوئی۔ اگر ہمیں اصلی خوشی چاہیے تو کیا ہے اپائے؟ وہ ہے کریشنا بھکتی میں جھوڑنا۔ کریشنا بھکتی میں جھوڑنا کیا مطلب کیا ہے؟ کہ آپ ان کی آہن کا لاحب اٹھاؤں۔ چھے دنیا مہا بھبو روپا کو سواوی کو سکھشہ دے رہے تھے بھکتی کے پیچھے پر اور مہا بھبو لے کیا کہا نیکی ونیل میں بیٹھنے کے پچھار وہ بھاکیشالی بھکتی ہے جس سے بھکتی کا بیچ مل دا ہے دوسرے شفتوں پر یہ گیان کہ بھکتی ہوگا سب سے مہتبون سہوار ہے یہ گیان کیول اتن پاکستانی بھگتی کو ملتا ہے آپ سب گنتوں کو باٹھتے ہو ان گنتوں میں کیا سندیش ہے وہی سندیش جو وہی شلوک میں دیا جا رہا ہے اور اس تاعت میں بھی وہ کیا ہے کہ جب تک آپ بھگوان کی سیوہ میں نہیں جڑو گے آپ کبھی بھی اسی سندوشنا نہیں پرابکس ہوگے اگر آپ بھگوان کی سیوہ میں جڑے ہو تو آپ ہر ستھی میں سندوشنا میں اب بہت اکثر مثال دے دیتے تھے گو سومیوں کا جو گو سومی تھے ان کے پاس ہر پرکار کی سویدہ تکیل پہ رہے تھے پر وہ رہے وہ سویدہ کو تیاک دیں گے جیسے روپا گو سومی اور سنادھن پورے ایسے اس وقت پانچ سو سال پہلے میشہر میں سب سے دھنی راج دھنی تھی نواب حسین شاہ کی وہ جو بنگال کا علاقہ ہے It was the richest part of India سپیدھری تھا اور وہاں روپا سناتھن سیور نوکری کر رہے تھے پھر اُن کی روچی نہیں تھی پھر اُن کی روچی کیا تھی؟ بھاگدی اوگ میں جھڑنے کے لئے مہا پبھگی سیور میں جھڑنے کے لئے تو مہا پبھگا پھر مندر پہ ملے ہنیںک یوڑیاں میں نے کچھ جنہیں کی پہچا ہے چھوڑا سی راہ کی یوڑیاں رہتے ہیں اور جو باقی شادری بیوٹی ہے ہنیںک جنہوں کے بعد اسے یہ گیال میں تھا کہ بھکتی یوگ ہے اصلی کار ہے تو کیول یہ گھیان کو پرابت کرنے سے کام چلے گا یہ جو بیج پرابت ہوا ہے اس کا مطلب ہے آپ کو یہ گیاں پراتو ہے کہ بھکتیوں کی جیون کا لکھ ہونا چاہے بھکتیوں کی دوارہ آپ اپنے اشول ہیدھے کو اشول بلاتے ہو تو یہ گیاں پرات کرنے سے تک کام نہیں چلے گا اس بیچ کو ہم نے اگڑے دے دا ہے you want the bee to grow تو کیسے ہوگے گا شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعنم شیعن اپنے پدھا کو اپنا نام کیا اور پدھا دے بیٹے کو اپنے پینوں میں بٹھایا آج جو اپنے پانچلہ میں ہے کیا سیکھا جو سب سے مہتر انسان دیتا ہے اور پدھا نے کیا کہا نہ ہوا بھگتی شاید میں کتنے بیشترز مرنے پا رہتے ہیں نا آج ہم اندھیں ہم دکھ سکیں یہ نوزہ بھکتی کا جنان سب سے پہلے پرابت ہوا تھا پلاد مراج کو وہ گھر میں تھے اور جیسے ہی پیدا نے نوزہ بھکتی کا اچارن سنا بیٹے کو اپنی گوھر سے ہی نیچے پھینک دیا تو شو نم کے دنم تو یہ بھکتی کا بیج اگے گا کیسے اگر آپ شو نم کے دنم کرو گے آپ نے دیکھا ہوگا بار بار آپ ایسے بیشے کے بار بار پڑھتے ہو شمرنم کتنم کے بار بار کیونکہ یہ سب سے مہتبون کاریر ہے چاہے آپ رمچاری ہو یا سنیاسی اگر آپ شمرنم کتنم میں روچی نہیں رہوگے کاریر نہیں کروگے تو آپ موزک انسان سماج سے موزک آکرنسان سے نکلنا کٹن رہے گا تو یہ بھکتی کا بیج ہوگئے گا اگر آپ کیا کرو گے اس لئے آپ دیکھتے ہو ہمارے ہر کاریاں میں کرتن ہوتا ہے صبح سے رات تک کرتے ہیں جب پرابا جی بمیں میں آئے تھے ہائے کرشنا لینڈ وہاں مندر بنانے کی چاہتی ہے کہیں انہیں بیروت کیا اور جو پڑوسی تھے وہ کہتے تھے This Kirtan is nuisance یہ جو کرتن کی آواز آتی ہے It is nuisance بکار کی بات ہے یہاں بات میں ہوں گیا ہمارے دلی میں ایک مندر ہے منشی میں تو اس کی جو پڑوکسی ہیں وہ کہہ رہے ہیں This is nuisance. Registration College میں کرتن کیوں پڑتے ہو؟ تو کرتن کہاں کرے؟ جہاں تو لوگ رہتے ہیں کرتن کیوں پڑتے ہو؟ ہمارا بھمے کا مندر بن رہا تھا اپارٹمنٹ میں تھے اور نیچے کاریگال لوگ کام کر رہے تھے کام کرتے کہتے ہیں ٹک ٹک ٹک کی آواز ہوتی ہے نا تو بھگتوں نے پراپا سے کہا یہ آپ کو ڈیسٹرپ کیوں نہیں کر رہا ہے یہ ٹک ٹک کی آواز پراپا نے کہا This is Kirtan وہ کاریگال لوگ پتھر ٹوڑ رہے تھے تو بھگتوں نے کہا یہ ٹوڑنے سے آپ کی نین آپ ڈیسٹرپ کیوں نہیں ہو رہے اور بابا جانا نہیں یہ تو کیتن ہے کیونکہ وہ تو پتھر توڑ رہے تھے کس لیے بابا کا مندر بنانے کے لئے تو ایک درم سے لوگ کہتے ہیں ہر کچھ ہے نیوسنس اور سند کی کیا نجل ہے یہ پتھر آواز کیا پیدا کر رہا ہے یہ آواز ہے کس لیے کیونکہ یہاں بابا کا مندر بنا رہا ہے تو شہرنم اور کیتنم یہ سب سے مہزبون ہے اور آگے انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا کرنا چاہے؟ سادھوں سنگ میں رہنا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے کہ آپ اپنے مندر کی سرکشہ کے لئے چارہ طرف دیوار بنا دیتے ہو، ہمیں اپنے آپ کو بھگتوں کی سیفہ سنگ میں رکھنا چاہے۔ بھگتوں کی سنگ میں رہو گے تو کیا لاب ہوگا؟ جادہ سردہ سے بھکتی کا پانہ ہو سکے گا بھکتوں کی سنگ میں رہو یہ اس وجہ کی جڑجہ آپ ہر مہر سنتے ہو سادھ سنگ، سادھ سنگ، سادھ سنگ بھکتوں کی سنگ میں رہو گے تو کیا پیشنگ نام سننے ہوگی تو بھکتوں کی سنگ میں رہنا اور اس کا اللہ اٹھا رہا اور تمہیں سنگ میں رہنا اور لاؤں اٹھانا تو بھاپوں نے کہا کچھ میں strong fencing پڑی تگری دیوار بنانی چاہئے جیسے آپ پچھلی نہیں ہوں پاؤں تو اگر ہم اس سکچا کا لاؤں اٹھائیں تو ہم بھکت کی مارک میں آنکھے پڑھ سکیں گے تو ہم نے اندھیوں کو کیا کرنا ہے اندھیوں کو اپیوک کرنا ہے بھگوان کے سیوہ میں یہ ہری نام کے مادیم سے کیا ہوتا ہے آپ ہر جگہ دیکھتے ہو شعنم کتنم کا ورنن کیونکہ بغدان کی ناموں کی یہ شکتی ہے بغدان نے اپنے ناموں میں پوری شکتی ڈالی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہو کہ ہر نام کے بچارن سے کیا لاحظہ آپ کو کیا لاحظہ ہوتا ہے حیدر کی جو محل ہے وہ ضرورت ہے خام کرو لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ چھے بقا کے انہتت ہیں انہتت کارث ہے جس کی آمشکت نہیں ہو یہ جو انہتت ہیں ان کی آمشکت ہے یہ جو انہتت ہیں ان سے ہمیں بچنا چاہئے یہ نہیں سوچنا چاہئے اس کے بغیر ہم رہ نہیں سکتے تو آنار تھا اس کا بات کیسے ہوتا ہے مجید نکیل کی طور پر ایسے بھی خود سمجھنے گے نہیں ادو شردہ تھا دس آدم پہلے آپ کے مند میں شردہ ہونی چاہے شردہ ہونی چاہے کیا کہ ہم نے بھگوان کی شردہ ہوتا ہے اگر یہ شردہ ہو تو پھر کیا ہوتا ہے بھگوان آپ کو کسی نے کسی مادہ سے سادھو کی سنگھت ملیا تھے یہ سادھو کی سنگھت پرات ہوتی ہے دو روپوں سے ایک ہے بھک سادھو اور دوسرا ہے گرنٹ سادھو جیسے کہ گرنٹوں کے وطن پر اتنا بل دیا جاتا ہے کیوں کیونکہ ان گرنٹوں میں ہے بھگوان کی معنی بھگوان کی معنی سننے سے کیا ناب ہوگا جو حینات ہے زہر ان سے آپ بڑھ سر ہوگئے تو اس لئے This changing of the holy name is our most important business ہمیں یہ اس کے سب سے زیادہ احتیاط دینا چاہئے جو پاکستان بھی کہتے ہیں ہم زیادہ شمال ہیں یہ جو بھگوار کی نام ہیں یہ چینی جیسے میٹے ہیں بھگوار کی جو لیلہ ہیں وہ بھی میٹی ہیں پرنا ہمارے جیم میں کیا بیماری ہے عویدیہ کی بیماری ہے عویدیہ کی بیماری کا عرث ہے ہمیں بہت ایک آکرشن ہے ہم سوچتے ہیں بہت ایک آکرشن کی بیماری ہے جینا اسمبب ہے اور کٹھن ہے تو روح بھگتوں نے کہتے ہیں اسے کیسے بچوگے بجھل رکھیہ بجھل رکھیہ کا عرث ہے فحیدی بھکتی کا پالن فحیدی بھکتی کا عرث ہے نیموں کا پالن جو اپنی اوگ کا پانن کریں گے تو پھر بھکتی اوگ میں سبوطہ پراب کرسکیں گے تو بھکتی اوگ کا پانن بڑا مہزبون ہے اور پھر انا دنیا بھردی آپ سب کا بحاث ہوگا جب آپ جب کرتے ہو بڑے دھیان سے جس وقت اندر میں آ کر یا گھر میں اور آپ پڑھتے ہو شاستوں کو تو آپ کا دھیان میں کچھ سا بڑھتا ہے کی نہیں؟ اور مانو آپ ڈھیلے ہو گئے سوس ہو گئے تو کیا دیکھتے ہو؟ کیا دیکھتے ہو؟ مایہ خبصورت بن جاتی ہے اور بھکتی بڑھ سورت ہے جب آپ دھیان سے جہاں پہلی بھکتی کا پالن کر رہے ہو تو پھر کیا دیکھتے ہو؟ مایہ بن جاتی ہے بڑھ سورت اور بھکتی خبصورت ہے تو انرث نورتی کا پراکت ہوتی ہے اچھوں نے کیا کہ مادہ سے چیت و درپن مارج رہا ہوں مائے مندر میں ہم روج یہ تک شاہد شاہد کے شلوکوں کا اشارہ کرنے کے ماما نے کیا کہا چیت و درپن مارج رہا ہوں جیسے آئینے میں دھول ہے وہ دھول کو کیسے دکھاتے ہوں صاف کپڑے سے صاف کرنے کے اسی فکر یہ جو کان پھلو محمد صلی اللہ علیہ
وآلہ وآلہ نے
اس کے پروباں میں آکر پقتی سے ہم جدہ ہو جاتے ہیں اور اگر پاکستان میں سنگ میں رہ کر پقتیوں کا پالن کرو پھر جہنمہ طرح سے ہم ملک ہو سکتے ہیں تو اِس آج کے سلوک میں آپ پڑھ رہے ہو کہ ہیرالنگا شبکوں ہر پرکار کی سویدہ تھی کسی چیز کی کمی نہیں تھی اور جب بھی وہ اسندوست ہے۔ He was not happy جب بھی ان کے مند میں صدا چندن کا بھاو تھا اور وہ خوش نہیں تھے۔ اور اگر ہم اصلی خوشی چاہتے ہیں تو کیا ہے اپائے؟ کیا ہے اپائے؟ ہندیوں کو کھو کرنا ہماراں کسی روح میں جب ہم بھکتوں کے سنگ میں رہتے ہیں تو نیموں کا پالن زیادہ سارا ہو جاتا ہے اور جب ہم بھکتوں کے سنگ سے چدہ ہوتے ہیں تو زیادہ کٹن میں رہتا ہے اس لیے وہاں بھاہ ہونا چاہے کیا بھکتوں کے سنگ میں رہیں اور یہاں انہوں نے روچی بنانے کے لئے شیطان محمد نے کیا کہا جناد بھی سننی چاہیے نا، روڑ بھی سننی چاہیے نا، آمان کا منا دے نا۔ ہم اِس شلوک کو ہزار بار سنتے ہیں، روج ہی سنتے ہیں، روم بندھوں میں بھی اِس کا اُچھا کارنا ہوتا ہے، اِس کا پالن کرنا ہم بھوچا دیں گے۔ تو ہمیں اِس کا اللہ اُٹھا دیں گے، اُنہیں آئے نام کا، اُنہیں اللہ اُٹھا دے سکوں گے، آپ اگر قیدی بھکتی کا پالن کریں گے، یہ جو نیم ہیں جن کے پیشے میں آپ پڑھتے ہو یہ سب ہے ہماری بنائی کے لئے کئی بار لوگ کہتے ہیں تمہارے اسکار میں بہت سے نیم ہیں تمہارے گروہ جی دیکھو اتنے اندھیالوں ہیں پوری چھوٹی ہوئی ہے تو اس کا کیا ہوتا ہے ہمیں پورا بیشارت کئی لوگ آپ کو کہتے ہوں گے
لیکن
تو ہماراں کیا کہہ دے گا؟ جندہ ہی ماتر میں کوئی میشر میں آئے گا، جندہ ہی ماتر میں کوئی سرکشہ پر پرابت ہوگی۔ بہتر پر سناتمہ ایسے ہو جائے گی، بھگتی کے مارک پر کیا پرابت ہوتا ہے؟ سریعانیت۔ تو اصلی کوشش ہے کہ ایک جو بھگتی ہوگا۔ اور یہ جو سندیش ہے، آپ ربوں کی مباشر گانی کیا تھی؟ پریتی کی ہر کوڑ پر یہ آئین ہم ہون سکتا ہے۔ آج آپ دیکھ رہے ہو، پوری دنیا پر لوگوں کو ہماری کشنا مہمانتہ دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ انہوں نے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے کینومک بینیفیٹ کریشن لوگ جیسے آپ جانتے ہو دھان دیتے ہیں اپنے پارچھلہ میں موز میں پڑھاتے بھی ہیں مہینگ بھگ دینگ کارنپور میں جو کریشن کالج بے پروفیسر ہے وہ مجھے کہہ رہا تھا کریشن کو نکل بھی جلدی میں جاتی ہے یہاں کم طالبوں تو بھی جاتی ہیں انہوں نے لوگوں کی دھرم کو بدلا پیسے کے لالچ پر ہاسپیٹل کھو دیا سکول کھو دیا نوکری دے دی ہو گیا تو آپ کو ہر پرکار کیسے بھی پیسے پرات ہوتی ہے تو پاپا نے کہا کریشتین لوگ آئے تھے انہوں نے پیسے کے بلپر لوگوں کے دھرم کو بتا مسلمان لوگ جو تھے انہوں نے دھرم کیسے بتا تدوار کے تدوار بھلو ادھر ہم نے تو موڑ مسلمانوں کا راج ہے ساڑھا موڑ مسلمان نے کہا میں تو ایک گھڑا بیاکتی ہوں ساڑھ سوپے کے ساتھ آپ لوگ اپنے دیش میں آئے ہوں پھر آپ لوگ جب بھی آخرشت ہو رہے ہو کیوں؟ کیونکہ کریشنا ہے سارا کھڑا ہے ہولی ریم ہے بہت سوچی چاہے آپ ایسی بات لے رہے ہوں ہری راب جیسے یہ جب بیدیشی بھگ جڑے تھے اس کو میں اُنہوں نے کبھی کریشنہ کا نام بھی نہیں سنا تھا بھاگوت گیتہ کا بھی نہیں سنا تھا بھگتی کے پرتیح آکشت ہوئے جب اُنہوں نے نام شروع کیا پاسد سے کیا دیکھا کہ یہ دیدھاری راب یہ بہت اٹریکٹ ہے ہماری نام کیوں نہیں دےتے ہیں کیونکہ اس کے دورہ آپ کو حقیقی صدایت دیکھ سکتے ہیں۔ تو یادِ کاشپو کے بیشے میں یہ آگیا ہے، چاہے آپ اتنی بھی سبیدہ پرات کر لو، آپ بہت دیکھ آئیں گے دورہ کبھی بھی سنتوش نہیں ہو سکوگے۔ یہ گیاں کو سننا بھی آفشک ہے نہیں تو ہم بھول جاتے ہیں اس لئے چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چیتنہ چی آپ چاہو تو نسلیں کاٹو جتنا کرند باتنے میں لگتا ہے کہ آپ سوچلائز کرلو بات کرتے جاؤ ہمارا کیا پیاس ہے جو چاہے منمم اتنا ہی بات کریں کہ آپ کو سنتیج دینے کے لئے تو اس سلوک میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ جب تک بقتی حق میں نہیں چڑھو گے جب تک اصلی صندوشتہ پرابنی ہوگی اور یہاں کہا جا رہا ہے اور پھر میں بتاتا ہوں برامہ جگہ آزاد اب یہ منوشی جیون پراپت ہوا ہے اس کا سلوک بھی کرو تو اس سلوک کا سندیش بڑا مہتبون ہے ہمیں اس کو پرکیدہ سننا چاہیے پڑھنا چاہیے اور ہم انہیں زندگی پر چڑھیں گے کیا پیرام ہوگا ways of human life منوشی