निरंतर श्रीमद्भागवतम और श्रीमद्भगवद्गीता का अध्ययन करना क्यों जरुरी है?| Srila Gopal Krishna Goswami

Srila Gopal Krishna Goswami explains why constant study of the Srimad Bhagavatam and Bhagavad Gita is essential for devotees. Regular chanting, listening, and remembrance purify the heart, remove material desires, and bring inner peace. He connects spiritual neglect to modern crises like environmental damage and moral decline, offering practical ways to integrate daily study and kirtan into your life.
Chapters
ओम्नमो भगते वासु दिवाय विभान्ति ये भगवत आत्मनासातं कथंरतं श्रवना पुतेशु सम्रतं पनाति ते विशय विदूशित सायं रजंद तक चरण सरो रुहंतिकं विभान्ति ये भगवत आत्मनासातं कथम्रतं श्रावन पथेशु सम्रतं पनंति थेविश विदुशीत सायं प्रजन्ति तच्छन स्वरोरुहं तिकं तो इस स्लोक के साथ दूसर स्खन का दूसर अध्याय समाथ हो रहा है और इस स्लोक में शुक्र देव कुसमुजी कह रहे हैं कि भगवान शुकेशन जो हैं वो जो भक्त हैं उनके मन में सदा एक ही भाव रहना चाहिए कि किस प्रकार हम भगवान शुरृ किशन को संतुष कर सकें। तो कहा गया है इस स्लोक में कि ये भगवान शुरृ किशन जो हैं भक्तों के अथियंद प्रियों हैं और जो भक्त हैं वो कानों के द्वारा भगवान के امرتمہِ سندیش کو صدا سفیقار کرنا چاہتے ہیں۔ جو آج کے سلوک کا ارض ہے اور جو پچھلا سلوک تھا، ان کا ارض بالکل ملتا چھلتا ہے۔ جیسے کی اسی ادہائی کے چھتے سوے سلوک میں شکریہ گسامی نیز نے کہا हे राजा अथेव यावाशक है कि प्रतेख मनुश भगवान का स्वत्र तथा सदा श्रावन करे, गुनगान करे, तथा स्मालन करे। तो पिछले श्लोग में शुक्र देवो स्वामी जी ना कहा है कि प्रतेख भेगती को हर समय और हर स्थान में یہ نہیں کہ کیول جب آپ مندر میں ہو تو بھگواں کا گنگان کرو اور جب آپ مندر کے بہار ہو تو پرچلپا کرو۔ सभमं जी बड़े सपच्च रूपते कहरे हैं परतेक व्यक्ति को हर समय और हर सहान में क्या करना चयिये भगवान के गनगान इसमारन और श्रा پھر سے دیا جا رہا ہے آج کے سلوک میں. ہے کی نہیں? اگر دھیان سے دیکھا جائے پچھلے سلوک اور آج کے سلوک میں کچھ انتر نہیں. پچھلے سلوک میں शुक्ते को स्वामजी कहरे है प्रतेख व्यक्ति को सदा भगवान का गुनगान करना चाहिए समरन और श्रावनम आज के सलوک में शुक्ते को स्वामजी कहरे ह और हम अपने भौतिक लक्ष को दूर कर सकते हैं कैसे? भुवान के अम्रित्म संदेश का श्रोनम कर के। जैसे की भगवतम के प्रतं सकंध में असल में भगवतम में अनेक स्लोक हैं जिनका भाव इसी स्लोक के समान है जैसे कि प्रतंस कन में कहा गया है शिर्मता स्वाकत कृष्णा पून्य श्रवन किर्तिना जैसे प्रतंस कन में कहा गया है शिर्मता स्वाकत कृष्णा पून्य श्रवन किर्तिना हिर्णी अंतस्तोय बदलानी हिर्णी अंतस्तोय बदलानी हिर्णी अंतस्तोय बदलानी हिर्ण तो यहां कहा जा रहा है शुगर देवो स्वामि जी के द्वारा, कि जो जीवन का भौतिक उदेश्य है, क्या है हमारा भौतिक उदेश्य, कि इंद्यत्रिप्ति, भौतिक सुख, कित्यादी प्राप्त हो, ये दूर हो सकता है कैसे, केवल अगर हम भगवान क्या, अमरिद � اور اس کا کیا پرینام ہوگا اس کے دوارہ بیقتی بھگوان کے دھام واپس لوٹیں گے اور بھگوان کے چنن کملوں کی شرن سوکار کریں گے دوسری شبزوں میں ایک شلوک بھی بہت سچ طور پر استعبید کیا جاتا ہے کہ اگر اپنے بھگوان کے دھام لوٹنا ہے تو اس کی کیا قیمت ہے کیا ہے مارک ہم سوچتے ہیں کہ ہر بیاکتر ملتے کے بعد بھگوان کے دھام جاتا ہے جیسے کئی بار آپ اکباروں میں advertisement پڑھتے ہو۔ He left for his heavenly abode. ہے نا؟ جس کا دھیانت ہو گیا وہ بھگوان کے دھام، بھگوان نے بلالیا بھگوان کے دھام وہاں پہ سورقواسی ہو گئے۔ پس سورقواسی ہونے کے لیے پیاس کرنا بڑتا ہے۔ یہ نہیں کہ بہت سے کارے میں جڑے رہا ہو اور سورقواسی ہو جاؤ گے۔ بڑے سپسٹ روپ سے یہاں کہا گیا ہے کہ بھگوان کے دھام لوٹنے کے لیے اور بھگوان کے چھرن کا ہم لوگ شرن لینے کے لیے ہمیں کیا کرنے کی آبشکتہ ہے؟ شرون ہم بھگوان کے امرد میں سندیش کا شرون ہمیں کرنا چاہیے اور اس کا لاب کیا ہوگا؟ اس کا لاب ہوگا ہدے کی میل جو ہے یہ دور ہوگی یہی سندیش चेतनिया महार प्रभु जी ने सिस्थास्तका की सबसे पहले स्लोक में दिया है। वैसे तो चेतनिया महार प्रभु जी ने अपनी सिश्यों को कहा था भकती सम्मंदित ग्रंथों की रचना करने के लिए और प्रापा जी ने कहा है कि जितना साहित्य गोस्वामी ने छोड़ा ह पर चीतने महा प्रभुजी स्वयों हमें क्या दे कर गए? थेवल आथ सलोक, जेने हम सिर्षास्का के नाम से जानते हैं, रोज सबा हम मांगनार्थी के पश्चाद इसका उचारन भी करते हैं. पर ये आथ सलोकों में चीतने महा प्रभुजी ने पूरे वेदिक साहिते का जो स तो चेतोदर्पन महारजनम। भगवान के नामों का उच्छानन का एक और लाब क्या है? चेतोदर्पन महारजनम। जिस प्रकार आइने में अगर धूल हो और आप उस धूल को दूर करना चाहो तो कर सकते हो साफ कपड़े के साथ जैसे प्रापर जी कहते थे اُس ہی پرکار بھگوان کے دِبِ ناموں کے اُچارن کے دوارہ ہردے کی جو محل ہے وہ دور ہوتی ہے۔ یہ ہے پہلا لاب بھگوان کے ناموں کے اُچارن کا کہ بھگوان کے ناموں کے اُچارن کے دوارہ ہردے کی جو محل ہے دور ہوتی ہے۔ تو اِس سلوک میں فرش کہا گیا ہے کہ یہ جو بھوتک لقش ہے بھوتک بھاگ ہے بھوتک اُدیش ہے انڈیا ترپٹی کا یہ دور ہو سکتا ہے کہ وہ بھگوان کے پبیتر ناموں کا، بھگوان کے پبیتر کتھا کا شروعنم کر کے اور کوئی اپائی نہیں ہے۔ جیسے کئی بار آپ دیکھتے ہو بہت ایک سماج میں لوگ کہتے ہیں ہم دہ سنیاس لے رہے ہیں۔ یہ سب دنیا تیاغ رہے ہیں نا۔ پھر اس بھاو میں پہنچنا کہ ہمیں مند بدھی اندریوں کا اپیوک کرنا چاہتے ہیں سدا بھگوان کی سیوہ میں۔ اس کیلئے شروعنم और किर्तनम की आवशक्ता है। इसे लिए एक शुकोते को स्वामी जी ने कहा है महगवान का श्रौम करें, गुनगान करें, और तथा स्मार्ण करें। ये आवशक है हम सब के लिए। इस स्लोक के तात्परे में प्रापा जी ने अनेक महत्रपूल विश्यों की تو بھارت سماج میں دیکھا جائے کھسٹی کھسٹ ہے اور پراؤپا جی اس تاطریق میں آگے یہ سمجھانے ہیں کہ جو کھسٹ ہے یہ گھٹنے کی بجے بڑھتے جا رہا ہے بڑے اس پہلے روپ سے پراؤپا جی نے اس پیشے کی چڑھتا کی ہے جیسے کہ ایک روپ سے دیکھا جائے تو انیک پرکار کی ادھونک سمویدہ ہیں آج کل آج کل تیتی سویدہیں پہلے کہاں تھی؟ آج تو سب کے جی میں سیل ٹیلی فون ہے پہلے تو ٹیلی فون کرنا ہوتا تھا تو آپ کو یاد ہے دس سال لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا ایک ٹیلی فون پراب کرنے کے لیے آج تو ایک منٹ میں آپ کو ٹیلی فون ایڈی موٹر ہے، ٹیلی ویژن ہے ایک جمہارے میں تو کوئی ٹیلی ویژن تھا ہی نہیں بھارت میں ہر پرکار کے سویدہ ہیں پر کیا ان سویدہوں کے دوارہ سماج کے سماج سے کم ہو گئی سارے بیشوں میں جو سمجھیاں ہیں، لوگ، پیرا، بیماری یہ بڑھتے جا رہا ہے۔ آج کی ستھیتی میں بچوں کو وہ بیماریاں ہو رہی ہیں جو 5-10 سال پہلے یا 20 سال پہلے بڑھے لوگوں کو ہوتی تھیں۔ اب کسی ڈاکٹر سے بات کرو اور میں نے تو روسیا میں نے کئی ڈاکٹروں سے بات کی ہیں وہ کہتے ہیں آج کل بچے پیدا ہو رہے ہیں ان بیماریوں کے ساتھ جو انہوں نے کبھی سپنا بھی نہیں دیکھا تھا وہ چھوٹے بچوں کو وہ بیماری ہو رہی ہے جو کی پہلے بڑوں کو ہوتی نہیں تو اسی چیز کی ستھاپنا پرابو جی کر رہے ہیں اس ستاپنے میں پرابو جی کہہ رہے ہیں کہ یہ بھوتک سماج کے سارے کشتوں کا مول کارن کیا ہے؟ یہ بہت ایک بھاو اس کے لیے جب پراوپا جی نے اس سنسک استھاپنا کی امیرکہ میں جب پراوپا جی امیرکہ گئے تھے پہلی بار تو اُن دن میں امیرکہ کا یود ہو رہا تھا وییڈنیم میں شاید آپ نے سنا نہیں ہوگا وییڈنیم ایشیا میں ہے اس کا بہت بڑا یود ہوا تھا امیرکہ کا اور امیرکہ میں کئی لوگ تو اس کے ویرود میں تھے اس لئے کئی لوگ بھکت بھی بن گئے اس وقت۔ تو پراپا جی نے اُن دن میں کیونکہ اُن دن میں اتنا یوت کی چرچہ ہو رہی تھی تو پراپا جی نے ایک article لکھا، ایک lecture دیا تھا جو انہوں نے پرکاشت کیا The Peace Formula کے نام پر۔ آپ لوگوں نے شاید پڑھا ہوگا۔ کتنے لوگوں نے وہ لکھ پڑھائیں؟ Peace Formula کہنے میں کہاں گے؟ شانتی کا اوپائے۔ پرابا جی نے پیس فارمولا لکھا تھا اور پرابا جی نے بھکتوں کو کہا تھا Distribute this freely کہ ایک article جو تھا پرابا جی کا پرابا جی نے کہا تھا کہ اُن دن ہمارے بھکت نیویوک سا مندر میں روز جاتے تھے ہرینہ میں اور بھکت فریلی باٹھتے تھے پیس فارمولا کیونکہ اُن دن ہمیں اتنی چرچہ تھی یود کا تو لوگوں کو لوگ پڑھنا چاہتے تھے کیا ہے شاندی کا اپائے تو پرابا جی نے وہ شاندی کے اپائے میں کیا لکھا ہے کہ शान्ति विश्वक में प्राप्त हो सकती है किस माध्यम से? महा मंत्र के उच्छारण के दोरा. प्रापजी कहते थे, उध्धारन देते थे, जैसे ये United Nations बना है, तो United Nations, नाम तो है United Nations, पर असल में है Divided Nations. सब United Nations होने के कारण में कितनी उद्ध हो रहे हैं. आप क्या रोक � اصلی جو اپائے ہیں اُس کو لوگ بھول رہے ہیں۔ اصلی اپائے ان سمجھوں کے پیچھے کیا ہے؟ اصلی سمجھہ ہے کہ ہم پرم بھگوان کو بھول رہے ہیں، پرم بھگوان کی سکھشہ کو بھول رہے ہیں اور انیک بہت ایک بچاروں کو بڑھاتے جا رہے ہیں اور جب یہ بہت ایک بچاروں کو سفر نہیں بنا پاتے تو ہم نیراش ہو جاتے ہیں۔ اس لئے پرابہ جی کہہ رہے ہیں کہ بہت ایک سماج کی اصلی سمسیہ کیا ہے کہ جو جیون کا لکھ ہے وہ نہیں سمجھ پا رہے اور حالانکہ بہت ایک دیسرے سے ملتی بھی کر رہے ہیں پر اصلیت میں کیا ہے سماج کی جو سمسیہ ہے بڑھتے جا رہے ہیں اور آگے پرابہ جی کہہ رہے ہیں کہ جو مانوتا کی آبشکتائیں ہیں وہ بڑی سب بھگوان کی کرپا سے پرابت ہو رہی ہیں अगर दिहान से देखा जाए, जो भी आवश्चकत है मानत्था की, ये किसके दौरा प्राप्त होरी है? प्रकती के दौरा, है न? प्रकती किसके इशारे से चलती है? भगवान घीता में क्या कहते हैं? माया दक्षेना प्रकती स्वितेसा चराचनम। तो प्रापा जी न بھگوت گیتہ میں بھگوان کیا کہہ رہے ہیں؟ انات بھگوان تھی روتا نہیں۔ ان کی پرابتی ہوتی ہے کیسے؟ ورشا کے کارن۔ ورشا کیسے پرابت ہوتی ہے؟ ورشا کا پرابت ہوتی ہے جب آپ دھرم کی نیوموں کا پالن کروئے یگیہ کا پالن کروئے۔ یگیہ نہیں کروگی تو پرکرتی ساتھ نہیں دے گی۔ جیسے کی بھگوت میں آپ پڑھتے ہوں مہاں جبینہ راجہ تھے جس وچار کے انہوں نے برامنوں دوارہ ہر پرکار کے یگیت سماج میں رکھوا دیا تھا برامنوں کے گھروں کو جلا دیا تھا انہوں نے یہ کہا کہ تم ویشہ ہو میں تمہیں پالتا ہوں اور میری پوجہ کے بجے بھگوان کی پوجہ کر رہا ہوں اور اس کا کیا پرینام ہوا؟ پرکتی دوارہ جو آوشکتہ ہیں سمابت ہو گئی جیسے آج کی ستھیتے میں کیا دیکھتے ہو جو آوشکتہ ہیں پریتھوی پر وہ دن پر دن کم ہوتے جانے ہیں جیسے آج کل آپ لوگ کہہ رہے ہو پیٹرول کا بھاو اتنا بڑھ گیا کیوں کیونکہ بیشتر میں اتنا پیٹرول ہی نہیں پانی کی کمی ہے ہر پرکار کی دیکھا جائے आभवशकन کی کمی بڑھتے جا رہی ہے اس لئے سب کا دھام بڑھتے جا رہا ہے تو مہرجوینہ کے خارج پرکتی جو ہے سٹریک پر چلے گئی پرکتی بھی سٹریک کرتی ہے جیسے لوگ لال چھنڈہ اٹھا دیں جب थनका نہیں ملے جو پرکرتی دیکھتی ہے تو آپ یگیہ نہیں کر رہے تو پرکرتی کہتے ہیں थیक ہے आम نہیں دکھائیں گے देख لیں گے और پرکرتی کیسے دیکھتی ہے जो आवचकत हैं वाँ प्राप नहीं होती फिर हर ताल फिर जरपरीति मराज राजा बने उनके पुत् اُنہوں نے کہا کہ سدھا اور ہر سمیں کو ہر ستھان میں کیا کرو؟ بھگوان کا گنگان کرو، اُن کا سمدھن کرو، اُن کا شہنم کرو۔ اور جس کا کیا پرینام ہوا؟ ہر پرکار کی جو آبشکتہ ہے، چُڑند ہی پرابت ہونے لگے۔ تو اِس سلوک کی تہت پریئے میں پرابہ جی اس فشے پر بلدے رہے ہیں کہ جو بھوتک سمسیہ ہے یہ حل ہو سکتی ہے ادھونک تکنالوجی کے دوارہ نہیں پھر اس سکھشہ کے دوارہ اور آگے پرابہ جی بتا رہے ہیں کہ اس کلیوگا کے لیے کیا ہیں اپائے یہ بھگوت کا سندش ये श्रीमत भगवत का संदेश जैसे कहा गया भगवान अपरोगत हो गए हैं पर अपने संदेश को छोड़ गए हैं कहा इस श्रीमत भगवतम में तो हमें श्रीमत भगवत का जो अमरतमय संदेश है इसका स्रवन करना चाहिए اسی لیے भगवतदम के प्रतन स्लोक में कहा गया है और पिछले हवसे जो प्रापा जी का लेक्शर था लासेंजलिस का आपको याद होगा प्रापा जी ने इस प्रसिर स्लोक पर दिया था कौनसा था वो स्लोक नस्ता प्रेशु अबद्रेशु नित्यं भगवत सेवया भगवती آج کے سلوک کے تاعت پر میں کہ اگر ہم نہان سے شریف بھاگوت کو سنیں گے تو جو بہت ایک ہردے کے بھاو ہیں وہ آستے آستے گھڑتے جائیں گے۔ جیسے آپ بیمار ہوتے ہو تو دوائی لیتے ہو اور دوائی لینے سے کیا ہوتا ہے؟ بیماری کا جو اثر ہے کم ہوتے جاتا ہے۔ تو ہم سب روگی ہیں اور پیڑت ہیں۔ کیونکہ ہمارے میں अनेक भौतिक इच्छाएं हैं। पुरुपो को स्वामी जी भी इस विशे का वडन करते हैं भकती रतम सिंदु में जहाँ वो कहते हैं अदो श्रदा तता सादू। श्रदा होनी चाहिए हिर्दे में कि हम जीवन के लक्ष को प्रात करना चाहते हैं। श्रदा होग سادھوں کی سنگھن کے دوارہ آپ کو یہ سکھشہ ملتی ہے کہ کس پرکار آپ کو جیون کے لکھش کو پرات کرنا چاہئے. भगवानके नमक उच्चारन इत्यादी उज जब आप इसका पालन करो जिसको कहा जाता है भजण क्रिया इसको पालन करो तो भजण क्रिया का क्या परिणाम होता है आनर्था निवरि� وہ جو ہیں نشت ہوتے ہیں. تو یہی سندیش روپا کو سوامی جی نے جو دیا ہے وہ سندیش ہے اسی شلوک کے سندیش کے سمان کہ بھجن کھیا کے دوارہ ہدے کی جو میل ہے دور ہوتی ہے اور کوئی اپائی نہیں تو اس لیے اس شلوک کے تاتورے میں پرابت جی سمجھا رہے ہیں کہ جو بھگوان کے شد بھگت ہیں اُن کی ہدے میں کیول ایک ہی بھاولہ رہتی ہے کیا؟ کہ بھاگوان کے نام, اُن کی گند, اُن کی لیلوں, اُن کی سندیش کی چڑچا کی جائیں اور سمرن کیا جائیں۔ جیسے کی آپ بھاگوتم میں دیکھتے ہوں کہ جب بھاگوان अपरकट हो گئے थें तो आर्चुन जो थें बिच्चैन, दुखी हो गए थें پھر ہرچن نے بھگوان کے بھگوت گیتا کے سندیج کا سمجھن آرام کیا اور جیسے ہی انہوں نے گیتا کے سندیج کا سمجھن آرام کیا سرنٹیوں نے کیا ایسا محسوس ہوا کہ سویہ بھگوان وہاں تو اس لیے آج کے سلوک کے تاعت پر میں بھی پرابہ جی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں صدا نرانتر شریفت بھاگوتا اور بھاگوت گیتا کا سندیش کا شروعنم کرنا چاہئے भागवतम और घीता। प्रापा जी ने जैसे मैंने कहा, काफी लंबा थात परे लिखा है इस स्लोक के ओपर और प्रापा जी कहने है, अगर हम निरंतर भागवतम और भागवत घीता का संदेश का श्रावनम करना चाहिए। और प्रापा जी कहने है, कि � और इसके द्वारा आप भगवाण की प्रेम्मी सेवा में जुड़ोगे। इसे लिए भगतों को बढ़े दिहान से धागवत गीता और श्रीमात भगवतनम दोनों का ही श्रौम्यूम करना चाहें। इसे लिए जब प्रापा जी ने इस कनसंस्था के स्थापना क और प्राबाजी नंगेजी में लिखा, एवली दिवोडी मज़ अठेन बिदाउट सेल। श्रीवात भागवतम क्लास ने मौनें और घीता ने नेवरें। प्राबाजी ने कहा कि बिना किसी कारण हर बाप फे महर भक को आवाशक ही भागवतम सुनना चाहे सबा और श ہمیں भक्तियों का ज्ञान प्राप्त होता है. तो आज का जो शलोक है, इसका बहुती महतरपून शलोग संदेश है, और जितने ध्यान से हम सुनेंगे, उतनी तेजी के साथ हिदे की मेल दूर होगी. जैसे की दस नाम अपराद हैं, دسویں اپراد کے دو بھاگیاں ہیں، विश्वनाथ चक्रुदी थाकुर के अनुसार और दूसा भाग अर्थ ये है कि साधानी के साथ जाप नहीं करना जो हमें श्रमनम करना चाहिए बड़े दिहान से और भगवत गीता और भागवतम के संदेश के दौरा ही شانتی پرابت ہوگی یہ بیچار بھی پرابت جی بڑے سپس روپ سے دے رہے ہیں اس لوگ میں اسی لیے آپ سب جو کہ اس وقت میراثور میں جڑے ہو کیوں کیونکہ یہی ہیں اصلی اپائے