भगवान नरसिंह देव का प्राकट्य | SB 7.8.17 | 15 May 2022 | Mayapur | Srila Gopal Krishna Goswami

Srila Gopal Krishna Goswami explores the appearance of Lord Narasimha through Srimad Bhagavatam 7.8.17, weaving together Hindu and Islamic traditions to examine the dual nature of divinity. The talk emphasizes how gods manifest as half divine, half human, and reflects on devotion, ritual practice, and recognizing the divine in everyday life.
Chapters
آپ جانتے ہو کہ ہم بہت عشق بنا رہے ہیں کیا ہے؟ کمان کا کمان پکڑ ہوتے ہیں ہر روپوں میں اُن کا بھاو کہتا ہے وہی تاں ہے سارے نام نشکتِ مصرفی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہے آپ ساتھ اس کلمے طلال ملاج اور نسلی دیو مہمان کی قصہ قرآن اور فرمافن جو ہیں اپنے ہاتھ کو کسی روپ میں بھی پرسنس کرسکتے ہیں یہاں کوئی بہت وری بیگلی سے کہو کہ ہمارے اللہ ظاہر ہوئی ہے، ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں پر ہاں ہاں اور پر ہاں ہاں پر بھاگوان جو ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پشو، میسولجی ہے۔ بھاگوان کے لئے کوئی کاریاں سنبھول نہیں ہے۔ آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے پروش ہیں آدھے کیونکہ دین آدمیوں نے کوئی انتہا نہیں ہے، اچھوٹا ہوں۔ وہ کبھی کلتی نہیں کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو انہیں روپوں میں پکٹ کرتے ہیں۔ تو ہمیں یہ بیشتر ہونا چاہئے کہ بھاگوائیں گے ہیں، کوئی بھی کاریاں سمجھ نہیں ہے۔ تو بھاگوائیں پکٹ ہوئے، جس کے لئے بھاگوائیں کی روپ میں کیوں؟ بھاگوائیں کی روپ میں بھاگوائیں کی روپ میں کیوں بھاگوائیں کی روپ میں کیوں بھاگوائیں نیسے کی روپ میں کیوں بھاگوائیں نہیں کی روپ میں کیوں بھا پاکستانی ایک روپ میں کتاب کہاں پراب کرتے ہو؟ پاکستان کے حضرت کو وہ بھاکس ہے سارے بیشوں میں اس کتانے پر بڑی روشنی رہتے ہیں پرام بھاکستان کے جو بھاکس ہیں وہ وہی ادھن کایہ کرتے ہیں پرام بھاکستان پاکستان سے ہیں ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا ایڈا پھول ا پکڑوں سے نیک ہوں میں۔ تو آپ پڑھتے ہو کلاد مہاجی کا سامنے۔ یہاں نے کہا چھپو کون تھے؟ کون تھے؟ سور تھے، سور تھے۔ وہ تو بڑے مرمکس تھے۔ ایک ہمیں چار کماراہ تھے۔ وہ سمجھے کے بیٹے۔ وہ عجابت کرتے تھے۔ وہاں پہنچ گئے۔ بھائی کونڈہ دھام میں بھائی کونڈہ دھام کہا جاتا ہے جہاں کسی پرکاہ کی چندہ نہیں ہے بھائی کونڈہ دھام میں جو پروش ہیں وہ لاکھوں بہت زیادہ سندھ رہتے ہیں جو جستی ہیں وہ بھی لیکن آگشن بھائی کونڈہ دھام میں پہنچتے ہیں اور پھر جو چھ دوار تھے ان سے وہ گجر کے چلے گا۔ ساتھویں دوار میں جو چوکڑاں تھے، میں نام کیا تھا؟ انہوں نے کہا، اے ننگے بچے اندر نہیں جا سکتے۔ وہ کہا، ہمیں اتنا آنان آرہا تھا اس فاطر میں رہنے کے لئے ہمیں اتنا آنان آرہا تھا وہ آنکھا چھوڑنے کا درست نہیں ہے، کون ہوتا ہے ہمیں روح دیکھ رہے ہیں۔ ہم تمہیں شعب دیکھ گئے ہیں۔ تو اگر یہ جائے وجہے شعب کو بھی روح کرنا چاہیں، وہ کر سکتے تھے۔ وہ نے کیا سوچا؟ موقع ہے، وہ آنکھے چھوڑنے کا درست نہیں ہے۔ تو جائے وجہے کو اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں اُنہوں نے اُنہوں اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُنہوں نے اُ مولوی جگر میں آنے والے تھے مولوی نے چاہتا ہے کہ اُن کے اِس نازل باق سدا اُن کی سُجھ جائیں بجائے نے کہا اگر آپ ہمیں سجا دینا چاہتے ہو ہم سُجھتے ہیں کہ سجا پکڑیں گے ہماری یہی چاہیئے کہ آپ ہمیں جل سے چل آنے لے آو واپس لے آو مولوی کے بچوں سے نام ہے جائے و جائے نے کہا شراب دینا ہی تو رم بھائی ایسا شراب لی رہے کہ ہم بھگوان کا چندن اور بھی گھڑائی کے ساتھ کر سکے اور یہ شتل بھاو میں ہو وہ اچھا ہے تو جو جائے و جائے تھے میں چھول تھی یا وہ تین جنم لے پاتے تھے لے سکتے تھے ساتوی روپے، بسا جنم، جنم جا، بھاگتے روپے، بھاگتے روپے، بسا جنم، جنم جا، بھاگتے روپے، بسا جنم جا، جا، بسا جنم جا، بسا جنم جا، بسا جنم جنم جا، بسا جنم جنم جا، بسا جنم جا، بسا جنم جا، بسا جنم جا، بسا جنم جا، بسا جنم جا، بسا جائے و جائے کون تھے؟ وہ ببا ہیں کے جو بچے تھے ببا ہیں جب پکڑ ہوتے تھے پھر بھی پھر اپنے بھقسوں کو ہی چونتے ہیں اُن کے ساتھ ہی تیرا پکڑ کرتے ہیں پھر جائے و جائے بن گئے یہاں نکشہ کی روپی ہے دسر والے راول جنور دلہ وقت ببا ہیں نے کسی پڑا کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی کی روح کھانے کی کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح روح کھانے کی روح کھانے کی روح کھانے کی روح بہت بہت گئے تھے۔ لہٰذا مجھے شیطر اور چوبیل ہندی اُن کا چندن فراد کا وحیب حافظاً بھی ہمیں وحیب حافظاً بھی مبادر بھی ربائی پہلے اُن کا کیا ہوگیا تھا؟ مدد اس کے دوارے تاں پھرا کے دوارے پورے گھرنے سے اور یہاں گھرنے سے پورے گھرنے سے ہو جاتا ہے جب جہد کا بدلہ رہتا ہے تو جب جائیں بجائیں نے دیکھا کہ یہ جو دوار پار ہے ان کا پاکبھائن کے ساتھ بہت اچھا سمبند ہے کیونکہ پاکبھائن نے جب سنا کہ بارتاب جو ہو رہا تھا پاکبھائن باہر آئے اپنے داسوں کو ملنے کے لئے اور جب انہوں نے دیکھا کہ بھاگوں نے اتنی آدھے سے چرچہ کر رہے ہیں انہوں نے کیا کہا ہمیں وہ شراب واپس لے لیتے ہیں ہم نے گلتی کی ہے وہ شراب دے گا وہ بھاگوں نے کیا کہا کہ میری اچھا تھی کہ تمہیں شراب دو اس کا یہ ارض نہیں آئیں گے جو شراب دے ہم کہیں گے جو ہماری ارض ہے پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر مجھے کبھی بھی بنتی کے سامنے جھکنا نہیں پڑے اور جب جانے کا شکور نے بنتی کی کہ مجھے عمر بنا دو مجھ نے کیا کہا کہ تمہیں یہ وہاں نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے اپنے آپ کو بھی مٹھے سے روپیں گے شاستر میں کہا گیا ہے کہیں دیکھو کہ دم بھی آئی ہوتی ہے مہجی کی بھی پھر ایک وکن کو مٹھے کے سامنے جھکنا پڑنا ہے تو میں نے کہا شکبک سے انہوں نے اچھا پکڑ گئی تھی مجھے سناتن جب انہوں نے دیکھا تو بھگوان نے کہا کہ میں یہ ور نہیں لے سکتا مجھے مٹھے کے سامنے جھکنا پڑے گا تو میں نے جیوے جن کیا کیا؟ انہوں نے آدھے آدھے لوگ سے وعدہ دی گئے۔ انہوں نے پوچھے ہمیں یہ وعدہ دو کہ ہمیں کبھی پتہ کے ساتھ جھکنے نہیں پڑے۔ یہ وعدہ دیجئے کہ ہمیں ہاتھ دن میں رات میں یا شام میں ان ایک طرح سے یہ وعدہ دے گئے۔ وہ یہاں سے کچھ ملیں کیا تھوڑا۔ اب ہم نے ہم کوئی پتہ پر پچھ کر سکے گئے۔ تو جہاں و جہاں مرنگا شیعانِ اکشا اور ایک آدمی۔ لیکن جب شیعانِ اکشا کو بھی دیکھا اُن کی بھائی کا بدل گیا ہے، شیعانِ اکشا کو نہیں، اُن کی لوگ۔ شیعانِ اکشا کے پتنی وہ بچے سب دکیئے تھے۔ کیا نہیں سکو؟ کہ کیا ہے؟ دعا سوئی رہی ہے، کیا نہیں سکو؟ گئے ان کے ابتاد اور اپنی بھاوی باعت اور بطیجر کو رہتے ہیں، کیا نہیں سکو؟ لیکن چونکہ بیخلی یہ نہیں سمجھتا کہ آدمہ سناتا نہیں ہے، خصوصا کہ شریف ہمیشہ جرائے لائے گا، جرائے لائے گا وہ بیخلی کون ہے؟ اور یہاں نے کہا کہ ہوں گیا سدھانت اپنے عائلے کو انہوں نے آگے کہا کہ انہوں نے یہ ادھاریں دیا کہ ایک سمجھ راجہ تھا لیکن نام تھا شیوہ جنو اور یود میں راجہ کہا کہ مرتے ہو گئے تو راجہ کی پتنی آتا اتنی دکھی تھی انہوں نے پانچا کی شریف کو روک دیا امشالنگار میں جانے تھی۔ یعنی یہ ہے کہ اگر شام کو کسی کا دھیانت ہو تو صبح تک امشالنگار لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر صبح ہو تو شام ہو۔ یہ جو پتنیاں تھیں روک شریف کو پکڑ کر رو رہی تھی۔ سمجھیں یہ آواز پہنچ گئی کہاں یامراج تھا پھر یامراج آئیوں کے سماوے سے ایک کھبسورت یوک کی روپ ہے جو کھبسورت بچے ہیں وہ کسی سماوے میں بھی جاتے ہیں روپ کی تو جب یہاں آج پورے دیکھا تو ان کی فیضہ سے یہاں آگئے کہ اوپر کٹ ہوئے تھے چھوڑے بچے کی روح اور اُن بچے نے کہا تیوں لوگ رولے ہو یہ سوچتے ہوئے کہ تمہارے پیتا پتی کیسے جیوت ہو جائیں گے کیسے ہم دیں گے؟ ہم نے کہا کی کتنے رولیں رولو پرزم کتار کو آپت پرابنے کا سارا تو اِس بیش کے دوارہ جو کہانے کا شروع کہ یہ پتہ بھی میں نے اکشا کے پتے تھی بچی جیتی سب کو تھوڑی شنیدی تھوڑی میں آگے ایک جنگل میں ایک شکاری تھا وہ شکاری پکشے کو مارنے میں بڑا آننے دیتا تھا وہ شکاری نے اپنے اس ستان میں جو پکشی تھا پتی پتی وہ بچے کھیل رہے رہے ہیں پھر شکاری جا رہے ہیں کہ اب ایک جال پھیکیں پھر جہاں میں یہ پکشی پکشی رہی ہے وہ اس کے اندر آ رہے ہیں پکشی تھا اس نے کہا میرا کیا دکھ انہیں سامنے میں پتنی ہے میں کچھ کر نہیں سکتا میں یہ سوچتے سوچتے اس کے بچے بھی جان میں آ گئے تو اس قطعہ کے دورہ یہ سکچہ مل رہی تھی کہ اسی طرح ہم سب کا آنٹ آئے گا آپ چاہے کتنا بھی پریاج کرو اور روکنے کے لئے آپ روک نہیں سکتے پھر یہاں آئے گا چکو کہ وہ سلالہ علیہ السلام رسول اللہ نہیں تھے وہ تھے بھگوان کے اوچھے پڑھے پر پھر یہاں نکا شیپو یہ کیا کیا تپسیت کی اگر آپ یہاں نکا شیپو کی تپسیت سنو گے آپ آشریب جب یہاں نکا شیپو گئے گیا پرواد میں ان کا بھاو کیا تھا میری تپسیت کے دوارہ بھگوان کو اپنے پیچھے کروں گا وہ وہ تپسیت کرے گا انہوں نے کیا کیا انہوں نے اپنے پہونڈ کے انگھوٹے پر کھڑے ہوئے ہار آکاش کی طرف مو آکاش کی طرف وہی صوبے میں پکٹ ہوئے تھے کتنے سالوں کے رہے ہیں؟ دیوتوں کی سو مرشدوں کے رہے ہیں۔ اگر آپ رام دیو سے کہو تو ہمیں بتاؤ کی جنہیں کھڑے ہو سکتے ہو۔ رام دیو زیادہ سے زیادہ اور نبی بنو۔ یہاں جو اُنہوں نے اُٹھائی دیوتوں کے صوب ورشوں کے لئے صوب ورشوں کے لئے وہاں پریتی کے چھ مہینے دیوتوں کے آگ بارہ گھنڈے کے سمانوں میں بیان کرنے کے لئے جب برما آئے برما نے اُن کو کھو جاتا میں خود حیلال ہوگئے تھے انہوں نے اتنی لمبی پوچھے گئے۔ تو پھر یہاں نے کسی کو کا لقص کیا تھا؟ اُس کا لقص یہ تھا کہ وہ سنادھا نہیں لکھا پڑے اور اُنہوں نے پہلے کہا کہ مولانا جیسے کہیں ایک بار میں نہیں لکھا سکتا۔ یہاں نے کسی کو بہت بری تفصیل اُٹھائے اور اُنہوں نے بھاو کیا تھا کہ سمجھیں کیونکہ یہاں نے کہا کہ اس پوہ کی پچھلی اتنی بھاری ہوئی تھی کیونکہ بالوں سے آگ رکھ بھی آکھ آسک جا رہا تھا کیونکہ وہ دیوتا تھے اتنی دکھی تھے دیوتا کہاں گئے؟ دیوتا گئے موہن کو برمجی کے بارے میں برمجی نے کہا چلو ڈھونٹ دیں منے وہ یہاں نے کہا کہ اس پوہ کا شرید ہے بھیل گیا تھا کس کے ساتھ؟ چیٹیوں کے ساتھ. پہاڑ چیٹیوں کے ساتھ. برما جی نے کہا، پہنچا تھا نماز سعیدہ دینے کا اور وائف وہ کھڑے تھے اسی ستھاں پر جہاں کی پھینک جھپو بسا کراتھ اور انہیں وہ پچھانے سکے۔ ایک پہاڑ تھا جس میں میں نے تاکوں چیتیاں کھنی کے چھوڑے کے۔ پچھانے کا شکور تھا۔ بھی گئی تھی پچھاں۔ دیوروں نے کہا وہاں جینا کھٹن بنا دیا ہے۔ کس نے؟ کس نے؟ پچھانے کا شکور تھا۔ آپ کی پکڑ گئے ہماری سوالشاہ کی۔ خبراؤں مت جب یہ بالک اپنے پریم بھکس لال کو کچھ لے گا جب اُس کا بات ہو جائے گا تو خبراؤں مت تو یعنی کسی کو اُس نے فرج کیا سب کو کچھ لے رہے تھے اور یعنی کسی کو اب بھاو کیا تھا؟ وہ مٹی سے بچ سکے کیونکہ وہ بھی سنادھ رہا تھا کہہ آنے کا جھپو نے بہت بڑی ہی تپڑ شاہی کی اس کے قانون میں نہیں بہت پڑا تھا کہہ آنے کا جھپو ایک بیٹے تھے کیونکہ کیا رہا تھا؟ ایسے کہ بہت ایک سماج میں لوگ آگے آگے لوگوں کو ہیروں بناتے ہیں جیسے اگر کسی یوک میں اوچی ہو کھیل میں وہ کوئی ککٹ سار کی پوجا کرتا ہے کوئی فیملین سار کی پوجا کرتا ہے بھگ جو ہے فلاڈ مراج اور دھروہ مراج جیسے بکتوں کی نہیں ممکنہ چندن کرتے ہیں تو میں نے کہا چپو میں نے کہا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا کیا وہ اتنی پرجا کو کھائی سکے گئے تھے وہ اُن کے چھار بیٹے بھی تھے میں سب سے پرسند ہوں تھے پراد پراد مہاں جو تھے اُن کا بھاگ گیا تھا اُنہوں نے دھیویہ گیان پراب کیا تھا کدھر آدھا ماتا کے گھاں میں جب پراد پراد گیان کا جھپو پچھے کر رہا تھا تو یہاں نے کہا شیپو آن گئے وہ گئے پھر پچھے کر رہے اور بھاو تھا کیوں اس کے نام سے پچھے کر رہے تھے یہاں نے کہا شیپو کیوں کہ وہ سب سے بڑے بیٹا ہے چھوٹ کے نام تھا پیتا نے بہت پریاز کیا کہ کسی پرکار سے اُن کی بیٹے کا اگرشن، جبان کی پریشن مام میں جاتی ہے، پھر اُوہ کرتے ہوئے ہیں اور خالمان کی پیتا پیاس کرتے گئے، سیاہ پیاس کرتے گئے، سردار کا موت کرنے گئے۔ جیسے آج کی جوائل میں آپ دیکھتے ہو، خسور بھاو کے بیتی چندہ نہیں کرتے کہ اُن کی بیٹا میں کہتا ہوں کہ کھوڑ کرو یہ بہت سے لوگ رہتے ہیں تو آنے کا چھپو اچھا تھی کیونکہ بیٹا جس کا بشنوں کے پتی تنہا اکشن تھا اس کو سکچا دی جائے نال کے دو ہدیہ بکت پھر کون سن جارہا مان جارہا یہ دو کون تھے شکر چاہیے کے پتیوں اور شکر چاہیے جو تھے وہ تھے کام کرنے کے لئے وہ جانتے ہیں کہ وہ کہتے تھے سندھا مڑکا سے کہتے ہیں تم لوگ دھیان نہیں دے رہے میرے بیٹے کو میرے بیٹے کے ذریعے کو بھومانے کے لئے سندھ آنے ہیں پیش بنانے کا تم لوگ دھیان سے ذریعے بنانے کر رہے وہ سندھا مڑکا سے کہہ رہا ہے آپ ہمیں دوشت نہ دو ہم اپنی طرف سے پورا پریاز کریں۔ ہمیں خود نہیں پتا کون آتا ہے آپ کے بیٹے کو کتنی جان دے گا۔ اور تھوڑا گھڑا ہومتھ، ہم آپ کے بیٹے کو بھکھا دیں گے۔ تو انہوں نے کہا کہ تیچرز نے، انہوں نے کیا کہا؟ ہم نے اپنے گھنٹوں کو پہنچا گیا اور اس کا کوئی پیم نہیں جائے گا پھران جو مہراج پھران جو نے دیوی گھنٹ پھاپت کیا رکھا وہ جب ماتا کے گھر میں تھے وہ نے دیوی گھنٹ پھاپت کیا تھا وہ ایک رکھ سب کہہ سکتے ہیں راض وال سیل پھران مہراج نے دیوی گھنٹ پھاپت کیا جو ماتا کے گھر میں تھے وہ اسے پاپا دی رکھتے ہیں ہمیں یہ گھیان دیتا ہے کہ life starts in womb. جب بچہ مادہ گھر میں ہوتا ہے تو اُس کی زندگی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر آدمی آج کو اللہ نے ایک بڑا کے کشف کر لی ہے اُتھانے کے لیے پھر آدمی آج کو پہاڑ کی چھوٹیوں سے پھیکا آپ کو پہاڑ کی چھوٹیوں سے پھیکے گا اب زندہ پہنچ رہے ہیں سامپوں نے گھیڑ دیا کہ گھیڑ رہو سامپوں گھیڑ تو آپ بچو گئے اور جہر کلائے گے کہ مجھ پر جہر کلائیں گے وہ نیک روپوں سے پیار کیا تھا پرداد مہاراں جو ہیں وہ ہر ستھریوں پر بچ گئے پرداد مہاراں جو ہم نے ساتھیوں کو سکھشہ دے گئے کیونکہ وہ پیچھنگ رسل ہیں جب ہم چھوٹے تھے پرال کی کوئی روچی نہیں تھی کھیلنے گھننے میں. کیوں کہ روچی تھی کس میں؟ کس میں؟ کیون بھکتی میں. پرال نے کوئی اتراکشن نہیں کیا. کچھ چھوٹی گیم پرال مہاج میں اپنے ساتھیوں کو سکچا دیں گے. گلاس میں. اور سندھر مڑنگر نے دیکھا یہ جو باقی ودھیاتی ہیں سبھی فلار کی باتوں میں آ گیا ہے کیونکہ سندھر مڑنگر کو پتہ تھا کہ فلار کے پتا کا ایچہ ہے کہ وہ بہوان کو بھول جائے یہاں وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا دیکھ رہے ہیں ان کی روجی بڑھتے جا رہی ہے سارے ودھیاتی جو کلاس میں تھے سب کا اکشن پڑ گیا کیسے پڑ گیا؟ وہ گھبڑا گئے وہ گھبڑا گئے پھول رہے کچھ نہ رہے بھئی کسے؟ جانے کا جو کہ ہم آج سفر تھے کیوں کہ ہم نہیں روک پائے آپ کی بیٹے کو بشنو کی بھکتی تھے تو پدھار کی جو پیدا تھے بہت گُسے میں تھے اور انہوں نے کہا Now he must be killed. He made my life. He is a target of my enemy. تو محیانہ کی شکوہ نے نکل دیکھا کہ پدھار کا پدھار ہونا چاہتا ہے تو محیانہ کی شکوہ نہیں پلاڈ سے پوچھا پلاڈ تمہارے پتا نہیں پوچھا پلاڈ میں بھگوان کہاں رہتے ہیں تو پلاڈ رکھا کنکن میں ہر جگہ رہتے ہیں you mean God is present everywhere in this room؟ کہاں رہتے ہیں تو کنکن میں پوچھا ابھی دروار نکال سکا اور جوڑ سے کھمے کو مارا۔ اِن ہی جوڑ سے وہ جوئے تھے، اب اُس کھمے سے کیا نکلے؟ وہ نکلا، اُس کھمے سے نکلے اب بھگوان۔ بھگوان اپنے عجبوت روپ میں جب یعنی کسی بھولے یہ روپ دیکھا آدھے پروشنوں، آدھے پجھروں، تو پھر یہاں پھر جانا کچھ ملے گا یہ بھگواں ہو گیا ہے۔ This is Krishna appearing in all of them. تو پھر دوسروں کا جھگاہ تھا جھگاہ تھا جہاں تک کہتے ہیں کہ تو بھگواں کو مارا رہے تھے اور انہوں نے جو یود ہوا کہ ایسے لگ رہا تھا کیا نہیں کہہ سکتے کہ وہ پھولے گا، وہ جیت بھی جیت لگے۔ وہ دیوتا تھے، وہ دکھی تھے۔ دیوتا کی اچھا کیا نہیں؟ کہ دیوتا کی اچھا نہیں۔ کیا نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں کیا چاہئے؟ کیونکہ وہ اپنی زندگی کر رہے تھے۔ تو ان دولوں نے یود ہوا۔ اور کئی بار یود میں ایسے لگ رہا تھا ہیرانا کشکو بلویل، لارڈ بلویل، جیسے فلموں میں دیکھا ہوگا اپنے جھنگا ہوتا ہے، ہیرو ایک طرح مرنے ہوتا ہے، خاند میں وہ جی چاہتا ہے۔ یہ آئیڈیا تھا مجھے کہتا ہے، مجھے خیال سے راڑ کے سکھ سننے کے لئے تھا، کیونکہ ہیرانا کشکو اور بہت ہوں گاں کے لئے بھی ہوتا تھا، یہاں سے لگا گیا تھا وہ جیت، اس کی جیت ہوگی ہرانہ کشکو، آج میں کون جیتے ہیں؟ تو ہرانہ کشکو نے، ہرانہ کشکو قبول ہویا اور بھاگوان پکڑ ہوئے۔ کس روپ میں؟ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے، کس روپ میں؟ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان پکڑ ہوئے۔ بھاگوان प्रभादे अस्ते پکڑ ہو विकाष। अपने चिलने के लिए हिनाने का शिपू नोट रोड ब्रह्मा हो। आप करते हैं कि आप करते हैं कि आप करते हैं कि आप करते हैं कि आप करते हैं कि आप करते हैं कि आप करत پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھ بہت دکھی تھے، در میں تھے۔ کوئی سب در نہیں تھے بھگوان کے پاس جانے جو بھگوان کے بھگت تھے اُن ہی تھے۔ تو پھر میں نے دیکھا کہ بھائی نے کیا کیا اُنہیں فراد کو کہا، فراد آپ گاڑے میں جاؤں۔ فراد کا اتنا گہرا سمن تھا، فراد نے کیا کیا؟ جہاں کر اُنہیں ہاتھ چھڑا لیا اپنے گھر میں۔ تو فراد نے کیا کہا؟ فراد نے کیا کہا؟ فراد نے کہا، اگر آپ مجھے کوئی ورد دینا چاہتے ہو تو ایسا ورد دیجئے میرہ بہت گاڑ گشن ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا، بھگوان نے فلاد مراج کی شرکشہ کی اور بھگوان نے بھگوان کی لیتہ میں کیا کہتے ہیں؟ اُن دے پتہ جانہی نمبر بکتا بک جا کبھی نہ کیا تو یہاں نے کہا چپو نہیں کیونکہ اُن کا عبد اور فلاد تو بھگوان نے کہا فلاد میرے کارل تمہیں کچھنائی کا سامنا ملنا مراد. تم میرے سے مانگو کیا ہوگا رسول اللہ تعالیٰ؟ اور پرداد نے کہا اگر مجھے کوئی ورد دینا چاہتے ہو تو ایسا ورد دیجئے کہ میرے ہدھے میں کسی پرکار کا بوزکا کر چل دیو۔ He said if you want to give me a benediction, please give me a benediction that all my material desires بی بی بینس یہ دربجل بن لگے پھر بھرا نے کہا حالانکہ میرے پتا حصول بھاو کے تھے جب بھی میرے ابن دی ہیں کیا ان کو لوگ دھار کر رہے تھے جو بھوا نے کیا کہا بھوا نے کہا فراد اتنے پوچھنے کی کوئی احساس نہیں ہوتا ہمارے جو پتہ ہیں انکی ادھار ہو جائیں گے انکی اکیس پیری تک ہم مہا پہنچتے ہیں کہ وہ اچھے بھکتی ملاتے ہیں جیسے کہ بہت ایک سماج میں سمجھو آپ کو بڑے منتی بن گئے یا کوئی پڑے منتی بن گئے آپ کے جو جان پچانکے ہیں انکو بھی اس کا پیدا اٹھاتے ہیں اسی پرکار اور کوئی بھیکتی کشفت بھگ بل جائے تو کیا ہے؟ تو اُن کے ایک کشف پیڑی تک سب کا لاحب ہو جائے۔ تو پلاج ناشت کی قطعتیں ہم کیا رکھتے ہیں؟ ہم دیکھتے ہیں کہ پلاج بھائی سے رہے تھے۔ لیکن یہ دھڑ نہیں تھا کہ یہ دھڑ نہیں تھا کہ رخصان ہو رہا۔ کیونکہ منہ میں ایک ہی بھاوتہ تھا تھا کیا پیشن بڑھتے ہیں ان کے پیتا نے بھگواں نے پوچھا تھا ہوں گے میں سے کیا ہوں گے پیشن بڑھتے ہیں تو پلاڑ نے کہا ہے اگر کوئی ویکتی سشے بناتا ہے ایک سشری سے کہ مجھے اس کے ملے میں بہت ایک لام ملے گا وہ ویکتی کیا ہے کیا ہے उन लोग विपारी है कोई व्यक्ति चूड़ता है किषन भक्ति में सिमाल नहीं सके इसके बदल में मुझे लाव मेले करता है व्यक्ति क्या है विपारी है शिवन भगवतमें हमें क्या गहाँ मलना है इसका मतलब क्या ग� کیا ہے؟ شیعہ میں بکرنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے والا ہمیں کیا سکھنے ہمارے والا ہمیں کی بچوں کو چھوٹی آئیوں سے ہی ہم نے اپنے گانے نے آرام کر دیتے ہیں۔ ہم نے ہندویں بھائیوں نے اُن کی تلانے کر دیتے ہیں۔ ہر سال اسکون انڈیا گیتہ کانٹیسٹ ارگنائز کرتے ہیں۔ تو کوئی نو سال پہلے گیتہ کانٹیسٹ میں ایک مسلمان بچے کو ہی نام دا۔ وہ بھگتوں نے پکھا وہ سیڑھے کی نیسے ہی سمجھتے ہیں؟ اس نے کہا جب میں مسجد جاتا ہوں میں دیکھتا ہوں چھوٹی آئیوں سے لوگ پرانے سے کھاتے ہیں اور مسلمان بچے جاتے ہیں مسجد میں پرانے میں جاتے ہیں جب میں کسی چوچ میں جاتا ہوں میں دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ بائیبل کو پڑھ رہے ہیں بائیبل کے پھوپے کو ساز رہے ہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ ہندو بچے نا بائبل پہ کتاب ہاتھ پہلاتے ہیں اُن کے بعد ہمیں گیان کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہی ہیں ہمارا درباگیا بلال مہدی نے کہا تاکہ مجھے جیون بہت دیڑھ لب ہے اس لیے ہمیں چھوٹی عیو سے جہاں میں گیان کرنے والوں کو کہنا آزم کرتے ہیں جہاں تھے مجھم سلکتے ہیں مجھم آج لوگ یہ نہیں جانتے کہ آج سے سکھے سے پراپ ہوگا ہم پیاس کرتے ہیں کہ کسی نے کسی روپ سے سُکھ پراتھ ہو سُکھ ہے کیا بہت ایک جگہ میں آج کا آپ کیا دیکھ رہے ہیں سماج میں؟ کھلیش ہے بڑھتے جا رہا ہے یا گھٹتے جا رہا ہے؟ بڑھتے جا رہا ہے یہ ہے کھلیش کا روپ کھلیش بڑھتے جا رہا ہے اگر ہمیں سُکھ چاندی چاہے تو کیا ہے اپایاں؟ کھلیش میں بڑھنے کے مانگ میں جوڑنا چاہے پھر سب مقدد کے بارے میں جھڑیں گے، وہ اصلی گیاں ملے گا۔ جب پھر جانے کا سکون اپنے بیٹے کو گھوٹ میں مچھایا وہ کہا پنال میں ادھابک اتنا گیاں تمہیں دے رہے ہیں تو مجھے بتاؤ کہ سب گیاں ملائے اُن کے دوارہ، سب سے میں نے پوچھا کون تاں گیاں تھا پھرانے گیاں کا، بعد میں شملم کچھ نمشور سنن پالتے ہیں لیکن آنچھے مندے دلوں سے کمال پڑھتے ہیں. انہوں نے نفضہ بھکتی کا گہاں دے اور نفضہ بھکتی کے علام ہوتے ہیں کس کے ساتھ؟ کس کے ساتھ؟ شملم کچھ نمشور سنن پڑھتے ہیں۔ جب فلاکھ کے پتا نے یہ نفضہ بھکتی کا گہاں سنا اُن بیٹے کو کیا کیا کیا؟ بیٹے پتے کیا کیا کیا؟ تو تو پرلاد مہاج ہمارے تیچوں ہیں ہمیں پرلاد مہاج کے سکھسا کا عدید کرنا چاہےں ہمیں پرلاد مہاج کے سکھسا کا عشاء کرنا چاہےں پراباباد کے جو لکچن ہیں سب سے زیادہ آپ ڈھونڈ دیکھو گے مجھے شدہ بھگوان کے اوپر پرلاد مہاج کے اوپر سو جاتا ہوں کیونکہ اُن کی صحابت میں سارا زندگی جا جاتا ہے۔ تو آج ہم بھگونا سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بھگونا سکتے ہیں کہ ہم یہی پراتا کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ہیدے میں بالکل بہتر کا کچھ نہیں کرتے۔ اب میں کہتا ہوں کہ کتنے بھگتے ہو جن کی اچھا ہے؟ بھگونا سکتے ہیں کہ ہیدے میں سارے بہتر کا کچھ نہیں مل جائے۔ کتنے بھگ چاہتے ہیں؟ اب کہ ہیدے میں جو میل ہے وہ سمجھتے ہیں تو اگر آپ چاہتے ہو تو آپ کو پریاس کرنا پڑے گا پھر آپ بات کہہ رہے تھے میں کدم اٹھاؤ بھگوان کی طرف بھگوان دس کدم اٹھائیں گے تو ہمیں کشن بھکتی کا روچہ لے لیجائے ہم کہتے ہیں یہوں کے دس کو پاک کریں گے ہائے کرشنا कृष्णा कृष्णा हाने हाने
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