جنب پایا رادہ کشن ہائی جے جانے چھونے پیشا پھروشی جی میں دے پرات کر لیا میں نے رادھا کشر کا باجر رہی کیا میں جانوں پر دے کیا کر رہا ہوں خیر کھاو تو آج دوگ جہر پی رہے ہیں ہم جا کر اُنہیں کہتے ہیں تیسٹ ایک امرد وہ کیا کہتے ہیں نہیں میں جہر پی رہا ہوں ہاں کہہ جاتا ہے کئی بھاگشالی لگتی ہے تو کہتے ہیں ہاں thank you آپ اصلی سندھے جے رہے ہوں ایسے جب دینندہ اور حریدہ شاہ کو گھر گھر جا رہے تھے کئیوں نے تو ان کا سواقت کیا آ گئے صد مہاتمہ ہمارے گھر کو پبیت بزا دے کے لئے پتہ ہی یہ کیا ہے آپ کا ابدیش اور جب ابدیش کہتے تھے حریدہ کو تایا کو کشنہ ابدیش کہتے تھے ہاں اس کا اچھارت کر گئے کئیوں نے ان کا ویرول کیا کئیوں نے ان کو گھالی دی کہے اور دیوروں کو کہا کہ تم جاسوس ہو آئے ہو دیکھ رہے گا گھر میں کیا ہے پھر آؤ کے چھوڑی کرنے تو اسی پرکار جب آپ پرچار میں چھوڑتے ہو آپ کا بھئی یہی احبیاز ہوتا ہے کئی تو کہتے ہیں سواکت ہے کیا ہے سمجھ گئے اور کئی آپ کا بیروت کریں گے جب ہی بھی ہمیں اس سکشا کا لاحظ اٹھا رہا ہے تو بھکتوں کے سنگ میں رہو گے، پھر نمڑتہ کا بھاوہ لکھول کرو گے، پھر آپ بھکتی یوگ میں آگے پڑھ سکو گے۔ تو اس شلوک میں یہ سنتیج پرابت ہو رہا ہے۔ Only by the medium of bhakti yoga can you what? سہرس بھائی حسن سہرس چاہے کتنا بھی دن کمال ہو آپ بے چین رہو گے آج کل کی جو ملینیرز ہیں کسی کو بھی آپ ملو آپ دیکھو گے وہ آج شاند ہیں چندہ ہیں کوئی پکڑ لے گا کوئی یہ یہ کسانہ جائے گا باہر جہوڑے مددشی نند نند نند آگئی جڑنا اے میرا منت تم چندہ سے بھڑے ہوئے ہیں اگر تم چندہ سے رحیت ہونا چاہتے ہو پچھنا چاہتے تو کیا یہ افعال ہے کس کی شرن لوں دوسری شرن میں بھگبان کی شرن لوں بھگبان کی شرن لینے کا ارض کیا ہے ان کی سکھشا کا پادن کریں ان کی سکھشا کا جب ہم پادن کریں جب ہم کہہ سکتے ہیں ہم ان کی شرن رشان کا کھوئے ہیں اگر ہم نام کے لیے ان کی تصویر رکھیں اور کہیں ہم جھنہ گت ہیں وہ گلت ہے تو اس حلوق میں بھائی بھائی جی اتحاد پہلے میں اس پہ شک سے کہہ رہے ہیں کیا کرو بھاگتی ہو افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی بار ہم سنتے ہیں روز سنتے ہیں یہ سنتے ہیں جب ہی ہم بجلت ہو جاتے ہیں کیا قارن ہے بیشرت کیسے ہوتے ہیں آپ بیشرت ہوتے ہو کیونکہ آپ بھکتیوں کی نیمہ کا پانہ نہیں کرو اگر آپ اچھی سانہ رکھ رہے ہو پھر دیدھ ہو کر آپ مایاں کو ہرا سکتے ہو میاں کا بیوٹ کرنا کٹین ہے پرساز میں پھر جو میری شرن لیتا ہے وہ مایہ کے پھر بھی جائے پراب کر سکتے ہیں تو ہمیں بھکتیوں کی سکھائی کا پالن کرنا چاہئے اگر ہم جیون کے لکھوں کو پراب کرنا چاہے جو بھکتیوں کے پر جڑیں گے انحنہ بودی نام کا ایک تو لاب تھا اصلی آدھن پرابت ہوگا جو کہ کیول بڑھتے جائے گا spiritual happiness is always in you یہ سندھیش دیا جا رہا ہے ہم سب کی بھلائی کے لئے ہمیں اشکال کرنا چاہے کے دن ہم اشکال کرنے کے دن ہم کریں گے یہ سندھیش کے دوارہ ہم تیرد ہو کر بھکتی کے مانگ میں جڑ سکتے ہیں ہمیں تھوڑی دیر میں ایک conference call میں جڑنا چاہتے ہیں. اچھا. Any questions? ہاں.