سب سمجھوں کو حل کرنے کا پرابت جی جیسے میں نے کہا سمجھا رہے ہیں بار بار کہ جو بھوتک سمجھ ہیں یہ بڑھتے جا رہی ہیں آج لوگ اتنے موڑک ہیں کہ اگر انہیں اصلی چیز دی بھی جائے تو کیا سوچتے ہیں یہ نکلی چیز ہے आज पर हमें घब्राना नहीं चाहें. भक्तों का क्या करतविय हैं? कि वो प्रयास करते जाएं भगवान का संदेश देने के. अगर भगवान कह रहे हैं सब भक्तों में सबसे प्रीय वो है जो मेरा प्रचार करता है और उससे जादा ना कोई हुआ है ना होगा तो इसका एक का उसका कानन यह है कि लोग हैं अग्यानता में. भकती सिधानता जी कहते थे कि अगर इस विश्व में किसी चीज के कली है तो क्या है वो? भगवान के विशे, ग्यान के. इसलिए इस लोग के तात-परी में प्रापा जी कहने है वेश्णो अगर आप स्रवनम करोगे, भगवान के दिव्य संदेश का, भगवान के नामों का, तो इसका ये परिणाम होगा, कि हिर्दे की मयां दूर होगे। और आप ये स्विकार करोगे, कि हमारा लक्ष होना चाहिए, साला जीवन और उच्छा विचार। उच्छा विचार का क्या हर اصلی بھاب اور بہت ایک وادیوں کا کیا لکھ ہے اوچھا جیون سادھا وچھار ہو راجہ جیسے چاہے کرجے میں لینا ہو یا کس کا جیب کاٹنا ہو کچھ ہو اوچھا جیون بیٹھانا ہے साधा विचार साधा विचार का आर्थ है पश्यो समान विचार रखना और बाक्तों का है साधा जीवन और उंच्छा विचार तो श्रावनम खेतनम विश्णव स्मर्णम ये तीन बहुत आवशक है سُننے کے لئے ویسے تو انیک وشہ ہیں. ہے کی نہیں? آپ لوگ آج کل سیل پھون میں جاتے ہیں. لوگ سیل پھون اُٹھا دیں کیا? ہمیشہ سُننا چاہتے ہیں کسی نہ کسی کو. پھر بھکتوں کی روچی ہے, بھکتوں کی روچی رہنی چاہیے کہ ہمارا शरनम करतनम کا وشہ ہے. भगवान के नाम, भगवान के लिलाय, भगवान के गुन, भगवा جہاں پھر آپ بھکتی میں آگے بڑھ سکو گے، جیسے کی اس شلوک میں ستھابت کیا جا رہا ہے۔ اور اگر ہم اس کی بجائے پرجلپہ کریں تو اس کا کیا پرینام ہوگا؟ کیا پرینام ہوگا؟ روپا کو سمجھیں کیا کہتے ہیں اُبدیش و مِتھ میں؟ اَدْیَاْهْ ذَا پَرَشَشْتَ پَرَجَلْپَ نِمَا گْرْحَ جَنْسَنْگَشَ لَوْلِ اَمْچَا سَدْمِرْ بَقْتِرْ مِنَشِتِ तो अगर आप भक्ति को नश्च करना चाते हो तो फिर क्या करों पर जलपा तो अगर आप भक्ति को बचाना चाते हो तो फिर क्या करना चाहें शर्मनम कितनम और फिर ये भक्ति का जो बीज है जैसे चेतने महा प्रभु सिनातन को स्वामिजी को सिक्षा दे रहे थे ब اگنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ مہا پربو جی ادھارن دیتے ہیں۔ مالی کیا کرتا ہے؟ پانی پلاتا ہے۔ پانی پلاتے ہیں کس مادیم کے دوارہ؟ شاملم اور کھیسلم کے دوارہ۔ پھر یہ جو پیر ہے، بیٹھ ہے اگے گا اور یہ بیٹھ پھر کیا پیدا کرے گا؟ فل۔ بیٹھا فل۔ اور جو بھی وہ اس فل کو کھائے گا اس کے ہدھر میں کیا اتفان ہوگا؟ भगवत प्रेम। तो भगवतम में अनेक शलोकों द्वारा यही संदेश दिया जा रहा है। जैसे हमने आपको बताया था क्लास 11 में, जो आज के शलोक का संदेश है, परकल के शलोक का संदेश है, उम्हें कुछ हंतर नहीं है। और 22 गन तक आप इसी विचार क तो आप कहोगे बार बार एक विशे के चर्चा करने के क्या आवशाग था? तो इस विशे के चर्चा प्रापा जी भगवत घीता में करते हैं। प्रापा जी भगवत घीता में कहते है, reputation is necessary to drive the point home. कि बार बार एक महेदपूर विशे के चर्चा करने से वो बात हम روج سنتے ہیں کہ شہنم کتنا بڑھاؤ، پرجل پاک ہٹاؤ جب بھی بھی ہم نہیں بڑھا پاتے ہیں۔ है क्यों नहीं? तो इसके लिए इस सुनने की आवशक्ता है और जितने ध्यान से सुनेंगे उत्सास से हम प्रचार कर पाएंगे काई बार भागते जन प्रापा जी के सिश्चे उन से पूछते थे भी वाई डी आप सो मच इन्तूदियादम इतने उत्सास में कहां से आ और क्योंकि वो बड़े सांधानी से सुनते थे अपने गुरुमराज के प्राभाजी कहते थे, कई सिन्याती महात्मा भी उदर बैठे रहते थे, कुछ ना कुछ बहाना देकर उठकर चले जाते थे, पर वो अंत कभी जाती नहीं देते, ध्यान से सुनते थे. तो भकती सिदान پرچھار بھی کرے گا تو یہی سنیشت ان سلوکوں میں دیا جا رہا ہے تو جو بھگوان کے بھکت ہیں ان کی روچی ہے کہ بھگوان کے ناموں کا شروعنم کریں اور بھگوان کے ناموں کے شروعن کے وشے میں کیونکہ بھگوان نے ان ناموں میں اپنی پوری شکتی ڈالی ہے کیونکہ بھگوان کی لیلوں میں اور بھگوان میں انتر نہیں جتنا آپ سنو گے اتنا ہی کم ہے بہت ایک والی بیگتی کئی بار کیا کہتے ہیں؟ تم لوگ ایک ہی نام کا اچھانن کرتے ہیں بار بار تھکتے نہیں کہتے نا نہیں کہتے نا تم لوگ بار بار دن رات ایک ہی نام کا اچھانن کرتے ہیں بیدیشوں میں کہتے ہیں جب پرابا جی نے اس انسان کی ستھاپنا کی تو پرابا جی کو کہتے تھے Your Swami has brainwashed you کہ تمہارے سوامی نے تمہارے دماغ کھڑا، دھو دیا، تمہاری بدھی کو دھو دیا ہے کہ تمہاری بدھی کچھ چمک کیا ہے، کچھ جادو کر دیا ہے وغیرہ پھر پرابا جی کہتے تھے اصل میں یہ بہت ایک سماج آپ کو brainwash کر رہا ہے ہر جگہ billboard ہے, television ہے وہ لوگ تو all board پہ کھڑستے ہیں تمہیں بھگواں ملانے کے لئے اُس کی ہم لوگ تو ایک پیسہ بھی نہیں خرچتے جو بہتعبادی ہیں وہ سمجھ نہیں پاتے کیونکہ بھگوان نے اپنے ناموں میں شکتی ڈالی ہے بھئی کیونکہ بھگوان نے اور اُن کی ناموں میں عدت نہیں تو آپ بھگوان کی ناموں کو چار دن رات کرو تو بھی تھکو گے نہیں ہریدار شاہ کو دن میں کتنی بار جاپ کرتے تھے تین لاکھ بار ایک ہی ستھان میں بیٹھ کر ایک ہی ستھان میں بیٹھ کر جاپ کر دے اور اپنا جاپ سمات کرنے سے پہلے کسی سے کچھ بات بھی نہیں کرتے تھے کسی سے کچھ بولتے بھی نہیں تھے اور وہ کبھی تھکے نہیں جیسے کہ ہم لوگ جب ہم یہ رتحہ تک کرتے ہیں جیسے پرس ہم لوگ یمنا نگر میں تھے 8-9 گھنٹے ایک ہری کرشنا دھون کا کرتن ہوتا ہے کوئی تھکتا نہیں ہے کیونکہ بھگواں نے اپنے ناموں میں پوری شکتی ڈالی ہے تو جیسے शुक्र देवगो स्वामि जी कहरे हैं हम भगतों को सदा निर بھگوان کے ناموں کا گنگار اور کیا کرنا چاہیے؟ سمالن اور شونب کرنا چاہیے۔ ہر ستھان میں اور ہمیشہ ہر ستھان میں جب آپ پرچار کرنے جاتے ہو سمجھو مندر کے باہر، مندر میں تو کھین جہاں تیہاں تیک واطنہ جہاں تیج رہتا ہے تو آپ ہری نام کرتے ہو وغیرہ جانا لوگ مندر میں تو پھر چلپا نہیں کرتے پھر شکردیف گسومی جی کا کہنا ہے کہ ہر ستھان میں اور ہر سمیں تو اگر آپ پرچار کرنے بھی جا رہے ہو جیسے آج کل آپ سب بک دیسٹیویشن میں ایریتھن میں جڑے ہو تو آپ جب بک دیسٹیویشن میں بھی جاتے ہو من میں کیا سمنن کرو؟ من میں یہ سمنن کرو کہ بھگوان آپ کو نمیت ماتر بنا رہے ہیں اس بند جیب کو ان کی سیوہ میں جوڑنے کے لئے اور من میں श्रावनम कृतनम करते जाओ। अभियास से इसमें सफलता प्रात कर सकते हो। हर स्थान में हर समय हमारा भाव होना चाहिए श्रावनम कृतनम और विश्णनस्मनम करते रहने के लिए। जैसे प्रापा जी उध्हारन देते थे अगर एक गलास भरावा है पानी के साथ تو अनर और कुछ दाल सकते हूं? नहीं. तो अगर आपके मन में अधिहातिक विश्यों का स्प्मरन हो रहा है, तो अब भौतिक विश्यों के लिए स्थान ही नहीं रहेगा. और अगर आप नियमित रूप से स्वमनम कर रहे हो, श्रीमान भगवत गीत ہری نام کے اچھانن کا ایک اور لاب کیا ہے کہ اس کے دوارہ آپ کو آنند پرحبص ہوتا ہے پوری جو آنند ہے سدھا بڑھتے جاتا ہے بہت ایک شیطرے میں تو کیا ہے ہمارا بھیحاظ شروع میں تھوڑا آنند نہیں ملے پھر تھوڑی دیر بعد وہ کم ہوتے جاتا ہے اور آپ آنند میں کیا کہتے ہیں اور نیچے ہری نام کے اچھانن کے دوارہ جو آنند ہے وہ بڑھتے جاتا ہے. جیسے کی بھگوان رشہ دیو جی نے بھی کیا کہا सपनव देवियं पुत्रका येन सत्वां शुदेर अस्मान ब्रवियो सोक्यं वनन्तम अगर आप प्रिय पुत्रक भगवत प्राप्ति के लिए तपसे का पालन करोगे तो इसके बदले में आपको क्या मिलेगा جو کیول بڑھتے ہی جائے گا. تو ہمارے ہردے میں کوئی شنکہ نہیں رہنی چاہیے کہ اگر ہم تپچہ کا پالن کرتے ہیں یا ہرشورنم کرتے ہیں تو اس کے بدلے میں ہمیں کیا پرابت ہوگا؟ اصلی آناند اور جتنے دھیان سے ہم بھگوتم اور گیتا کا سندھیز سننے گے اتنی تیجی کے ساتھ ہردے کی میان دور ہوگی اور اب بھکتی کے مارگ میں चूड़ोगे। जैसे रुपगो स्वामी जी कहते हैं उच्छा, निष्टा, एधारियात, तो हमें निष्चत भाव से सेवा करनी चाहिए, पर वो दिर्ध होने के लिए क्या आपशक है? भजन क्रिया, जैसे रुपगो स्वामी जी ने कहा है और अनर्थनिवरिति के बाद अ ہالے کرشنا ہالے کرشنا کرشنا کرشنا ہالے ہالے
More from PRASAD

Rare Pastimes & Timeless Lessons of Guru Mahārāja | Stories Every Disciple Should Hear

ISKCON Legends- pure devotees meet-HH Jayapataka Swami, HH Gopal Krishna Goswami, HH Radhanath Swami

Jagannātha Ratha-yātrā Through Śrīla Prabhupāda's Mercy | 29 April 2006 | Nairobi, Kenya

Lord Jagannātha's Appearance Pastime | 21.07.2019 | ISKCON Calgary | Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

The Ācārya Teaches by His Own ExampleGuṇḍicā Mārjana by Guru Mahārāja #shorts

Guṇḍicā Mārjana – Lord Jagannātha's Pastime | 21.7.2019 | ISKCON Calgary |Śrīla Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī

H.H. Gopāla Kṛṣṇa Gosvāmī Mahārāja - Exemplary Sādhana and Deity Worship # shorts

भगवान की कृपा कैसे प्राप्त होगी ? | 11 Jan 2014 | Punjabi Bagh | Srila Gopal Krishna Goswami

Material Education vs Spiritual Education | Srila Gopal Krishna Goswami #shorts

