कृष्णभावनामृत में तपस्या का अर्थ | SB 7.8.43 | वृन्दावन | 03 Nov 2021 | Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī

Śrīla Gopāl Kṛṣṇa Goswāmī explains that true tapasya is inner purification through devotion to Krishna, not external hardship alone. External austerities without bhakti lose their value, while internal austerity rooted in love for Krishna transforms consciousness. Chanting holy names, serving the deity, and cultivating humility are the most effective forms of tapasya.
Chapters
चाईश्टिन कृष्णाच्छेतन्या प्रभोरित्रादन्या श्रीरत्में तग्रादा स्वर्धरिवर्णा। हरे कृष्णा, हरे कृष्णा, कृष्णा, कृष्णा, हरे, हरे, हरे, हरे, रामा, हरे, रामा, प्रतांग्रामा, हरे, हरे। हरे कृष्णा, हरे, हरे, हरे, हर ہم نے پڑھا کہ جس طرح بھگوان پکٹ ہوئے حسینہ دیو کی روپ میں اور سور کی آنے کا چمکہ پت کیا تو آپ پڑھتے ہو کہ جہ و جہ کون تھے وہاں کی دعا پہلتے ہیں انہوں نے روکا شاہ کمارس کو مکمل دہ دھامیں کچھ کرنے سے پہلے چھ دواروں سے وہ گجر گئے تھے پھر ساتھ میں دواروں پہ پہنچے وہ دوار پہلوں نے کیا کہا ننگے بچے اندر نہیں جا سکتے وہ نے کہا تمہیں پتہ نہیں ہمیں کتنا آنا دنبہ ہو رہا تھا انہوں نے کہا تو شاپ یہ اور کیا تھا شاپ تو ہم جہاں بھائی کے شدو بن جائے گا تو انہیں یہ چھوٹی گئی تھی کہ تین بار انہوں نے شدو بنے یا سات بار بات بنے تو انہوں نے کہا شدو بنیں گے جھلی جھلی شجاہ پہنچ کر ہم بھائی کے دماغ سوگیں تو جہاں بھائی بن گئے यहां बदे ही रहने कर शुकूर रहने कर पूर ज्याने चाहते हैं। तो इस अधायां के इस साथ विश्च करने अपरति प्रदान राज के विश्चे में इस प्रदान राज ने अनीथ पुर्थारी कश्चों को सेल लिया और प्रदान राज اور انہوں نے یہ دیکھیا اپنے ساتھیوں کے لئے فلادھ کے پیدا سبز عبادے تھے فلادھ گری شکری کہاں سے آرہی ہے اور راکھے کشنہ مارے کے مارے کشنہ نہ آرہی ہے اور جس کو مہمان بچھانا چاہے کوئی مار نہیں سکتا جس کو مارنا چاہے کوئی بچھا نہیں سکتا فلادھ مراد کو अनेक पकार के कश्रू को समझ करना पड़ा है जैसे की बहुत एक समाज में हम के बाद कोई फिर्मी का का, स्पोर्ट का का, का अपना हीरो मांते रहा हैं तो ध्याद्विक जीवन में हमारे कही हीरो's हैं एक हीरो हैं लादा, एक हैं दूमा, दोहिल की जी� انہوں نے بھوگاں کی سیول پلاد مراج کو پلاد مراج جو تھے انہوں نے رکھیا بشا پرما بننے کی تو پلاد مراج نے بہت بہتر پول گیال میں دیا انہوں نے کیا کہا قوم مراج پر پڑھ جائے 5 سال کی عائم سے ہمیں ادھار پر گیال مراج پر پڑھ کرنا پانا پڑھ گیا تو پلاد مراج نے اُبدیش اپنے سادیاں کو بھی دیا اور بھوڑا نے پوچھا کیا؟ اُن کی پتہ نے پوچھا یہ سب شکتی تم کہاں سے آرہے ہو؟ اور کہاں سے کیا آرہا؟ یہ شکتی وہاں سے آرہی ہے یہاں سے آپ کا شکتی آرہی ہے اور جہاں نے کیشکو نے جن نے کر لیا تھا اب پرداز بہت بے گھوٹ بے گھوٹ شکنتا نہیں ہے اسے سوجھا آپ کو نہیں چاہے کیونکہ پیتاں تیار تھے اس کو ماننے کے اور جہاں نے کیشکو اس نے انہیں پکا کے وڑڈ کو پرات کر لیا تھا اور جہاں نے کیشکو نے سوچا تھا یہ سارے بار پراپس ہوئے ہیں، اب مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور جہاں جہاں شکریہ نے پہلے ہوا، پنگوان پکٹ ہوئے ہیں سنگلہ کی روپے اور جہاں جہاں شکریہ کو کہاں، بات ہوا اور پنگوان پکٹ ہوئے، اوش روپے جس کے دورہ انہوں نے جو بھرما جی کے دوارہ پراب کردے تھے سب کا پالن ہو کہ بھرما جی کے دوارہ کیسے کہیں