ھری کشمہ بھارت! آپ کے آسکھ بہچن کیلئے بہت شکریہ! میرا پرشنہ تین آپ کے آسکھ بہچن میں بتائیں گے تین واقعوں کو connect کر کے पहलाद प्रहलाद वरास को बचाने के लिए भवान स्वाग आये। दुसरा आपने पंसीर बुंदे का उधारण दिया, वहाँ मुझे रहने का कोई आसी बास चेन आउसर भूजा था। तो हमने देखा वहाँ लोग सराख के बॉटले में फेकते थे। तो अभी बगला देश ہم اتنے سُکھ نہیں ہیں کہ ربہ ناں جو بچانے آئیں گے اور ان کو بچانے آئیں گے تو آپ کیا سمجھتے ہیں گروہ مہراج ایسے لوگوں کے لئے جو کہ بہت ادھر کشت پاتے ہیں بھکتی مانے
کے بعد بھی بھاگ جو ہے کشتوں سے گھڑتا نہیں ہے بھاگ جو ہے نرہنگی سیوہ میں سیوہ کرنا چاہتا ہے اگر وہ نرہنگ میں جائے تو بھی نرہن پڑھا سر بے ناں کو دے چاہتا ہے بے بے دی جو بھاگ جو ہے جو بہشاہ بھکت ہیں وہ کھٹینائی میں بھی سیوہ کر سکتا ہے جیسے کی اس اجزاء کی ستھابنا کے لیے کئی بھکت دنیا کی آدھا لکھوڑے میں مملکت کو ستھابنا کرنا پڑا جہاں پراپا جی نے ریشہ پر یہ کاریکرام آرام کیا تو مقدم کی دوارہ پرچار پڑا پھر وہ کئی بھکتوں کو سرکار نے جیل میں دا دا اور کہا باز کھانا شروع کرو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے انہوں نے نہیں چھوڑا اور کئیوں کی بیتی بھی ہوئی تو بھگ جو ہے کچھ نائی سے لڑتا رہی ہے اور بھگوان کے شرکت ہو کر کی صحبت میں جڑتا ہے کئی ساتھ دیں گے کئی بھی روز کریں گے اگر ہم دیکھیں گے کہ ادھر خطرہ ہے تو جیسے بغدادیش یا پاکستان کچھ ادھر صافداری سے کرنا چاہئے۔ یہ تھا آپ کا پریشان؟
مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج
مراج مراج مراج مراج مراج مراج مراج
مراج مراج مراج مراج مراج کچھ اور؟
گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے
چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ
مہارا جی کے گروہ مہارا جی کے
چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ
مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ مہارا جی کے چلو گروہ تو کیا مہارا پنچہ مردستان
عنوان ہے؟ بھومان دیکھتے ہیں کتنی سوبیدہ ہے اور کتنا آپ کر رہے ہوں بھومان نے دیا لوں ہے پتہ بھی آرپن کرو گے تو میں سمجھ گا کروں گا بھومان یہ نہیں کہتا کہ جرور یہ سب ارپن کرنا چاہیے، پر اگر آپ شاہدگار کے پوجا کرنا چاہتے ہو تو جو منیومم سٹینر ہے وہ جرور آپ کو کرنا چاہیے۔ ہنی کوششن کلاس کے وجہ میں؟
پوچھیں
پوچھیں جیسے کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مہراج جی ایک پرسن ہے کہ ہمارے گفتی میں ایسے کون سے ایفرز ہیں جو آپ کو پرسن کر سکتے
ہیں مہراج جی بہت ایسی طرح آئینہ میں روشی پڑھاؤ آئینہ میں گھجاو کرو جو کلاس میں سنتے ہو اس کا پالن کرو جو آپ پراپال کے گندر میں پڑھتے ہو اس کا پالن کرو پراپال کے لگ بگ ہر شلوک کے اتاقے میں आज परेमें सपाश प्रापर जो कह रहे हैं। जो खिलर भी हैपी बाई। मुझें बाई भक्ती होगा। मुझें संदेश तो बड़ा सिंप्पल है। चाहिए आप काजे बाद जाओ ये ले जो ये बामें एक ही संदेश मिल रहा है। पर ये इतना सरस्ट महाप्रभुः की क ہاں پربھو نے کتنا سرل بنا دیا ہے پچھلے یقوں میں بہت کھٹے مارک تھا جیسے کی صدی یقوں میں کہتے ہیں اگر آئے تو بشنو صدی یقوں میں مارک تھا بھگوان کا چندر کرنا اور آج آپ پہاڑ کے اوپر بھی بیٹھ جاؤ چندر مشکل ہے بھوائی جانوار دے لائے اور کر دے پھر تیزہ یق بڑے بڑے یگیا کہ آپ کو بولا جائے روج اپنے گھر میں یگیا کرو آپ کہو گے مشکل سے گھر کا کرچہ لگانا ہے اور شد دو شد گیت یا دی اور اگنی اگنی چلاو گے پھر بڑوسی بھی چلائیں گے اگر دوار پر یگیا میں کیا دستان ہے بہنگی بھیلار بند کرنا اگلی وگا میں کیا؟ وہ ہی نام ملے گا آئی نام کے دوران۔ آئی نام میں ہم سب کا پریاز رہنا چاہے، روچی بڑھے۔ Very simple. کوئی تگری کی جھوٹ نہیں، ایسی چیز کی احساس نہیں۔ اور؟
