श्री रामानुजाचार्य का तिरोभाव दिवस | Srila Gopal Krishna Goswami

Srila Gopal Krishna Goswami speaks on the Tiruvahav day of Śrī Rāmānuja cārya, the great Vaishnavite acharya. He traces Rāmānuja's life through his teachers and disciples, conflicts with orthodox Brahmins, and the founding of the Sri Vaishnava sampradāya, emphasizing bhakti, dharma, and Rāmānuja's humility and scholarship.
Chapters
اور اچھائی نے شریف صفلہ شریف صفلہ شریف صفلہ کے سامنے گئے وہاں رہنمائی اچھائی سے پہلے تین سال پہلے شاکر چاہیے پکٹ ہوئے تھے شاکر چاہیے سے پہلے بودھا جی پکٹ ہوئے تھے جب بودھا جی پکٹ ہوئے تھے پہلی بار تو انہوں نے دیکھا یہ دو اس پوشیوں پر آتی چیار کی آج آیا ہے دھرم کے نام پر انہوں نے لکھا ان سماجوں پر دھرم چکھتا ہے تو انہوں نے پتیزوں کی اسطاعت کی اس کا سمجھا ہے اہم سوائے کھیلی کا بھی درست نہیں لینا یہاں راج کے جو پتیز ہیں کوئی ایسا باقی پوشی یہاں جو ہندوستان میں بھی ریوارڈ ہو گیا ہے یعنی ہندوستان ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان میں ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہندوستان میں بودھس پڑھنے کا اور میں نے کہا کہ ہند اُن کے ماتر کو پڑھائے۔ پھر اُن کے جو پرچار تھا کیا تھا؟ مہہوڑی پرچار۔ بہمان یعنی کار ہیں، بہمان کے روح نہیں ہے۔ تو ماتر چائے جب پہچھ ہوئے، پہچھ ہوئے، پہنچار نہیں رہی۔ جیسے ماتر چائے کے تین سو سال پہچھتا۔ تو اُنہوں نے یہ شکار اسٹاپ کیا کہ بہمان ہے۔ ہمارے مدد پر وہ نے بڑی جوڑ سے روز کیا۔ اُن کی ماتا کا نام تھا کنٹی ماتی اور اُن کی ماتا کے بہن کا نام تھا جیسی ماتی۔ کنٹی ماتی اور اُن کی جیسی ماتی کے بھائی تھے گوڑ شادی ہو گئی اور شادی کے کچھ مہینے بعد اُن کے پتا تھا جس کے کار لامن رجعہ کہا جاتا ہے کیسے کہا جاتا ہے کہ لامن رجعہ چاہے گا؟ لکشمن جی کے آوتار ہیں لامن رجعہ چاہے گا مطلب ہے کہ بھائی اللہ کی شد تو کہا گے چھوڑا سنا میں وہ نقشن کیا تھا تو مہتبہ چویہ رہے تھے مہتبہ چویہ رہے تھے راملہ چویہ رہے تھے اُنہوں نے دیکھا کہ چاروں پڑھوں گے مایموڑی سندھاں پہلا ہوا ہے شاکر چویہ کا پھرواں دیلہ کھا رہے ہیں پھرواں دیلہ کھا رہے ہیں تو اس وقت میں ایک بڑے پرسید سنسکریو کی بیدوان تھے और यादर परकाश कोई समय के मुझे एक सिर्फ सनसुर्फ करता है। तो हमारे रामदिया चाहिए यादर परकाश के उठाव समय में जाकते हैं। विध्यारती तो कहें सर्फ करते हैं। वो ही सिर्फ है विध्यारती। उत्धाव भावत से मैय جو یاد و پکاش کا بہت سارا تھا سنسکریت کا اور سارے مدیہاتیوں میں سب سے تیز کامل جچھائے تھے اُن کی مدی اتنی تیز تھی کہ ایک بات سننے سے ہی ہری ویشہ کو کھڑت کرنے دیتے تھے یوں کہتے ہیں کہ ایک بات سننے سے کھڑت کرنے دیتے ہیں کہ کیا کہتے ہیں؟ کھڑت کرنے دیتے ہیں یہ چیزیں ہمارے پاس بولتے ہیں تو یاد و پکاش نے دیکھا یہ دھیانیں بہت بڑی ہیں۔ ایک دن گروہ نے کہا، مجھے مساج دو۔ تو وہ رب نے جا گروہ کو مساج دے کر دے۔ تو اتنے میں گروہ کا ایک اور سوشل آیا ہے۔ اتنے میں کہا، آپ سے ایک پرشن پوچھو گروہ جی۔ تو اتنے پرشن پوچھو۔ تو انہوں نے پرشن پوچھا، اور یہ عدد رکھا ہے انہوں نے اُٹھا دیا بھیل ہمارا حدیث نال ہے جو ہمارے کو کوئی عزت نہیں ہے تاکہ باباں کی جو علاقے ہیں بندہ پہ جو لال ہوتا ہے پیچھے اس کے اوپر اس کے عرصی جو یہ عدد رکھا ہے گروہ کی آنسوں گیرے ہوئے بہت آنسوں گیرے ہوئے پھول بھی ہوئے پانی کیسے جیسے گیرے ہوئے جب رہا ہوں مجھے چاہیہ نے سنا کہ بھگوانوں کی ایسے شرچہ ہوتی ہے تو مجھ نے کہا تم روڑے کی ہوں تو تمہارے آنسوں پھول پہتر ہیں پھر رہا ہوں مجھے چاہیہ نے کہا آپ نے جب بھگوان کے آنسوں کا وڑنس کیا تو مینتی کی بھگوان کی پندر سے ڈھونگ آگئی یہ جو شاکروں میں دیکھا ہیں مہمان کے ادوار انہیں تو لال ہیں وہ شریع ہو جسے اور لال سے نہیں ہیں تو گروہ نے دیکھا یہ تو بہت محسوس ہے ہر قدم میں میرا ملوث ہوتا ہے گروہ پایا وہ نے سنادھی رضا رامل جلال پورتہ سنہ تو نے ایک قیادہ بنایا پھر گروہ نے سیشو اندر سوچا کیا کر دینا ہماری جھڑڑ کریں یہ تو ہر بیش میں ہماری اپنی روز کر دینا ہے یہ کوئی نکال دیا تھا ہمارے پارشالہ سے تو کسی نے کہا کہ آپ یہ سے نکالو گے جو جا کر اپنا پارشالہ کھول دے گا یہ ہمارے سارے وزیارتیوں کو کھیچ دے گا یہ ہماری جھڑڑ چاہیے اور بہت ہی تین مجھتی مار گیا ہے سب سے پہلے نے اپکو مار دیا تھا بس کمپیٹیشن ختم ہو جائے گا میں تو اُن کو ڈرس تھا کہ وہ جا کے سامنے پانچوں تک پہلے گا تھا اُن کی ویڈیاردی تھا وہاں لیکن کیوں کہ وہ گروہ مایوالی سیدھاں سے سمجھا گیا تھا وہ نام دی جاتا تھا آسکتے تھے اور وہ پلٹا ہوتا تھا ویڈیاردی، مایوالی جو تھے وہ convinced ہو رہے تھے وہ نام دی جاتا تھا تو گروں نے ایک ایسی یوجنہ والا ہے کہ ہم سب پکٹنگ میں جاتے ہیں تو گروں نے ایسا بنایا کہ ہم گھنگا اٹھر پہاڑ کی ہو جائیں گے دو مہینے کی یاد رہتے گئے رامنی جہاں تم چلوں گے ساتھ؟ گروں نے کہا میں چلوں گا میں رامنی جہاں کے بھائی تھے گروں نے کہا میں ساتھ کرتے ہیں مہاں کے پہنچے پہلے گروں نے کہا میں ساتھ کریں گے تو گروں کی उन गुर्ण का प्लैन है था योज़ना कि जब जंगल में जाएंगे गंगा के बाहर जंगल में लोहे छोड़ लेंगे जानवर चालेंगे तो जब वो जंगल में थे रामनु जाएंगे रुलो भी यादर पकाश के विध्याती ने गोविद को गुलाया गोविद उनका भाई اگر ہم نیام جیو کو مارنا چاہتے ہیں تو بولنا نہیں کسی کو، لیکن جو جائے تو ان کو مار دیا جائے گا جنہوں نے۔ تو رومن نے جا کے چھوچا، نیام جیو کو بولیا، بھاگو یہاں سے، وہیں جہاں تو فتر ہے، ان کی جو جائے تو انہیں مارنے کے لیے۔ گلو نے رکھا نہیں نامل ہو گیا گلو نے اپنی اپنی آدمیوں سے گلو کھایا نہیں گلو کھایا کوئی گلو نہیں کھایا تو گلو نے سوچا کہ کسی جانوں نے کھاڑی ہوئے گلو جب گوھنٹ واپس آیا گوھنٹ جو نہیں موجہ کا فائد تھا تو اسے تو گھڑا شو کر کے دکھایا گلو نے لگتا کہ ہم نے جب گلو کھاڑی ہوئے اور گلو گلو کو پچھار کرنے اپنا عمر کمیشری نہیں ہوا تھا سلام علیکم حاج رہتے ہیں اپنے جھنگوں میں ملنے رادنہ کی ہیں اے بھائی مہدرین میری سرکشہ کرو میں ادھر پہنچ گیا ہوں مجھے پتہ نہیں کہ میں کانچی پڑھوں کیسے پہنچوں گا کانچی پڑھوں میں ادھر رہتا ہوں تو بڑی چندہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے پہنچوں گا وہ راستہ ہو ایک پتی پتی وہاں پہنچ گئے وہ ستی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی پتی ہم نے یعنی پرشیوں کو مانگا ہے تو یہ پاپوں کا پرینا آپ کو کہنا پڑے گا ہم کچھ بڑوں جانے ہیں مہمان سے معافی مانگنے کے لئے پاپوں سے پڑھنا ہے پھر پھر گھوڑوں کی کھوئے میں وہ راتوں کے سامنے کے لئے سماری تو پتی پتی وہاں سے کھانچھ پڑھوں گے جو سوچ پہ ہوں گے وہ زندگی کا مندل وہ کھانچھ پڑھوں پہنچ رہے تھے وہ پتی پتی رکڑ ہوئے تھے وہ راستہ دکھانے کے لئے کھانچھ پڑھوں گے پچھا دیا کیونکہ نا جب رہا ہوں جو جنگل میں تھے وہ نے باپاں سے پتا کی دی کہ یہ راستہ ہوتا ہے یہ کھانچھ پڑھوں گے سمجھ میں وہاں سویوں آ گئے رام اور سیدھا کے لئے وہ نے پوچھا جب یادر پرکاش یادر لے کر لوٹا شاہی پڑھوں گے موروں کو سوچنے کے لیے نہاں ہوں جیسے اپنے آئے ہوئے صدقہ ہوں وہاں میں یادر پرکاش کھول بھی آئے تھا ہم جو سمجھتے ہیں تو وہ بھی جھڑ گئے آگے بھی جندہ ہو جندہ پڑھانے کے لیے کھولنے کے لیے रावल्युजा का प्रचार करते गया रावल्युजा के दिख्षा लेंगे कांची पूर्णा से और यह हमने चलेंगे सिख्षा लेंगे कांची पूर्णा चलेंगे सुद्धर पांदान में उनका जलम होगा था और जो रावल्युजा ने उन تو میں نے سندھا کرتا ہوں تو میں نے جناب اوچھے برامین دھاندھ میں بھی آیا تو راموی جناب نے کہا اوچھی نیچے نہیں آمی جو کون ہے وہ برامو کی کون ہے اور پھر کانچھ پھونڈا نے سکھانے کیا تھا پھر کانچھ پھونڈا نے مہمہ سے کہا ہے کہ راموی جب تیسری پہلے کئی بار انہوں نے انکار کر دیا جیسے باقی سناندہ جی جب گئے تھے وہ بھی جو داس بھابتی کے پاس دیکھ سکتے تھے کئی بار کوئی چیزیں داس نے انکار کر دیا تھوڑا کہ جب انہوں نے کئی بار نرد ہو کر بھاگ رہے تھے سناندہ جب چاہے 125 سال تک پیتھری پھل تھے بہت سارے پرنگٹھوڑے وہ آئے تھے پرنگٹھوڑے سیچوں نے کہا تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو تین دنوں رہو ہمیشہ بھاگتوں کی سہلہ میں رہو بھاگتوں کی سیواں میں رہو اور سہاں سیواناں اور کردھلاں میں یوں رہو تو آج ہے اللہ ہم نے جو چاہیہ کا سہلہ باقی تھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جڑد کو ہم نے پناہ پہنچ گئے ہارے کرسکا ہارے کرسکا پیش ڈال پیش ڈال ہارے ہارے
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