سکھو نہیں نہیں بھرما جی کو پراب کردیا تھے وہ سوچ دیتے تھے کہ اب میں یہاں کوئی کچھ نہیں کر سکتا تو بھرما جی سے کہتے تھے سارے بھرما جی کا پالن और प्रापा जो एक समय लेक्शर दे रहे थे लोग सेन्जिस में और प्रापा देखा आप से किरेंग क्या नहीं किसी पू तो लोड रोड ब्रह्मा प्रीज वो गिव सच बड़ी लेकशर दे और फ्यूचर तो तो प्रापा देखा कि क्या नहीं किसी पू कुबा था के बच् ایسے ورڈ پھر پھر شمیہ مت دینا تمہیں میرا کاریاں مہت بہت چھوٹی منا دیا جاتا ہے تو ایسے دھیائیں میں آپ پڑھتے ہو کہ جانے کے شکوب پر کیا مہت ہو گیا ہے اور سائے دیو تھا وہ سب کیا کر رہے ہیں بھگوان کا جنگل دار کر رہے ہیں آج کے شوق میں آپ کیا رکھتے ہو کہ آپ کے شوق میں رکھتے ہو جو رشی منی ہیں وہ پراتہ کر رہے ہیں اور رشی منی، نیک دیوتا، سب اگلے کشوکوں میں پھر بھوڑوں کا بیدار کر رہے ہیں یہاں سے رشی منی کیا کہہ رہے ہیں کہ آپ جو ہو یہ شکتی پراتھ ہوتی ہے کس کے دوارہ؟ تپسیہ کے دوارہ और इस स्लोग के ताप्रे में प्रश्या का बुर्णन बारबर किया जाता हैं तो अध्याद्मी जीवन में अगर हम उर्दी करना चाहते हैं तो क्या के चिल्या उज़ुप हैं प्रश्या का बुर्णन और प्रापाजी ताप्रे में प्रश्ये भगवान के फाजविस्कन بھاگاں گے شہر روزے کون تھے؟ بھاگاں گے آفتار، اُن کی پیتا کا نام تھا بھاگاں گے لعبی، بھاگاں گے لعبی تپسر کا پالن کر رہے تھے۔ اِس ودیشے کے ساتھ کہ اُنہیں ایک پتہ پرابت ہو بھاگاں گے سمجھے۔ بھاگاں گے تپسر سے پسند تھی، لعبی نے کہا پھر میں جدہ کوئی بچ نہیں سکتا میں ہی بچاتا ہوں تمہارے پوچھا پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پرشاہ دی جی نے کیا کہا نایم دیہ دیہ پا جنگو گے ہمیں یہ دھلہ پنوشتے کا کیوں پوشو جیسے نہیں کرنا چاہتے ہیں کیسے کھانا چاہتے ہیں کیا کرنا چاہتے ہیں پرشاہ دی بھوگیا کہتے ہیں سپونتی بھی پتہ رہی ہے تپسیا کرو پھر کس کے لیے روحان کی خوشگی میں ایسے دیکھا جائے بہت ہی سماج میں کافی تپس ہے وہ آج کے بہترین میں رہنا یہ بھی بڑی تپس ہے پھر بھگوان شہدہ کہتے ہیں سو بیٹوں سے तपस्या करो पर किस लिए? भवान की तपस्या करें। अध्याद्ध की काये करें। यह नहीं। आप बहुत एक इच्छाएं हैं, तो इसे पूर्व करने के लिए प्रेशम करना पड़ता हैं। वो तपस्या करें। भवान की तपस्या करें। मैंने कहा, चपोद देविया प� تو کئی بار بھاگ پوچھتے ہیں کہ ہم تپڑسیا کریں گے ہمیں بدلے میں کیا ملے گا؟ کچھ ملے گا؟ ममन अच्छो देव जी क्या कहते हैं? प्रमसुत्यमुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत्मुदनत بھگوان گیتہ کے اٹھائیوے دھیائے میں کیا کہتے ہیں تین چیزوں کو تم کبھی تیار نہیں سکتے کیا کیا گیا تھا نا تو یہ آپ شاستوں میں کچھ شلوکوں میں پڑھتے ہو کہ ہاں تفصیل کا پاسد ہوئے وہ تفصیل ہونی چاہئے کیسے بھگوان کی کوشش ہوئے اور تپسے کی شکل کن سے آتی ہے؟ بھاگتیوں کی ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو پورا سے بھاگتیوں بھاگتیوں کی ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو کی پورا سے بھاگتیوں کی ویڈیو مانی کی کیا تپڑسیاں ہیں اور مانگی کیا تپڑسیاں ہیں اور جی کی پور کی تپڑسیاں کے بشے میں مانگی کیا تپڑسیاں ہیں پھر اب بھگوار کی عباس نہ کرو اندھیوں دوارہ اندھیوں کو اپیوک کرو کیسے لیے بھگوار کی سیفہ کرنا تو ایک تپڑسیاں ہیں جے کی دوارہ بھگوار کی سیفہ کرنا پھر بھرامنوں کی یہ بھرامن شفت کا اپیوگ کیا جاتا ہے اس کا ارض ہے اصلی بھرامن نام کے بھرامن نہیں ہے پاپا جی کی اچھا تھی اس کا میں جو