گرم راج آپ نے بتایا سبری منی کے اگزام پل سے کہ انہوں نے سات ہزار سال پر پتہ کیا پھر بھی ان کا من جو ہے بچلت ہو گیا تو میرا پرسن ہے گرم راج کہ اندریوں کو تو ہم کئی بار بھگوان نشیاں میں لگاتے ہیں پوری طرح جو بھی ہمارے انسٹرکشن ہوتے ہیں لیکن پھر بھی من کئی بار ہمارا بھگوان کی بھگوان میں نہیں لگا ہوتا ہے تو اس کا کیا مبیش؟
پھر پریاز کرتے جاؤں گے پھر پاکستان میں کہتے ہیں اچھا نشیاں دھاریا ہمیں ڈیٹرمنڈ ہونا چاہئے اور اگر ہم ڈیٹرمنڈ ہوگئے تو پھر سب ہوتا ہے پراپاد کی۔ بھگوڑی گیتہ میں پراپاد ایک بڑا سرلال ادھارن دیتے ہیں۔ کس کا؟ پکشی جس کے بچوں کو ساگر نے چھڑا دیا تھا۔ جس نے کہا بچوں کو لٹال ہو دے تو میں سکھاؤں گا۔ وہ آگر ہسنے لگا پھر جو پکشی اپنے چھوڑے سے موں سے سکھانا شروع کیا پھر فیروندی جی نے آئے سیوکھ کے لئے ہمیں چھوڑنا چاہئے ڈونٹ گیو اپ پراپا دیسٹو سے ڈونٹ اک نو فائن آنسر یہ کام نہیں ہو سکتا ہار کا عریقہ سب ہوگا بھگوانگی کے پاس ہے، اگر ہم شہدہ سے سیوہ کریں گے۔ ایسے بڑے ہیں؟
अच्छा आपने बता रहे थे कि वैफुन्ट में जय रभी जय उनका जब की कोई गलत इंटेन्स नहीं था और हमारे बहुत उनका प्रस्चनते के लिए सेवा कर रहे थे और वो चार कमार का ब्रह्मभादी थे उनको केवला कोई जूटी पुरा करने के लिए इस तरीके बताय آپ نے کیا کہا؟ آپ
لوگوں نے پراپڑ کے پتھر پڑھے ہو گئے ہیں پراپڑ نے انہیں پتھر میں کہا ہے اگر آپ 16 سال پر شیئر کرتے ہیں 4 اور 4 کے ریپرنسپلز پر پھر آپ ڈیفنٹیٹی گو بیگ ڈی گو رہیں گے پرابوڑنگ ہی نہیں کہا میبی ہمارے سائنڈرشن کہتے ہیں میبی بھگوان کہتے ہیں سرواں سرماں پڑھتے ہیں جب ماں میکم شرن مر جا ہم تو ہم سرواں پاپِ مکم شرن مر جا وہ بھگوان ہی نہیں کہتے ہیں میبی شاید وہ کہتے ہیں پکا تُو میرے شرن میں آگے تو تُو مہدار ہوگا لڑو ماتے پھر یہ ہمارا چنچل من ہے جو کہتا ہے جس کی قرآن ہم مشواس نہیں کرتے بھگوان کی وحلی میں آئی کے شلوک میں بھگوان یہ کہہ رہے ہیں ہمیں اندیوں کو داس بنانا ہے ہمیں اندیوں کا داس نہیں بننا ہمیں سب میں اندیوں کا داس ہے ہمیں اندیوں کے سوامی بننا ہے मैं भक्ति हूँ। इसे आपका कवलकता है?
हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ,
हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ,
हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ,
हाँ, हाँ, हाँ, हाँ, हाँ
روپا کو سب میں کہتے ہیں مبتی شمیت میں چھے پرکار کے سب مند ہونے چاہے بھکتوں کے ساتھ اور پہلا کیا ہے ریویلی آمائن ان کو آپ کہہ سکتے ہو کیا ہے سب مسئلہ اور پھر اگر آپ کو دیکھ دیا جائے اس طرح پالن کرو اس کے لئے صادق صدق میں رہنا ضروری ہے صادق صدقارت ہے آپ تین پرکار کے بھکتوں کو ملتے ہو آپ سے جو اتھم ہیں آپ کی برابر ہیں اور آپ سے کیا تیزہ کیا کم گیال میں رکھتے ہیں تو جب اُتھب بکتوں کی سنگل ملے ہمیں پرسن ہو جانا چاہے تو سمانتہ کے بکتوں کو ملے تو مددتہ کا بھاہ ہونا چاہے آپ سے کم گیال کے بیٹنے کو ملو تو دعا کی بھاہ ہونا پکڑ ہو رہی جائے
تینکیو مانا چیز تینکیو مانا چیز آپ
اپنے سادھیوں کو پوچھو میرے میں کیا کمی دیکھتی ہے تمہیں کیا سدھار کر سکتا ہو جو اصلی متر ہیں وہ تو وہ ہی کہے گا جسے آپ سدھر سکتے ہو بھڑی کشنہ مہاجرہ درمہت
پیدا ہوں بھگو جی ایک طرف بھگو کشنہ اپنے گھوں کے مرے گھوں کو جو گھوں گھوں سے واپس لے کر آئے اور 1971 کا جو world war ہونے جارہا تھا, Shri Raghupati ji le jaayne paar, hunne usko bhi roh bhi jaana.
1971 kya?
1971, world war, world war honne ka jo prastheti tha na, mana jo America.
1951, world war, world war.
