भगवान श्री कृष्ण और राधा रानी की दिव्य लीलाएं | Shri Krishna & Radha Rani | Gopal Krishna Goswami

The video presents a devotional narration of several pastimes (लीलाएँ) of Lord Krishna and Radha Rani, interwoven with the activities of the gopis on the banks of the Ganga. It begins with a scene where the gopis and Radha board a boat to sell butter and ghee, but the boat becomes overloaded; in their effort to lighten it they throw butter, ornaments, and even themselves into the river, symbolising self‑sacrifice. The story then shifts to Krishna suffering a headache; Narada (referred to as Narda Muni) seeks the dust of the devotees’ feet, believing it will cure Krishna. After many devotees initially refuse, the gopis and Radha finally offer the dust, relieving Krishna’s pain. The narration continues with vivid descriptions of Radha’s golden aura that transforms everything she touches, the creation of sacred ponds such as Radha Kund and Shyam Kund, and the spiritual significance of these sites. Further episodes describe divine battles against demons, the role of pilgrimage and atonement, and the ultimate invitation to chant the holy names “Hare Krishna” as a means of attaining divine grace. Throughout, the speaker emphasizes devotion, self‑surrender, and the transformative power of divine love.
Chapters
مہنشی گنگا جو ہے آچین سمیں میں ہوت بڑی ہوتی تھی پھر ایک سمیں رادرانی اور گوپیوں نے ایک ناو میں بیٹھیں اور ناو میں بیٹھیں اور ناو الے گواہ ہمیں گنگا کے کپار لے جاؤ مثلہ میں جا کر ہمیں دودھ بیچنا ہے مکھن بیچنا ہے ناو میں بیٹھ گئے سوڈا کر دیا کتنا پیسہ دے دیا جائے گا ناں والے نے ناں چھلائی اور تھوڑے آگے جانے پر کہاں؟ ابھی ناں یہ پرانی ناں ہے آگے نہیں چھلے گی مجھے کہا بھوک لگ رہی ہے کچھ کھانے کو دو تو بھوکنے کے باس کوئی اپاہی نہیں تھا گنگا کے بیچ میں ناں والے نے روک لیا ناں کو انہوں نے اپنا مکھن لیا گھی لیا پھر تھوڑی دیر آگے وہ چھلے پھر ناں والے نے روک لیا یہ پرانی ناں ہے پانی اندر آ رہا ہے بہت زیادہ بوجہ ہے ناو میں۔ تو جو مکھن، دولے جا رہے تھے بیچنے کے لئے، سب انہوں نے گنگا میں پھینک دیا۔ ناو کو ہلکا کرنے کے لئے۔ تو ناو پھینک آ کے پھر وہ چلے۔ پھر ناو والی نے پھر ناو روک دی۔ کہنے لگا ابھی بھی بہت زیادہ بوجہ ہے وہ۔ بوجہ ہلکا کرو۔ تو جو گھینیں گوپیوں نے پہنی ہوئی تھی، انہوں نے گنگا میں پھینک دیا۔ ناو کو ہلکا کرنے کے لئے۔ پھر ناو والا کہتا ہے میں آگے نہیں جا سکتا میں تھک گیا ہوں گوپیو نے کہا تم نہیں جاؤگے ہم تمہیں اٹھا کر دریان میں پھیک جیں گے چلو پھر گوپیو کے کہنے پر ناؤالا آگے بڑھا جیسے وہ آگے بڑھے تو ایک تفاہن آنے لگا بڑا بھاری تفاہن تفاہن آ رہا تھا تو رادہ آنے کا بھا گئی اور بچنے کے لئے ناؤ چلانے والا تھا کیا کہتے ہیں ناؤ چلانے والا اس کو انہوں نے پیچھے سے پکڑ لیا۔ جب پکڑا تو انہوں نے کیا پتہ لگا؟ یہ پریشان بھگوان تھے۔ ناری کون تھے؟ پریشان تھے۔ پھر نام دھاری نے ان کی پنسویں دے لی۔ ایک بار راجہ رانی بھگوان گوپیوں کے ساتھ تھے۔ وہ ایک دمونوں پر پرکت ہو گئے۔ گوپیاں بھگوان کو کھول گئی تھی الگ الگ ستھانوں میں۔ پھر انہوں نے پتہ لگا کہ بہمان نے اس کنچ میں چھپی ہوئے ہیں۔ پھر جب گوپیوں پر پہنچیں تو بہمان نے ترنتی اپنا نرین کا روپ پرکت کر دیا چار ہاتھوں کا۔ پھر جب گوپیوں پر آئیں انہوں نے دیکھا یہ تو نرین ہے کرشنا نہیں ہے تو ان کو پرنام کیا ہو گیا تھا۔ پھر وہاں آگئی بعد میں رادہ رانی جی اور جب رادہ رانی جی آئی پڑھانے رالران کے شریع سے اتنی گہری خشبون نکلتی ہے کہ جب بھگوان نے خشبون سنی تو تھُڑاں تھی اپنا چاہاں ہاتھوں کا روپ پرپکر کیا اور شامسندہ کا روپ دھاران کرتی ہے کہ دوسرے چمڑا میں رالران کی خیبصورتی میں اتنا آکرشن ہے اور ان کے شریع سے اتنی خشبون نکلتی ہے کہ بھگوان بھی اپنے آپ کو ان سے دور نہیں رکھ سکتے رادہ رانی جی کا جو رنگ ہے جیسے آپ جانتے ہو سونے کے سمان ہے سونے کے بھاگی اور رادہ رانی جی جب بھگوان کے ساتھ بھی کھڑی ہوتی ہے تو بھگوان کے شرین میں بھی سونے کا رنگ آجاتا ہے رادہ رانی کسی ستھاں میں جب کھڑی ہوتی ہے وہ ستھاں میں جو پیڑ ہیں پتھر ہیں پھول ہیں سب کا رنگ بدل جاتا ہے سب کا رنگ کیا ہو جاتا ہے سب کا رنگ سونے کا ہو جاتا ہے اور شام سے میرے رنگ دھاران کر دیا تو ایک سمیں بھگوان کو سردرد ہو رہا تھا اور بھگوان اس سمیں دواکہ میں تھے اور ناردہ مونی بھگوان کو ملنے آئے دواکہ میں ناردہ مونی بھگوان کو ملنے آئے دواکہ میں اور ناردہ مونی کو بھگوان نے کہا بھول پھانی سردرد ہے یہ سردرد دور ہوئی ہوگی اگر مجھے میرے بھک کے چڑھنوں کی دھول ملے اور بھک کے چڑھنوں کی دھول ملے گی تو میں یہ سردرد دور ہوگی یہ بھگوان تھے اس وقت دوارکا میں تو نہوندہ منی پہلے تو گئے بھگوان کی پتیوں کے پاس شدی و بہاماں رکھ ملی ان سب کے بعد تاکہ بھگوان تو سردرد ہو رہی ہے ان کی جان خطرے میں ہے اگر اُن کو چاہیے دھول اُن کے بھکتوں کے چڑڑوں کی تو سب نے انکار کر لیا ستھی بابا، رکوینی، سب نے انکار کر لیا ہماری چڑڑوں کے دھول بھگوان کے ماتے پر ہمیں نرک میں جانا پڑے گا وہ یوگیوں کے پاس گئے، گیانیوں کے پاس گئے، سب نے انکار کر لیا پھر ناکر مونی، نوٹے دوار کا اور جب وہ دوار کاں لوٹے تو بھگوان کو انہوں نے ریپورٹ دی تو میں سب جگہ ہو آیا تو کہاں بھی مجھے کوئی نہیں ملا جو آپ کے چڑھنوں کے دھون دینے کو اپنے چڑھنوں کے دھون آپ کو دینے کا کیا رہا تھا؟ پھر بھگوان نے ناردہ مولی سے پوچھا تم سب جگہ ہو آئیں؟ سچ موچ سب نے انکار کر دیا دھون دینے سے؟ کیا تم گوپیوں کے پاس بھی گئے تھے؟ میں سب کے پاس گیا اور گوپیوں کے پاس نہیں گیا تو بھاگوان نے کہا جاؤ تم گوپیوں کے پاس اور رادہ رانی کے پاس رادہ رانی اور گوپیاں برج میں تھی اُن کے نیتر کہاں تھے دوارکا کے طرف بھاگوان دوارکا میں ہے وہ رادہ رانی اور گوپیاں کہاں ہیں برج میں وہ بھاگوان کی لیلوں کا سمجھن کر رہی ہے رادہ رانی کے مند میں اور گوپیوں کے مند میں چھوٹیس گھنٹے کیونکہ ایک ہی بہاو ہے وہ کیا ہے؟ بھگوان کی لیلہ ہے۔ کشن لیلہ کے علاوہ اور کوئی بھاو نہیں ہے رادہ رانی اور گھوپیوں کے علاوہ۔ تو رادہ رانی اور گھوپیوں جب ناردہ مونی پہنچے دعا کا کے اور بیٹھے تھے تو بھگوان کی لیلہوں کی چلچا کر رہے تھے۔ تو ناردہ مونی پہنچے رادہ رانی اور گھوپیوں کے پاس۔ رادہ رانی اور گھوپیوں نے کہا ناردہ مونی آپ دعا کیسے آ رہے ہو؟ کوئی خوش خبری لے کر آ رہے ہو؟ یا یہاں سے کچھ لینے آئے ہو اپنے بھرمان کے لئے نہاں تک انہوں نے کہا بھرمان کو بڑی گہری سردرد ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سردرد دور ہوگی اگر میرے بھکتوں کے چرنوں کے دھول ملے گی تو میں آپ کے چرنوں کے دھول لینے آیا ہوں میں سب جگہ گھوم آیا سارے بڑھمنڈوں میں سب جگہ سب جگہ لوگوں نے انکار کر دیا دھول دے رہے سے سب نے کہا نہیں نہیں ہم ہمارے چرنوں کے دھول نہیں رہیں گے ہم کیا نرک میں جانا چاہتے ہیں ہم نرک میں جانے کو تیار نہیں ہیں سب نے انکار کر دیا رکھ ملیں سدھے وامر سب نے تو آپ اپنے چڑھنوں کے دھول دوگے؟ رادہ رانی اور گوپی نے کہا کیوں نہیں؟ لوگوں ہمارے چڑھنوں کے دھول لے جاؤں؟ اگر چڑھنوں کے دھول سے بھگوان کی سردت دور ہو جائے گی تو ہم خوش ہیں ہماری خوشی بھگوان کی خوشی میں ہے یہ ہے بھگ کا بھاو رادہ رانی اور گوپی نے اپنے چڑھنوں کی ساری دھول دے دی کس کو؟ ناز مونی کو ناز مونی سوچ رہے تھے دیکھو یہ گوپیوں کو اور ران رانی، ملکو سدھاراں گلام کی عورتیں ہیں کوئی بڑے گیانی نہیں ہیں کچھ نہیں ہیں انہوں نے کہ بکتی بھاو کتنا گہرا ہے جیسے ہی انہیں پتہ لگا بھگوان کی سرزد ہوئی ہے سننٹی وہ تیار ہو گئے اپنے چڑھنوں کے دھون دینے کے لئے سناندہ منی دھون اٹھا کر دوارکاہ پہنچے اور بھگوان کو انہوں نے کہا آپ نے ٹھیک کہا تھا، سب بھگڑ نے انکار کر دی گھونڈ دینے کے لئے پر آپ کے جب میں بھراج میں پہنچا یہ گوپیاں آپ کا گنگان کر رہی تھی، بیٹھے تھے گواہاکا کی اور نترہ رکھ کر اور آپ کی نیناوں کا ورنن کر رہے تھے۔ جیسے ہی میں نے اُنہیں کہا کہ آپ کی سردر دھول ہو جائے گی، اُن کی چڑھنوں کی دھول اوپر چھوڑا۔ خوشی سے اُنہوں نے دھول دی دی، بلکل نہیں ہچکے، باقی دو ساتھ ہچک رہے تھے۔ تو بھاغمان نے نواز امونی کو کہا، دیکھا تم نے کیا سیوہ بھاو ہے اُن میں؟ تم نے بھی اپنے چڑھنوں کی دھول مجھے نہیں دی۔ جب میں نے اپنے بھکبت کے چرنوں کے دھول مانگی، تم نے بھی نہیں دیا۔ اور گھوپیوں نے اور رادہ رانی نے ایک دم دھول دے دی۔ تو اسے آپ دیکھ سکتے ہو کہ رادہ رانی جو گھوپیاں ہیں، کیوں کہ بڑا بھاری پہاڑ ہے۔ ایک شہر میں بھگوان بڑج میں تھے اور بڑا روحان ابھی راشت لیلہ کرتے تھے ان گوپیوں کے ساتھ اور رادرانی کے ساتھ۔ کمس نے کئی عصوروں کو بھیجا تھا بھگوان کا وعد کرنے کے لئے۔ پر وہ اسفل رہے ہر کاریاں میں۔ تو ایک کمس نے بھیجا تھا ایک راکشز عصور، عریست عصورہ کو۔ وہ یہ آیا تھا، بیار کے روپ میں آیا تھا وہ۔ وہ سب بریج پاسیوں میں مار رہا تھا، سب بچوں کے اوپر چل کے جا رہا تھا، سارے بریج پاسی آتے ہیں، دکھی تھے، سب کہہ رہے تھے بچاؤ بچاؤ بچاؤ، یہ ریجستہ سورا تھا ہمارا دینہ ہے، انھیں اسمبول کر لیا ہے۔ تو بھگوان نے بڑی صدرتہ کے ساتھ ریجستہ سورا کہا سو جہاں موت کیا رانہ رانی اور گوپری نے کہا ارے کھشنا نے بیہل کا موت کر دیا اب اسے بڑا پاپی بن گیا گاہ اور بیہل کا موت کرنا تو بہت بڑا ہاتھی اچار ہے اور اگر راجہ پاپ کرے تو پرجا کو بھی اس کا اثر پہنستا ہے اب تو ہم کھشنا کے ساتھ بالکل لیبرے بیٹھیں گے سو رانہ رانی اور گوپری نے کہا آج ہم راستی نہ کرنے نہیں آئیں گے۔ تو ہم نے بیل کو مارا ہے، تمہارا شریر پاپوں سے بھر گیا ہے۔ تمہارے والد نے کہا، ارے بھائی وہ بیل تھوڑی تھا۔ وہ تھا عصور تھا۔ بیل کے روح میں رہا تھا۔ اور اس بیل نے سب بچوں کو مارا، سب کا جیون دکھی کر لیا تھا۔ میں نے تو برج بانچنگیری سے رکھشا کی، اس کا ہوتا گیا۔ تو انہوں نے کہا، نہیں نہیں آخر وہ بیل تھا، پاپ تو ہو گا آپ کو۔ تو بھگوان نے کہا، اچھا مجھے اس کے لئے کیا پشتاوا کرنا جائے؟ ہاں، کیا اٹونمنٹ ہے؟ تو انہوں نے کہا، ہاں، آپ جاؤ یاترہ کرنے سارے تیرت کے سانوں پر، بھارت میں جتنے تیرت کے سان ہیں، سب جگہ جاؤ، اس سب جگہ یاترہ کرکے، ہاں، بھو، ایسا ہے؟ سب جگہ یاترہ کرکے آؤں، پھر ہم تمہارے ساتھ بیٹھ رہے راسلیلہ کریں گے۔ پھر بھگوان نے اپنی نمرتہ کو چھوڑ دیا۔ بھائینوان نے کہا، میں کی میں سارے تیرتوں کو یہاں بلالوں گا۔ میں کہوں کہ جہاں پورے بھارت کے تیرتوں یہاں آتے ہیں، دیکھ لیں۔ تو غالرہ رانیہ کو پھر کیسے بلاؤ گے؟ سارے تیرت ہی آئیں گے؟ کیسے سمبب ہے؟ تو حرمان نے اپنے لیفٹ ہیل کے ساتھ ایک بڑا چھیک پیدا کر دیا تیرتوں پر۔ اور وہ چھیک سے الگ الگ تیرت کے سانوں کی ندیوں کا جل آنے لگا۔ تو رادارنگ نے کہا ہم کیسے بیشواث کریں جل جو ہے سادہ جل نہیں ہے اللہ نے کہا نو پرابلم میں سارے تیت کے سانوں کو یہاں بنا دوں گا تمہارے سامنے سارے تیت کے سانوں کی جو دیوتا تھے اللہ نے کہا ہم خوشی کے لیے ہماری ندی کا جل دیں گے بھگوان کی خوشی کے لیے تو رادہ آنی نے دیکھا یہ تو بھگوان نے سچ مچ شامکن بنا دیا ہے بڑا کن بنا دیا جس کا نام تھا شامکن بھگوان نے کہا ہم اس ان سب تیلتوں کے جل سے میں سنان کروں گا اور جو پاپ کا فہی نام ہے وہ اسے مک پر جاؤں گا تو اس وقت ہم نے سنان کر لیا اور پھر پھر رادہ آنی بھگوان نے کہا تم بھی سنان کرو تم نے کیا کیا آخر میں نے اگر پاپ کیا ہے تو تم گوپیوں ران رانی کو بھی پاپ کا اثر آئے گا لیکن راجہ کرے گا غلط کام تو پرجا پا بھی اثر آتی ہے پرجا رانی اور گوپیوں نے کہا نہیں نہیں ہم شانت میں اسنان نہیں کریں گے وہ اس میں آپ نے اسنان کیا ہے آپ کا شریعت پاپ سے بھراوا تھا تو ہم اپنا کن بنائیں گے۔ تو ایک خفت پرند تھا اپنے ساسورہ کا جہاں پانی تھا تھوڑا تو رضی اللہ عنہ نے کہا ہم اپنی چھوڑیاں سب توڑ کر کھولیں گے ہم سب لاکھوں کوپیاں ہیں سب ملک کا جل لائیں گی اور یہ ندی کن بنائیں گے۔ بھنگوانہ نے کہا کہ آپ اپنی چھوڑیوں کو توڑ کر چھیک بناوگے، اس میں پانی آئے گا، اس طرح بہت سب میں لگ جائے گا۔ میں ہی ان تیرت کے سانوں کو آدیش لیتا ہوں کہ وہ اپنا جل دیں تمہارا کن بنانے کے لئے۔ اور پھر یہ کن بنا جس کے نام ہے ڈالا کن۔ اور بھنگوانہ نے کہا یہ کن جو ہے میرے لئے سب سے پریئر ہے۔ تو اس وقت یہ ہے سنگشے میں رادہ کن کا اتحاد اور ہمارے کئی کو سوامی رادہ کن میں بیٹھ کر بھجن کر دیتے ہیں ہمارے مند میں یہ بھاہ ہونا چاہے کہ چوبیت گھنٹے ہم کیا کریں رادہ رانی جی کا سمنن کریں تو یہی آپ سب سے بینٹی ایسے شب دن پر ہمیں یہی پراتنہ کرنی چاہیں کہ ہم رادہ رانی جی کے اوچھے کھڑی کے بھند بنیں یہ سمبھب ہے ہر کچھ مہامانتھا کے اوچھے آنکھ کے دوران جائے رادہ کے بجائے یہ ہرے کرشنا محمد اگر جات کی جائے اس کے دوارہ رادہ رانی جب وہ ہرے ہی شد بولتے ہو تو رادہ رانی جی کے کرپا کے لئے وہ پکار لے ہو ہرے کرشنا بولنے سے رادہ رانی کی کرپا پراپ ہوگی اور بھٹی میں آگے بڑھ سکتے ہو ہرے کرشنا ہرے کرشنا ہرے کرشنا پریشان پریشان ہارے ہارے
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