بھرامن بنیں وہ اصلی بھرامن جنہیں ہیں تو جو اصلی بھرامن ہیں جو بھرامنوں کے قلعوں کا جو پاس بھرامنوں کے قلعے ہیں پاپا گیتہ میں کون کہتے ہیں سمو دھمو تپسو جم شادی رجو مہو جم یہاں نامے گیال مصدقیاں برما کرما سباقی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوارن گی بھگوار और आगे क्लेजिनेस प्रापा अच्छा कहे थे क्लेजिनेस एकस्टू प्रापा अच्छा कहे थे क्लेजिनेस एकस्टू प्रापा अच्छा कहे थे क्लेजिनेस एकस्टू प्रापा अच्छा कहे थे क्लेजिनेस एकस्टू प्रापा अच्छा कहे थे क्लेजिनेस एकस خوش نہیں ہوتے رہتے ہیں۔ بھکتوں کا یہ بھاو ایسا ہے کہ کسی چیٹی کو بھی کھش نہیں دیا جائے۔ آپ جد بھارت کی بارد بارد کی قدہ پڑتے اور جب جد بھارت راجہ کو پڑھ بھی اٹھا رہے تھے وہ رہا تھا تو وہ چل رہے تھے اتنی دھیمے سے لیکن کہتے ہیں کہ کسی چیز ہے جو کوئی خشک نہیں پہنچا تو براملوں کی تپسیا ہے تو یہ ہے یہ دوڑا تپسیا ہے پھر آگے بھگوان کہہ رہے ہیں کہ یہ وانی کی کیا تپسیا ہے اور اس پیش میں کہتے ہیں، وانی دعا ہمیں کیا کرنا چاہے؟ بھوگاں جینا موقع ہے، وانی دعا، ستے کرو کی چرچہ کرو، پڑھ، پیچھاس کے ساتھ، بھوگاں جی پہ تپسیا ہے، بھوگاں کا گھنکال کرنا چاہے، ہمارے شاستوں میں ہم پڑھتے ہیں، کیا کہ جیب کی تفسیر ہے پھر جھرپا سے پچھو روپا کو سمیں کہتے ہیں پھر جھرپا سے ہم مہا کریں پھر جھرپا کرو گے تو کیا ہوگا بھکتی میں کابل ہم لے گی روپا کو سمیں جی نے ہمیں نہیں کر دیئے ہیں جب چھ دن مہا پھولے پھر پوچھتے ہیں ناظر کو پھیجا بندھاول تو ایک آدھے سے یہ دیا تھا بھکتی سے مندت گھڑتوں کی رشتہ کرنے کے لئے اور سرکوبیت ہمیں کیا کہتے ہیں اتیار پریششہ پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرجل پرج بھگوان کا گھردار کرنا اور اس کے قریب ہمیں کیا احسان محمد علیہ السلام جانا تو ہمیں جیب کے دوالہ بھگوان کی بیلوں کی چرچہ پیشن کتاک کی کھڑا دار اٹھانا جانا یہ ہے جیب کی طپسیاں اور پھر من کی طپسیاں من کی طپسیاں کیا ہیں بند کی نیل کو وچ میں رکھنا اور بند دواراں توپاں کی لیلاوں کا ان کے اُبدیش کا سوال اندرویں چیتن مہا پھول نے رامن اندرویں سے ایک پیشن پوچھے تھی چیتن مہا پھول دکشن مہا پھول کے یاثرہ میں گئے تھے وہ نے پوری سماج کو پوری پجا کو پیشن مہا پھول دے तो उन्हें एक प्रशन पूछा कि हमें इश विशे का चिंदल करना चाहें। राम ने लोयले क्या का? भगवाण के रामों का, इन्हें रूप का, इन्हें रामों का मरल करना चाहें। तो मन को हमें क्या करना है? मन दूला. एक प्रशन जो भग सारे विश्व में पू وہ چنچل ہے بھڑکتے رہتے ہیں تو کوئی اپائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس سلوک پہ پرمہمان کا عزیزہ کر رہے ہیں اور اِس ادھیائے اور تاپے میں بل دے جاتا ہے کس کا تفصیہ کرنے کا امشہ ہے تفصیہ پرمجوتی بھارت میں دھوک شجا ہے پرمہمان جو ہے دھوک شجا ہے مجھ کو سمجھنا احسان نہیں ہے پھر آپ کیسے سمجھ سکتے ہیں تپسیہ کے معلوم سے تو یوریشی منی ہے وہ کے یہ شکار کر رہے ہیں پرمہمان جو ہے پرمہمان جو ہے انہیں پرسن کرنا ہے کہ کیا ہے مادیہ تپسیہ کا پاس ہے تو یہ شروع میں کہا گیا ہے تپسیہ और दाक्रे में इसी विशे पर पलते जा जा रहा है। प्रशन यह है, अगर हम तुपजड़े का पालन करेंगे, तो हमें अच्छे में क्या मिलेगा? कुछ मिलेगा? क्या मिलेगा? पालन, जोकि केवल बड़ते ही जाएगा। चेतन महापुबने हमें सिक्षास करके दुआरा آئی نام کی مہمانہ بھگواننگ کی آئی ہے اور سب سے پہلے مہا پرمہ کیا کہتے ہیں چیت و ذبال مہجنم مہماں کی دعائی بھی صرف مہا