Bhagwan ji ke shri Raghupati ji ki maale hui putal ko, jahun ki jo gurumati ko tuthi rahte the, hunne kaal dhuka aur usse yamukh se wapas de kar aayte hai. और नाइन्टी सेवन्टी उनका जो तित्रे प्रित्य पिछत होने जा रहा था उसको भी शेयर की बाज़ी कहने पर उन्हें रोग दिया। उन्हेंने कहा कि किष्णा को मुमें प्राथ्य चल रहा है आप इसे रोग दीजिये। और दूसरी तरह जब मागवाल का जुत्र हु�
اُن کا پہنے کا مطلب ہے مہراج کی ورڈ وارڈ جیسے ہونے والا تھا تو پھروپات جی بولے کہ کشنا کونسیس مومنٹ جو ہے وہ اُس کو روک دے گا تو پھر اگمنیوں کی مرتو میں کشنا کیوں نہیں روکے پانچھار لیگ کے ساتھ ایسا وہ اُس کو
کشنا کیوں نہیں روکے بھگوان روکنا جائے تو روک سکتے ہیں بھگوان لیلہ یہ بھگوان کی لیلہیں ہیں یہ دیبے لیلہیں ہیں اِن کو صدادن حدیثوں سے کمپیڑ نہیں کرنا جائے اور پرابہ نے شاید یہ نہیں کہا تھا کہ کشنہ بھکتی ہیں۔ آپ نے کان پڑھا، پرابہ نے یہ نہیں کہا کہ بھکتی ہو گئی تو یود نہیں ہوگا۔ کہہ جائے کہ آپ روج کو یود دیکھ رہے ہو۔ یود کا یہ نہیں، چھوٹے وارڈ کا جگہ، ابھی رشیہ اور امریکہ کا ایک اور یود شروع ہو رہا ہے۔ بہت ایک سمجھ میں تو روجی یود ہو رہا ہے اور ایک ہی اپاہ ہے۔
حضور پاکﷺ میرا سوال یہ ہے کہ تیرڑا دبی کا بھاو جو ہے اندر لانے کے لیے ہم کن کن سیویشنز میں پراکٹس کر سکتے ہیں؟ مطلب کونسی سیویشنز ہوگی جس میں تیرڑا دبی بھاو
کر سکتے ہیں؟ آپ ہر سیویشنز میں پراکٹس کر سکتے ہیں جب آپ بہشنوں کے ساتھ ہو اگر آپ دفتر میں یا بزنس میں ہو تو وہاں الگ روپ ہے جب آپ بھکتوں کے ساتھ بیوار کرتے ہو تو ہمیں اس کا پالن کرنا چاہے دوسروں کو عادت دو، آپ اپنے آپ کو سب سے پتید سمجھو۔ جیسے کہ آپ ایشن آنچھاریوں کے بیشے میں پڑھتے ہوں۔ جیسے گوپال بھٹا گسومی، چھے گسومیوں میں ایک گسومی ہے۔ تو کشینات کا بیراج چیتنہ چیتر میدہ لکھنے سے پہلے بھرچ کے ہر پرسید صوامی کے پاس گئے آشباد لینے کے لئے کمال پٹھرکو صوامی نے انہیں آشباد دیا اور کہا میرا نام مت لکھنا کام ہے تو ہم ہر صحیحت میں اس کو پیو کر سکتے ہیں اگر کوئی ہمیں عادر کے ساتھ کہے تو ہمیں یہ کمی ہے تو ہمیں اس کا لاب اٹھانا چاہے یہ نہیں، ایڈ شاہ دویج کے قارن ہم اسی کو ڈال رہے ہیں۔
خیرے کشتاں گروہ ماراز کرنے کے لئے
ایک ورنہ ڈو اینڈ سٹاپ دے، ہاں؟ گروہ ماراز
میرا یہ پوچھنے ہے، کہ ہرنے کا سکھو جو تھا وہ پراتیکمور پرستیقی میں بھگوان کو یاد کرنا تھا تو پراتیکمور پرستیقی میں یاد کرنا تو بھگوان کی بھکتی نہیں ہوتی تو اس کو کیسے سمجھیں گے بھگوان؟ ہر ستھیتی
میں آپ بھگوان کا سمجھ رہے ہو وہ بھکتی ہے اور پھرانے کا جبوت ہوں بھگوان کی اچھا کو پورا کر رہے تھے بھگوان کی اچھا تھی بھگوان پرکھٹ ہونے والے تھے وہم بھگوان کی چاہتے ہیں کہ ان کے ہی بھگت شتلو گھنٹ بحیوار کریں جیسے آپ لوگ ڈراما کرتے ہو گئے بار تو ایک دشمن بن جاتا ہے دوسرے کا آسی دشمن تو نہیں ہوتا بھگوان نے کہا کہ وہ بھگوان کی سیوہ کر رہے تھے بھگوان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ ہی کھوت کے ساتھ میرے ساتھ بحیوار کریں تو وہ نے کہا یہاں تین جنب نے رویا تھا، لیکن تین سے ہم جلدی پہنچ جائیں گے بغان کے دھاؤں پھر ہم اُس کی تُلنا نہیں کرسکتے۔ پوچھو پوچھو جلدی
پھر مہرمہر جتنا کرونا دیتی ہے کہ گھرات مدیس کوئی اوپر آوے ہے مدیس اوپر آوے ہوئے ہیں
یہاں میرا گلہ بیٹھ رہا ہے میں
تو ابھی پیچھر باقی ہے مہرمہر آتے آتے کہتے ہیں کہ کل کا مانڈنگ پر جو لیکچر ہو گا
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