پرمہ آپ آئی نام کو اچھاننگ کرو گے تو اسے جو شیطے کی محیط ہے وہ دور ہوگی اور اس کے پچھلے آئی نام کو جاب کرتے جاؤ کیا آناند ہوگا آناند بودی آپ کو اصلی آناند پاپس ہوگا تو سکھشا ادھاربک سکھشا کے دوران ہمیں تپسی کی بشیر پر کیار پرابت ہوتا ہے اور گیتہ میں اور ہر ایک قرآن میں اسی بشیر پر بل گیا جاتا ہے تو تپسی کی شکتی آتی ہے پرابت ہوتی ہے جب آپ بھکتیوں کی ویڈیوں کا پارل کرتے ہیں ہمیں کہتے ہیں ادھوک شدہ دلہ سالوں میں سب سے پہلے قدم میں ہمارا میں یہ اچھا ہونی چاہے کہ ہمیں آدھی آدمی بھی ہونی چاہے اور اگر یہ بھابنا ہے کہ ہم بھابنا کے شننگت ہونا چاہتے ہیں تو اسے کیا ہے؟ اسے تتہ سال بھابنا اسے بکتی کی سنگت میں لے آتے ہیں بھابنا نے ایسی سخیت پہ داتے ہیں کہ آدھی آدمی کی آدمی اوہ اس گیاں میں جب آپ پالن کرو، نیموں کا پالن کرو، تو پھر کیا؟ بھجن کیا ہوگا؟ بھجن کیا، اگر آپ کروگے، تو پھر کیا لاغ ہوگا؟ انہت ہوگا۔ یہ جو انہت ہوتے ہیں، کام ڈھونڈھو، من میں سریعہ، اس کے کارز ہم ہماری شنگل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ ان سب کو آپ دور کر سکتے ہیں۔ تو بھکتی یوگ پالن سے انہوں نے مدید ہوتی اور پھر جب آپ پالن کرتے جاؤں پھر کیا ازام ہوتا ہے وہ پھر بھی پالن ہوتا ہے تو تپسیاں بہت اہم شک ہے اور تپسیاں کے پالن کی شکری کہاں سے آتی ہے بھکتی یوگ کی یوگ پالن سے तो जो रिशी मुनी हैं इस दिधाई में सब भगवान का कुर्णान करते हैं शिव जी, इन्दा जी आई देवता और जो रिशी मुनी हैं कहरे हैं कि तपश्य के द्वारा ही आप भगवान को समझ सकते हैं और आपने हमारी सुपरक्षा की देवता थे बड़े दुख اور دیوتہ بھار پکڑ کر رہے ہیں کہ کب اس اصول کے مدد نے پوچھتا ہے تو کیا نے کشیپو اگر ہم سادہ ایجویتی سے پوچھیں کیا ہے پریچ ہے کیا نے کشیپو کا تو جہاں سننے میں آئے گا اصول جیسے ہم کہہ چکے ہیں اور وہاں کے بہت اوچھے کوٹی کے بھاگتے ہیں جن کے مل میں ایک ہی چھتری ہے کیا؟ بھگوان کی پسند ہے تو کھانے کے چھوٹے بھگوان کے بہت زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیادہ زیاد یہ بھکتی ھوک کے مادیم کے دوار ہے سارے شاست ھوڑنے کیا ہے کیا ہے اپاہ ہے بھکتی ھوک بھگت گیتہ میں کیا ہے بھکتیاں مانوں بھی جاتے ہیں بھکتی کے مادیم سے ہی مل جاتے ہیں اور طفولتی کی شکتی آتی ہے نیموں کے پاس اور ادھیار میں زیادہ آرام کیسے ہوتا ہے سادھو سنگھر کے دوار سادھو سنگھر سادھو سنگھر सारे शासाँ अमनं क्या है भकतों की संग में रहोगे तो अध्यात्में ज्ञान सुनते रखते हैं। जैसे की बागवतंव की विशे में कहा गया है नस्तप्रेश्या वद्वेशियव नित्य बागवतंव में हमें पक्याइदा शिवाद भगवतंव को सुनना च اور ہم regularly سنیں گے کیا ہوگا جیسے کچھ مہل ہے دور ہوگی اور بھکتی کا پاپ پڑے گا تو شاستر میں پورا امتیز دیا جاتا ہے کہ اس وقت ہم آئے ہیں اچھا سے جیون کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور اگر ہم بھکتوں کی سنگل میں رہیں ہمیں بھکتی کی यह महाँ पारण जा रहे हैं तो फिर आप प्रिश्चली आगे बड़ सकें। प्रिश्चल प्रापार जिब हमेरे का गए और उन्हें प्रिशान चूर किया तो सबसे पहला केना खुला था नियोर्ड में प्रापार जी ने पक्तों को कहा जैसे चैन आरे कृष्णा तो उन्हे بھاگتوں نے پوچھا سوامی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صحائص ہونا چاہتے ہیں اور کیوں نہیں؟ اگر آپ بھکت کے معاملے میں کیا کر رہے ہو؟ بہمان کے ناموں کا خوش آرہے ہیں، بہمان کے شاستوں کا دیدار آرہے ہیں۔ تو بھکتی ہو تو ایک حفاظت ہے۔ تو تپچہ کی شکتی آتی ہے صادو صنگ میں رہنے سے اور آپ کا انباہ ہے کہ جب آپ تپسیاں کا پالن کرو تو کیا پیدا ہوں گا تو تپسیاں کے دوارہ ہی آپ بھگوان سمجھ سکتے ہیں اور بھگوان نے ہمیں دیکھ دیا ہے کیا ہے شریع کی تپسیاں کیا ہے وانی کی تپسیاں اور کیا ہے مند کی تپسیاں اور تپسیاں کی شکلی آتی ہے اور تیسری نیموں کے پالوں سے تو اگر ہم ادھیات میں شریعت میں آگے پڑھنا چاہیں تو کچھ چیز کیا ہو سکتے ہیں تفصیل کی اور مندوہ کیا کرنا چاہیے ادھیات میں کچھ چیز کا چند کرنا چاہیں ہمارے ساتھ مند کو بندہ پڑھانے کے پڑھنے میں بہت کافی کیا ہو سکتے ہیں کافی ہو سکتے ہیں اور اگر ہم پریاس کریں تو ایسی سب ہوں گے بابا جی کہتے تھے تم ایک قدم اٹھاؤ بھگوار کو پرات کرنے کے لئے بھگوار کیا کریں گے؟ دس قدم اٹھائیں گے تو پریاس کرنا ہمارا قدم ہے اور شاستوں میں پورا گیاں ہے کہ آپ کیسے بکتی میں آگے بڑھ سکتے ہیں تو یہاں جو دیوتا ہیں رشی منی ہیں بھکت ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہمیں ہم بھگوان ہمیں کی پرسنس نہ کر رہے ہیں کیوں کیوں کہ بھگوان پرغت ہوئے سنگری بھگوان کی روپ میں اور انہوں نے اپنے ہ پیو بھگ پرداد کی سرکش رکھی پرم بھگوان جو ہیں بھگتوں کے اصلی رکھشک ہیں اور جو بھگت ہیں انہوں نے پورا پیشواث ہے کہ ہم یہ نیموں کا پالن کریں گے اس کے دوارہ اگر نہاں پاک ہو تو تپسیا تپسیا کا پالن سمبھم ہے ہر ستھی میں تو اگر ہم عقیدی کی طریقے کا پالن کریں تو پھر ہم اس کے دوار ستھی میں آئیں گے پڑھ سکتے ہیں تو ایسے ادھرائے میں نیک دیوتا مریشی منی کی اور بھوکانی ملگاں ملگاں اور پاکستان کی روچی رہتی ہے بھوکانی ملگاں ملگاں جیسے یسودہ ماتا یسودہ ماتا تو شکایت آتی تھی کہ تمہارا بیٹا جو ہے کیا کر رہا ہے کیا چُرا رہا ہے تیسرہ ماتا کوئی سے شکیل آتی تھی اور ان کے مند میں یہ بیم بھٹ گیا تھا شہر پروز کے گھروں میں جاڑا اچھا مہربان بھٹ گیا تھا اس لیے جو گھوپیاں نے شکیل کر لی باہر سے نام باتا کہ لی تھی میرا بیٹا آپ کے گھر میں کیوں آئے گا چھوڑی کرنے میرے گھر میں کوئی کسی چیزی کم ہی ہے میرے پتے کے پاس نونہ گائے ہیں کتنہ اور ان میں کوئی سو گائیں تھی جو سو گندے دو دیتی تھی تو اس وقت میں میں سوچ رہی تھی کہ یہ شکار کرتے ہیں شید پروز کے گھروں میں جائزہ تیسٹی مکھر ہے انہوں نے نرنے کر لیا کہ آج میں نے مکھر ملانا ہے انہوں نے وہ سب نوکروں کو سیوہ میں لگا دیا تھا اور انہوں نے وہ کیا کر رہی تھی وہ گیت بنایا انہوں نے گیت بنایا جس میں روحان کی جدیلہ میں بیٹھ گئی تھی انہوں نے اپنا مردہ اور گیت سے گیت بنایا تھا ہمیں گیت بنانے کی احتیاط نہیں ہیں ہمارے لئے کیا ہے پراپ ہاری پریشان ہوگا تو اِس کو بنانا جیب سے پھر مہمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کر رہی تھی وہ گیت جانا رہا تھا ہاتھوں کا فیوک کر رہی تھی مرنے کے لئے اور یہ سوچ رہی تھی کہ یہ جو مکھن ہمیں بناوگی کہ سب سے اچھا ہوگا۔ تو عیسیٰ مہدی کا بھاو گیا تھا کہ بھاوان کے لئے سب سے اچھا مکھن بھاو گیا۔ اور بھاوان عیسیٰ مہدی ہمیشہ اپنے بیٹے کی سپرچو کر دیتے ہیں۔ تو ایک دن پروز کے گھوپیوں کا پروز کے گھوپے جو تھی ان کے بیٹے تھے تو ایک دن بھگواں نے پروز کے گھر میں گئے اور مکر کھنانے کے لئے اور اُس گھر میں جو گوبی تھی روز جاتی تھی انہوں نے پتا تھا کب واپس آئے گا تو ہماراں گئے تھے چوری کرنے اُن گوبی کے بیٹے کے ساتھ پھر اچانک کچھ دن جو کوپیل تھی چلی کے لوٹ آئے گے جب نے جوپیل آیا اور انہوں نے ریڈ ہینڈ پکڑ گیا ہگواں کو اچھا مکس پر آتا ہے اور وہ بھی نہیں آتا اب میں عیسیٰ مہدیؑ کو دکھاؤں گی کیوں کہ بیٹے کو پکڑا ہے چھوڑی کرتے ہیں تو بڑے حُسنہ کے ساتھ بھگوائن کا گیا نا آج اُن کے ہاتھ میں تھا اور بھگوائن کے پھارے ہاتھ پیارے اُنہوں نے اُلگوپی کے بیٹے پہ رکھتا تھا۔ تو اُنہوں نے وہ لے جانی تھی اُس وقت کے گھر میں اور اُنہوں نے کیا کیا بڑی اُشہاری کے ساتھ اپنا ہاتھ نکال لیا اُلگوپی کے ہاتھ سے اور جو اُن کا بیٹا تھا اُس کے ہاتھ پہ آگیا تھے۔ پھر جب یہ پہنچے کوئی نہیں دے گا تم کہتے ہیں روج پرماں لاؤ پرماں لاؤ پرماں لاؤ یہ دیکھو میں پرماں لائے گا میں نے پیٹے کا پکڑا ایٹ ہنڈر چھوڑی سے دیکھا دیکھو تو مجھے مڑ کے دیکھا تو کیا دیکھا یہ تو وہ یہ تو اس کا پیٹا ہے اور بھائی سوزہ مادہ دیکھا میرا بیٹا تھا دیکھو چھپ چھاپ مکھل کھا رہا ہے، آپ کا بیٹا ہے جو بھی چھپ چھاپ کھا رہی ہے، اس وقت دیکھ، اس وقت مگان جو ہے جو گھدگھد پکڑ جاتا ہے، سالانہ جنگت کو آپ بولو شور ہو وہ لڑنے کو تیار ہو جائے بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پوچھا کردے کس کو بھگوان کیا پ پھر یسودہ ماتہ نے کیا سوچا مجھے اسے باندھنے دو اور ایک تھوڑی دیگر باندھنے دی تو پھر یہ کھوئی کرنے سے سامناتھ رہے گی یسودہ ماتہ نے پریاس کیا سب رسیوں کو جڑ دیا پر سب رسیوں کو یہ روح سوڑا سے مجھے چھوڑ کر پی کیا تھا؟ روح مجھے چھوڑ پی دو امنی چھوٹی ہو رہے گا کیا سندش ہے ہمارے اچارےوں نے کہا ہے ایک امنی دوڑا یہ گھیان ملتا ہے کیا پیراس کروگے کوئی بھگوان کو کیا سمجھ پوگیا پریاس کرو گے پھر بھگوان کی دیا سے آپ بھگوان کو سمجھ پڑو گے تو ہمیں بھی اسے یہ سیکھنا چاہئے کہ ہم پریاس کریں گے بھگتی میں آگے پڑھنے کے لئے پھر بھگوان و صلی اللہ علیہ وآلہ کی قفل سے آپ سمجھ پڑا پکت ہوگے لیکن ہم پریاس ہی نہیں کریں گے پھر یہ پراک ہوگا، انگلیش میں کلام ہوتا ہے۔ جب ہماں دیکھتے ہیں کہ بھاگ پریشب کر رہے ہیں، مجھے سمجھے کیوں جائے؟ پھر وہ ہمیں سمجھے دیتے ہیں۔ تو پھر ہم یہ شارع کے مہینے میں جب جاتے ہو چھوٹ سیوہ کا بھی ہزار کڑا نام کرتا ہے وہاں چھوٹ نام دور ڈھاموڑھ سکھا کا اچھال کرتے ہیں ہمیں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں ہماری زیرہ کا ہم نے گیر بنایا تھا ہم کیا کریں گیر بنانے کی آفتاد نہیں ہمارے لئے یہ گیر تک ہے حیرام حیرام حیرام دامانچہ دامنی کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ شیشنہ مطالبہ کریشنہ شیشنہ اور آنچھے ڈھڑھائے بھگوڑوں پہنچ گئے تھے یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ڈھڑھنے کے لئے ڈھڑھ کر سکو، بھگوڑوں پہنچ کر سکو۔ تو پھر بھگوڑوں پرکھٹ ہوئے تھے، بھگوڑوں پہنچ گئے تھے، وہ یہ آج بھوڑوں تھے۔ سدھاروں پہنچ گئے تھے، بھگوڑوں پرکھٹ ہوئے تھے، آدھے پھروش اور آدھے پشو گھر پے وہ کیا کہے گا؟ دیکھو یہ پاگل لوگ ہے ایسی جگہ جس کو ہم نئی سنسات کی ہے میں نے کہا میں کوڑ کیس ہوا تھا یہ اس کے دوارہ تھا کسی کچھ نہیں بتا رہی تھی یہ دھرم جو ہے پھر بڑھاؤں تھی دھرم میں نے کہا my lord دیکھو یہ ان کا بھگواں ہے آپ میں آپ کو آئے تو پھول کنے کا آئے یہ سب ہوگئی ہے۔ تو ہم بھمان کو مولے کے دین سے نہیں سمجھ سکتے۔ سیوہوں کے یونوں سے سمجھ سکتے ہیں، سیوہ کے مانے کے سمجھ سکتے ہیں۔ تو برام بھمان نیک روپ میں اپنے آپ کو پکڑ کرتے ہیں۔ اپنے آنکھوں میں، انہیں گھوٹوں میں پڑھنے دے سکتے ہیں، ہمارے ویڈک شاستوں میں، ایسا بات نہیں ہے۔ تو مولانا صلی اللہ علیہ وآلہ وآلہی وآلہی کے اوپر پڑھنے دیں، ربا جی کے سالے بڑھوں کا فضل کیا، فضلہ، اُن کے بڑھ، بلاد کی سترکشت کیا، تیسے بڑھ بلاد کے بڑھ لے فضلہ، یہ باب سا، اپنا ہاتھ دیں کہ دیویں گیاں پرات گیا تھا کم، کم پرات گیا تھا جب وہ مہتر کی گھر میں تھے۔ اپنا ہاتھ گیا تھے ہاں پر سمجھ نہیں پا دے دیں، کون دے رہا ہے ایسے یہ کیا؟ کیونکہ سکھو جائیں، اللہ سمجھ ہوگا۔ تو لوگ دھیات نہیں رکھ رہے یہ ویسے لوگ پیش بدل کر آ رہے ہیں، انہیں پیٹے کو اب ہمیں دھوش نہ دو ہم برامل ہیں ہمیں خود نہیں سمجھا جنہیں سکھ شیطان سے مل رہی ہے۔ پھر گبرا ہوا میں ہم اپنی جماعت کو ٹھیک کر رہی ہیں۔ تو کچھ دنوں کے بعد امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان میں بے امتحان کیا سنا دیا؟ حضورﷺ پاکﷺ میں بے شنوں کے جنب پھر سنتا ہوں، شنوں کے جنب پھر سنتا ہاں جنب پھر سنتے ہیں، ہاں جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر جنب پھر سنتے ہیں، پھر تو راج مراج کا صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہے؟ جب میں دیکھتا ہوں کہ کل بغیر پیجیب تو کی ہیں تو میں کہتا ہوں کہ کیا اچھا ہوتی نہ، مجھے بھی بھی گناہ دی رہا ہے۔ تو ہر سال ہمارے پاس پریاس کردے ہیں۔ کیا کرنے کے لئے؟ کیا کرنے کے لئے؟ گھنٹوں کا بیطل کرنے کے لئے، گھن گے؟ آپ سب کرتے ہوں؟ تو ہی اس وقت اس کولیج ہندوستان میں بھگزوں نے شیمن بھگوز کا محرکت سے بات کیا یہ سال بھگزوں کے پریاد سے پورے بھارت میں پچیس ہزار سینٹ سے زیادہ ہو گئے ہیں یہ اچھی بات ہے کہ اتنے پچیس ہزار سے زیادہ اپنے ایک پتہ میں کھاتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ شیوان بھاگزم چیتن جذبتہ ہر گھر میں ہو۔ تو یہ ایک مدیش ہے کام کرنے کا۔ بھاگزم کا میرانتھون ابھی ختم ہو پہلے ہوتا ہے۔ اور کونسا میرانتھون ابھی شروع ہو گیا ہے؟ کس کا؟ تو بھگڑی میٹا کا میراتان شروع ہو گیا ہے کئی مدنوں میں اور ہر مدن میں موسری میں جائے گا، اگر ہوتا تو جائے گا۔ تو ہم سب کو اس میں چلنا چاہئے۔ آپ ایجر کتنے وقت ہو جو پچھلے سال میراتان میں چھوڑے تھے؟ یہ سال کیا ہے آپ کی یہی وجہ؟ سب جڑو گئے ہیں؟ ہمیں پرداد منا چکے دیش کا سبارہ کرنا چاہے گا، رہنا چاہے گا۔ سوچے تھے تو ہمیں موقع سے چھے سال۔ مجھے اتنی دکھ ہوتا ہے۔ تو ہمارے اچھائیل بھراپا جی نے پجار کے کاریف کو سفر جانا کیا دیا ہے۔ ہم باب یہ نہیں ہیں کہ ہم مزار میں آئے کر مزار کریں۔ ہم باب ہونے چاہے ہیں۔ ہم دکھی بھگڑیوں کو کیا کریں؟ دکھی بنانا ہے۔ اور دکھی بنانا ہے تو کیا ہے سالن؟ کیا ہے شاید؟ کیا ہے؟ پرچان کرو تو پرچان کرنے جاؤ گے آپ دیکھو گے یہ بہت مہاری تفصیل ہے آپ جاتے ہو باہر چھے آٹھ گھنٹے کیلئے وہاں آپ دیکھتے ہو شاید وہ مجھے اونچی پکڑنے کی ہمیں اچھا تو یہ رہتی ہے کہ جیسے ہم بہار جائیں یوں امید کریں تو ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں کتاب لے ہمیں اتنی ک لمبی زائن لوگ رہے کی کس لیے اتنا کئی بار آپ کو فروشتے ہو گئے ہیں ہمیں جب پریشان کے لیے جائے تو لوگوں کو لڑنا چاہئے ہمیں کتابوں کو لے دیں پھر حاصل میں کیا ہوتا ہے ہم دیکھتے ہو کہ آپ دس پیس آنے سے بات کرو پھر ایک وقتی تھوڑی بیوٹی پھر ہم کے بغیر سے ڈسکرنڈ ہوں گے ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ نہیں ہوں گے ہمیں ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ نہیں ہوں گے وہاں پڑھ جائیں پریاج کریں ہم پریاج کروگے تو ہمیں بھاگی ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ہوں گے ہم سب کو اسے ہمیں ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکرنڈ ڈسکر تمہارے اسکار میں کوئی شوٹ کٹ نہیں ہے؟ مقیم نہیں ہے۔ ہے کوئی شوٹ کٹ؟ نہیں ہے۔ شوٹ کٹ کیا ہے؟ پرچار کرو۔ ہمارا گیتہ میں کیا کہتے ہیں کہ ہائے دام پاک سب بھکتوں میں سب سے پریہر کون ہے؟ کون ہے؟ آپ سب اس وقت الگ الگ سانوں سے آئے ہیں آپ سب کو جہاں میں جہاں پاکستانی نہیں ہے جہاں پہ یہ اُسہ ہوں جس کے لئے ہماری پچارتیں آئیں گے پڑھانے کے لئے آپ سب جڑو گئے پیرسن میں؟ جہاں پر کون ہی نہیں شروع ہو گیا اور پورا ہائی منظر نے پیرسن شروع کر دیا اور آپ سب جڑیئے اس ایمان میں اور اگر آپ کو پورا نتیجہ نہیں بھی ملے محلو آپ کی جاتے باہر چھے گھنٹی کے لیے یہ نکلا ملے گی آپ کو کوئی دوکی آمد نہیں ملے گی بھگوان پسند ہوتے ہیں بھگوان کی نشوں میں آلکھا جاتا ہے آلکھے چھے گھنٹی کے لیے ایک کتابیں ملے گی چاہے آپ ایک کتاب آتے ہو تو آپ سب سے نبیدن ہیں جس میں ہمیں جھڑ لیں اور جھڑو گے تو ہماری پیغمبر پاپا رہو گے۔ اگر آپ ہماری کو پسند کرنا چاہتے ہیں، پاپا جی کیا کہہ رہے تھے؟ اگر آپ میری پیغمبر کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں؟ دیشبیل کرنا چاہو گے آپ پاپا جی دیشبیل کرنا چاہیے ہم ستانتہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت مشکل ہے ہمیں تو ایسی سیوہ چاہیے جو ہمارے لئے ایسی حال ہو۔ comfort zone یہ جو مند میں آتا ہے تو بھگوان کیا کہتے ہیں۔ پیار کرو، پیار کرو گے اس کو بتا تھا آپ کو۔ تو آج کے سلوک میں آپ پڑھ رہے ہو اس پر گھڑ رشی بولی، سبحان اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھڑا رہے ہیں۔ آج گیتا پہیڑ رہا جماعت میں بلدیا گیا ہے اِس کی اوپر طفل صاحب کا اور بہمان گیتا پہ کیا کہتے ہیں اسی حالت میں کوئی طفل سے ہے ہماری طفل سے کیا ہے جیوں کے دوارہ بہمان گاہر شاہد کرنا اور پھر جلبہ سے پہلوں دوارہ بہمان کے منزل جلبہ جاؤں امنیت مہراز کا پرامپرسید ادھارت نے اس پرکاروں سے نے تنہیں کلی اردوک پیوٹ کیا آپ سب دھاوڑ دھاوڑ میں آئے ہو آج تک کہ مہینے میں ہیں تو آپ بھائی یہ جنہیں بنا چکے ہیں سمجھے پریاس کرنا اللہ کی منہ آگے پڑھے گا پریاس کروگے تو صحابہ دربارت ہوگی پریاس کروگے ہمیں لیکن ایک مقصود ایسا ہمیں تو بردہون میں نہیں رہتے ہیں۔ جو بردہون میں رہتے ہیں وہ تو سو سے ہم تو دھام میں ہیں۔ ہمیں کچھ اپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں بھی بھی پرابا جی بڑھال دامدہ پہ جواز پڑھتے تھے اور مکہدہ جنہیں جاتے تھے اس لئے جاموش پاک نہیں لئے گئے پھر پرابا جی کا جیون پڑھو تو دیکھوں گے کتنا پریاست میں کرنا پڑھا سکتا ہاں پرابا کی دعا سے اس کا میرا سب سمجھ دار ہے وہ کتابیں بھی ایلی میں آتی ہے اچھی قوالیٹی ہے پاپا کے سبے پراپالی ازمار کرتے تھے پھر جلی جاتے تھے سیکرٹ ڈرڈ کلاس میں پھر دھوپ میں جا جا گیا کاموں کو چھاپتے تھے آج آپ کو یہ سننا پڑتا ہے کہ کوئی آپ کو مولے گا کہ تم کتابوں کو لکھو ازمار کرو پکاشت کرو آج آپ کو لینی میڈ ساڈا گھڑ پولڈیکی کتابیں کیا گیا پھر جھڑی ہے اور جھڑو گئے تو وہ آدھ سے جھڑے گئے ہیں۔ پھر پھر جھڑو گئے پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر پھر آپ سب مہاراج سری آز کینیڈیٹس کو پوچھ کرو گے؟ پوچھ کرو گے جو کوئی ساہ پڑھاتا ہے آمدہ، بہت زیادہ احسان ہے، احسان ہے۔ بہت بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت بہت ہی بہت ہی بہت ہی بہت بہت ہی بہت ہی ب
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

